وضاحت شبہ
مضمون کے اہم نکات
جناب علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں ایک حدیث ذکر کی جاتی ہے، کہ نبیﷺ نے ان کے بارے میں یوں فرمایا: (مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاهُ) یعنی جس کا میں مولیٰ ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں۔ اس حدیث کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جناب علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بلا فصل ہیں یا خلافت کے زیادہ حقدار تھے اور ان سے یہ حق چھینا گیا ہے!
جوابِ شبہ
پہلی بات
یہ حدیث متعدد صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم سے مروی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اہلِ علم نے اسے متواتر قرار دیا ہے۔ جیسے امام ذہبی [سير أعلام النبلاء : 8/ 335]، علامہ سیوطی [قطف الأزهار المتناثرة ، رقم : 102]، علامہ کتانی [نظم المتناثر من الحديث المتواتر ، رقم : 232]، علامہ مرتضیٰ الزبیدی [لقط اللآلئ المتناثرة ، رقم : 61] اور شیخ البانی [سلسلة الأحاديث الصحيحة ، رقم : 1750]۔
جن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے یہ حدیث مروی ہے ان میں سے چند کے نام یہ ہیں:
◄ علی بن ابی طالب [مسند أحمد : 641]
◄ سعد بن ابی وقاص [ابن ماجه : 121]
◄ زید بن ارقم [الترمذي : 3713]
◄ بریدہ بن الحصیب [السنن الكبرى للنسائي : 8089]
◄ البراء بن عازب [ابن ماجه : 116]
◄ جابر بن عبد اللہ [المصنف لابن أبي شيبة : 34243]
◄ عبد اللہ بن عباس [مسند أحمد : 3061]
◄ ابو ہریرہ [المصنف لابن أبي شيبة : 34263] رضی اللہ عنہم اجمعين۔
اکثر کتب حدیث میں اس حدیث کے دو ہم معنی الفاظ بھی وارد ہیں: (مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ) اور (مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ، فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ) بعض روایات میں یہ اضافہ بھی آیا ہے: (اللهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاه) ترجمہ : (اے اللہ! تو علی رضی اللہ عنہ کو دوست بنانے والے کا دوست بن جا اور ان سے دشمنی رکھنے والے کا دشمن بن جا)۔ البتہ اس اضافے کو بعض اہلِ علم نے ضعیف کہا ہے، جیسے امام احمد [المنتخب من العلل للخلال، ص: 210] اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ [منهاج السنة: 7/ 55]۔ جبکہ بعض علماء نے صحیح کہا ہے جیسے شیخ البانی [سلسلة الأحاديث الصحيحة، رقم: 1750]۔
دوسری بات
شبہے میں مذکور دعویٰ لفظ ’مولیٰ‘ کے غلط مفہوم اخذ کرنے پر قائم ہے۔ عربی زبان میں لفظ ’مولیٰ‘ کے تقریباً اکیس (21) معانی آتے ہیں جن میں سے بعض معنیٰ ایک دوسرے کی ضد بھی ہیں، جیسے: السيد و العبد (آقا اور غلام)، الـمُنْعِم و الـمُنْعَم عليه (انعام کرنے والا اور جس پر انعام کیا جائے)، الـمُعْتِق والـمُعْتَق (آزاد کرنے والا اور آزاد ہونے والا)۔ جب یہ صورت ہو تو کسی ایک معنیٰ کا انتخاب اپنی چاہت اور مرضی سے نہیں ہو سکتا بلکہ کسی دلیل یا قرینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں ’مولیٰ‘ ولی یا دوست کے معنیٰ میں ہے۔ اس طرح حدیث کا مفہوم یہ ہوگا کہ جس کا میں دوست ہوں علی بھی اس کے دوست ہیں، بالفاظ دیگر جو مجھ سے محبت کرتا ہے اسے چاہیے کہ علی سے بھی محبت کرے۔
ذیل میں اس معنیٰ کو اخذ کرنے کے چند اسباب اور قرائن ذکر ہیں:
یہی معنیٰ امت کے ہر طبقے اور ہر زمانے کے علماء نے بیان کیا ہے جن میں مفسرین، محدثین، فقہاء اور اہلِ لغت شامل ہیں۔ ذیل میں ان میں سے چند کے نام بترتیب سنِ وفات اور حوالہ جات درج ہیں:
➊ الحسن بن صالح الکوفی (وفات: 167ھ) السنة لأبي بكر بن الخلال (2/ 348)
(دلچسپ بات: یہ اہلِ کوفہ میں سے ہیں اور ان پر تشیع کا الزام بھی ہے)
➋ امام یونس بن حبیب الضبی (وفات: 182ھ) تهذيب اللغة (15/ 324)
➌ امام شافعی (وفات : 204ھ) مناقب الشافعي للبيهقي (1/ 337)
➍ ابو عبیدہ معمر بن مثنی (وفات : 209ھ) مجاز القرآن لأبي عبيدة (1/ 124)
➎ امام ثعلب احمد بن یحییٰ (وفات : 291ھ) تهذيب اللغة للأزهري (15/ 322)
➏ امام طحاوی (وفات : 321ھ) شرح مشكل الآثار للطحاوي (5/ 25)
➐ امام ابن خزیمہ (وفات : 311ھ) التوحيد لابن خزيمة (1/ 74)
➑ امام ابنِ حبان (وفات : 354ھ) الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان (15/ 375)
➒ ابو جعفر النحاس (وفات : 338ھ) إعراب القرآن للنحاس (4/ 120)
➓ ابو احمد القصّاب الکرجی (وفات : 360ھ) نكت القرآن لأبي أحمد القصاب (4/ 366)
◄ امام ابو نعیم الاصبہانی (وفات : 430ھ) كتاب الإمامة لأبي نعيم الأصبهاني (ص 214 – 220)
◄ مکی بن ابی طالب (وفات : 437ھ) الهداية الى بلوغ النهاية لمكي بن أبي طالب (11/ 6893)
◄ امام بیہقی (وفات : 458ھ) الاعتقاد للبيهقي (ص354)
◄ امام ابن عبد البر (وفات : 463ھ) التمهيد لابن عبد البر (14/ 79 ت بشار)
◄ امام الواحدی (وفات : 468ھ) التفسير البسيط للواحدي (4/ 543)
◄ امام ابو المظفر السمعانی (وفات : 489ھ) تفسير السمعاني (5/ 130)
◄ امام اسماعیل الاصبہانی (وفات : 535ھ) التحرير في شرح صحيح مسلم للأصبهاني(ص364)
◄ امام قاضی عیاض (وفات : 544ھ) الشفا بتعريف حقوق المصطفى للقاضي عياض (1/468)
◄ امام نووی (وفات : 676ھ) فتاوى النووي (ص252)
◄ امام علاء الدین ابن العطار (وفات : 724ھ) العدة في شرح العمدة لابن العطار (1/ 171)
◄ شیخ الاسلام ابن تیمیہ (وفات : 728ھ) منهاج السنة النبوية (7/321 – 325)
◄ امام ابن الملقن (وفات : 804ھ) الإعلام بفوائد عمدة الأحكام(1/ 635)
◄ علامہ سیوطی (وفات : 911ھ) قوت المغتذي على جامع الترمذي للسيوطي (2/ 1002)
◄ علامہ ابنِ حجر الہیتمی (وفات : 974ھ) الصواعق المحرقة لابن حجر الهيتمي (1/ 107)
◄ علامہ ملا علی القاری (وفات : 1014ھ) شرح الشفا لملا علي القاري (2/ 84)
◄ علامہ عبد الرؤوف المناوی (وفات : 1031ھ) التيسير بشرح الجامع الصغير للمناوي (2/ 147)
◄ علامہ ابو الحسن السندی (وفات: 1138ھ) حاشية مسند الإمام أحمد (13/ 341)
◄ امام محمد بن عبد الوہاب (وفات : 1206ھ) رسالة في الرد على الرافضة (ص7)
◄ علامہ الوسی (وفات : 1270ھ) روح المعاني للألوسي (3/ 362)
خود اس حدیث کے یہ الفاظ (مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ، فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ) اس پر گواہ ہیں کہ یہاں مولیٰ ولی یا دوست کے معنیٰ میں ہے، اور یہ الفاظ (اللهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ) بھی اسی معنیٰ کی تائید کرتے ہیں کیونکہ اس میں دوستی کے مقابلے میں دشمنی استعمال ہوا ہے۔ دشمن کے بالمقابل دوست یا محبوب مراد لیا جاتا ہے، نہ کہ حاکم یا خلیفہ!
حدیث کے سیاق اور پسِ منظر سے بھی اسی معنیٰ کی تائید ہوتی ہے۔ قصہ یہ تھا کہ سن ۱۰ھ میں نبیﷺ نے یمن کی طرف دو لشکر روانہ کیے؛ پہلا لشکر جناب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تھا جس کی ذمہ داری جنگ کرنا تھی، پھر کچھ وقفے کی بعد دوسرا لشکر جناب علی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بھیجا۔ جناب علی رضی اللہ عنہ کی مختلف ذمہ داریاں تھیں، جن میں مالِ غنیمت جمع کرنا اور اس کی تقسیم، اسی طرح یمن کے لوگوں کو دین سکھانا اور ان کے اختلافات میں فیصلے کرنا۔ مالِ غنیمت کی تقسیم کے معاملے میں بعض صحابہ، جن میں خالد بن ولید، بریدہ بن حصیب، براء بن عازب اور ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہم قابلِ ذکر ہیں، کا جناب علی رضی اللہ عنہ سے اختلاف ہو گیا، یہ حضرات جناب علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو غلط سمجھ رہے تھے جبکہ علی رضی اللہ عنہ حق بجانب تھے۔ یہ اختلافات اس قدر بڑھ گئے کہ بعض لوگوں کے دلوں میں جناب علی رضی اللہ عنہ کے تعلق سے بغض پیدا ہو گیا۔ جب یہ معاملہ نبیﷺ تک پہنچا تو پہلے آپ نے انفرادی طور پر ان صحابہ کی غلط فہمی کو دور کیا اور جناب علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا درس دیا اور بعد میں حجۃ الوداع سے واپسی پر غدیرِ خم (مکہ اور مدینہ کے درمیان جُحفہ کے قریب، مکہ سے تقریباً 150 کلو میٹر) کے مقام پر تمام لوگوں کے سامنے جناب علی رضی اللہ عنہ کی اس فضیلت کو اجاگر کیا تاکہ اگر کسی کے دل میں جناب علی رضی اللہ عنہ کے تعلق سے کوئی نفرت کا مادہ ہو تو وہ دور کر لے اور ان کی محبت کو اپنے دل میں جگہ دے۔ [یہ اس بارے میں وارد روایات کا خلاصہ ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: مسند احمد: 22967 سنن نسائی الکبریٰ: 8428 ، اللؤلؤ المكنون في سيرة النبي المأمون لموسى بن راشد العازمي : 4/ 452 – 458 ، 4/ 555 – 557]
جناب علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں اس معنیٰ کی اور بھی احادیث وارد ہیں:
◈ نبیﷺ نے جناب علی رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے فرمایا: (تم سے صرف مومن ہی محبت کرے گا، اور تم سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا)۔ [صحيح مسلم : 78]
◈ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: (جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا)۔ [المعجم الكبير للطبراني : 23/ 380 حسنه الوادعي ، الالزامات والتتبع ، ص (290)]
◈ جناب سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: (جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا)۔ [المستدرك على الصحيحين للحاكم : 6/ 58 رقم : 4697 صححه الوادعي ، الصحيح المسند مما ليس في الصحيحين ، رقم : 442]
تیسری بات
جہاں تک مولیٰ کا معنیٰ والی (حاکم یا خلیفہ) یا اولیٰ (زیادہ حقدار) لینے کی بات ہے تو یہ معنیٰ اس حدیث سے اخذ کرنا غلط ہے، جس کے بہت سے اسباب ہیں، ذیل میں ان اسباب اور قرائن کا ذکر ہے:
◄ لغوی اعتبار سے بھی یہ دونوں معنیٰ ثابت نہیں ہیں۔ مولیٰ بمعنیٰ ’اولیٰ‘ کسی بھی معتبر عربی لغت (ڈکشنری) میں ذکر نہیں ہوا۔ بلکہ عربی زبان میں (مَفْعَل) کا وزن (أَفْعَل) کے معنیٰ میں آتا ہی نہیں ہے [الصواعق المحرقة لابن حجر الهيتمي(1/ 108) ، روح المعاني للألوسي (3/ 361)]۔
◄ اسی طرح مولیٰ بمعنیٰ والی بھی نہیں آتا، کیونکہ ’مولیٰ‘ وَلایت (واو کے زبر کے ساتھ) سے ماخوذ ہے جبکہ ’والی‘ وِلایت (واو کے زیر کے ساتھ) سے ماخوذ ہے۔ وَلایت عداوت کی ضد ہے، جبکہ والی کا معنیٰ امارت ہے، اور یہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں [منهاج السنة النبوية : 7/ 324]۔
◄ اگر عربی میں مولیٰ بمعنیٰ والی یا اولیٰ آتا بھی ہوتا تب بھی اس معنیٰ کو لینا ضروری نہ ہوتا کیونکہ شرعی نصوص کا کبھی ایسا معنیٰ نہیں اخذ کیا جاتا جس سے باقی نصوص کا ابطال لازم آتا ہو یا اسلام کی عمارت ہی منہدم ہوتی ہو۔ یہاں پر جو باطل لازم آتا ہے وہ یہ کہ اس سے تمام صحابہ پر تہمت لگتی ہے کہ ان میں سے کسی نے نبیﷺ کی مراد کو نہیں سمجھا بلکہ سراسر اس حکم کی مخالفت کرتے رہے۔ یہ کونسی عقلمندی ہے کہ ایک حدیث کے خود ساختہ مفہوم کی خاطر ایک ایسی جماعت کو متہم یا سازشی قرار دیا جائے جس کی نیک سیرتی مسلم امر ہو اور جن کے ذریعے دین ہم تک پہنچا ہو!
◄ خود جناب علی رضی اللہ عنہ نے بھی اس حدیث کا یہ مفہوم نہیں سمجھا۔ اس کی دلیل صحیح بخاری (حديث نمبر: 4447) کی وہ حدیث ہے جس میں یہ ہے کہ نبیﷺ کی وفات کے قریب جناب عباس رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہم نبیﷺ سے پوچھتے ہیں کہ خلافت کسے ملے گی؟ لیکن جناب علی رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ کر جانے سے انکار کر دیا کہ اگر نبیﷺ نے ہمیں منع کر دیا تو بعد میں لوگ ہمیں دیں گے ہی نہیں۔
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ اگر اس حدیث کے ذریعے خلافت دے دی گئی تھی تو اب خلافت مانگنے کا کیا مطلب ہوا؟ انہیں تو یہ کہنا چاہیے تھا کہ آپ خلافت کے بارے میں اتنے فکرمند کیوں ہو رہے ہیں، اس کا تو فیصلہ غدیرِ خم کے موقع پر ہو چکا ہے!
◄ یہ معنیٰ لینے سے جناب علی رضی اللہ عنہ کی شان میں طعن لازم آتا ہے کہ وہ شخصیت جس کی بہادری اور شجاعت کی مثال دی جاتی ہو وہ اپنا حق سلب ہوتا دیکھتی رہی اور اس کے خلاف ایک آواز بھی نہ اٹھائی؟ اسی بارے میں شيخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ما أقبح ملة قوم يرمون إمامهم بالجبن والخور والضعف في الدين، مع أنه من أشجع الناس وأقواهم. [رسالة في الرد على الرافضة (ص7)]
کتنے برے ہیں وہ لوگ جو اپنے ہی امام پر دین کے معاملے میں بزدلی اور کمزوری کی تہمت لگاتے ہیں حالانکہ وہ لوگوں میں سب سے بہادر اور طاقتور تھا!
◄ جناب علی رضی اللہ عنہ کے پوتے نے بھی مذکورہ معنیٰ کی نفی کی ہے۔ طبقات ابنِ سعد(7/315) اور دیگر کتب میں بسند صحیح مروی ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے بیٹے حسن بن حسن کے سامنے ایک رافضی اہلِ بیت کی شان میں غلو کرنے لگا تو انہوں نے اسے ٹوکا تو وہ رافضی کہنے لگا: کیا اللہ کے نبی نے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ نہیں کہا کہ (مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاهُ؟) تو انہوں نے کہا: اگر اس سے مراد امارت اور حکومت ہوتی تو آپﷺ لوگوں سے اس کی وضاحت فرماتے۔ رسول اللہﷺ مسلمانوں کے سب سے زیادہ خیر خواہ تھے، آپ یہ فرماتے : اےلوگو! یہ تمھارے معاملے کے ذمے دار اور میرے بعد تمھارے خلیفہ ہیں، لہذا اس کی سمع و اطاعت کرنا۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ اور اس کےرسول نے خلافت کے لیے علی رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا ہوتا اور پھر علی رضی اللہ عنہ نے اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو چھوڑ دیا ہوتا تو اللہ اور اس کے حکم کو سب سے پہلے ترک کرنے والے علی رضی اللہ عنہ ہوتے۔
◄ مذکورہ معنیٰ نہ لینے کا ایک اور سبب یہ کہ جب سقیفہ بنی ساعدہ میں خلیفہ کے انتخاب کےلیے مسلمان جمع تھے تو جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حدیث (الأئمة من قريش) (خلیفہ قریش سے ہوگا) کو ذکر کرنے پر انصار اپنے دعوے سے دستبردار ہوگئے۔ اگر (مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاهُ) سے خلافت مقصود ہوتی تو کسی نے فیصلہ کن حدیث کے طور پر اسے پیش کیوں نہ کیا حالانکہ یہ حدیث بکثرت صحابہ کو یاد تھی اور غدیرِ خم کا واقعہ بھی حال ہی میں پیش آیا تھا؟
◄ بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ اس حدیث میں مولیٰ کا معنیٰ خلیفہ ہے تب بھی مذکورہ دعویٰ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ دعویٰ یہ ہے کہ وہ خلیفہ بلا فصل ہیں۔ خلیفہ ہونے اور خلیفہ بلا فصل ہونے میں بہت فرق ہے۔ یقیناً علی رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے خلیفہ بنے لیکن کچھ وقفے کے بعد۔ حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ ان کی خلافت میں فاصلہ یا وقفہ نہیں آئے گا، حدیث میں دونوں کا احتمال ہے کہ فاصلہ ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ دعویٰ خاص ہے اور حدیث عام ہے۔ [رسالة في الرد على الرافضة(ص7) ، الأحاديث المرفوعة في فضل الإمام علي رضي الله عنه ودراستها بين أهل السنة والشيعة للدكتور نهاد عبد الحليم عبيد (ص 972)]
آخرى بات
خلاصہ کلام یہ کہ اس حدیث کا مقصد ہرگز جناب علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا اظہار نہیں بلکہ یمن جانے والے لشکر والوں کے دلوں میں جناب علی رضی اللہ کے تعلق سے جو بدگمانیاں پیدا ہو گئی تھیں ان کا ازالہ مقصود تھا۔ آخر میں قارئین سے گزارش ہے کہ اس سلسلے میں محترم الشیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کی ایک کتاب کا ضرور مطالعہ فرمائیں جس کا نام ہے ’خطبہ غدیر خم اور اہلِ بیت کے حقوق‘۔