حدیث: "اس سفیدی کو بدل دیں اور سیاہی سے اجتناب کریں” کا مفہوم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

حدیث صحیح مسلم : ”اس سفیدی کو بدل دیں اور سیاہی سے اجتناب کریں ۔“ کا کیا مفہوم ہے؟

جواب:

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ فتح مکہ والے دن سید نا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والد گرامی سید نا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں لائے گئے ۔ ان کے سر اور ڈاڑھی کے بال بالکل سفید تھے ۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:
”سفیدی کو رنگ دیں، البتہ (بوڑھے کو ) سیاہ رنگ دینے سے اجتناب کریں۔“
(صحیح مسلم : 2102)
اس حدیث میں دوحکم ہیں اور دونوں استحباب پر محمول ہیں، ایک بال رنگنے کا اور دوسرا سیاہ خضاب سے بچنے کا ۔ یہ حکم ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کے انتہائی بڑھاپے کی بنا پر ارشاد ہوا ،ان کے وجود پر سفیدی اس قدر غالب تھی کہ سیاہ رنگ انہیں کوئی فائدہ نہ دیتا۔
جس طرح بہت سارے اسلاف بالوں کو نہیں رنگتے تھے اور ان کے فہم وعمل کی بنا پر بالوں کو رنگنا فرض نہیں ، اسی طرح اسلاف سیاہ خضاب لگاتے اور اس کی اجازت بھی دیتے تھے ،لہذا اس بنا پر سیاہ خضاب حرام نہیں۔
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
”سید نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے سیاہ خضاب لگا رکھا ہے، جیسا کہ کوئے کے پر سیاہ ہے۔ سید نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمانے لگے، ابو عبد اللہ ! یہ کیا؟ تو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا، امیر المومنین ! میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے جوان دیکھیں، سید نا عمر رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے انہیں منع کیا نہ معیوب جانا۔“
(المستدرك على الصحيحين للحاكم : 454/3 ، وسنده حسن )
دیکھئے ایک عمل سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جیسے متبع سنت خلیفہ کے سامنے آتا ہے، وہ اس پر متعجب ہو کر سوال تو کرتے ہیں ،مگر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی وضاحت کے بعد خاموشی اختیار کرتے ہیں، انکار نہ تردید اور وضاحت بھی کیا ہے؟ بوڑھا نظر نہ آؤں، سید نا عمر رضی اللہ عنہ کی اس عمل پر خاموشی اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ آپ بھی سیاہ خضاب جائز سمجھتے تھے۔