حدود قائم کرنے کی فضیلت
➊ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لحد يقام فى الأرض خير لأهل لأرض من أن يمطروا ثلاثين صباحا
”زمین میں قائم کی جانے والی ایک حد زمین والوں کے لیے تیسں دنوں کی بارش سے بہتر ہے ۔“
[حسن لغيره: صحيح الترغيب: 2350 ، كتاب الحدود: باب الترغيب فى إقامة الحدود ، نسائي: 76/8]
➋ وفى رواية قال أبو هريرة: إقامة حد فى الأرض خير لأهلها من أن يمطروا أربعين ليلة
اور ايک روایت میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”زمین میں ایک حد کا قائم کر دینا اس کے رہنے والوں کے لیے چالیس راتوں کی بارش سے بہتر ہے ۔“
[صحيح: صحيح الترغيب ، أيضا]
➌ سنن ابن ماجہ کی روایت میں ہے کہ :
حد يعمل به فى الأرض خير لأهل الأرض من أن يمطروا اربعين صباحا
”ایک حد جس کے مطابق زمین میں عمل کیا جاتا ہے وہ اہل ارض کے لیے چالیس دنوں کی بارش سے بہتر ہے ۔“
[حسن لغيره: صحيح الترغيب ، أيضا ، ابن ماجة: 2538]
➍ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إقامة حد من حدود الله خير من مطر أربعين ليلة فى بلاد الله
”اللہ کی حدود میں سے ایک حد قائم کر دینا اللہ کے شہروں میں چالیس راتوں کی بارش سے بہتر ہے ۔“
[حسن لغيره: صحيح الترغيب: 2351 ، كتاب الحدود: باب الترغيب فى إقامة الحدود والترهيب من المداهنة فيها ، ابن ماجة: 2537]
تحریر: عمران ایوب لاہوری