مضمون کے اہم نکات
سفر حج کے آداب
فریضہ حج کی ادائیگی سے قبل چند باتوں کا اہتمام کرنا بےحد ضروری ہے، کیونکہ ان کی اصلاح کیے بغیر حج کے اجر وثواب، فضائل و برکات اور فوائد و ثمرات سے کما حقہ مستفید ہونا ممکن نہیں۔
سب سے پہلے آدمی کو اپنا عقیدہ کتاب و سنت کے مطابق درست کرنا لازم ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ انسان خاندان، رسم و رواج اور مسلک کی زنجیروں سے آزاد ہو کر صدق دل سے صرف اور صرف کتاب و سنت سے رہنمائی لینے کا پختہ ارادہ کر لے اور حق واضح ہو جانے کے بعد اسے دل و جان سے قبول کرے اور کسی بھی مصلحت کا شکار نہ ہو۔
عقیدہ توحید:
اسلام کے جملہ عقائد میں سے توحید ورسالت کے عقائد کو بنیاد اور نقطہ آغاز کی حیثیت حاصل ہے۔ جس کی وضاحت کچھ یوں ہے: بعض ایسے نام، کام، صفات اور حقوق و آداب ہیں، جو کتاب اللہ اور سنتِ صحیحہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک ماننا اور اس کے ساتھ کسی مخلوق کی شرکت کو تسلیم نہ کرنا ہی عقیدہ توحید ہے۔
جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:
◈ ناموں میں اللہ اور الر حمن دو ایسے نام ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں۔ اور کسی مخلوق کے لیے نہیں بولے جا سکتے۔
◈ جہاں تک کاموں کا تعلق ہے، تو ان کے لیے ضروری ہے، کہ اللہ تعالیٰ کے تصرفات اور اختیارات میں صرف اسی چیز کو وسیلہ اور ذریعہ تسلیم کیا جائے، جس کے وسیلہ بننے کے کتاب و سنت سے صحیح اور واضح دلائل موجود ہوں۔ یا انسانی حس و عقل اس کے وسیلہ ہونے کی گواہی وے، مثلاً: والدین اولاد کی پیدائش کا ذریعہ ہیں، اصل خالق تو اللہ ہے، مگر والدین کو اولاد کی پیدائش کا ذریعہ ماننا توحید کے منافی نہیں، کیونکہ سے یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی سچائی کتاب و سنت اور عقل و حس ثابت شدہ ہے، مگر اولاد کی پیدائش کو کسی بت یا ستارے کا ،،کرشمہ،، سمجھنا یا مدفون بزرگ کی نگاہ کرم قرار دینا، سراسر جہالت، وہم اور شرک ہوگا کیونکہ اس کی کوئی شرعی، حسی اور عقلی دلیل نہیں ہے۔ آپ علم کے بغیر اولاد کی پیدائش میں ان کا حصہ مان رہے ہیں اور یہی شرک ہے۔
اسی طرح کسی مخلوق کو، ظاہری اسباب و وسائل کے بغیر رزق دینے والا، اولاد دینے والا، صحت و تندرستی عطا کرنے والا سمجھنا یا نفع و نقصان اور موت وحیات کا مالک سمجھنا بھی صریح شرک ہے۔
◈ صفات باری تعالیٰ میں توحید کی ایک مثال یہ ہے، کہ ہر مخلوق کی ہر فریاد کو ہر وقت اور ہر جگہ سے سننا اور پورا کرنا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے۔ اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ نے کسی بھی مقبول بندے کو مقرر نہیں فرمایا، لہذا کوئی فرشتہ، جن، انسان یا مقدس روح لوگوں کی فریادیں سن کر انھیں پورا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی شریک نہیں ہے۔
اسی طرح کتاب و سنت میں اللہ تعالی کی کئی صفات کا ذکر ملتا ہے، مگر ان کی کیفیت نہیں بتائی گئی، لہذا ان صفات پر پورا پورا ایمان لانا واجب ہے، جب کہ ان کی کیفیت کو بیان کرنا یا اس کی بابت سوال کرنا بدعت ہے، مثلاً: قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ،،ید،، یعنی ہاتھ کا ذکر ہے، اس پر کیفیت اور تشبیہ میں پڑے بغیر ایمان لانا عقیدہ توحید کا تقاضا ہے۔
◈ اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے خاص حقوق و آداب میں بھی وحدہ لاشریک ہے، مثلاً: یہ جو بندوں کی طرف سے دنیاوی عادات و افعال اور سے ہٹ کر دست بسته قیام، رکوع، سجده، دعا، نذر، نذرونیاز، قسم، ذبح قربانی وغیرہ کا اہتمام ہوتا ہے، یہ افعال تعظیم صرف اور صرف اللہ کا حق ہیں۔ اور یہ بھی صرف اللہ کا حق ہے کہ بندہ اپنی تمام حرکات و سکنات اور معمولات زندگی میں اسی کی رضا چاہے، اسی سے ڈرے، اسی سے امیدیں رکھے، اسی پر بھروسہ کرے اور اسی کے سامنے اپنے عجز وانکسار کا اظہار کرے۔
خلاصہ:
یعنی ہر وہ نام، کام، صفت یا ادب جو اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خاص ہے وہ کسی مخلوق کے لئے سمجھنا شرک ہے۔ اور شرک سے اگر توبہ نہ کی جائے تو یہ نا قابل معافی جرم ہے۔ شرک اکبر پر مرنے والا ابدی جہنمی ہے اور اس پر اللہ نے جنت کو حرام کر دیا ہے۔ [المائدة:72]
اتباع سنت:
رسول اللہﷺ کو رسول ماننے کا مطلب ہی یہ ہے، کہ بندہ دین کے معاملے میں حق واضح ہو جانے کے بعد آپ کی غیر مشروط اطاعت کرے، اور اپنے دامن کو بدعت سے آلودہ نہ ہونے دے۔ نیز تمام دنیاوی معاملات میں بھی کتاب وسنت کی مخالفت سے مکمل طور پر پرہیز کرے۔
بدعت:
جو بات اصولی طور پر کسی شرعی دلیل سے ثابت نہ ہو، اسے دین بنا لینا بدعت ہے۔ اگر چہ بظاہر وہ کتنی ہی خوشنما کیوں نہ ہو، حقیقت میں وہ سراسر گمراہی ہے۔ لہذا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ حج اور عمرے سمیت اپنی تمام عبادات میں بدعات سے مکمل طور پر پرہیز کرے کیونکہ ان کی ملاوٹ سے نیکی ضائع ہو جاتی ہے۔
اخلاص نیت:
نیت کے معنی ارادہ کے ہیں اور ارادہ دل کا فعل ہے۔ دین اسلام میں تمام نیک اعمال کے ثواب کا انحصار اخلاص نیت پر ہی ہے۔ [صحیح البخاري، بدء الوحي، حديث:1]
لہذا حج یا عمرہ کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے ارادے کو ریا کاری یا نمود و نمائش کی آرزو سے پاک رکھے اور محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے حج اور عمرہ کرے، نیز کسی بھی دنیاوی مفاد کو اس میں مقصود اصلی نہ بنائے۔
صرف حلال کمائی سے حج کرنا:
اسلام میں حرام سے اجتناب پر بہت زور دیا گیا ہے۔ جس آدمی کا لباس اور کھانا پینا حرام ہو اس کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ لہذا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ جائز طریقوں سے مال کمائے اور جائز امور ہی میں اسے خرچ کرے۔ چنانچہ حج اور عمرہ کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف حلال کمائی سے حج اور عمرہ کرے۔
حقوق العباد کی ادائیگی:
لوگوں کے حقوق دبا لینا بہت بڑا جرم ہے۔ اور یوں یہ جرم نیکی کی قبولیت میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ ایسا شخص جو حقوق العباد لوٹائے یا معاف کرائے بغیر مر گیا تو قیامت کے روز نہ صرف اپنی نیکیوں سے محروم ہوگا، بلکہ نیکیاں ختم ہونے پر حق داروں کے گناہ بھی اپنے سر اٹھائے گا۔ اور یوں مفلس ہو کر جہنم رسید ہوگا۔ [العیاذ بالله] [صحیح مسلم، البر والصلة، حديث: 2581]
مقروض کے حج کا حکم:
اگر صاحب استطاعت یا مالدار آدمی محض اپنے کاروباری لین دین کی وجہ سے مقروض ہے، اور اس کے پاس اس قرض کو اتارنے کے دیگر ذرائع موجود ہیں، مثلاً: ورثہ، ملکیتی زمین یا کاروباری سامان اتنا ہے، جس سے اس کا قرض اتارا جا سکتا ہے۔ تو اس پر حج کے لیے ضروری مال مہیا ہونے کی صورت میں، حج کرنا فرض ہے۔ اور اگر اس کے پاس بظاہر قرض اتارنے کا کوئی دوسرا ذریعہ موجود نہیں ہے، کہ جس سے اس کا قرض ادا ہو سکے لیکن حج کی استطاعت موجود ہے، تو پہلے قرض اتارے پھر دوبارہ مال جمع ہونے پر حج کرے۔
البتہ اگر کوئی دوسرا شخص اسے اپنی طرف سے حج پر بھیجنا چاہے تو اس کے لیے حج کرنا درست ہو گا۔ [واللہ اعلم]
رسم و رواج سے اجتناب:
نیک کاموں میں رسم ورواج کی مداخلت پسندیدہ بات نہیں ہے۔ اور اگر کسی رسم میں نمود و نمائش یا گناہ کا پہلو بھی موجود ہو تو اسی تناسب سے حج یا عمرے کے ثواب میں کمی واقع ہو سکتی ہے، مثلاً: حج کرنے والے کو الوداع کرتے وقت یا واپسی پر استقبال کے موقع پر جو ہار وغیرہ پہنائے جاتے ہیں یا اسے ،،حاجی صاحب،، کے لقب سے پکارا جاتا ہے، تو اس سے خود پسندی اور ریا کاری کا دروازہ کھلتا ہے، جس کی اسے حوصلہ شکنی کرنی چاہیے، اور شکر اور فکر کی راہ اپنانی چاہیے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو حج کی سعادت نصیب فرمائی ہے، اب میری زندگی میں انقلاب آنا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ میرے کسی گناہ کی وجہ سے حج کا اجر وثواب کم یا ختم ہو جائے۔
آغاز سفر:
گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھیں:
[بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ]
اللہ تعالیٰ کے نام سے [گھر سے نکلتا ہوں]، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ [نیکی کرنے کی] قوت اور [برائی سے بچنے کی] ہمت اللہ [کی توفیق] کے سوا ممکن نہیں ہے۔ [جامع الترمذي، الدعوات، حديث:3426]
حاجی [یا کسی بھی مسافر]کو الوداع کہنے کی دعا:
[اسْتَودِعُ اللهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ]
میں آپ کا دین، امانت اور آپ کے اعمال کا انجام اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔ [مسند أحمد:2/7]،[سنن أبي داود، الجهاد، حديث:2600]
حاجی [یا مسافر] الوداع کہنے والوں کو کیا کہے؟:
[أَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ الَّذِي لَا تَضِيعُ وَدَائِعُهُ]
میں تمہیں اللہ کی حفاظت میں دیتا ہوں، جس کے سپرد کی ہوئی چیزیں ضائع نہیں ہوتیں۔ [سنن ابن ماجه، الجهاد، حدیث:2825]
سواری پر سوار ہونے کے بعد یہ دعا پڑھیں:
[اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا، وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُون، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا، وَاطْوِ عَنْا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ]
اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ پاک اور مقدس ہے وہ ذات جس نے ہماری سواری کے لیے اپنی اس مخلوق کو ہمارے لیے مسخر کر دیا ہے اور ہمارے قابو میں کر دیا۔ اور خود ہم میں اس کی طاقت نہ تھی، کہ ہم اپنی ذاتی تدبیر و طاقت سے اس طرح قابو یافتہ ہو جاتے، اس نے اپنے فضل و کرم سے ایسا کر دیا۔ اور ہم (بالآخر) اپنے اس مالک کے پاس لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکوکاری اور پرہیز گاری کی درخواست کرتے ہیں اور ان اعمال کی جو تیری رضا کا باعث ہوں، اے اللہ! ہمارے اس سفر کو ہمارے لیے آسان کر دے، اور اس کی طوالت کو (اپنی قدرت و رحمت سے) مختصر کر دے، (لپیٹ دے) اے اللہ! تو ہی ہمارا سفر میں رفیق اور ساتھی ہے اور گھر والوں میں نگران اور دیکھ بھال کرنے والا ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، سفر کی مشقت اور زحمت سے اور اس بات سے کہ میں کوئی رنج دہ بات دیکھو ں اور سفر سے واپسی پر اہل و عیال یا مال و جائیداد میں کوئی بری بات پاؤں۔
[صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1342]
مسنون دعاؤں اور اذکار کا اہتمام: حاجی کو چاہیے کہ وہ سفر کے دوران میں نیکی ، تقویٰ، ذکر الہی اور دعاؤں کا، جہاں تک ممکن ہو اہتمام کرے تا کہ نفس کی شرارتوں اور شیطان کے وسوسوں اور حملوں سے اپنا دامن بچا سکے۔