مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

حرام کمائی والے رشتہ داروں کے ہاں کھانے کے شرعی احکام

فونٹ سائز:

سوال

ہمارے رشتے دار میوزیکل شو کا کام کرتے ہیں، کیا ان کے ہاں کھانا کھانا درست ہے؟

جواب از فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ان کا کاروبار حرام ہے، تو ایسے معاملات میں درج ذیل نکات کو مدنظر رکھیں:

دعوتی پہلو غالب ہو

اگر آپ کے وہاں جانے سے ان پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے اور ان کی اصلاح کا موقع مل سکتا ہے، تو ان کی دعوت کبھی کبھار قبول کی جا سکتی ہے۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا واقعہ

آپ کے عمل کی مثال اس واقعے سے لی جا سکتی ہے، جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خبیث کمائی والے کے پاس جا سکتے ہو، لیکن اس کا وبال اسی پر ہوگا۔

رشتہ داری کا لحاظ

رشتہ داری کی وجہ سے بندہ کبھی کبھار ان کے ہاں جا سکتا ہے، لیکن کبھی انکار بھی کر دینا چاہیے تاکہ ان پر اچھے اثرات مرتب ہوں اور انہیں اپنے عمل کی اصلاح کا احساس ہو۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔