حج و عمرہ کے فضائل و اہمیت قرآن اور صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مکتبہ دارالسلام ریسرچ سینٹر کی شائع کردہ کتاب مسنون حج و عمرہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

مسنون حج و عمرہ

معنی و مفہوم اور اہمیت و فضیلت:

حج قولی، بدنی، قلبی، مالی عبادات کا مجموعہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور بندے کی بندگی کا بے پناہ اظہار ہوتا ہے۔

حج کی لغوی تعریف: حج کے لغوی معنی ،،ارادہ کرنا،، ہیں۔

حج کا شرعی مفہوم: اسلام کے پانچویں رکن کی ادائیگی کے لیے بیت اللہ کے قصد کرنے کو حج کہتے ہیں ۔

حج کا مختصر تاریخی پس منظر: سیدنا ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب خانہ کعبہ کی تعمیر فرمائی تو اس موقع پر انھوں نے مختلف دعائیں کیں جن میں سے ایک یہ تھی:

[رَبَّنَا وَ اجۡعَلۡنَا مُسۡلِمَیۡنِ لَکَ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّۃً مُّسۡلِمَۃً لَّکَ وَ اَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَ تُبۡ عَلَیۡنَا اِنَّکَ اَنۡتَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ]

اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا ،اور ہماری اولاد میں بھی فرمانبردار امت پیدا فرما، اور ہمیں ہماری عبادت [مناسک حج] کے طریقے سکھلا، اور ہماری تو به قبول فرما، یقیناً تو بہت زیادہ تو بہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ [البقرة:128]

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو یہ حکم دیا:

[وَ اَذِّنۡ فِی النَّاسِ بِالۡحَجِّ یَاۡتُوۡکَ رِجَالًا وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاۡتِیۡنَ مِنۡ کُلِّ فَجٍّ عَمِیۡقٍ]

اور لوگوں میں حج کی منادی کر دے، وہ تیرے پاس آئیں گے، پیدل اور دبلے دبلے اونٹوں پر، جو دور دراز کے راستوں سے چلے آئیں گے۔[الحج:27]

اس حکم کے بعد حج کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل سیدنا ابراہیم، سیدہ ہاجر علیہما السلام  اور ان کے فرزند ارجمند سیدنا اسمعیل علیہ السلام کی طرف سے کیے گئے بعض مخلصانہ اعمال کو شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے قیامت تک کے لیے مناسک حج میں شامل فرما دیا۔

[صحیح احادیث میں ام اسمعیل علیہ السلام کا نام ھاجر اور آجر مذکور ہے۔ هاجرہ غلط العام ہے۔ [واللہ اعلم] دیکھیے: [صحيح البخاري، الهبة و فضلها، حديث:2635و3357]

اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی شان دیکھیے، کہ دنیا کے کونے کونے سے عربی، عجمی، گورے، کالے، امیر، غریب، اعلیٰ، ادنی، آقا اور غلام لاکھوں کی تعداد میں ایک ہی لباس زیب تن کیے، ایک ہی طرح کے شعائر بجا لاتے ہوئے [لَبَّيْكَ اللّهُمَّ لَبَّيْكَ] میں حاضر ہوں، اے اللہ ! میں بار بار حاضر ہوں ۔،،کا تلبیہ پکارتے نظر آتے ہیں،اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ [ان شاء اللہ]

حج، اسلام کا ایک عظیم رکن:

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:
① اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور محمد (ﷺ) کی رسالت کی شہادت دینا۔

② نماز قائم کرنا۔

③ زکاۃ ادا کرنا۔

④ حج کرنا۔

⑤ رمضان کے روزے رکھنا۔

[صحيح البخاري، الإيمان، حديث:8]

حج کی فرضیت: ارشاد باری تعالی ہے:

[وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الۡبَیۡتِ مَنِ اسۡتَطَاعَ اِلَیۡہِ سَبِیۡلًا]

اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ حق ہے کہ جو اس [کعبہ] تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے۔

[ آل عمران: 97]

استطاعت کیا چیز ہے؟:

استطاعت سے مراد راستے کا سامان، اور سواری کا انتظام ہے۔

[المستدرك للحاكم: 442/1]

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے، لہذا حج کرو……۔

[صحیح مسلم، الحج، حدیث:1337]

حج، زندگی میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے:

ارکان اسلام میں حج ایک ایسا رکن ہے جو زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث:1337]

اہم مسئلہ:

حج کی ادائیگی ہر صاحب استطاعت [مالدار]، عاقل، بالغ، مسلمان مرد و عورت پر اُسی طرح فرض ہے، جس طرح پانچوں وقت کی نمازیں، رمضان کے روزے اور صاحب نصاب شخص پر زکوٰۃ  ادا کرنا فرض ہے۔ ان سب کی فرضیت میں کوئی فرق نہیں۔ لہذا جو شخص استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتا بلکہ اسے وقت اور پیسے کا نقصان سمجھتا یا اس کا مذاق اڑاتا ہے، جیسا کہ آج کل کے بعض متجددین، منکرین حدیث اور مادہ پرستوں کا نقطہ نظر ہے، تو ایسا شخص کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اور اگر کوئی شخص استطاعت کے باوجود محض سستی اور کاہلی یا اس قسم کے کسی اور عذ رانگ کی وجہ سے حج نہیں کرتا تو ایسا شخص کافر اور دائرہ اسلام سے خارج تو نہیں البتہ فاسق و فاجر اور کبیرہ گناہ کا مرتکب ضرور ہے۔

عورت کی استطاعت کا مسئلہ:

عام طور پر عورت نان و نفقہ اور دیگر ضروریات زندگی میں خاوند کی محتاج ہوتی ہے، ایسی صورت میں ظاہر بات ہے جب تک خاوند عورت کو حج نہیں کرائے گا، عورت حج نہیں کر سکتی۔ لیکن بعض عورتیں صاحب حیثیت ہوتی ہیں حتی کہ اپنے خاوندوں کو بھی ساتھ لے جاسکتی ہیں۔ ایسی صورت میں عورت پر حج فرض ہوتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ خاوند کو یا اپنے جوان بیٹے، بھائی یا والد وغیرہ محرم کو ساتھ لے کر بلا تاخیر حج کرے۔ اگر اسے کوئی محرم میسر نہیں آتا نہ ہی وہ محرم کا خرچ برداشت کر سکتی ہے، تو اس پر جمہور علماء کے نزدیک اس وقت تک حج فرض نہیں ہوگا، جب تک اس کے لیے محرم کا بھی انتظام نہیں ہو جاتا۔

عورتوں کے صاحب استطاعت ہونے کی ایک اور صورت بھی ہوتی ہے، جس پر عام طور پر توجہ نہیں کی جاتی۔ وہ یہ ہے کہ بہت ہے کہ بہت سی عورتوں کے پاس کافی مقدار میں زیورات کی شکل میں سونا ہوتا ہے، اسے اگر بیچا جائے تو اتنی رقم حاصل ہو سکتی ہے، کہ عورت اپنے محرم سمیت فریضہ حج ادا کر سکتی ہے، لیکن زیور کتنی بھی مقدار میں ہو اس کو بیچ کر حج کرنے کا تصور ہی ہمارے معاشرے میں نہیں ہے۔ صرف یہی دیکھا جاتا ہے کہ شوہر کی آمدنی اتنی ہی ہے جس سے گھر کے اخراجات ہی پورے ہوتے ہیں، چنانچہ ایسے گھروں میں حج کرنے کا خیال ہی پیدا نہیں ہوتا جب کہ بیوی کے پاس اتنا زیور موجود ہوتا ہے، کہ اس سے دو تین افراد بہ آسانی حج کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیے! ایسی صورت میں عورت اور اس کے خاوند کا حج نہ کرنا بہت بڑا جرم ہے، جو [وَ مَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ] [آل عمران:97] کی وعید کا مستحق بنا سکتا ہے۔

بنا بریں معقول مقدار میں زیور رکھنے والی خواتین کے لیے ضروری ہے، کہ وہ اس پہلو کو ضرور سامنے رکھیں اور محض اس بنیاد پر کہ خاوند صاحب استطاعت نہیں ہے، حج کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں کیونکہ زیورات کی مالک عورت صاحب استطاعت ہے اور حج اس پر فرض ہے۔

خاوند کی اجازت کا مسئلہ:

حج کی چار صورتیں ہیں:

① فرض حج

② نذر کا حج

③ حج بدل

④ نفل حج

نفل حج اور حج بدل:

[یہ بھی نفل ہی ہوتا ہے] ان دونوں میں عورت کے لیے ضروری ہے کہ وہ خاوند سے اجازت لے، اگر وہ اجازت نہیں دیتا، تو اجازت کے بغیر عورت کے لیے جس طرح نفلی روزہ اور اعتکاف وغیرہ ممنوع ہیں، اسی طرح حج بھی ممنوع ہوگا۔

نذر کے حج:

میں کچھ تفصیل ہے۔ اگر عورت نے حج کی نذر خاوند کی اجازت سے مانی تھی یا شادی سے قبل ہی اس نے نذر مان لی تھی اور شادی کے بعد اس نے خاوند کو بتلا دیا تھا، جس پر وہ خاموش رہا یا اس کو برقرار رکھا، ان دونوں صورتوں میں خاوند کو یہ اجازت نہیں ہے، کہ وہ عورت کو حج پر جانے سے منع کرے [بشرطیکہ دوسری شرطیں پوری ہوں]۔

ہاں اگر عورت نے خاوند کی اجازت کے بغیر یا اس کی خواہش کو ٹھکراتے ہوئے، نذر مانی یا شادی کے بعد جب اس کے علم میں شادی سے قبل مانی ہوئی نذر آئی تو اس نے اس سے اتفاق نہیں کیا، اور اسے برقرار نہیں رکھا۔ ان دونوں صورتوں میں خاوند عورت کو حج پر جانے سے منع کر سکتا ہے۔ ان صورتوں میں عورت نذر کا کفارہ ادا کر دے۔

فرض حج کی حیثیت ایسے ہی ہے:

جیسے نماز پنجگانہ، زکوۃ اور رمضان المبارک کے روزے ہیں، جیسے ان فرائض کی ادائیگی کے لیے خاوند کی اجازت ضروری نہیں ہے، بلکہ اگر وہ روکے گا بھی تو اس کی بات نہیں مانی جائے گی، ایسے ہی فرض حج کا معاملہ ہے۔ اگر عورت صاحب استطاعت ہوگئی ہے، اور محرم کا بھی انتظام ہے تو بغیر کسی عذر شرعی کے خاوند اس کو روکنے کا مجاز نہیں ہے۔ اگر روکتا ہے تو عورت کو حق حاصل ہے، کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر اپنے کسی محرم کے ساتھ حج پر چلی جائے کیونکہ اللہ کی اطاعت خاوند کی اطاعت پر مقدم ہے۔

[لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق] مخلوق کی اطاعت نہیں ہے خالق کی معصیت میں۔

[شرح السنةللبغوي، حديث:2455]،[الصحيحة للألباني، حديث:179]

حج کی اہمیت:

حج کی اہمیت اس بات سے روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے، کہ رب العالمین نے قرآن مجید میں اس کی فرضیت کو بیان کیا ہے اور ایک بڑی سورت کا نام ،،سورۃ الحج،، رکھا ہے۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ نے فرمایا:

میں چاہتا ہوں کہ شہروں میں اپنے عمال بھیجوں، وہ جا کر جائزہ لیں اور ہر اس شخص پر جو استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتا، جزیہ مقرر کر دیں کیونکہ یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں۔ [التلخيص الحبير:223/2]

اسی طرح سنن بیہقی میں ہے، کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تین بار فرمایا: جو شخص وسعت اور پر امن راستے [استطاعت] کے باوجود حج نہیں کرتا اور مر جاتا ہے تو [اس کے لیے برابر ہے] چاہے وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر اور اگر استطاعت کے ہوتے ہوئے میں نے حج نہ کیا ہو تو مجھے حج کرنا، چھ یا سات غزوات [میں شرکت کرنے] سے زیادہ پسند ہے۔

[السنن الكبرى للبيهقي:4/334]

چنانچہ قرآن کریم کے الفاظ:

[وَ مَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ] [آل عمران:97]

سے بھی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اس اثر کی تائید ہوتی ہے، کہ صاحب استطاعت شخص کا حج میں تساہل کرنا اس کو کفر تک پہنچا سکتا ہے۔

لہذا حج کی فرضیت و اہمیت اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کی روشنی میں اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ اکثر وہ مسلمان جو سرمایہ دار، زمیندار اور بینک بیلنس رکھتے ہیں، لیکن اسلام کے اس عظیم رکن کی ادائیگی میں بلا وجہ تاخیر کے مرتکب ہو رہے ہیں، انھیں چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور فوراً تو بہ کریں اور پہلی کریں اور پہلی فرصت میں اس فرض کو ادا کریں۔

حج کی فضیلت:

نبی اکرم نے فرمایا: حج مبرور کا بدلہ صرف جنت ہے۔ [صحيح البخاري، العمرة، حديث: 1773]

حج مبرور :

وہ حج ہے جو مسنون طریقے اور شرعی تقاضوں کے عین مطابق کیا گیا ہو، اس میں کوئی شہوانی بات، گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑا نہ کیا گیا ہو۔ ایک اور حدیث میں آپﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اللہ کے لیے حج کیا، [اس دوران میں] کوئی فحش گوئی کی نہ کوئی برا کام تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک صاف واپس لوٹے گا جس طرح اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔

[صحيح البخاري، الحج، حديث:1521]

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حج کے عظیم اجر و ثواب کا مستحق صرف وہ شخص ہے، جس نے دوران حج زبان سے کوئی بیہودہ بات نہ کی، اور نہ ہاتھ، پاؤں اور دیگر اعضاء [آنکھوں، کانوں وغیرہ] سے کوئی برا کام کیا۔

عمرے کی لغوی تعریف:

عمرے کے لغوی معنی ،،ارادہ اور زیارت،، کے ہیں، کیونکہ اس میں بیت اللہ کا ارادہ اور زیارت کی جاتی ہے۔

عمرے کا شرعی مفہوم:

میقات سے احرام باندھ کر بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرنا، اور سر کے بال منڈوانا یا کٹوانا عمرہ کہلاتا ہے۔

عمرے کی اہمیت:

اسلام میں عمرے کی بھی بڑی اہمیت ہے، گو اکثر علماء کے نزدیک یہ فرض یا واجب نہیں ہے، مگر جب اس کا احرام باندھ لیا جائے تو حج کی طرح اس کا پورا کرنا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔

تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: [نيل الأوطار:315،314/4]

قرآن مجید میں ہے:

[وَ اَتِمُّوا الۡحَجَّ وَ الۡعُمۡرَۃَ لِلّٰہِ]

اور اللہ کے لیے حج اور عمرے کو پورا کرو۔ [البقرة:196]

عمرے کی فضیلت:نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے۔

ایک عمرے کے بعد دوسرا عمرہ درمیان کے گناہوں کے لیےکفارہ ہے۔ [صحيح البخاري، العمرة، حديث:1773]

رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کی خصوصی فضیلت:

عام دنوں کی نسبت رمضان المبارک میں عمرہ کرنے کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔ [صحيح البخاري، جزاء الصيد، حديث:1863]

بار بار حج و عمرہ کرنے کی فضیلت:

نبی اکرمﷺنے فرمایا: حج و عمرہ بار بار کیا کرو کیونکہ یہ دونوں فقیری اور گناہ کو ایسے ختم کر دیتے ہیں، جیسا کہ بھٹی کی آگ سونے، چاندی اور لوہے کی میل کو نکال پھینکتی ہے۔ اور حج مبرور کا صلہ سوائے جنت کے اور کچھ نہیں۔ [جامع الترمدي، الحج، حديث:810]

عورتوں کے لیے افضل جہاد، حج ہے:

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہﷺ سے کہا: [نرى الجهاد أفضل العمل [أفلا نجاهد]

ہم جہاد کو سب سے بہتر عمل سمجھتی ہیں تو کیا ہم جہاد نہ کریں؟

رسول اللہﷺنے فرمایا: [لا، لكن أفضل الجهاد حج مبرور]

نہیں، تمھارے لیے افضل جہاد، حج مبرور [سنت کے مطابق حج] ہے۔ [صحيح البخاري، الحج، حديث: 1520]