مضمون کے اہم نکات
یہ مضمون "مالک الدار” والی روایت کی سند اور متن کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہے۔ اس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ روایت کی اسناد میں موجود علل، بالخصوص الاعمش کی تدلیس اور مالک الدار کی مجہول حیثیت، اسے نا قابلِ قبول بناتی ہیں۔ متن کے اعتبار سے بھی یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ یہ سنتِ نبوی ﷺ اور صحابہ کے عملی طریقوں کے خلاف ہے، اور خواب کو شریعت میں حجت نہیں مانا جاتا۔ مزید یہ کہ بریلوی علما کے اپنے اصول کے مطابق بھی یہ روایت عقیدہ یا عمل کے لیے دلیل نہیں بن سکتی۔ چنانچہ تحقیقی نتیجہ یہی ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے اور کسی بھی شرعی یا اعتقادی مسئلے میں حجت نہیں۔ [توسل سے متعلق 41 ضعیف و من گھڑت روایات کا تحقیقی جائزہ یہاں ملاحظہ کریں]
روایت کا متن:
حدثنا أبو معاوية عن الأعمش، عن أبي صالح، عن مالك الدار، قال وكان خازن عمر على الطعام
قال: أصاب الناس قحط في زمن عمر، فجاء رجل إلى قبر النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، استق لأمتك فإنهم قد هلكوا، فأتى الرجل في المنام فقيل له انت عمر فأقرته السلام، وأخير، أنكم مستقيمون وقل له عليك الكيس، عليك الكيس ، فأتى عمر فأخبره فيكي عمر ثم قال يا رب لا ألو إلا ما عجزت عنه.
اردو ترجمہ:
ایک دفعہ عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قحط (سُکھا) آیا۔ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر گیا اور دعا کی:
"یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اپنی امت کے لیے استسقاء کی دعا کریں کیونکہ وہ تباہ ہو چکی ہے۔”
پھر وہ شخص خواب میں آیا اور اس سے کہا گیا:
"انت عمر، اور میں تمہیں سلام کہتا ہوں، اور آپ کی امت بالکل صحیح راستے پر ہوگی۔ اور آپ پر الكیس (بخوبی معاملہ سنبھالنے کی صلاحیت) لازم ہے۔”
اس کے بعد وہ شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں یہ خواب سنایا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے دعا کی:
"یا رب! میں اس کے سوا کچھ نہ دے سکتا جو میرے بس میں ہو۔”
اس روایت کی سند اور متن کا مکمل جائزہ
🔎 آئیے شروع کرتے ہیں – اس روایت کی سند اور متن کا مکمل جائزہ👇🏻
سب سے پہلے ہم اس حدیث کی سند پر غور کریں گے، پھر متن کا تفصیل سے تجزیہ کریں گے، اور ان شاء اللہ بعد میں اور بھی احادیث کا جائزہ لیں گے۔
اس حدیث میں ایک راوی ہیں، ان کا نام ہے – الاعمش۔
❗ اور یہ ایک بہت ہی اہم بات ہے:
الاعمش ایک مُدَلِّس راوی ہیں۔
یعنی جب وہ حدیث کو لفظ "عن” کے ساتھ بیان کرتے ہیں لیکن نہیں بتاتے کہ اصل میں کس سے سنا ہے، تو ان کی روایت کبھی بھی قبول نہیں ہوتی۔
➡ یہی اصولِ حدیث کا بنیادی قانون ہے جو روایت کی صحت کی حفاظت کرتا ہے۔
📚 اب دیکھئے، محدثین نے الاعمش کے بارے میں کیا فرمایا:
1️⃣ امام ابو محمد عبدالرحمٰن الرازی (حافظ اور امام ابو حاتم کے بیٹے) نے فرمایا:
📝 "الاعمش نے تدلیس کی ہے (بیچ کا راوی چھپا دیا ہے)۔”
📚 علل الحدیث، ابنابی حاتم الرازی صفحہ 14
2️⃣ امام الحافظ ابو الفضل ابن عمرو الشہید (317 ہجری میں وفات پا چکے) نے بیان فرمایا:
📝 "الاعمش تدلیس کرتے تھے، اس لیے ممکن ہے کہ انہوں نے ایسے راوی سے بھی روایت کی ہو جو ثقہ (بھروسا مند) نہ تھا۔”
📚 حوايات علی الاحادیث فی کتاب الصحیح (مسلم بن الحجاج) صفحہ 138۔
⚡ اصولِ حدیث کا قانون:
اگر کسی مُدَلِّس کی روایت میں صرف "عن” ہو (بغیر واضح کہنے کے کہ اصل راوی سے سنی)، تو اسے کبھی بھی قبول نہیں کیا جاتا۔
3️⃣ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:
📝 "ہم مُدَلِّس کی روایت نہیں مانتے جب تک وہ واضح طور پر نہ کہے: ‘اس نے مجھے بیان کیا’ یا ‘میں نے سنا’۔”
👉 اس لیے، الاعمش کی "عن” والی روایت کو کبھی بھی قبول نہیں کیا جاتا، کیونکہ وہ مُدَلِّس ہیں۔ ❌
4️⃣ امام ابن حبان رحمہ اللہ کا فرمان ہے:
📝 "جو مُدَلِّس راوی ثقہ اور عادل ہو، ہم ان کی روایت صرف تب قبول کرتے ہیں جب انہوں نے خود صاف طور پر کہا ہو کہ انہوں نے براہِ راست سنی – جیسے الثوری، الاعمش، ابو اسحاق اور ان جیسے اور ثقہ علما۔”
📚 صحیح ابن حبان جلد 1 صفحہ 161۔
5️⃣ امام ابن قطان رحمہ اللہ نے بھی لکھا:
📝 "الاعمش کی عنعنہ (’عن‘ کے ساتھ روایت) میں انقطاع (ڈس کنٹی نیوٹی) کا امکان رہتا ہے، کیونکہ وہ مُدَلِّس ہے۔”
📚 بیان الوہم والایہام الواقعین فی کتاب الاحکام جلد 2 صفحہ 435۔
🔎 الاعمش کی تدلیس اور بریلوی اجتہاد کا جائزہ
بریلوی لوگ ایک طرف یہ کہتے ہیں کہ امام ابن حجر کے نزدیک الاعمش کی تدلیس قبول کی جاتی ہے، کیونکہ ان کے نزدیک الاعمش طبقہ ثانیہ کا مُدَلِّس ہے۔ اور جب الاعمش ابو صالح سے "عن” کے ساتھ روایت کرتا ہے، تب بھی یہ قبول ہے۔
❗ لیکن اصل بات یہ ہے کہ متقدمین محدثین کا اصول تھا کہ کسی بھی مُدَلِّس کی تدلیس کبھی بھی قبول نہیں ہوتی۔
ان کے ہاں طبقات کا سلسلہ بھی نہیں تھا، یہ ابن حجر کی اجتہادی غلطی ہے کیونکہ امام ابن حجر نے خود الاعمش کی تدلیس کو قبول نہیں کیا۔
❗ اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں محدث جیسے ابن حجر، یا ابن کثیر وغیرہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے، ان کا بھی رد ابن حجر سے ہو جاتا ہے۔ 👇🏻
📚 ابن حجر خود ایک حدیث پر جرح بھی کرتے ہیں، فرماتے ہیں:
لأنه لا يلزم من كون رجاله ثقات أن يكون صحيحا لأن الأعمش مدلس ولم ينكر سماعه من عطاء
➡ ترجمہ:
"صرف اس وجہ سے کہ رجال (راوی) ثقہ ہیں، یہ ضروری نہیں کہ حدیث بھی صحیح ہو۔ کیونکہ الاعمش مُدَلِّس ہے، اور اس نے عطا سے سماع (سننا) ثابت نہیں کیا۔”
(تلخیص الحبیر #1181)
⚠ غور کرنے والی باتیں – حدیث کی حقیقت سمجھیں!
🔺 سب سے پہلے ایک بہت اہم بات سمجھنا ضروری ہے:
ابن قطان رحمہ اللہ متقدمین کے مشہور اور بڑی شناخت رکھنے والے محدث ہیں۔
لیکن پھر بھی، ابن حجر حافظ نے ان کی تصحیح (کسی حدیث کو صحیح قرار دینا) کو قبول نہیں کیا۔
کیوں؟
➡ اصول کی روشنی میں: جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ الاعمش نے کس سے سنا، اس حدیث کو صحیح نہیں مانا جاتا۔
➡ اس لیے کسی بھی محدث کا ’’صحیح‘‘ کہنا یہاں بالکل کافی نہیں ہے حدیث کے صحیح ہونے کے لیے۔
رہی بات کہ اس حدیث کو ’’صحیح‘‘ کہا گیا ہے، جیسا کہ انہوں نے اسکین میں لگایا تو جان لیجیے کہ اصولِ حدیث میں ہمیشہ اصول مقدم رہتا ہے، جب تک حدیث کی ساری علت (خرابی) دور نہ ہو تب تک کسی کے حدیث کو صحیح کہنے سے وہ صحیح نہیں ہو جاتی۔
♦ عباس رضوی جیسے بریلوی محدث لکھتے ہیں:
"ضعیف یا صحیح کہنے سے کوئی حدیث صحیح کا ضعیف نہیں بن جاتی۔”
📚 حوالہ: مناظرے ہی مناظرے صفحہ 292۔
اگر ابن حجر سے مختلف قول آئیں — ایک جگہ قبول اور دوسری جگہ رد — تو چلیے ہم دیکھتے ہیں ابن حجر سے بھی بڑے محدثین، الاعمش کی تدلیس والی روایت کو صحیح کہتے ہیں یا رد کرتے ہیں اور کیا بریلویوں کے بڑے بڑے اکابرین نے اس کی تدلیس کو قبول کیا یا رد:
🌿 مزید دلچسپ بات:
خود بریلوی اسکالرز بھی اس حدیث کو قبول نہیں کرتے جس میں امام ابن خزیمہ نے سینے پر ہاتھ باندھنے کا ذکر کیا۔
➡ یہ حدیث امام ابن حبان کے نزدیک صحیح ہے، لیکن پھر بھی بریلوی اس پر جرح کرتے ہیں اور اسے رد کرتے ہیں۔
♦ مفتی عباس رضوی (بریلوی محدث) کا زبردست بیان:
📝 "ضعیف یا صحیح کہنے سے کوئی حدیث صحیح کا ضعیف نہیں بن جاتی۔”
➡ (Source: مناظرے ہی مناظرے، صفحہ 292)
🌟 اصل بات سمجھنی ضروری ہے:
بریلوی بزرگ خود مانتے ہیں کہ الاعمش کی "عن” والی روایت قبول نہیں، پھر بھی کچھ لوگ اپنی عوام کو گمراہ کر کے یہ بتاتے ہیں کہ یہ روایت صحیح ہے۔
بریلوی مشہور علما کا اپنا بیان:
1️⃣ امام ابن عینی الحنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
📝 "الاعمش مُدَلِّس ہے، اور مُدَلِّس کی عنعنہ (یعنی ’عن‘ کے ساتھ روایت) تب تک قبول نہیں کی جاتی جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے براہِ راست سنا ہے اور واضح طور پر کہہ دیا ہو کہ اس نے سنا ہے۔”
📚 عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری صفحہ 124۔
2️⃣ مفتی عباس رضوی (مشہور بریلوی اسکالر) لکھتے ہیں:
📝 "اس روایت میں ایک راوی امام الاعمش ہے، جو کہ بڑے عالم ہیں، لیکن مُدَلِّس ہیں۔ جب مُدَلِّس ’عن‘ کے ساتھ روایت کرتا ہے، اس کی روایت اجماعاً رد کی گئی ہے۔”
📚 آپ زندہ ہیں واللہ صفحہ 270۔
🚫 وہ علماء جو "الاعمش سے ابو صالح” والی روایت کو رد کرتے ہیں
3️⃣ امام جوزی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
📝 "یہ حدیث احمد بن حنبل کے نزدیک صحیح نہیں؛ یہ مقبول حدیث نہیں ہے۔ اس حدیث کی کوئی بنیاد نہیں ہے، کیوں کہ اس میں کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ الاعمش نے ابو صالح سے سنا ہے۔ الاعمش ضعیف ہے۔”
📚 العلل المتناہیۃ صفحہ 433۔
4️⃣ سفیان الثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
📝 "الاعمش نے یہ حدیث ابو صالح سے نہیں سنی: ‘امام ذمہ دار ہے (The Imam is the guarantor)’۔”
📚 تاریخ یحییٰ بن معین – صفحہ 362۔
حدیث کے دوسرے راوی: مالک الدار مجہول ہیں
🔎 اب بات کرتے ہیں اس حدیث کے دوسرے راوی مالک الدار کی حالت کی…
اس شخص کی حالت بالکل مجہول (Unknown) ہے۔ یہی اس کے سچے، جھوٹے یا بھروسا مند ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔
❗ ابھی تک کوئی واضح ثبوت نہیں ملے جو اس شخص کو ٹھیک طریقے سے شناخت کرے۔
⚠ اگر سند بالکل ٹھیک بھی ہو…
چلو مان لیتے ہیں کہ سند بالکل پرفیکٹ ہے… لیکن بریلوی اصول کے مطابق پھر بھی یہ حدیث عقیدے (Creed) میں دلیل نہیں بن سکتی۔
📚 احمد رضا خان بریلوی خود فرماتے ہیں:
"عقیدے کے مسائل میں حدیثِ آحاد (خبرِ واحد) کبھی بھی دلیل نہیں بن سکتی، چاہے وہ صحیح ہی کیوں نہ ہو۔”
➡ اس لیے متواتر حدیث ضروری ہے۔
📚 فتاویٰ رضویہ جلد 5 صفحہ 479۔
⚠ اور یہ حدیث خبرِ واحد ہے نہ کہ متواتر… تو پھر دلیل کہاں سے بنائی جاتی ہے؟ 🤷♂
♦ نتیجہ (سند کا):
➡ ہر صورت میں، الاعمش کی تدلیس کی وجہ سے یہ سند کبھی بھی قبول نہیں کی جا سکتی
➡ مالک الدار کا حال نامعلوم ہے۔
➡ خود یہ روایت بریلوی کے ولی احمد رضا کے اصول کے خلاف ہے یہ حدیث۔
🔎 روایت کے متن پر تحقیق
کسی بھی حدیث کو صحیح تسلیم کرنے کے لیے صرف سند کا صحیح ہونا کافی نہیں ہوتا — سند اور متن دونوں کا صحیح ہونا لازمی ہے۔
اگر ان دونوں میں سے کسی ایک میں بھی علت (خامی یا شک) ثابت ہو جائے تو حدیث قابلِ قبول نہیں رہتی۔
الحافظ ابن الصلاح رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”قولهم : (هذا حديث صحيح الإسناد أو حسن الإسناد) دون قولهم : هذا حديث صحيح أو حديث حسن لأنه قد يقال : هذا حديث صحيح الإسناد ، ولا يصح لكونه شاذا أو معللا“
’’ان کا یہ کہنا: ’یہ حدیث صحیح الاسناد ہے‘ یا ’حسن الاسناد ہے‘ — ’یہ حدیث صحیح ہے‘ یا ’حسن ہے‘ کہنے کے بجائے — اس لیے ہوتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہا جائے: ’یہ حدیث صحیح الاسناد ہے‘ لیکن یہ صحیح نہ ہو اس لیے کہ یہ شاذ ہے یا معلول ہے۔‘‘
📚 مقدمہ فی علوم الحدیث (ص 23)
ابن حجر اور ابن کثیر نے صرف سند کی تصحیح کی ہے، نہ کہ پوری حدیث کی۔ لیکن پھر بھی، جمہور محدثین کی رائے سے ثابت ہے کہ:
> الاعمش کی تدلیس کی وجہ سے اس سند میں ضعف (کمزوری) ہے۔
اور ہم نے یہ بھی ثابت کیا کہ:
* یہ حدیث بریلوی اصول کے خلاف ہے۔
* احمد رضا خان کے اپنے قواعد کے مطابق، اس حدیث کو عقیدے کے مسائل میں پیش کرنا درست نہیں۔
👉 تو اس صورت میں یہ دلیل نہ صرف ضعیف بلکہ اپنے ہی اصول کے خلاف بھی ہے۔
✅ اگر آپ ابن حجر کی سند کی تصحیح کو مانتے ہیں، تو پھر ان کی پوری بات بھی مانیے:
📌 ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا:
"رؤيا منام فلا حجة”
’’وہ صرف ایک خواب ہے — اور خواب میں کوئی حجت (دلیل) نہیں ہوتی۔‘‘
📚 (فتح الباری، جلد 9، صفحہ 145)
📌 علامہ العینی نے بھی بالکل وہی بات دہرائی:
"رؤيا منام فلا حجة فيه”
’’یہ صرف ایک خواب ہے، اور اس میں کوئی حجت نہیں۔‘‘
📚 عمدۃ القاری، جلد 20، صفحہ 90
🛑 نتیجہ:
اگر آپ ابن حجر کی سند کی تصحیح کو لے رہے ہیں، تو ان کا یہ قول بھی مانیے کہ خواب دلیل نہیں ہوتا۔
اب متن (مضمون) پر بھی بات کرتے ہیں۔
🚨 حدیث کا متن بہت ضعیف ہے
متن (ٹیکسٹ) بالکل ضعیف ہے اور یہ نبی ﷺ کی صحیح سنت کے بالکل خلاف ہے۔
🌧 صحیح طریقہ تو یہ ہے کہ خشک سالی (قحط) کی صورت میں بارش کی دعا کی جائے، جیسے سنت میں ثابت ہے۔
✅ سنت کا طریقہ
نبی ﷺ خود عیدگاہ جا کر اور صحابہ کے ساتھ مل کر بارش کی دعا کرتے تھے۔
🌧 عبد بن تمیم سے روایت ہے:
نبی ﷺ عیدگاہ گئے، قبلہ کی طرف رُخ کیا، 2 رکعت نماز پڑھی اور اپنی چادر اُلٹ دی۔
یہ اصل طریقہ ہے – نہ کہ کسی کی قبر پر جا کر یا خواب کا انتظار کر کے مدد مانگنا! 🙏
📚 بخاری 1023
❌ عمر رضی اللہ عنہ اور صحابہ کی توہین ہے
یہ روایت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کے علم اور شخصیت پر بھی سوال اُٹھاتی ہے۔
❗صحابہ سے ہمیں کبھی ایسا ثابت شدہ عمل نہیں ملتا کہ بارش کے لیے صحابہ نبی ﷺ کی قبر پر جا کر نبی ﷺ سے دعا مانگتے ہوں۔ اگر یہ صحیح طریقہ ہوتا تو صحابہ ضرور کرتے لیکن صحابہ نے ایسا نہیں کیا بلکہ صحابہ کا طریقہ خود اس حدیث کو رد کر دیتا ہے۔
📜 عمر رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں:
’’اے اللہ! پہلے ہم اپنے نبی کریم ﷺ کا وسیلہ لے کر تیرے پاس آتے تھے تو تُو ہمیں بارش عطا کرتا تھا۔ اب ہم اپنے نبی ﷺ کے چچا کو وسیلہ بناتے ہیں تو تُو ہم پر پانی برسا۔‘‘
📚 (صحیح بخاری 1010)
📖 جُبیر بن مُطعِم کی حدیث
ایک عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئی تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ پھر آنا۔ اس نے کہا:
’’اگر میں آؤں اور آپ ﷺ کو نہ پاؤں تو؟‘‘
گویا وہ وفات کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
’’اگر تم مجھے نہ پا سکو تو ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس چلی جانا۔‘‘
📚 (صحیح بخاری) 3659
👉 اگر قبر پر جا کر مدد مانگنا جائز ہوتا تو نبی ﷺ ضرور فرماتے:
’’میری قبر پر آ جانا یا جہاں سے چاہو مجھ سے مانگ لینا۔‘‘
لیکن نبی ﷺ نے ہمیشہ آسان اور صاف طریقہ بتایا! 🕋
الزامی جواب:
🔔 بریلوی جو روایت مالک الدار والی پیش کرتے ہیں جس میں شخص نے نبی ﷺ کی قبر پر جا کر دعا مانگی، وہ ثابت نہیں ہے۔ اس حدیث میں کئی علتیں (مسائل) موجود ہیں سند اور متن دونوں میں، جیسا کہ ہم نے اوپر ثابت کیا۔
🌟 دوسری طرف، یہ حدیث پورے مسئلے کو واضح کرتی ہے:
📜 حدیث:
عبدالرزاق، معمر سے، وہ اسماعیل ابی المقدام سے، وہ عبداللہ بن عبید بن عمیر سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا:
’’لوگوں پر ایک سال (عقل و غذا کی کمی کا سال) آیا۔ ایک آدمی جنگل (دیہات) میں تھا۔ وہ باہر نکلا اور اس نے اپنے ساتھیوں کو دو (2) رکعتیں نماز پڑھائیں اور بارش کی دعا کی، پھر سو گیا۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آئے اور فرمایا: ’عمر کو میرا سلام کہنا اور انہیں خبر دینا کہ اللہ نے تمہاری دعا قبول کر لی ہے۔‘
جبکہ عمر رضی اللہ عنہ بھی باہر نکل کر بارش کی دعا کر چکے تھے۔ (نبی ﷺ نے اس آدمی سے) فرمایا: ’اس کو (عمر کو) حکم دو کہ وہ عہد پورا کرے اور سلسلہ مضبوط کرے۔‘
راوی کہتے ہیں: ’وہ آدمی چل پڑا یہاں تک کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور کہا: رسول اللہ ﷺ کے رسول (قاصد) کے لیے اجازت طلب کرو۔‘
عمر رضی اللہ عنہ نے اسے سنا اور فرمایا: ’اللہ کے رسول ﷺ پر جھوٹ بولنے والا کون ہے؟‘
اس آدمی نے کہا: ’یا امیر المؤمنین، جلدی نہ کریں۔‘ پھر اس نے انہیں سارا واقعہ بتایا، جس پر عمر رضی اللہ عنہ رو دیے۔‘‘
⚠ اور بھی کمزوریاں
اور ایک بہت بڑا سوال:
یہ نامعلوم آدمی کیسے نبی ﷺ کی قبر تک پہنچ گیا؟
اس وقت قبر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے کمرے میں تھی، مسجد میں نہیں۔
❗اور عمر رضی اللہ عنہ کو بھی اس آدمی کے عمل کا علم نہیں تھا… پھر انہوں نے کیسے اس کو منظور کر دیا؟
✅ حتمی نتیجہ – ہر صورت میں قبول نہیں
➡ اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔
➡ متن ضعیف ہے۔
➡ عقیدے میں دلیل نہیں ہے۔
🚫 کسی بھی صورت میں اس حدیث کو دلیل نہیں بنایا جا سکتا!
🌿 حق آ گیا، باطل مٹ گیا















