اللہ سے مدد مانگنے کے خلاف اشرف جلالی کے شبہات
اشرف جلالی بریلوی صاحب فرماتے ہیں کہ بعض لوگ حدیث شریف پڑھتے ہیں:
إذا استعنت فاستعن بالله
کہ جس وقت بھی تم مدد مانگو تو رب سے مانگو۔
ہمیں اس حدیث سے کوئی اختلاف نہیں ہے مگر کوئی غلط فہمی کا شکار نہ ہو جائے۔ ہر بندے کا یہ مقام نہیں ہے کہ بھوک لگی ہوئی ہو تو وہ کہے میں نے کسی کو یہ نہیں کہنا کہ مجھے کھانا لا کر دو۔ وہ خاص لوگ ہیں، ان کا مقام بھی ہے اور ان کے لیے یہ حکم بھی ہے۔ (ہر کسی کے لیے یہ حکم عام نہیں ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ سے مانگے)۔
اس بریلوی شبہ کا ازالہ:
یعنی ان کا کہنا ہے یہ توحید خواص ہے، یہ حکم بزرگوں کے لیے ہے۔ خاص گروہ کے لیے ہے کہ وہ اللہ کو پکاریں، عوام کا کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کو پکاریں بلکہ عوام تو بزرگوں کو پکاریں۔
جلالی صاحب! میں مسلک اہل حدیث کا ادنیٰ سا طالب علم اور خادم ہوں۔ اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ آپ کتب احادیث کو پڑھیں اور یہ مفہوم و تفسیر دیکھائیں کہ عوام بزرگوں کو پکاریں اور بزرگ اللہ تعالیٰ کو پکاریں۔ یہ تقسیم آپ دکھا دیں، اس تقسیم پر کوئی ایک صحیح حدیث پیش کر دیں، ہم ماننے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن جانتا ہوں کہ کوئی شخص اس تقسیم پر قیامت کی دیواروں تک کوئی حدیث پیش نہیں کر سکتا۔ یہ صوفیاء کی تقسیم ہے کہ یہ توحید عامہ ہے اور توحید خواص ہے اور یہ اخص الخواص ہے۔ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم نہیں ہے۔
میں یہاں ایک سوال آپ سے کرتا ہوں کہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر اللہ کا پیارا تو کوئی نہیں ہے کہ جب تین صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ایک نے کہا آج کے بعد میں شادی نہیں کروں گا، دوسرے نے کہا: ہمیشہ روزے رکھوں گا، تیسرے نے کہا: میں رات کو سوؤں گا نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
میں تم سب سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے والا ہوں، میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو پہچاننے والا ہوں۔
فمن رغب عن سنتي فليس مني
جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، میدان احد میں کفار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات انصاری اور دو قریشی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من يردهم عنا وله الجنة أو رفيقي فى الجنة
کون ہے جو ان کو ہم سے دور کرے گا، وہ جنت میں میرا ساتھی ہوگا۔
(صحيح مسلم:1789)
جلالی صاحب، آپ کہتے ہیں کہ توحید خاصہ ہے
جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تحت الاسباب اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے تعاون طلب کر رہے ہیں، ان سے بڑھ کر کوئی خواص میں ہو سکتا ہے؟ اور آپ کہتے ہیں کہ بھوکے کو روٹی بھی نہیں مانگنی چاہیے۔ یہ صوفیاء کی اصطلاح ہے، صابر کلیر رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے پیر نے اس کو دیگ بانٹنے پر لگا دیا، کچھ عرصے بعد دیکھا تو سوکھ کر کانٹا بنے ہوئے۔ پوچھا تو کیوں نہیں کھاتا؟ کہا: پیر صاحب! آپ نے مجھے کھانے کی اجازت نہیں دی، بانٹنے کا حکم دیا تھا۔ نہ پیر سے مانگا اور نہ کھایا، کیونکہ وہ اس مقام پر پہنچ چکے تھے کہ صرف اللہ تعالیٰ سے مانگنا تھا۔ یہ جھوٹی کہانیاں ہیں کہ اتنے سال بھوکے رہے، کھایا نہیں، زندہ رہے وغیرہ۔
جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم يا عائشة ذات يوم هل عندكم شيء
(صحيح مسلم:1154)
اے عائشہ! تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟
فرمایا: ہمارے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إني صائم
پھر میں روزے سے ہوں۔
یہاں تو اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھانا اپنی زوجہ محترمہ سے مانگ رہے ہیں۔ جبکہ آپ اپنے بزرگوں کو توحید خاصة الخاصہ کے مقام پر پہنچاتے ہیں کہ وہاں پر پہنچ کر صرف اللہ تعالیٰ سے مانگنا چاہیے۔ (اس سے پہلے غیروں سے مانگنا چاہیے۔) کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام پر نہیں پہنچے؟ لہذا اللہ تعالیٰ کے سوا مخلوق سے تحت الاسباب مدد مانگنا شرک نہیں ہے بلکہ مخلوق سے مافوق الاسباب مدد مانگنا اور انہیں پکارنا شرک ہے۔