حدود مزدلفہ سے باہر رات گزارنے پر فدیہ لازم ہے؟

ماخوذ : فتاویٰ ارکان اسلام

سوال:

جو شخص حدود مزدلفہ کے نہ جاننے کی وجہ سے مزدلفہ سے باہر رات بسر کر لے، اس پر کیا لازم ہے؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ جس شخص نے مزدلفہ کی حدود کے بارے میں لاعلمی کی بنا پر مزدلفہ کے باہر رات گزاری، اس پر فدیہ لازم آتا ہے۔ یعنی وہ ایک بکری ذبح کرے گا اور اس کا گوشت مکہ مکرمہ کے فقراء میں تقسیم کرے گا، کیونکہ اس نے حج کے واجبات میں سے ایک واجب کو ترک کیا ہے۔

اہم تنبیہ:

اس موقع پر میں اپنے حاجی بھائیوں کو ایک اہم نکتہ کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ:

عرفہ اور مزدلفہ کی حدود کی پہچان ضروری ہے۔

❀ کئی لوگ حدودِ عرفہ کے باہر خیمے لگا لیتے ہیں اور غروب آفتاب تک وہیں قیام کرتے ہیں، اور پھر عرفہ کی حدود میں داخل ہوئے بغیر ہی واپس چلے جاتے ہیں۔

❀ یاد رکھیں: ہر حاجی کے لیے لازم ہے کہ وہ حدودِ عرفہ کو پہچانے اور عرفہ کے اندر داخل ہو۔

الحمدللہ! آج کے دور میں عرفہ کی حدود واضح نشانات کے ذریعے متعین کر دی گئی ہیں، اس لیے ان کو پہچاننے میں کسی قسم کی دقت نہیں ہونی چاہیے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️