سوال :
حدیث : ”جس نے حج کیا اور میری ( قبر کی ) زیارت نہ کی ، اس نے مجھسے بے وفائی کی ۔“ کی استنادی حیثیت کیا ہے؟
جواب :
یہ اور اس معنی میں مروی تمام روایات ضعیف و نا قابل حجت ہیں۔
ان کے بارے میں اہل علم کی تحقیق ملاحظہ فرمائیں:
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
”نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کے حوالے سے بیان کی جانے والی تمام روایات ضعیف بلکہ من گھڑت ہیں۔“
(الردّ على البكري : 253)
❀ علامہ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ ( 744 ھ ) کہتے ہیں:
”معترض (سبکی) نے اس بارے میں جتنی بھی روایات ذکر کی ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ دس سے زائد حدیثیں ہیں، ان میں سے کوئی ایک بھی حدیث صحیح نہیں، بلکہ یہ ساری کی ساری ضعیف اور کمزور ہیں، بلکہ بعض کا ضعف تو اتنا شدید ہے کہ ان پر ائمہ دین و حفاظ نے من گھڑت ہونے کا حکم لگایا ہے۔ اسی طرف شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اشارہ فرمایا ہے ۔“
(الصارم المنكي في الردّ على السبكي : 21)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
”اس حدیث کی ساری سندیں ضعیف ہیں ۔“
(التلخيص الحبير : 267/2)
فائدہ:
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) لکھتے ہیں :
”اس بارے میں روایات کمزور ہیں جو ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں، کیونکہ ان کے راویوں میں سے کسی پر جھوٹ بولنے کا الزام نہیں ہے۔“
(تاريخ الإسلام : 213/11)
❀ نیز حافظ سخاوی رحمہ اللہ (902ھ) فرماتے ہیں:
”اسی طرح ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کی سندیں تو ساری کی ساری ضعیف ہیں، لیکن وہ ایک دوسرے سے تقویت حاصل کرتی ہیں، کیونکہ ان کی سند میں کوئی متہم بالکذب راوی موجود نہیں۔“
(المقاصد الحسنة : 647/1)
یعنی حافظ ذہبی و سخاوی کے نزدیک بھی اس حدیث کی ساری سندیں ”ضعیف“ ہیں اور اس کی کوئی ایک بھی سند حسن یا صحیح نہیں ۔ البتہ وہ ان ساری ”ضعیف“سندوں کے مل کر قابل حجت ہونے کا نظریہ رکھتے ہیں۔ ان کی یہ بات ان کے تساہل پر مبنی ہے اور کئی اعتبارسے محل نظر ہے:
① کئی سندوں میں ” کذاب“ اور ”متہم بالکذب راوی موجود ہیں، خود حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اسی حدیث کی بعض سندوں کے راویوں کو ”کذاب “ اور ”متروک“قرار دیا ہے۔
② کئی ”ضعیف“ سندوں کے باہم مل کر قابل حجت بننے کا نظریہ متقدمین ائمہ دین کے ہاں رائج نہیں تھا۔ یہ بعد کے ادوار میں متاخرین نے بنایا اور اپنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تساہل پسندانہ قاعدے کے نفاذ میں متاخرین بھی اختلاف کا شکار ہیں۔ اسی حدیث کا معاملہ دیکھ لیں کہ ”ضعیف + ضعیف = قابل حجت“ کے قاعدے کو تسلیم کرنے والے اہل علم ہی اس کے حکم میں مختلف ہیں، بعض اسے ”ضعیف “بلکہ من گھڑت قرار دیتے ہیں تو بعض اسے قابل حجت بتا رہے ہیں۔