وضاحتِ شبہ: حدیثِ ثقلین اور شیعہ استدلال کا جائزہ
مضمون کے اہم نکات
ایک حدیث جوکہ حدیث ثقلین سے جانی جاتی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم فرمایا کہ: "میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں تھامے رکھو گے کبھی گمراہ نہ ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری عترت یعنی میرے اہلِ بیت”۔
شیعہ حضرات اس سے اپنے مذہب کے حق ہونے کی دلیل پیش کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے امت کو اہلِ بیت کی پیروی کا حکم دیا ہے اور وہی اس فرمان پر عمل کرنے والے ہیں۔
جوابِ شبہ
پہلی بات
حدیث ثقلین(ثقلین کا معنی ہے دو بھاری چیزیں) کافی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی ہے ،ان میں حضرت عمر بن خطاب، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابو سعید خدری، حضرت ابو ہریرہ ، حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت انس بن مالک ،حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم اجمعین وغیرہ سے مختلف الفاظ کے ساتھ احادیث کی کتابوں میں منقول ہے۔
ان احادیث میں بعض مقامات پر اہلِ بیت سے محبت کا حکم دیا گیا ہے اور بعض جگہوں پر اہلِ بیت کی اتباع کا حکم موجود ہے جبکہ کچھ روايات میں قرآن کے ساتھ سنت کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔
اور ان احادیث میں سے کوئی ایک حدیث بھی صحیحین (صحیح بخاری، صحیح مسلم) میں نہیں سوائے ایک حدیث کے جو کہ حضرت زید بن ارقم رضی الله عنہ سے مروی ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں: میں تم میں دو بڑی چیزیں چھوڑے جاتا ہوں۔ پہلے تو اللہ کی کتاب ہے اور اس میں ہدایت ہے اور نور ہے۔ تو اللہ کی کتاب کو تھامے رہو اور اس کو مضبوط پکڑے رہو۔ غرض کہ آپﷺ نے اللہ کی کتاب کی طرف رغبت دلائی۔ پھر فرمایا: دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں۔ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں۔ (صحیح مسلم: 2408)
مزيد تفصیل آگے آرہی ہے.
دوسری بات
اس مضمون کی احادیث تین مختلف الفاظ یا طرزِ بیان کے ساتھ روایت ہوئی ہیں:
➊ جن میں کتاب اللہ(قرآن کریم) اور سنت رسول اللہ کو تھامنے کا حکم ہے۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے: میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، پس جب تک تم ان دونوں پر عمل کرتے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت۔ (موطا امام مالک: 2 / 899، المستدرك للحاكم: 322 ، المشكاة: 186، سلسلہ صحیحہ از علامہ البانی: 1761)
➋ وہ الفاظ جن میں کتاب اللہ اور نبی ﷺ کی عترت (اہل بیت) کو تھامنے کا حکم ہے۔
حضرت زید بن ارقم رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں تم میں ایسی چیز چھوڑنے والا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ان میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے اور وہ اللہ کی کتاب ہے گویا وہ ایک رسی ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے اور دوسری میری »عترت « یعنی میرے اہل بیت ہیں۔ یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے، تو تم دیکھ لو کہ ان دونوں کے سلسلہ میں تم میری کیسی جانشینی کر رہے ہو۔ (جامع ترمذی:3788)
اس روایت کی سند میں حبیب بن ابی ثابت ہیں جو اگرچہ خود معتبر ہیں لیکن ان کا حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔ اس وجہ سے یہ روایت منقطع اور كمزور ہے.
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ایک روایت صحیح مسلم میں موجود ہے جس میں کوئی اسنادی کمزوری نہیں ( اس کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا)۔ البتہ اس روایت کے الفاظ میں اہلِ بیت کو تھامنے یا ان کی پیروی کا حکم نہیں دیا گیا ۔
"اہل بیت کو تھامنے کا حکم” جيسى حدیث كو امام ترمذی نے حضرت جابر بن عبد الله اور ابو سعید خدری سےبھی روایت کیاہے اور کہا: (یہ حدیث حسن غریب ہے).
ليكن حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت کی سند میں عطیہ العوفی نامی راوی شامل ہیں جنہیں محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ امام احمد بن حنبل، ا بن معین اور دیگر محدثین کا کہنا ہے کہ "عطیہ ضعیف ہے”۔ اس لیے یہ روایت اس سند کے ساتھ حجت نہیں۔
امام ابن الجوزی نے "العلل المتناهيہ (1/268)” میں فرمایا:”یہ حدیث صحیح نہیں ہے”.
اسی طرح حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں زید بن حسن الأنماطی راوی ہیں، جن کے بارے میں امام ابو حاتم الرازی نے فرمایا: "منکر الحدیث”، یعنی یہ راوی ناقابلِ اعتبار ہے اور اس کی روایتیں ثقہ راویوں کے خلاف ہوتی ہیں۔ اس بنا پر یہ روایت بھی ضعیف اور ناقابلِ استدلال ہے۔
➌ وہ الفاظ جن میں کتاب اللہ کو تھامنے کا حکم ہے اور نبی ﷺ کی اپنےاہل بیت کے بارے میں وصیت ہے۔
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع مقام ”خم“ کے پانی کے مقام پر خطبہ سنانے کو کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد کی اور اس کی تعریف کو بیان کیا اور وعظ و نصیحت کی۔ پھر فرمایا: اس کے بعد! اے لوگو! میں آدمی ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا بھیجا ہوا (موت کا فرشتہ) پیغام اجل لائے اور میں قبول کر لوں۔ میں تم میں دو بڑی چیزیں چھوڑے جاتا ہوں۔ پہلے تو اللہ کی کتاب ہے اور اس میں ہدایت ہے اور نور ہے۔ تو اللہ کی کتاب کو تھامے رہو اور اس کو مضبوط پکڑے رہو۔ غرض کہ آپ ﷺ نے اللہ کی کتاب کی طرف رغبت دلائی۔ پھر فرمایا: دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں۔ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہوں۔ تین بار فرمایا۔ (صحیح مسلم:2408)
یہ سب سے صحیح الفاظ "صحیح مسلم” کے ہیں جو حضرت زید بن ارقم رضی الله عنہ سے مروی ہیں جن میں آپ ﷺ نے کتاب اللہ کو تھامنے کا حکم فرمایا اور اپنے اہل بیت کے بارے میں وصیت فرمائی اور انکے بارے میں امت کو اللہ کی یاد دلائی کہ انکے حقوق کا پاس کیا جائے اور انہیں پامال نہ کیا جائے۔
چنانچہ حدیثِ ثقلین كى درست روايت میں اہلِ بیت کی پیروی کا حکم موجود نہیں ہے جیسا کہ شیعہ حضرات دعویٰ کرتے ہیں۔ بلكہ آپ ﷺ نے اہلِ بیت کے ساتھ حسن سلوک، ان کے حقوق ادا کرنے اور ان پر ظلم سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔
تیسری بات
اگر ان احادیث کو صحیح بھی مان لیا جائے تب بھی ان سے شیعہ عقیدے کے حق میں کوئی دلیل نہیں بنتی، کیونکہ اہلِ بیت کے پاس کوئی الگ دین نہیں تھا۔ وہ خود سنتِ رسول ﷺ ہی پر عمل کرنے والے تھے۔
لہٰذا نبی کریم ﷺ کا حدیثِ ثقلین میں یہ فرمان: "قرآن اور اہلِ بیت کو تھامے رکھنا” اسی مفہوم میں ہے جیسے آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: کتاب اللہ اور سنتِ رسول، جب تک تم انہیں تھامے رکھو گے کبھی گمراہ نہ ہوگے۔
يا جیسے آپ ﷺ نے فرمایا: میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو۔ (سنن ابی داود: 4607)
چنانچہ اہلِ بیت کی پیروی درحقیقت سنتِ نبوی کی پیروی ہے، نہ کہ اس کے مقابل کوئی الگ راستہ۔
چوتھی بات
اگر اہلِ بیت کی اتباع کا حکم ثابت ہو بھی جائے، تو وہ اُن امور میں ہوگا جن پر اہلِ بیت کا اتفاق ہو، نہ کہ وہ امور جو آج خودساختہ ان کی طرف منسوب کر دیے گئے ہوں۔
جبکہ اہلِ بیت کے جلیل القدر ائمہ، جیسے حضرت علی، حضرت حسن، حضرت حسین، حضرت ابن عباس رضى الله عنهم، سب شيعہ اور ان کے عقائد سے بیزاری کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
اسى طرح ان تمام ہستیوں نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضى الله عنهم کو امامت اور فضیلت میں مقدم مانا ہے اور یہی عقیدہ بنو ہاشم، علوی، عباسی کا بھی رہا ہے۔
لہٰذا اگر اہلِ بیت کے اجماع کو دلیل مانا جائے تو سب سے زیادہ حق پر اہلِ سنت ہیں، نہ کہ شیعہ، جو خود اہلِ بیت کے متفقہ عقائد سے ہٹے ہوئے ہیں۔
پانچویں بات
شیعہ حضرات کا اہلِ بیت اور عترت کی تفسیر صرف حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم تک محدود کر دینا جبکہ نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات کو اس سے خارج کر دینا درحقیقت اللہ تعالى کی آیات میں تحریف ہے.
"عترت” کا مفہوم لغوی اعتبار سے نسبی اولاد اور صلبی نسل تک محدود ہے، جبکہ "اہلِ بیت” کا مفہوم اس سے زیادہ وسیع ہے۔ اہلِ بیت میں نہ صرف نسبی رشتہ دار شامل ہیں بلکہ مصاہرت (رشتۂ ازدواج) کے ذریعے شامل ہونے والی ہستیاں، یعنی نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنھن بھی قرآن مجيد کے نص سے اہلِ بیت میں شامل ہیں.
آخرى بات
اگر عترت کو تھامے رکھنے سے امامت اور اتباع پر دلیل لی جائے تو پھر اہلِ بیت کے تمام افراد کی امامت لازم آتی ہے ! خصوصاً جب ہم دیکھیں کہ اس میں حضرت عبداللہ بن عباس، محمد بن حنفیہ، زید بن علی بن حسين، اسحاق بن جعفر صادق اور دیگر بہت سے اہلِ بیت شامل ہو جاتے ہیں، جنہیں شیعہ خود بھی امام نہیں مانتے۔
اسى طرح اہلِ بیتِ نبوی ﷺ میں بنو ہاشم کے تمام افراد ہیں، جن میں شامل ہیں: آلِ عباس، آلِ علی، آلِ جعفر، آلِ عقیل، آلِ حارث بن عبدالمطلب اور بنو المطلب اور بنو ابی طالب دونوں آلِ بیتِ نبوی ﷺ میں شامل ہیں کیونکہ وہ نسباً قریبی رشتہ دار ہیں اور ان پر صدقہ حرام ہے۔
جب حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کہ اے زید! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اہل بیت نہیں ہیں؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ازواج مطہرات بھی اہل بیت میں داخل ہیں لیکن اہل بیت وہ ہیں جن پر زکوٰۃ حرام ہے۔ راوى حديث (حصین بن سبرہ) نے کہا کہ وہ کون لوگ ہیں؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ علی، عقیل، جعفر اور عباس کی اولاد ہیں۔ حصین نے کہا کہ ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ (صحيح مسلم: 2408)
لہٰذا اہلِ بیت کا مفہوم صرف چند افراد تک محدود نہیں بلکہ بنو ہاشم کے سب افراد اس میں شامل ہیں، اسی طرح آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات، یعنی امہات المؤمنین بھی سورة احزاب (آيت 33) کی نصِ صریح سے اہلِ بیت میں شامل ہیں۔
تو اگر اس حدیث کو صحیح مانا جائے تو ان تمام جلیل القدر خواتين وحضرات کی اتباع اور ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہوگا، کیونکہ لفظ "عترت” سے آپ ان اہلِ بیت کے افراد کو باہر نہیں کر سکتے۔