وضاحت شبہ
مضمون کے اہم نکات
ایک حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے روز کچھ لوگوں کو حوضِ کوثر کے پاس آنے سے روک دیا جائے گا جس پر نبیﷺ کہیں گے: "یہ میرے صحابہ ہیں”، تو آپﷺ کو بتایا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا تبدیلیاں کر دیں.[صحيح البخاري : 4740 ، صحيح مسلم : 2860]
اس حدیث کی بنیاد پر شیعہ روافض کی طرف سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ نبی ﷺ کے بعد صحابہ دین میں تبدیلی لے آئے، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ تمام صحابہ عادل اور جنتی ہیں، بلکہ ان میں سے بعض (بلکہ اکثر) گمراہ ہو گئے تھے اور کچھ تو جنت میں داخل بھی نہیں ہوں گے ! والعياذ بالله
جواب شبہ
پہلی بات
سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اہلِ علم کے نزدیک صحابی سے کیا مراد ہے؟ صحابی کی سب سے معتبر تعریف (definition) یوں کی گئی ہے:
هُوَ مَنْ لَقِيَ النَّبِيَّ ﷺ مُؤْمِناً بِهِ، وَمَاتَ عَلَى الإِسْلَامِ.
« الإصابة في تمييز الصحابة 1/7، نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر» (ص189).
صحابی وہ ہوتا ہے جس نے بحالتِ ایمان نبیﷺ سے ملاقات کی ہو اور حالتِ اسلام پر ان كا انتقال ہوا ہو۔
اس تعریف کی رو سے صرف وہی شخص صحابی کہلائے گا جس کی موت حالتِ اسلام میں آئی ہو، البتہ وہ شخص جو اسلام لایا لیکن بعد میں مرتد ہو گیا اور پھر اسی حالت میں مر گیا وہ صحابیت کا شرف تو در کنار ایک ادنیٰ مسلمان سے بھی بدتر ہے۔ لہٰذا قرآن مجید میں جن کے ساتھ جنت کا وعدہ کیا گیا ہےوہ صرف انہی پر صادق آتا ہے جو صحابی ہیں، اور تمام صحابہ کو جنت کی بالعموم بشارت دی گئی ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
(وَكُلّٗا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡحُسۡنَىٰ)
[الحديد: 10]
کہ اللہ تعالیٰ نے تمام (صحابہ) سے جنت کا وعدہ کیا ہے۔
اور جو صحابی ہی نہیں رہا اس کے ساتھ نہ کوئی وعدہ ہے اور نہ کوئی فضیلت۔
دوسری بات
اس حدیث کا مصداق وہ لوگ ہیں جو نبیﷺ کی وفات کے بعد مرتد ہو گئے تھے یا زکوٰۃ کی ادائیگی سے منکر ہو گئے تھے، جن کے خلاف سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قتال کیا تھا، ان کو جفاۃ الاعراب بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی دلیل حدیث کےآخر میں موجود یہ الفاظ ہیں کہ آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا تبدیلیاں کیں، اور یہ تبدیلیاں دین سے ارتداد اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کی صورت میں واقع ہوئیں۔ بلکہ بعض روایات میں نہایت صریح اور واضح الفاظ میں یہ آیا ہے:
إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَى.
ترجمہ: یہ لوگ (دین سے) الٹے قدموں واپس لوٹ گئے تھے [صحيح البخاري : 6585]۔
ایک اور جگہ یہ الفاظ ہیں:
إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ.
ترجمہ: جب سے آپ انہیں چھوڑ کر گئے تب سے یہ مرتد ہی رہے ہیں [صحيح البخاري : 3349]۔
تیسری بات
بعض اہل علم کے مطابق یہاں "اصحاب” سے مراد وہ منافقین ہیں جو نبی کریم ﷺ کے زمانے میں اسلام کا اظہار کرتے تھے لیکن دل سے ایمان نہیں لائے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ﴾
[المنافقون: 1]۔
ترجمہ: جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور اللہ خوب جانتا ہے کہ آپ یقیناً اس کے رسول ہیں، لیکن اللہ یہ بھی گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں۔
یہ وہ منافقین تھے جنہیں نبی ﷺ بھی ظاہراً نہیں پہچانتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ﴾
[التوبہ: 101]۔
ترجمہ: اور تمہارے اردگرد کے بعض بدوی دیہاتیوں میں بھی منافق ہیں، اور مدینہ کے کچھ لوگ بھی ایسے ہیں جو نفاق پر جمے رہے۔ تم انہیں نہیں جانتے، ہم ہی انہیں جانتے ہیں۔
پس یہ وہ منافقین تھے جنہیں نبی ﷺ اپنے اصحاب میں شمار کرتے تھے لیکن درحقیقت وہ اصحاب میں سے نہ تھے۔
چوتھی بات
قیامت کے دن نبیﷺ کا ایسا لوگوں کو صحابی کہنا اس بنیاد پر ہوگا کہ جس حالت میں نبیﷺ انہیں دنیا میں چھوڑ کر آئے تھے، اس وقت تک تو انہوں نے بظاہر اسلام قبول کیا ہوا تھا لیکن جونہی آپﷺ کو ان کے بارے میں بتایا جائے گا تو آپ فوراً ان سے اظہارِ لاتعلقی کریں گے اور فرمائیں گے کہ دوری ہو ایسے لوگوں کے لئے۔ بلکہ ایک روایت میں نبیﷺ نے اپنے معاملے کو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے معاملے سے تشبیہ دی کہ جس طرح وہ اپنے بعد کئے جانے والے امور سے اظہارِ لاتعلقی کرتے ہوئے فرمائیں گے:
وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ﴿١١٧﴾ إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿١١٨﴾
[المائدة: 117-118]
ترجمہ: جب تک میں ان کے درمیان رہا میں ان پر گواہ تھا اور جب تُو نے مجھے موت دے دی تو تُو ہی ان پر نگہبان تھا اور تُو ہر چیز پر گواہ ہے۔ اگر تُو ان کو سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تُو معاف فرما دے تو تُو زبردست ہے ، حکمت والا ہے۔
تو میں بھی ان کی طرح یہی کہوں گا [صحيح البخاري : 3349]۔
پانچویں بات
یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہاں مراد ” اصحاب ” کا عام لغوی معنی ہے، یعنی ہر وہ شخص جو نبی کریم ﷺ کی صحبت میں رہا، خواہ وہ آپ کی پیروی کرنے والا نہ بھی ہو۔ اور وہ صحابی کے اصطلاحی معنی میں داخل نہیں ہوتے۔
اس کی دلیل یہ واقعہ ہے کہ جب منافقوں کے سردار عبد اللہ بن أُبى بن سلول نے کہا:
﴿لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ﴾
[المنافقون: 8]
ترجمہ: یقینا اگر ہم مدینہ واپس گئے تو جو زیادہ عزت والا ہے وہ اس میں سے ذلیل تر کو ضرور ہی نکال باہر کرے گا.
تو یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول الله! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ‘اسے چھوڑ دو، کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے اصحاب کو قتل کرتا ہے (صحیح البخاری: 4905)۔
پس نبی ﷺ نے اسے اپنے ‘اصحاب’ میں شمار کیا، لیکن یہ ذکر صرف لغوی معنی کے اعتبار سے ہے، نہ کہ اصطلاحی معنی کے لحاظ سے کیونکہ عبد الله بن أبى بن سلول تو منافقوں کا سردار تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کا نفاق ظاہر کر دیا اور وہ کھلے عام اپنے نفاق کا مظاہرہ کرتا تھا۔
سابقہ باتوں کی روشنی میں واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام (صحابہ) سے جنت کا وعدہ کیا ہے، وبالله التوفيق۔