وضاحت شبہ
مضمون کے اہم نکات
شیعہ حضرات کا کہنا ہے کہ اس حدیث (میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے) سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے علم کا واحد ذریعہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں نیز سیدنا علی تمام صحابہ سے زیادہ علم والے ہیں اور سب سے افضل ہیں.
اور اس حدیث سے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی امامت و خلافت بھی ثابت ہوتی ہے۔ گویا کہ اس حدیث میں نبی کریمﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے علم کا حقیقی وارث کے طور پر پیش کیا۔ سیدنا علی نبی کریم ﷺ کے تمام ظاہری و باطنی علوم کے وارث ہیں۔
نیز ائمہ اہل بیت کو علم لدنی حاصل ہوتا یعنی ان کا علم وحی کے فیض سے جاری رہتا ہے۔بلکہ اس حدیث سے شیعہ امامت کے اصول کو ثابت کرتے ہیں کہ صرف وہی امام حقیقی رہبر ہوسکتا ہے جونبی کا علمی ، روحانی اور اخلاقی جانشین ہو۔
جواب شبہ
پہلی بات
ہمارے ہاں یہ حدیث زبان زدعام، خاص و عام ہے ، یہ حدیث (مستدرک حاکم: 4639) میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ، اور (المعجم الکبیر للطبرانى: 11061، اور المستدرک للحاکم: 3/126) میں عبد الله بن عمر سے بلکہ مستدرک حاکم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۔
جامع ترمذی میں اس کے الفاظ (( أنا دارالحکمۃ… )) ’’میں دانائی کا گھر ہوں….” (جامع ترمذی : 3723) کے ہیں.
دوسری بات
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ صحابی رسول ہیں ، اللہ کے نیک بندوں میں سے ہیں، خلفاء راشدین میں سے چوتھے خلیفہ راشد ہیں، ان کی فضیلت و مقام سے کوئی انکار نہیں ، بلکہ صحیح احادیث سے ان کے ثابت شدہ فضائل اس قدر ہیں کہ ضعیف و موضوع احادیث کی طرف التفات کی ضرورت نہیں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت صرف مؤمن ہی کرتا ہےاور ان سے بغض صرف منافق ہی رکھتا ہے۔ لیکن ان کے بارے میں یا اللہ کے کسی اور ولی کے بارے میں غلو کرنا جائز نہیں۔
تیسری بات
یہ حدیث مختلف طرق سے مروی ہے مگر یہ حدیث اپنی تمام سندوں کے ساتھ صحت کے درجے تک نہیں پہنچتی کئی ایک اہل علم نے اس کی صراحت کی ہے بلکہ متعدد نے اسے موضوع (من گھڑت) قرار دیا ہے۔
امام ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس روایت کے تمام طرق پر بڑی سیر حاصل بحث کی ہے جو تقریباً چھ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔ انہوں نے عقلی اورنقلی لحاظ سے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ فرماتے ہیں: یہ حدیث کسی بھی طریق سے ثابت نہیں ہے[موضوعات، ص: 353، ج1]۔
بعض علماء حديث كے اقوال ملاحظہ ہوں:
◈ امام ترمذی نے اس حدیث کے بارے میں "غریب، منکر” کہا ہے(جامع ترمذی : 3723)۔
◈ امام ترمذی بیان کرتے ہیں: "میں نے (امام) محمد بن إسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا جوحضرت علی رضی اللہ عنہ کی سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔” تو امام بخاری نے اس حدیث کو نہیں پہچانا (یعنی اُن کے علم میں یہ حدیث نہیں تھی)، اور اسے منکر (رد کردہ و مشتبہ) قرار دیا۔
پھر امام ترمذی خود تبصرہ کرتے ہیں: شریک کے قابلِ اعتماد شاگردوں میں سے کسی نے یہ حدیث روایت نہیں کی، اور ہم سلمہ بن کہیل کی روایت میں اس حدیث کو شریک کے علاوہ کسی اور سے نہیں جانتے(العلل الکبیر: 699)۔
◈ امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس متن کے بارے میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے(الضعفاء: 3/149)۔
◈ ابن القیسرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
یہ حدیث ان میں سے ہے جسے ابو الصلت ہروی نے ایجاد کیا ہے، اور جھوٹے اس کے نقش قدم پر چلے ہیں(تذکرة الحفاظ ص: 137)۔
◈ امام دارقطنی نے سیدنا علی والی روایت کو مضطرب قرار دیا ہے(3/247)۔
◈ ابوبکر ابن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
یہ ایک باطل حدیث ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم علم کا شہر ہیں اور اس کے دروازے ان کے صحابہ ہیں؛ ان میں سے کوئی کشادہ دروازہ ہے، اور کوئی اوسط درجے کا ہے اپنی علوم میں مراتب کے مطابق(احكام القرآن: 3/86)۔
◈ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے حدیث علی ، حدیث ابن عباس ، حدیث جابر پر طویل کلام فرمایا اور تمام طرق جمع کیے اور یہ فیصلہ دیا: "والْحَدِيث لَا أصل لَهُ” اس کی کوئی اصل (بنياد) نہیں(الموضوعات: 1/355)۔
◈ امام ذہبی فرماتے ہیں: یہ حدیث (میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں) کمزور ترین روایت ہے۔ امام ترمذی کی روایت کے باوجود اسے موضوعات میں شمار کیا گیا(المنتقى من منهاج الاعتدال في نقض كلام أهل الرفض والاعتزال: 496)۔
◈ علامہ البانی نے اس کے تمام طرق پر کلام کیا اور اسے موضوع قرار دیا(سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ : 2955)۔
◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اور جہاں تک حدیث (میں علم کا شہر ہوں) کا تعلق ہے تو یہ بہت ضعیف اور کمزور ہے، اسی لیے اسے موضوع اور جھوٹی حدیثوں میں شمار کیا جاتا ہے اگرچہ ترمذی نے اسے روایت کیا ہے۔ اسی لیے ابن الجوزی نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ حدیث تمام طرق سے موضوع ہے۔ جھوٹ اس کے متن سے ہی پہچانا جاتا ہے؛ اس کی سند کو دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم علم کا شہر ہوں اور اس کا ایک ہی دروازہ ہو تو یہ ایسی بات ہے کہ اسے کوئی ایک نہیں بلکہ تواتر کے ساتھ بیان کرنے والے ہوں جن کی خبر سے غائب کو علم حاصل ہوتا ہے، اور ایک کی روایت علم کا فائدہ نہیں دیتی مگر قرائن کے ساتھ، اور وہ قرائن یا تو موجود نہیں ہوتے، یا لوگوں کی کثیر تعداد یا اکثر پر پوشیدہ ہوتے ہیں؛ لہذا انہیں قرآن اور متواتر سنت کا علم حاصل نہیں ہوتا؛ بخلاف نقل متواتر کے؛ جس سے خاص اور عام سب کو علم حاصل ہوتا ہے۔ اور یہ حدیث تو کسی زندیق یا جاہل نے گھڑی ہے جس نے اسے مدح سمجھا؛ حالانکہ یہ زنادقہ کا دین کے علم میں طعن کرنے کا راستہ ہے جب دین کو پہنچانے والا نبی کریم ﷺ سے صرف ایک ہی صحابی ہو۔ نیز یہ متواتر معلوم کے خلاف ہے؛ کیونکہ مسلمانوں کے تمام شہروں میں علم رسول ﷺ تو سیدنا علی کے علاوہ دیگر صحابہ کرام کے ذریعے پہنچا(مجموع الفتاوی : 4/410-411)۔
بعض اہل علم نے اسے صحیح یا حسن کہا ہے مگر ان کی یہ رائے درست نہیں ہے بلکہ قدیم اہل علم اور معاصر اہل علم کی اکثریت کے نزدیک یہ حدیث ثابت نہیں ہے۔
چوتھی بات
یہ حدیث دیگر صحیح احادیث کے معارض ہے بلکہ اگر اس سے یہ مفہوم لیا جائے کہ صرف حضرت علی ہی علمِ نبوی کے واحد دروازہ ہیں، تو اس کا مطلب ہوگا کہ دیگر صحابہ کرام سے مروی ہزاروں احادیث، فقہی آراء، اور دین کی روایت ناقابلِ اعتبار ہو جاتی ہے۔ یہ بات نہ صرف عقل و روایت کے خلاف ہے بلکہ اسلام کے پورے علمی و دینی ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے۔
پانچویں بات
اسلام کے تمام بڑے شہروں تک نبی کریم ﷺ کا علم صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ذریعے نہیں، بلکہ دیگر جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے واسطے سے پہنچا۔ اہلِ مدینہ و مکہ نے دین کی تعلیم حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت ابن عباس، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم سے حاصل کی۔ اہلِ شام و بصرہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بہت کم روایت کی گئی، وہاں حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابو درداء، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم جیسے صحابہ علم کے بڑے ماخذ تھے۔ حتیٰ کہ اہلِ کوفہ، جہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا علمی اثر سب سے نمایاں تھا، وہاں بھی لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت سے پہلے ہی قرآن و سنت سیکھ چکے تھے۔ مدینہ کے بڑے فقہاء نے دین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں سیکھا، نہ کہ صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ سے۔ لہٰذا علمِ نبوی کو صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مخصوص کرنا نہ عقلاً درست ہے، نہ روایتاً، اور نہ ہی تاریخی لحاظ سے۔
چھٹی بات
اگر اس كو درست بھی مان لیا جائے تو کئی ایک صحابہ کے بارے میں اسی نوعیت کے خصوصی فضائل مروی ہیں مثال کے طور پر ایک حدیث ملاحظہ فرمائیں :
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان ہیں اور اللہ کی کتاب کے سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں اور فرائض (میراث) کے سب سے بڑے جانکار زید بن ثابت ہیں اور حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل ہیں اور سنو ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں۔“ (جامع ترمذی: 3791)
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور علامہ الالبانی نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔
ساتویں بات
اہلِ سنت اس حدیث کو صحیح مان لینے کی صورت میں صرف علمی فضیلت تک محدود رکھتے ہیں سیاسی قیادت یا امامت کے لیے دلیل نہیں مانتے۔
عصمت ، خلافت کے مسئلے میں یہ روایت صریح بھی نہیں لہذا علم کو عصمت کے مستلزم قرار دینا اور پھر امامت و خلافت کو اس سے جوڑ دینا من پسند، خود ساختہ استدلال ہیں، حدیث میں ایسی کوئی شے موجود نہیں ۔
آٹھویں بات
صحابہ کرام علی الاطلاق سب سے بڑے عالم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مانتے تھے چنانچہ صحیح البخاری میں ہے: ایک حدیث بیان کرتے ہوئے ابو سعید رضی اللہ عنہ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اعلم قرار دیا ۔ (صحیح البخاری: 3654) پھر خلافت کے حق دار بھی آپ ہی تھے اس کے بھی بہت سے قرائن و دلائل احادیث می موجود ہیں۔ مثال کے طور پر : نبی کریم ﷺ کا انہیں اپنی زندگی کے اواخر میں نماز کی امامت کے لیے مقرر کرنا (صحیح بخاری: 683) امتيوں میں آپ کے مقام و مرتبہ کو واضح کرتا ہے۔
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سب سے بہتر ہیں اور وہ ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔ (صحيح بخارى: 3668).
نبی کریم ﷺ جب مشورے لیتے تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو مقدم رکھتے۔ یہی دونوں آپ ﷺ کے سامنے دیگر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں گفتگو کرتے۔ ایک حدیث میں ہے: ’’اقتدوا باللذين من بعدي، أبي بكرٍ وعمرَ‘‘ میرے بعد ابوبکر و عمر کی اقتداء کرنا(جامع ترمذی: 3662)۔
اسى طرح حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: ’’خواب میں میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا میں نے اس میں سے کچھ دودھ نوش کیا حتی کہ اس کی سیرابی میرے ناخنوں تک ٹپکنے لگی۔ میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اس کی تعبیر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’اس کی تعبیر علم ہے ‘‘ [صحیح بخاری: 82، 3691، 7032] ۔
آخرى بات
متعدد مواقع پر سیدنا علی رسول کریم ﷺ کے ساتھ نہیں تھے۔ مثال کے طور پر:
◄ جب آپ ﷺ اپنے گھر میں ہوتے۔
◄ غزوہ تبوک کے موقع پر۔
◄ سفر حج کےابتدائى موقع پر۔
◄ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نو ہجری میں حج کیا۔
◄ سفر طائف۔
یہ اور ان سمیت متعدد مواقع جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ نہیں تھے مگر وہ علوم اور تفصيلات ہم تک پہنچے ہیں۔
خلاصہ کلام
مذکورہ حدیث اسنادی طور پر پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی، لہذا اس کی بنیاد پر سیدنا علی کو معصوم ، امام ، خلافت کا پہلا حق دار یا علمِ وحی کا واحد راستہ قرار دینا صحیح نہیں۔