حدِ سرقہ: معافی کی تلقین اور علاج

تحریر: عمران ایوب لاہوری

سزا معاف کرنے کے مجاز شخص کی تلقین مستحب ہے اور کائی ہوئی جگہ کا علاج کیا جائے گا
➊ ایک روایت میں ہے کہ :
ادرء وا الحدود بالشبهات
”شبہات پیدا ہو جانے کی وجہ سے حدود ہٹا دو ۔“
[ضعيف: إرواء الغليل: 2316]
➋ حضرت ابو اُمیہ مخرومی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا اس نے اعتراف تو کر لیا لیکن اس سے کوئی سامان برآمد نہ ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا:
ما إخالك سرقت؟
”میں خیال نہیں کرتا کہ تو نے چوری کی ہے ۔ “
اس نے کہا کیوں نہیں (دو مرتبہ یا تین مرتبہ ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اقطعوه ثم جيئو به
”اس (کا ہاتھ ) کاٹ دو پھر اسے لے کر آؤ ۔“
[ضعيف: إرواء الغليل: 2426 ، احمد: 293/5 ، ابو داود: 4380 ، كتاب الحدود: باب فى التلقين فى الحد ، نسائي: 4877 ، ابن ماجة: 2597 ، دارمي: 173/2 ، بيهقي: 276/8 ، حافظ ابن حجرؒ فرماتے هيں كه اس كے رجال ثقه هيں ۔ بلوغ المرام: 271]
➌ امام عطاءؒ فرماتے ہیں کہ جو لوگ گزر چکے ہیں جب ان کے پاس کوئی چور لایا جاتا تو وہ اسے کہتے تھے ۔
أسرقت؟ قل لا
”کیا تو نے چوری کی ہے؟ کہ دو نہیں ۔“
پھر انہوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نام لیا ۔
[عبد الرزاق: 224/10]
➍ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی لایا گیا تو انہوں نے اس سے کہا:
أسرقت؟ قل لا
”کیا تو نے چوری کی ہے ۔ کہہ دو کہ نہیں ۔ “
اس نے کہا نہیں ، تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا ۔
[عبد الرزاق: 18920]
➎ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کا قصہ منقول ہے ۔
[تلخيص الحبير: 126/4 ، بيهقي: 276/8]
(شوکانیؒ ) اس میں یہ ثبوت موجود ہے کہ ایسی تلقین کرنا جو حد کو ساقط کر دے مستحب ہے ۔
[نيل الأوطار: 587/4]
رسول اللہ نے ایک چور کے متعلق یہ حکم دیا:
اذهبوا به فاقطعوه ثم احسموه
”اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ کر اسے داغ دو ۔“
[ضعيف: إرواء الغليل: 2431 ، دارقطني: 102/3 ، حاكم: 381/4 ، بيهقي: 275/8 ، كشف الأستار للبزار: 1560 ، امام ابن قطانؒ نے اسے صحيح كها هے ۔ تلخيص الحبير: 1776]
اگرچہ اس روایت میں ضعف ہے لیکن اگر یہ عمل نہ کیا جائے تو چور کی جان کو خطرہ ہے جسے بچانا تمام مسلمانوں کا اولین فریضہ ہے اور یہ خیر کے کام میں تعاون بھی ہے۔ قرآن میں ہے کہ :
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ [المائده: 2]
”نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو ۔“
❀ ہاتھ کاٹنے والے کو اُجرت اور داغنے والے کو ادویہ وغیرہ کی قیمت بیت المال سے ادا کی جائے گی ۔
[سبل السلام: 1711/4 ، نيل الأوطار: 589/4]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے