حدود کے معاملات میں سفارش کرنا حرام ہے اور رجم کیے جانے والے کے لیے سینے تک گڑھا کھودا جائے گا
➊ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من حالت شفاعته دون حد من حدود الله فهو مضاد لله فى أمره
”جس شخص کی سفارش حدود الٰہی میں سے کسی حد کے درمیان حائل ہو گئی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کرنے والا ہے ۔“
[صحيح: صحيح ابو داود: 3066 ، كتاب القضاء: باب فى الرجل يعين على خصومة من غير أن يعلم أمرها ، ابو داود: 3597 ، احمد: 5544 – بتحقيق شاكر ، حاكم: 383/4]
➋ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک روایت میں ہے کہ ایک مخزومی عورت نے چوری کی تو اس کے گھر والوں نے کہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے اس معاملے میں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی بات کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا چنانچہ ان کے کہنے پر حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (ڈانٹتے ہوئے ) فرمایا:
أتشفع فى حد من حدود الله
”کیا تو اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے معاملے میں سفارش کرتا ہے ۔“
[مسلم: 1688 ، كتاب الحدود: باب قطع السارق الشريف وغيره والنهي عن الشفاعة فى الحدود ، بخاري: 3732]
➌ ایک روایت میں یہ لفظ ہیں:
هلا كان قبل أن تاتيني به
”اسے میرے پاس لانے سے پہلے ایسا کیوں نہ کیا ۔“
[صحيح: إرواء الغليل: 2317 ، 345/7 ، احمد: 466/6 ، ابو داود: 4394 ، نسائي: 69/8 ، ابن ماجة: 2595 ، حاكم: 380/4 ، ابن الجارود: 828]
اس بات کی مزید وضاحت مندرجہ ذیل حدیث کرتی ہے:
➍ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تعافوا الحدود فيما بينكم فما بلغنى من حد فقد وجب
”آپس میں حدود کو معاف کردیا کرو لیکن جو حد کا معاملہ میرے پاس پہنچ گیا تو (سمجھ لو ) وہ واجب ہو گئی ۔“
[صحيح: صحيح ابو داود: 3680 ، كتاب الحدود: باب يعفى عن الحدود ما لم تبلغ السلطان ، ابو داود: 4376 ، نسائي: 60/8 ، حاكم: 383/4]
(ابن عبد البرؒ ) اس بات پر اجماع ہے کہ جب معاملہ سلطان و حکمران کے پاس پہنچ جائے گا تو اس پر واجب ہو گا کہ وہ حد کو نافذ کرے ۔
[الاستذكار لابن عبد البر: 177/24]
➊ غامدیہ عورت کو رجم کرنے کے قصے میں یہ بات مذکور ہے کہ :
ثم أمربها فـحـفـر لـهـا إلى صدرها وأمر الناس فرجموها
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس عورت کے سینگے تک گڑھا کھودا گیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا تو انہوں نے اسے رجم کر دیا ۔“
[احمد: 347/5 ، مسلم: 1695 ، ابو داود: 4442]
➋ ایک آدمی نے زنا کا اعتراف کیا تو اس کو رجم کرنے کے متعلق صحابہ فرماتے ہیں کہ :
فخرجنا به فحفرنا له
”ہم اسے لے کر نکلے اور ہم نے اس کے لیے گڑھا کھودا ۔“
[حسن: صحيح ابو داود: 3728 ، كتاب الحدود: باب رجم ماعز بن مالك ، ابو داود: 4435 ، احمد: 379/3]
درج ذیل حدیث گذشتہ احادیث کے مخالف نہیں ہے:
➌ جب ماعز اسلمی رضی اللہ عنہ کو رجم کرنے کے لیے پتھر مارے گئے تو وہ تکلیف کی وجہ سے بھاگ نکلے ۔
[احمد: 61/3 ، مسلم: 1694 ، ابو داود: 4431 ، دارمي: 178/2]
ان میں باہم تطبیق یوں دی گئی ہے کہ :
① ممکن ہے پہلے ماعز اسلمی کے لیے گڑھا نہ کھودا گیا ہو لیکن جب وہ بھاگا تو پھر اس کے لیے گڑھا کھودا گیا ۔
② گڑھا پہلے ہی کھودا گیا تھا لیکن وہ نکلنے میں کامیاب ہو گیا ۔
③ مثبت کونافی پر مقدم کیا جائے گا یعنی اس بات کو ترجیح دی جائے گی کہ گڑھا کھودا گیا تھا کیونکہ یہ مثبت ہے ۔
[نيل الأوطار: 560/4]
(ابو حنیفہؒ ، شافعیؒ) آدمی کے لیے گڑھا نہیں کھودا جائے گا ۔
(ابو یوسفؒ ) مرد اور عورت دونوں کے لیے گڑھا کھودا جائے گا ۔
[أيضا]
(راجح) امام ابو یوسفؒ کا مؤقف راجح ہے ۔