حد زنا اور حد قذف کا بیان قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل، حدود و تعزیرات کے مسائل:جلد 02: صفحہ414
مضمون کے اہم نکات

حد زنا کا بیان

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

فقہائے کرام نے یہ تصریح کی ہے کہ حدِ زنا نافذ کرتے وقت حاکم یا اس کا نائب وہاں موجود ہو۔ اسی طرح اہلِ ایمان کی ایک جماعت کا حاضر ہونا بھی ضروری ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿وَليَشهَد عَذابَهُما طائِفَةٌ مِنَ المُؤمِنينَ ﴿٢﴾… سورة النور
"ان دونوں کی سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہیے۔” [النور 2/24۔]

زنا نہایت سنگین جرم ہے، اور بعض صورتوں میں اس کی قباحت، شناعت اور گناہ اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے، مثلاً: شوہر والی عورت سے زنا کرنا، محرم عورت کے ساتھ زنا کرنا، یا پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کا ارتکاب کرنا۔ یہ سب انتہائی قبیح گناہوں میں شمار ہوتے ہیں۔

① زنا کی سنگینی اور اس کے تباہ کن اثرات

زنا بڑے بڑے جرائم اور کبیرہ گناہوں میں داخل ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے نسب میں اختلاط پیدا ہوجاتا ہے، حالانکہ نسب ہی وہ چیز ہے جس سے انسان کی شناخت قائم ہوتی ہے اور جائز معاملات میں ایک دوسرے سے تعاون کا ذریعہ بنتا ہے۔ اسی طرح زنا کے ذریعے کھیتی اور نسل دونوں برباد ہوتے ہیں۔ انہی نہایت خراب نتائج کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اس کی سخت ترین سزا مقرر فرمائی ہے۔ چنانچہ اگر زانی شادی شدہ ہو تو اسے رجم کیا جائے گا، اور اگر غیر شادی شدہ ہو تو اسے سو کوڑے مارے جائیں گے، نیز غیر شادی شدہ مرد کو ایک سال کے لیے جلاوطن بھی کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ زنا سے ایسے امراض بھی پیدا ہوتے ہیں جو پورے معاشرے کو تباہی سے دوچار کرسکتے ہیں۔ اسی لیے شارع علیہ السلام نے اس سے رکنے کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَلا تَقرَبُوا الزِّنىٰ إِنَّهُ كانَ فـٰحِشَةً وَساءَ سَبيلًا ﴿٣٢﴾… سورة الإسراء
"خبردار! زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیونکہ وہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ہے۔” [بنی اسرائیل 17/32۔]

اسی وجہ سے اس جرم پر مذکورہ سخت سزا نافذ کی گئی ہے۔

② زنا کی تعریف

فقہائے کرام نے زنا کی تعریف یہ بیان کی ہے کہ: "فرج یا دبر میں بدکاری کا ارتکاب زنا کہلاتا ہے۔”

ابن رشد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "زنا ہر اس وطی کو کہا جاتا ہے جس میں نکاح یا شبہ نکاح نہ ہو یا ملک یمین(لونڈی) کا تعلق نہ ہو۔ اس تعریف پر اہل علم کا اتفاق ہے، البتہ اس بارے میں اختلاف ہے کہ کن امور کو شبہ شمار کرکے حد ساقط کی جائے۔” [ہدایۃ المجتھد 2/769۔]

شبہ نکاح کی مثال یہ ہے کہ کسی نے اس انداز سے نکاح کیا کہ اس میں لازمی شرائط موجود نہ تھیں، یا لا علمی کی وجہ سے اس عورت سے نکاح کرلیا جس سے نکاح کرنا جائز نہ تھا۔ [مثلاً:اس انداز سے نکاح کیا کہ اس میں لازمی شرائط موجود نہ تھیں یا لا علمی کی وجہ سے اس عورت سے نکاح کرلیاجس سے نکاح کرناجائز نہ تھا۔(صارم)]

③ شادی شدہ زانی کی سزا

اگر زانی عاقل، بالغ اور شادی شدہ ہو تو اسے رجم کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ مر جائے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ خوارج کے سوا ہر دور کے علماء کا اس مسئلے پر اتفاق رہا ہے۔

رجم کی سزا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد متواتر احادیث سے ثابت ہے، اور یہ احادیث قولی بھی ہیں اور فعلی بھی۔

④ رجم کا حکم قرآن، سنت اور اجماع سے ثابت ہے

رجم کا حکم قرآنِ مجید میں موجود تھا، پھر اس کے الفاظ منسوخ ہوگئے لیکن حکم باقی رہا۔ وہ الفاظ یہ تھے:

"الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ نَكَالًا مِنَ اللهِ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ”
"شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت جب زنا کریں تو ان دونوں کو سنگسار کردو، یہ اللہ کی طرف سے سزا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔” [سنن ابن ماجہ الحدود باب الرجم حدیث 2553 البتہ "نَكَالًا مِنَ اللهِ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ” کے لیے دیکھیں:مسند احمد 5/132۔]

جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ رجم کی آیت قرآن میں تھی، پھر اس کی تلاوت منسوخ ہوگئی مگر حکم باقی رہا، اور ساتھ ہی سنتِ متواترہ اور اجماعِ امت بھی اس پر قائم ہیں، تو اب اس کا انکار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ البتہ خوارج اور ان کے موجودہ ہم خیال مصنفین خواہشاتِ نفس کے پیرو بن کر رجم کا انکار کرتے ہیں اور دلائلِ شرعیہ کے ساتھ ساتھ اجماعِ امت کو بھی رد کرتے ہیں۔

⑤ محصن کی تعریف اور اس کی شرائط

وہ شادی شدہ شخص جسے زنا کے ارتکاب پر رجم کیا جائے گا، اس سے مراد ایسا شخص ہے جس نے اپنی بیوی کے ساتھ صحیح اور شرعی نکاح کے بعد جماع کیا ہو، خواہ اس کی بیوی مسلمہ ہو یا کتابیہ، اور دونوں میاں بیوی عاقل، بالغ اور آزاد ہوں۔ اگر ان شرائط میں سے ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو وہ محصن شمار نہیں ہوں گے۔

محصن ہونے کی شرائط یہ ہیں:

◈ وطی فرج میں ہوئی ہو۔
◈ وطی شرعی نکاح کے بعد ہوئی ہو۔
◈ مرد اور عورت دونوں کامل ہوں، یعنی دونوں عاقل، بالغ اور آزاد ہوں۔

⑥ شادی شدہ کے لیے رجم کی تخصیص کی حکمت

شادی شدہ کے ساتھ رجم کی تخصیص اس لیے کی گئی ہے کہ نکاح کے بعد اسے حرام شرم گاہوں سے بچنے کا جائز راستہ معلوم اور میسر ہوتا ہے۔ وہ حرام سے بچنے میں مستغنی ہوتا ہے اور اپنے آپ کو زنا کی سزا سے دور رکھ سکتا ہے۔ اس لیے ہر لحاظ سے اس کا عذر ختم ہوجاتا ہے۔ جب اس پر بیوی کی شکل میں اللہ کی نعمت مکمل ہوچکی، تو جس پر نعمت زیادہ کامل ہو، اس کا جرم بھی اتنا ہی زیادہ قبیح ہوتا ہے، لہٰذا اس کی سزا بھی سخت رکھی گئی۔

⑦ غیر شادی شدہ زانی کی سزا

اگر زنا کرنے والا غیر شادی شدہ ہو تو اس کی سزا سو کوڑے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿الزّانِيَةُ وَالزّانى فَاجلِدوا كُلَّ و‌ٰحِدٍ مِنهُما مِا۟ئَةَ جَلدَةٍ … ﴿٢﴾… سورة النور
"زنا کار عورت ومرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔” [النور2/24۔]

یعنی اس کی سزا شادی شدہ کی سزا یعنی رجم سے ہلکی ہے، کیونکہ اس کے پاس ایک طرح کا عذر موجود ہے۔ اسی لیے اسے رجم کے بجائے پورے جسم پر سو کوڑے مارنے کا حکم دیا گیا۔ اس سزا کے نفاذ میں رحم اور نرمی سے کام نہیں لیا جائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿وَلا تَأخُذكُم بِهِما رَأفَةٌ فى دينِ اللَّهِ إِن كُنتُم تُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ …﴿٢﴾… سورة النور
"ان دونوں پر اللہ کی شریعت کی حد جاری کرتے ہوئے تمھیں ہر گز ترس نہ کھانا چاہیے اگر تمھیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہو۔” [النور2/24۔]

اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ دین میں مضبوطی، ثابت قدمی اور احکامِ الٰہی کے نفاذ میں پوری کوشش کی جائے۔

⑧ کنوارے مرد کی جلاوطنی

کنوارے مرد کو سو کوڑے مارنے کے بعد ایک سال کے لیے جلاوطن بھی کیا جائے گا۔ یہ حکم حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے لیے سو کوڑوں اور جلاوطنی دونوں کا حکم دیا۔ اسی طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی زانی کو کوڑے لگوائے اور جلاوطن کیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ سَنَةٍ”
"کنوارہ مرد اور کنواری عورت زنا کریں تو(ان کی سزا سو) سوکوڑے ہیں اور(مرد پر) ایک سال کی جلاوطنی ہے۔” [صحیح مسلم الحدود باب حد الزنی حدیث 1690 وسنن ابی داودالحدود باب فی الرجم حدیث 4415 وسنن ابن ماجہ الحدود باب حد الزنا حدیث 2550 واللفظ لہ۔]

⑨ غلام اور لونڈی کی سزا

اگر زنا کرنے والا غلام یا لونڈی ہو تو اسے پچاس کوڑے لگائے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے لونڈیوں کے بارے میں فرمایا ہے:

﴿ فَإِذا أُحصِنَّ فَإِن أَتَينَ بِفـٰحِشَةٍ فَعَلَيهِنَّ نِصفُ ما عَلَى المُحصَنـٰتِ مِنَ العَذابِ… ﴿٢٥﴾… سورة النساء
"جب یہ لونڈیاں نکاح میں آجائیں،پھر اگر وہ بے حیائی کا کام کریں تو انھیں آدھی سزا ہے اس سزا سے جوآزاد عورتوں کی ہے۔” [النساء 4/25۔]

ایسے معاملات میں غلام اور لونڈی کے درمیان فرق نہیں کیا جاتا۔ قرآن میں جس سزا کا ذکر ہے وہ کوڑوں کی سزا ہے۔ اگرچہ رجم کی سزا بھی قرآن میں مذکور تھی مگر اس کے الفاظ منسوخ ہوچکے ہیں اور حکم باقی ہے۔

⑩ غلام کے لیے جلاوطنی نہیں

زانی غلام کو جلاوطنی نہیں دی جائے گی، کیونکہ اس میں اس کے مالک کا نقصان ہے، اور اس بارے میں کوئی صریح شرعی نص بھی وارد نہیں ہوئی۔ لونڈی کے متعلق جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:

"إِذَا زَنَتْ ، فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا”
"جب زنا کا ارتکاب کرے تو اسے کوڑے مارو،اگرپھر زنا کرے تو پھر کوڑے مارو۔” [صحیح بخاری البیوع باب بیع العبد الزانی حدیث 2153۔]

اس حدیث میں جلاوطنی کا ذکر نہیں آیا۔

⑪ شبہ کی صورت میں حد ساقط ہوجاتی ہے

اگر وطی یا زنا میں کوئی شک وشبہ پایا جائے تو ملزم پر حد واجب نہیں ہوگی، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"ادْرَءُوا الْحُدُودَ عَنْ الْمُسْلِمِينَ مَا اسْتَطَعْتُمْ”
"(شکوک وشبہات ہوں تو) حسب طاقت مسلمانوں پر حدود جاری نہ کرو۔” [(الضعیف) جامع الترمذی الحدود باب ماجاء فی درء الحدود حدیث 1424 وسن ابن ماجہ الحدود باب الستر علی المومن ودفع الحدود بالشبھات حدیث 2545۔]

مثال کے طور پر: ایک شخص کسی عورت کو اپنی بیوی سمجھ کر اس سے صحبت کرلے، یا کسی ایسے عقد کے ساتھ وطی کرے جسے وہ جائز خیال کرتا تھا حالانکہ وہ جائز نہ تھا، یا ایسے نکاح کے بعد وطی کرے جس کے بارے میں فقہاء میں اختلاف ہو، یا کسی شخص کو زنا کی حرمت کا علم نہ ہو، مثلاً وہ نومسلم ہو، یا دارالاسلام سے دور ایسی بستی میں رہتا ہو جہاں تک یہ حکم نہ پہنچا ہو، یا کسی عورت کے ساتھ زبردستی زنا کیا گیا ہو، تو ایسی صورتوں میں حد نافذ نہیں ہوگی۔

ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ہمارے علم کے مطابق تمام اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ شکوک وشبہات کی موجودگی میں حد جاری نہ ہوگی۔”

یہ اسلامی شریعت کی طرف سے آسانی اور سہولت ہے، کیونکہ شبہ اس بات کی علامت ہے کہ جرم کے صدور میں قصد اور ارادہ مکمل طور پر شامل نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَلَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ فيما أَخطَأتُم بِهِ وَلـٰكِن ما تَعَمَّدَت قُلوبُكُم وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا ﴿٥﴾… سورة الاحزاب
"اور اس معاملے میں تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہوجائے اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں لیکن تمہارے دل جس بات کا عزم کرلیں(تو وہ گناہ ہے) اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا مہربان ہے۔” [الاحزاب 5/33۔]

⑫ زنا ثابت ہونے کے طریقے

کسی شخص پر حدِ زنا قائم کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کا زنا واضح طور پر ثابت ہو۔ یہ ثبوت دو طریقوں میں سے کسی ایک سے حاصل ہوگا:

⑫-1 اقرار کے ذریعے ثبوت

وہ شخص خود چار مرتبہ اقرار واعتراف کرلے، جیسا کہ ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعے میں وارد ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چار مرتبہ زنا کا اعتراف کیا۔ اگر ایک یا دو مرتبہ کا اقرار ہی کافی ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلی مرتبہ اعتراف پر ہی حد نافذ فرما دیتے۔ [صحیح البخاری الحدود ھل یقول الامام للمقر۔۔۔؟حدیث 6824،6825،وصحیح مسلم الحدود باب من اعترف علی نفسہ بالزنی حدیث (16)۔1691۔]

اقرار کے صحیح ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ اقرار کرنے والا وطی کی حقیقت کو صاف لفظوں میں بیان کرے، اپنے اقرار پر قائم رہے، اور حد قائم ہونے سے پہلے اس سے رجوع نہ کرے۔ اگر وہ زنا کی اصل صورت اور حقیقت واضح نہ کرے تو اس پر حد نہ لگے گی، کیونکہ ممکن ہے اس کی مراد کوئی اور حرام کام ہو جس پر حدِ زنا لازم نہ آتی ہو۔

اسی لیے حدیث میں ہے کہ جب ماعز اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زنا کا اعتراف کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت چاہتے ہوئے فرمایا: "تم نے بوسہ لیا ہوگا یا اسے چٹکی بھری ہوگی؟” اس نے کہا: نہیں، ایسا نہیں ہوا۔ پھر اس نے بار بار مکمل وضاحت کی، یہاں تک کہ تمام احتمالات ختم ہوگئے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حد جاری کرنے کا حکم دیا۔ [صحیح البخاری الحدود ھل یقول الامام للمقر۔۔۔؟حدیث 6824،6825،وصحیح مسلم الحدود باب من اعترف علی نفسہ بالزنی حدیث (16)۔1691۔]

اگر اقرار کرنے والا حد قائم ہونے سے پہلے رجوع کرلے تو اس پر حد نافذ نہیں کی جائے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بار بار وضاحت طلب کرنا شاید اسی بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ رجوع کرلے۔ اور جب ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ پتھر لگنے کی تکلیف کی وجہ سے بھاگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"هَلَّا تَرَكْتُمُوهُ لَعَلَّهُ أَنْ يَتُوبَ فيتوب الله عليه”
"تم نے اسے کیوں نہ جانے دیا؟شاید وہ توبہ کرلیتا اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتا۔” [سنن ابی داود الحدود بابرجم ماعز بن مالک حدیث 4419۔]

⑫-2 گواہوں کے ذریعے ثبوت

اگر کسی کے زنا پر چار آدمی گواہی دے دیں تو اس پر حد جاری ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿لَوْلَاجَاءُوا عَلَيْهِ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ﴾
"وہ اس پر چار گواہ کیوں نہ لائے؟” [النور 13/24۔]

اور فرمایا:

﴿وَالَّذينَ يَرمونَ المُحصَنـٰتِ ثُمَّ لَم يَأتوا بِأَربَعَةِ شُهَداءَ … ﴿٤﴾… سورةالنور
"جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں،پھر چار گواہ نہ پیش کریں۔” [النور 4/24۔]

نیز فرمایا:

﴿فَاستَشهِدوا عَلَيهِنَّ أَربَعَةً مِنكُم… ﴿١٥﴾…سورة النساء
"ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو۔” [النساء 4/15۔]

زنا میں چار مردوں کی شہادت اسی وقت قبول ہوگی جب یہ شرائط پائی جائیں:

◈ چاروں ایک ہی مجلس میں گواہی دیں۔
◈ سب ایک ہی واقعے پر گواہی دے رہے ہوں۔
◈ وہ واقعہ زنا کو اس صراحت کے ساتھ بیان کریں کہ کسی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہ رہے، کیونکہ بعض اوقات کسی برے عمل کو زنا سمجھ لیا جاتا ہے حالانکہ اس پر حدِ زنا جاری نہیں ہوتی۔
◈ گواہ معتبر ہوں، اس واقعے میں عورتوں یا فاسقوں کی گواہی قبول نہ ہوگی۔
◈ ان چاروں میں کوئی ایسا شخص نہ ہو جس کی شہادت کے قبول ہونے میں شرعی مانع موجود ہو، مثلاً کوئی اندھا ہو۔

اگر ان مذکورہ شرائط میں سے ایک شرط بھی موجود نہ ہو تو ان تمام گواہوں پر حدِ قذف لگائی جائے گی، کیونکہ انہوں نے تہمت لگائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَالَّذينَ يَرمونَ المُحصَنـٰتِ ثُمَّ لَم يَأتوا بِأَربَعَةِ شُهَداءَ فَاجلِدوهُم ثَمـٰنينَ جَلدَةً … ﴿٤﴾… سورةالنور
"جولوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں،پھر چار گواہ نہ پیش کرسکیں تو انھیں اسی(80) کوڑے لگاؤ۔” [النور 4/24۔]

⑬ حمل کے ذریعے زنا کے ثبوت کا اختلافی مسئلہ

مذکورہ شرائط کے مطابق گواہی میسر آجانے سے یا زانی کے اقرار سے زنا ثابت ہوجاتا ہے، اور اس پر علماء کا اتفاق ہے۔ البتہ اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ کیا عورت کے حمل ظاہر ہوجانے سے بھی زنا ثابت ہوجاتا ہے یا نہیں، مثلاً ایسی عورت حاملہ ہو جس کا نہ شوہر ہو اور نہ مالک؟

بعض علماء کہتے ہیں کہ اس پر حد جاری نہ ہوگی، کیونکہ ممکن ہے اس پر جبر ہوا ہو یا کسی شبہ کی وجہ سے اس سے وطی کی گئی ہو۔ جبکہ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ایسی عورت پر حدِ زنا جاری ہوگی، بشرطیکہ وہ کسی شبہ کا دعویٰ نہ کرے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "یہی مسلک خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین کا تھا، اور یہی اصولِ شرعیہ کے زیادہ موافق ہے۔ اہلِ مدینہ کا مذہب بھی یہی تھا، کیونکہ کمزور احتمالات قابلِ التفات نہیں ہوتے۔” [مجموع الفتاویٰ 28/334۔]

ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک ایسی عورت کو رجم کرنے کا حکم دیا جو حاملہ ہوگئی تھی، حالانکہ اس کا نہ شوہر تھا نہ مالک۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی مذہب ہے، جس میں ظاہر قرینے پر اعتماد کیا گیا ہے۔” [الطرق الحکمیۃ لابن القیم مقدمۃ ص 28۔]

⑭ عملِ قومِ لوط کی سزا

جس طرح زنا ثابت ہونے پر حد جاری کی جاتی ہے، اسی طرح عملِ قومِ لوط کا مرتکب بھی حد کا مستحق ہے، کیونکہ یہ بھی ایک نہایت خبیث، قبیح اور فطرتِ سلیمہ کے خلاف جرم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قومِ لوط کے بارے میں فرمایا:

﴿أَتَأتونَ الفـٰحِشَةَ ما سَبَقَكُم بِها مِن أَحَدٍ مِنَ العـٰلَمينَ ﴿٨٠﴾ إِنَّكُم لَتَأتونَ الرِّجالَ شَهوَةً مِن دونِ النِّساءِ بَل أَنتُم قَومٌ مُسرِفونَ ﴿٨١﴾… سورة الاعراف
"(کیا) تم ایسا فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا جہاں والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔بے شک تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو بلکہ تم تو حد ہی سے گزر گئے ہو۔” [الاعراف 7/80،81۔]

عملِ قومِ لوط کے حرام ہونے کی دلیل کتاب، سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو ایسا فحش اور حرام کام قرار دیا جو ان سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا تھا۔ گویا وہ پوری انسانیت کے عام راستے سے ہٹ کر چل رہے تھے۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس جرم کی وجہ سے حدودِ الٰہی سے تجاوز کرنے والا اور زیادتی کرنے والا مجرم قرار دیا، اور اس جرم کے سبب ان پر ایسا عذاب نازل کیا جو کسی اور قوم پر نازل نہیں ہوا۔ انہیں زمین میں دھنسا دیا گیا اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے گئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاعل اور مفعول دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [جامع الترمذی الحدود باب ماجاء فی حداللوطی حدیث 1456 البتہ حدیث میں قوم لوط والے عمل پر لعنت موقوفاً وارد ہوئی ہے۔]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "درست بات یہی ہے کہ فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کیا جائے گا، خواہ وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا یہی مذہب تھا، اور اس بارے میں کسی اختلاف کا نقل ہونا معلوم نہیں۔ البتہ بعض کا خیال یہ ہے کہ انہیں بستی کی سب سے بلند دیوار پر چڑھا کر نیچے پھینکا جائے، پھر ان پر پتھر مارے جائیں۔” [مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ 28/334۔335۔]

ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اس لیے کہ اس پر صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کا اجماع ہے، لہٰذا قتل کرنے پر تو سب متفق ہیں، البتہ طریقۂ قتل میں اختلاف ہے۔” [المغنی والشرح الکبیر 10/158۔]

ابن رجب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "صحیح یہی ہے کہ اسے قتل کردیا جائے، خواہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ”
"اور ہم نے ان لوگوں پر کھنگر کے پتھر برسائے۔” [الحجر 15/74۔]

اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اسے رجم کیا جائے گا، خواہ وہ کنوارہ ہو یا شادی شدہ۔” امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اسے قتل کیا جائے”، کیونکہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ”
"اگر تم کسی کو قوم لوط کا عمل کرتا پاؤ تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کردو۔” [سنن ابی داود الحدود” باب فيمن عمل عمل قوم لوط”حدیث 4462۔]

⑮ بیوی کی دبر استعمال کرنے کا حکم

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی فرج کے بجائے دبر استعمال کرتا ہے تو وہ بھی قومِ لوط جیسا فعل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿فَأتوهُنَّ مِن حَيثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوّ‌ٰبينَ وَيُحِبُّ المُتَطَهِّرينَ ﴿٢٢٢﴾… سورةالبقرة
"تم ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمھیں اجازت دی ہے۔بے شک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔” [البقرۃ:2/222۔]

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، مجاہد رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اہل علم فرماتے ہیں کہ آیت میں:

﴿فَأتوهُنَّ مِن حَيثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ …﴿٢٢٢﴾… سورة البقرة

سے مراد عورت کی فرج ہے، دبر نہیں۔ لہٰذا جو شخص مقررہ حد سے تجاوز کرے، وہ احکامِ الٰہی میں زیادتی کرنے والا ہے اور سزا کا مستحق ہے۔ اگر کوئی شخص اس فعل پر اصرار کرے اور بار بار اسے انجام دے تو اس کی بیوی کو چاہیے کہ ایسے خبیث شوہر کو چھوڑ دے، کیونکہ ایسی حالت میں اس کے ساتھ زندگی گزارنا درست اور جائز نہیں۔

حد قذف کا بیان

فقہائے کرام رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک قذف سے مراد کسی شخص پر زنا یا عملِ قومِ لوط کا الزام لگانا ہے، جبکہ لغت میں قذف کے معنی ہیں: "زور کے ساتھ پھینکنا۔” بعد میں یہی لفظ زنا یا عملِ قومِ لوط کی تہمت کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ قذف کا حرام ہونا کتاب اللہ، سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿وَالَّذينَ يَرمونَ المُحصَنـٰتِ ثُمَّ لَم يَأتوا بِأَربَعَةِ شُهَداءَ فَاجلِدوهُم ثَمـٰنينَ جَلدَةً وَلا تَقبَلوا لَهُم شَهـٰدَةً أَبَدًا وَأُولـٰئِكَ هُمُ الفـٰسِقونَ ﴿٤﴾… سورة النور
"جولوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں،پھر چار گواہ نہ پیش کرسکیں تو انھیں اسی(80) کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو،یہ لوگ فاسق ہیں۔” [النور 4/24۔]

اس آیت میں دنیاوی سزا بیان ہوئی ہے، یعنی اسی کوڑے لگانا، اس کی گواہی کو رد کردینا، اور اسے فاسق، ناقص اور ذلیل قرار دینا، بشرطیکہ وہ اپنا الزام ثابت نہ کرسکے اور جھوٹا ہو۔ رہی آخرت کی سزا، تو اللہ تعالیٰ نے اسے یوں بیان فرمایا ہے:

﴿إِنَّ الَّذينَ يَرمونَ المُحصَنـٰتِ الغـٰفِلـٰتِ المُؤمِنـٰتِ لُعِنوا فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ وَلَهُم عَذابٌ عَظيمٌ ﴿٢٣﴾ يَومَ تَشهَدُ عَلَيهِم أَلسِنَتُهُم وَأَيديهِم وَأَرجُلُهُم بِما كانوا يَعمَلونَ ﴿٢٤﴾ يَومَئِذٍ يُوَفّيهِمُ اللَّهُ دينَهُمُ الحَقَّ وَيَعلَمونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الحَقُّ المُبينُ ﴿٢٥﴾… سورة النور
"جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی باایمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وه دنیا وآخرت میں ملعون ہیں اور ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے (23) جب کہ ان کے مقابلے میں ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے (24) اس دن اللہ تعالیٰ انہیں پورا پورا بدلہ حق و انصاف کے ساتھ دے گا اور وه جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے (اور وہی)ظاہر کر نے والاہے ” [النور 24/23۔25۔]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

"اجتنبوا السبع الموبقات قالوا يا رسول الله وما هن قال الشرك بالله والسحر وقتل النفس التي حرم الله إلا بالحق وأكل الربا وأكل مال اليتيم والتولي يوم الزحف وقذف المحصنات المؤمنات الغافلات”
” ان سات کاموں سے بچو جو انسان کو ہلاک اور برباد کرنے والے ہیں۔۔۔(ان میں سے ایک یہ ہے۔) پاک دامن بھولی بھالی عورتوں پر زنا کاالزام لگانا۔” [صحیح البخاری الوصایا باب قول اللہ تعالیٰ:(إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا ۖ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا) (النساء4/10) حدیث:2766۔]

اہلِ اسلام کا اس پر اجماع ہے کہ قذف حرام ہے، اور اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔

① قاذف کی سزا

اللہ تعالیٰ نے قاذف یعنی تہمت لگانے والے کے لیے سخت اور عبرتناک حد مقرر فرمائی ہے۔ چنانچہ جب کوئی عاقل، بالغ، بلاجبر و اکراہ کسی پاک دامن شخص پر زنا یا عملِ قومِ لوط کا الزام لگائے، اور وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ثابت ہو، تو اس کے جسم پر اسی کوڑے مارے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿ وَالَّذينَ يَرمونَ المُحصَنـٰتِ ثُمَّ لَم يَأتوا بِأَربَعَةِ شُهَداءَ فَاجلِدوهُم ثَمـٰنينَ جَلدَةً … ﴿٤﴾… سورة النور
"جولوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں،پھر چار گواہ نہ پیش کرسکیں تو انھیں اسی(80) کوڑے لگاؤ۔” [النور 4/24۔]

یہ بات واضح رہے کہ جس شخص پر الزام لگایا گیا ہو، وہ مرد ہو یا عورت، دونوں صورتوں میں حکم ایک ہی ہے۔ آیت میں عورتوں کا خاص ذکر اس لیے آیا کہ نزولِ آیت کا واقعہ عورت پر تہمت سے متعلق تھا، اور اس لیے بھی کہ عورتوں پر اس نوعیت کا الزام لگانا بہت ہی زیادہ قبیح ہے۔

② اس سزا کی حکمت

الزام لگانے والے کو یہ سخت سزا اس لیے دی گئی تاکہ مسلمانوں کی عزتیں اوباش اور رذیل لوگوں کے ہاتھوں پامال نہ ہوں، زبانیں ایسے ناپاک الفاظ سے محفوظ رہیں جو پاکدامن لوگوں کو بدنام کردیتے ہیں، اور اسلامی معاشرہ بے حیائی اور برائی کے جراثیم پھیلنے سے محفوظ رہے۔

③ مقذوف میں جن اوصاف کا ہونا ضروری ہے

حدِ قذف اسی وقت جاری ہوگی جب تہمت ایسے شخص پر لگائی گئی ہو جو آزاد، مسلمان، عاقل، پاک دامن، بالغ یا قریب البلوغ ہو، اور جماع کی قدرت رکھتا ہو۔

امام ابن رشد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اہل علم کا اتفاق ہے کہ جس شخص پر تہمت لگائی گئی ہو، اس میں پانچ اوصاف جمع ہوں تو قاذف پر حد لازم ہوگی: بلوغت، آزادی، عفت، اسلام، اور جسمانی طور پر جماع پر قادر ہونا۔ اگر ان میں سے ایک وصف بھی نہ ہو تو قاذف پر حد جاری نہ ہوگی۔” [ہدایۃ المجتھد 2/783۔]

④ حد قذف مقذوف کا حق ہے

حدِ قذف مقذوف یعنی جس پر الزام لگایا گیا ہے، اس کا حق ہے۔ اگر وہ معاف کردے تو حد نافذ نہیں ہوگی۔ اس لیے حدِ قذف کا اجرا مقذوف کے مطالبے پر ہی ہوگا۔ اگر وہ قاذف کو معاف کردے تو حد ساقط ہوجائے گی، البتہ تعزیر باقی رہے گی تاکہ وہ دوبارہ ایسا جرم نہ کرے جو نہ صرف حرام ہے بلکہ جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی لعنت اور دردناک عذاب کی وعید سنائی ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "قاذف پر حد اسی وقت لگائی جائے گی جب مقذوف مطالبہ کرے۔” [مجموع الفتاویٰ 34/185۔] اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔

⑤ غیر حاضر شخص پر تہمت کا حکم

اگر کسی نے کسی غیر حاضر شخص پر زنا کا الزام لگایا تو قاذف پر حد اسی وقت نافذ ہوگی جب مقذوف موجود ہوکر حد قذف کا مطالبہ کرے، یا یہ بات ثابت ہوجائے کہ اس نے اپنی غیر حاضری میں بھی اس سزا کا مطالبہ کیا تھا۔

⑥ قذف کے الفاظ کی دو قسمیں

قذف کے الفاظ دو طرح کے ہوتے ہیں:

واضح الفاظ: وہ الفاظ جو صرف قذف ہی پر دلالت کرتے ہوں، جیسے کسی سے کہا جائے: "اے زانی!” یا "اے قوم لوط کا فعل کرنے والے!” ایسے الفاظ میں قاذف سے مزید وضاحت طلب کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

کنایہ کے الفاظ: وہ الفاظ جن میں قذف کے علاوہ کسی اور معنی کا احتمال بھی ہو، جیسے کسی کو "اے طواف!”، "اے فاجرہ عورت!” یا "اے خبیث عورت!” کہنا۔ ایسے الفاظ بولنے والے سے وضاحت طلب کی جائے گی۔ اگر وہ یہ کہے کہ طوائف سے میری مراد وہ عورت تھی جو نافرمانی کے لیے بناؤ سنگھار کرتی ہے، فاجرہ سے مراد خاوند کی نافرمان عورت تھی، اور خبیثہ سے مراد بری طبیعت والی عورت تھی، تو اس کی یہ وضاحت قبول کی جائے گی، اور محض ایسے الفاظ سے حدِ قذف جاری نہیں ہوگی، کیونکہ جہاں شبہ ہو وہاں حد نافذ نہیں کی جاتی۔

⑦ جماعت یا شہر والوں پر تہمت لگانے کا حکم

اگر کسی نے ایک پورے گروہ یا کسی شہر کے لوگوں پر زنا کا الزام لگایا تو اس پر حدِ قذف جاری نہیں ہوگی، البتہ اسے تعزیری سزا دی جائے گی، کیونکہ اس نے یقینی طور پر جھوٹ بولا ہے۔ اسی طرح غلط الفاظ استعمال کرنے اور سخت گالی دینے کی وجہ سے بھی اس پر تعزیر ہوگی، اگرچہ مقذوف مطالبہ نہ بھی کرے، کیونکہ یہ معصیت ہے اور اس میں تادیب ضروری ہے۔

⑧ نبی پر قذف کا حکم

جس نے کسی نبی پر زنا کا بہتان باندھا، اس نے کفر کا ارتکاب کیا، اور اگر وہ پہلے مسلمان تھا تو وہ مرتد ہوگیا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں پر قذف، درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قذف ہے، اور ایسا قاذف مرتد کے حکم میں ہے۔”

آگے چل کر شیخ موصوف فرماتے ہیں: "اگر قاذف رجوع کرلے، معافی مانگ لے، اور مقذوف کو ابھی اس بات کی خبر نہ ہوئی ہو، تو کیا اس کا رجوع قبول ہوگا یا نہیں؟ اس مسئلے میں لوگوں کے احکام مختلف ہیں۔ اکثریت کی رائے یہ ہے کہ اگر مقذوف کو خبر ہوچکی ہو تو رجوع درست نہیں، اور اگر خبر نہ ہوئی ہو تو رجوع صحیح ہوگا، البتہ قاذف کو چاہیے کہ مقذوف کے حق میں زیادہ سے زیادہ دعا اور استغفار کرے۔”

⑨ زبان کی حفاظت کی تاکید

اس پوری بحث سے واضح ہوا کہ زبان کے بڑے خطرات ہیں اور زبان سے نکلنے والے الفاظ پر آدمی کی پکڑ ہوگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ أَوْ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ”
"کئی لوگ اپنی زبانوں پر جاری کیے ہوئے الفاظ کی وجہ سے جہنم میں الٹے ڈالے جائیں گے۔” [جامع الترمذی الایمان باب ماجاء فی حرمۃ الصلاۃ حدیث 2616 ومسند احمد 5/231۔]

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ما يَلفِظُ مِن قَولٍ إِلّا لَدَيهِ رَقيبٌ عَتيدٌ ﴿١٨﴾… سورة ق
"(انسان) منہ سے جو لفظ بھی نکالتاہے وہ لکھنے کے لیے اس کے پاس ایک نگران(فرشتہ) تیار ہوتا ہے۔” [ق 50/18۔]

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقولوا قَولًا سَديدًا ﴿٧٠﴾… سورة الاحزاب
"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی سیدھی(سچی) باتیں کیاکرو۔” [الاحزاب 33/70۔]

لہٰذا انسان پر لازم ہے کہ اپنی زبان کی حفاظت کرے، سوچ سمجھ کر بولے، اور سچی، سیدھی اور پختہ بات زبان سے نکالے۔

ہماری موبائل ایپ ڈاؤنلوڈ کریں

قرآن مع تفاسیر
احادیث مع شرح و تخریج
تحقیقی مضامین
اوقات نماز
آف لائن دستیاب