سوال :
بعض لوگ درج ذیل حدیث سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا خلیفہ بلا فصل ہونا ثابت کرتے ہیں ،اس کی کیا حقیقت ہے؟
❀ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم على بن أبى طالب فى غزوة تبوك فقال : يا رسول الله تخلفني فى النساء والصبيان؟ فقال : أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى؟ غير أنه لا نبي بعدي.
”غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو(مدینہ میں ) اپنا جانشین مقرر کیا، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جارہے ہیں؟ فرمایا: کیا آپ کو یہ امتیاز خوش نہیں آتا کہ میرے ساتھ آپ کی وہی نسبت ہو ، جو ہارون علیہ السلام کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی ، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“
(صحيح البخاري : 3706 ، صحيح مسلم : 2404 ، واللفظ له)
❀ صحیح مسلم میں یہ الفاظ بھی ہیں :
إنه لا نبوة بعدي.
” میرے بعد کوئی نبوت نہیں۔“
جواب:
غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کوگھر پر چھوڑا ، جس بنا پر منافقین نے چیمی گوہیاں کیں کہ اب انہیں علی رضی اللہ عنہ کی کوئی ضرورت نہیں ، تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ میری علی سے وہی نسبت ہے ، جو ہارون علیہ السلام کی موسی علیہ السلام سے تھی ، البتہ میرے بعد نبوت نہیں ۔
اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بلا فصل چنا تھا۔ اگر ایسا ہوتا ، تو اُمت کبھی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی خلاف ورزی نہ کرتی ۔
دوسری بات یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں بھی یہ بات ذکر نہیں کی کہ اس فرمان نبوی میں میری خلافت کا ثبوت ہے۔
❀ علامہ ابو عبد اللہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں:
لا خلاف أن النبى صلى الله عليه وسلم لم يرد بمنزلة هارون من موسى الخلافة بعده.
”اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرمان سے اپنے بعد علی رضی اللہ عنہ کی خلافت مراد نہیں لی۔“
(تفسير القرطبي : 267/1)