مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

حدیث کی روشنی میں حج کی اہمیت

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

حج کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب:

زندگی میں ایک مرتبہ بیت اللہ کا حج کرنا ہر اس بالغ مرد و عورت پر فرض ہے، جو حج کرنے کی استطاعت رکھتا ہو، یہ ارکان اسلام میں سے ہے۔ اس کی فرضیت قرآن، حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾
(آل عمران: 97)
اللہ تعالیٰ کے لیے ہر اس شخص پر بیت اللہ کا حج فرض ہے، جو بیت اللہ تک پہنچنے کی (مالی و جسمانی) استطاعت رکھتا ہے۔
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:
قد وردت الأحاديث المتعددة بأنه أحد أركان الإسلام ودعائمه وقواعده، وأجمع المسلمون على ذلك إجماعا ضروريا، وإنما يجب على المكلف فى العمر مرة واحدة بالنص والإجماع
متعدد احادیث میں وارد ہوا ہے کہ حج ارکان اسلام اور بنیادی ستونوں میں سے ہے، اس پر مسلمانوں کا قطعی وضروری اجماع ہے، نیز نص اور اجماع سے ثابت ہے کہ حج مکلف پر زندگی میں ایک مرتبہ واجب ہے۔
(تفسير ابن كثير: 81/2)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔