مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

حرام کمائی والے شخص کی دعوت قبول کرنے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : احکام و مسائل، جلد: 1، صفحہ: 448

سوال

اگر کسی شخص کا کاروبار سودی ہو یا ناجائز یعنی حرام ہو، تو کیا ایسے شخص کی دعوت میں کھانے پینے کو قبول کرنا چاہیے؟ کیونکہ اس کی کمائی حرام ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نہیں، ایسے شخص کی دعوت قبول کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سود حرام ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾
(ترجمہ: "اور اللہ نے سود کو حرام قرار دیا ہے”)

جب کسی کی آمدنی کا ذریعہ حرام ہو، خاص طور پر سود جیسے واضح حرام کاروبار سے ہو، تو اس کی کمائی میں حرام شامل ہونے کی وجہ سے اس سے کھانے پینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔