حربی اور مرتد کی سزا: قرآنی دلائل و احادیث

فونٹ سائز:
تحریر: عمران ایوب لاہوری

وہ حربی اور مرتد ہے
حربی سے مراد دار الحرب میں رہنے والا مشرک (جنگی دشمن ) ہے ۔
[المنجد: ص / 148]
اسے قتل کرنے پر مسلمانوں کا اجماع ہے ۔
[السيل الجرار: 372/4]
اس کے دلائل حسب ذیل ہیں:
قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ [التوبة: 29]
”ان لوگوں سے قتال کرو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے ۔“
وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً [التوبة: 36]
”تم تمام مشرکوں سے قتال کرو جیسے کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں ۔“
وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ [البقرة: 190]
”اور اللہ کے راستے میں ان سے قتال کرو جو تم سے لڑائی کرتے ہیں ۔“
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو لشکر کا امیر بناتے تو اسے تقویٰ ، اللہ اور مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتے پھر فرماتے:
اغزوا بسم الله فى سبيل الله قاتلوا من كفر بالله
”اللہ کے نام کے ساتھ اللہ کے راستے میں جنگ کرو اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرتے ہیں ان سے قتال کرو ۔“
[مسلم: 1731 , كتاب الجهاد والسير: باب تامير الإمام الأمراء على البعوث ووصيته إياهم ، ابو داود: 2612 ، ترمذي: 1617]
كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ [آل عمران: 86]
”اللہ تعالی اس قوم کو کیسے ہدایت دے جس نے اپنے ایمان کے بعد کفر کر لیا ۔“
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّن تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ [آل عمران: 90]
”بے شک وہ لوگ جنہوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا پھر وہ مزید کفر میں بڑھ گئے ہرگز ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی ۔“
مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ [المائدة: 54]
”تم میں سے جو اپنے دین سے مرتد ہو جائے گا تو عنقریب اللہ ایسی قوم لے آئے گا جن سے وہ محبت کرتا ہو گا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے ۔“
وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ [النحل: 106]
”لیکن جو (ایمان کے بعد ) کھلے دل سے کفر کریں ان پر اللہ کا غضب ہے ۔“
➎ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من بدل ديـنـه فاقتلوه
”جو اپنا دین بدل دے اسے قتل کر دو ۔“
[بخارى: 3017 ، كتاب الجهاد والسير: باب لا يعذب بعذاب الله ، ابو داود: 2535 ، ترمذي: 1458 ، نسائي: 104/7 ، ابن ماجة: 2535 ، احمد: 217/1 ، عبد الرزاق: 168/10 ، ابن أبى شيبة: 139/10]
➏ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحل دم امرئ مسلم إلا بإحدى ثلاث: النفس بالنفس والثيب الزاني والمفارق لدينه التارك للجماعة
”کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہے مگر تین میں سے ایک سبب سے: (قصاص میں ) جان کے بدلے جان ، شادی شدہ زانی ، اپنے دین کو چھوڑنے والا جماعت کو ترک کر دینے والا ۔“
[بخاري: 6878 ، كتاب الديات: باب قول الله تعالى: إن النفس بالنفس ، مسلم: 1676]
➐ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ یمن پہنچے اور انہوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یہودی دیکھا جو مسلمان ہو کر پھر یہودی ہو گیا تھا تو فرمایا:
لا أجلس حتى يقتل قضاء الله ورسوله
”میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا حتی کہ اسے قتل کر دیا جائے ، اللہ اور اس کے رسول کا یہی فیصلہ ہے ۔“ پھر اسے قتل کر دیا گیا ۔
[بخاري: 6923 ، كتاب استتابة المرتدين: باب حكم المرتد والمرتدة واستتابتهم ، مسلم: 1733]