حدیثِ سجدۂ شوہر: کیا یہ عورت کی اہانت اور توحید کے خلاف ہے؟ مکمل تحقیق

فونٹ سائز:

وضاحتِ شبہ

مضمون کے اہم نکات

ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” اگر میں کسی انسان کو دوسرے انسان کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ وہ شوہر کو سجدہ کرے “ ۔

اس حدیث میں عورت کی اہانت کا پہلو پایا جاتا ہے۔ اسی طرح یہ حدیث عقیدۂ توحید کے بھی منافی ہے!

جوابِ شبہ

پہلی بات

مذکورہ حدیث مستند ہونے کے اعتبار سے بالکل صحیح ہے بلکہ اس کو روایت کرنے والے صحابہ کی تعداد 17 تک پہنچتی ہے جن میں سے چند یہ ہیں: عبد اللہ بن ابی اوفیٰ [سنن ابن ماجه : 1853] ابو ہریرہ [سنن الترمذي : 1159] عائشہ [سنن ابن ماجه : 1852] قیس بن سعد [سنن أبي داود : 2140] بریدہ بن الحصیب [سنن الدارمي : 1488] معاذ بن جبل [مسند أحمد : 21986] انس بن مالک [السنن الكبرى للنسائي : 9102] رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین میں سے کسی نے اس حدیث کو ضعیف قرار نہیں دیا [أنيس الساري لنبيل منصور : 6/ 4426]۔

دوسری بات

اس حدیث کے الفاظ میں کہیں بھی عورت کو یہ حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے بلکہ صرف اتنا مذکور ہے کہ اگر سجدے کا حکم دیا جاتا تو بیوی کو دیا جاتا لہٰذا جب حکم دیا ہی نہیں گیا تو مذکورہ اعتراض کا کوئی معنیٰ نہیں رہ جاتا۔ علامہ مناوی لکھتے ہیں: اس حدیث میں شرط کو ایک محال چیز کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے [فيض القدير للمناوي : 5/ 329]۔

تیسری بات

کسی بھی زبان میں اس طرح کا اسلوب کسی معاملے کی اہمیت کو اجاگر کرنے یا کسی امر کی نفی میں مبالغہ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس حدیث میں اس بات کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے کہ بیوی کے لیے شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری کس قدر اہم ہے۔ قرآن و حدیث میں اس طرح کے اسلوب کی مثالیں جا بجا موجود ہیں:

قرآن مجید میں ارشاد ہے:

قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ الْعَابِدِينَ [الزخرف : 81]

کہہ دے اگر رحمان کی کوئی اولاد ہو تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوں۔

اس آیت سے کوئی عقلمند یہ نہیں سمجھتا کہ رحمٰن کی اولاد کا وجود ممکن ہے۔

جناب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب میں ایک حدیث مروی ہے :

لَوْ كَانَ نَبِيٌّ بَعْدِي لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ [جامع الترمذي : 3686]

اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتا۔

اس حدیث کا ہرگز یہ مفہوم نہیں کہ نبی ﷺ نے جناب عمر رضی اللہ عنہ کے نبوت کی پیشن گوئی کی تھی۔

ایک فاحشہ عورت کے بارے میں نبیﷺ نے فرمایا:

‌لَوْ ‌رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُ هَذِهِ [صحيح البخاري : 5316 ، صحيح مسلم : 1497]

اگر میں کسی کو بغیر ثبوت کے سنگسار کرتا تو اسے کر دیتا۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ بغیر ثبوت کے حد نافذ کرنا جائز ہے۔

بالکل اسی طرح زیرِ بحث حدیث کا بھی یہ مطلب نہیں ہے کہ عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ شوہر کو سجدہ کرے۔

چوتھی بات

شریعت نے عورت کے حق میں سجدے کا اسلوب بطورِ مبالغہ استعمال کیا ہے کیوںکہ سجدہ اطاعت و فرمانبرداری کی اعلی ترین صورت ہے۔ شریعت یہ چاہتی ہے کہ عورت شوہر کے لئے اطاعت و فرمانبرداری کی اعلیٰ ترین صورت اختیار کرے ۔ شارح "جامع ترمذی” عبدالرحمن مبارکپوری فرماتے ہیں:

وفي هذا غاية المبالغة لوجوب إطاعة المرأة في حق زوجها [تحفة الأحوذي : 4/ 271]

اس حدیث میں عورت پر شوہر کی اطاعت واجب کے تعلق سے انتہائی تاكيد كى گئی ہے۔

پانچویں بات

جہاں تک عورت کی اہانت کی بات ہے تو کسی ایک جنس یا طبقے کی فضیلت کو اجاگر کرنے سے دوسری جنس یا طبقے کی اہانت لازم نہیں آتی۔ جیسے اولاد کو حکم دیا کہ وہ والدین کو اف تک نہ کہیں ، اس میں اولاد کی اہانت نہیں بلکہ والدین کے مقام و مرتبے کو واضح کرنا مقصود ہے۔ شریعت کی تعلیمات میں یہ بات بکثرت پائی جاتی ہے کہ وہ دو مدِ مقابل طبقات کو اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی اور دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے کی تاکید کرتی ہے جس کی پاسداری سے ایک مثالی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ مالداروں کو حکم دیا کہ وہ غریبوں کا خیال رکھیں تو دوسری طرف غریبوں کو حکم دیا کہ وہ بے جا مانگنے سے گریز کریں۔ چھوٹوں کو حکم دیا کہ وہ بڑوں کا احترام کریں اور بڑوں کو حکم دیا کہ وہ چھوٹوں پر شفقت کریں۔ بیوی کو حکم دیا کہ وہ شوہر کی اطاعت کرے تو دوسری طرف شوہر کو اس بات کا پابند کیا کہ وہ اس کی ضروریات کو پورا کرے اور کسی قسم کی ظلم و زیادتی نہ کرے۔ الغرض اس کا تعلق کسی طبقے کی اہانت یا برتری سے نہیں بلکہ حقوق کی ادائیگی اور فرائض نبھانے سے ہوتا ہے۔

چھٹی بات

جہاں تک اس حدیث کا توحید کے منافی ہونے کی بات ہے تو وہ بھی درست نہیں کیونکہ سجدہ دو طرح کا ہوتا ہے۔ بطورِ عبادت سجدہ اور بطورِ تحیہ و سلام سجدہ۔ دراصل سابقہ شریعتوں میں کسی کو سلام کرتے وقت سجدہ کرنا جائز ہوا كرتا تھا۔ فرشتوں کا آدم کو سجدہ کرنا اور یعقوب علیہ السلام اور انکے بیٹوں کا یوسف علیہ السلام کو سجدہ کرنا اسی قبیل سے تھا [تفسير ابن كثير : 4/ 412]۔

ہماری شریعت میں اس سجدے سے منع کر دیا گيا لہٰذا ہماری شریعت میں یہ سجدہ حرام اور گناہ کا کام ہے البتہ یہ شرک نہیں ہوتا۔ اس حدیث میں بھی عورت کے لیے جس سجدے کا ذکر ہے وہ یہی دوسری قسم کا سجدہ ہے۔ [شرح بلوغ المرام لعطية سالم : 154] جس کی دلیل اس حدیث کا پسِ منظر ہے کہ جب جناب معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ یمن سے مدینہ آئے تو انہوں نے نبیﷺ کو سجدہ کرنا چاہا جب آپﷺ نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ یمن میں اہلِ کتاب اپنے علماء اور پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں تو میں نے سوچا کہ آپﷺ اس سجدے کہ ان سے زیادہ حقدار ہیں۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی انسان کے لیے یہ جائز ہوتا کہ وہ دوسرے انسان کو سجدہ کرے تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ وہ شوہر کو سجدہ کرے [مسند احمد: 21986، سنن ابن ماجه : 1853]۔

لہٰذا ثابت ہوا کہ یہاں سجدے سے مراد بطورِ تحیہ و سلام سجدہ ہے نہ کہ بطورِ عبادت۔