حج و عمرہ میں احرام باندھنے کا درست طریقہ اور ممنوعاتِ احرام

فونٹ سائز:
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل حج کے مسائل:جلد 01: صفحہ 345
مضمون کے اہم نکات

سوال:

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
احرام باندھنے کا طریقہ

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

احرام کی حقیقت اور وجہ تسمیہ

✔ مناسکِ حج میں سب سے پہلا اور نہایت اہم عمل احرام باندھنا ہے، یعنی حج میں داخل ہونے کی نیت کرنا۔
✔ اسے “احرام” اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد مسلمان اپنے اوپر بہت سی وہ چیزیں حرام کر لیتا ہے جو احرام سے پہلے جائز تھیں، مثلاً:
❀ نکاح کرنا
❀ خوشبو لگانا
❀ ناخن تراشنا
❀ حجامت بنوانا
❀ عام معمول کا سلا ہوا لباس پہننا وغیرہ

صرف دل کی نیت کافی نہیں

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
” کوئی شخص محض دل کی نیت اور ارادے سے محرم نہیں ہوتا۔ ارادہ تو اس وقت ہی شامل ہو گیا تھا جب وہ اپنے شہر سے چل پڑا تھا بلکہ نیت کے ساتھ ایسا قول و عمل بھی ضروری ہے جس سے وہ محرم قرارپائے(اور تلبیہ و احرام باندھنا ہے۔)” [مجموع الفتاوی لا بن تیمیہ26/108۔]

احرام سے پہلے ضروری تیاری

حج جیسے عظیم فریضے کی باوقار تیاری کے لیے احرام باندھنے سے پہلے درج ذیل امور کا اہتمام کرنا چاہیے:

① غسل کرنا

✔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کے لیے غسل فرمایا تھا۔ اس سے جسم کی طہارت و نظافت ہو جاتی ہے اور بدبو دور ہو جاتی ہے۔
✔ احرام کے وقت غسل کرنا مطلوب ہے، حتیٰ کہ اگر عورت حیض یا نفاس کی حالت میں ہو تب بھی غسل کرے۔
✔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ اُم سماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نفاس کی حالت میں غسل کا حکم دیا تھا۔
✔ اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بھی غسل کا حکم دیا حالانکہ وہ حیض میں تھیں۔
✔ اس غسل کی حکمت یہ ہے کہ:
❀ صفائی حاصل ہو
❀ بدبو ختم ہو
❀ حیض و نفاس والی عورت کی ناپاکی و پلیدی میں تخفیف ہو جائے

② حجامت/صفائی کروانا

✔ جب احرام باندھنے کا ارادہ ہو تو مستحب ہے کہ جسم کی اچھی طرح صفائی کر لی جائے۔
✔ بڑھی ہوئی مونچھیں، بغلیں اور زیرِ ناف بال صاف کر لیے جائیں تاکہ احرام کے دنوں میں اس صفائی کی ضرورت پیش نہ آئے۔
✔ اگر احرام سے پہلے ایسی مخصوص صفائی کی ضرورت نہ ہو تو اسے چھوڑ دینا بھی درست ہے، کیونکہ یہ احرام کا لازمی حصہ نہیں بلکہ ضرورت کے تحت ہے۔

③ خوشبو کا استعمال

✔ احرام باندھنے سے پہلے جو خوشبو میسر ہو استعمال کر لی جائے، مثلاً: کستوری، پرفیوم، عرقِ گلاب، یا خوشبودار لکڑی کی دھونی وغیرہ۔
✔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:

"كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (لِإِحْرَامِهِ حِينَ يُحْرِمُ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ)”
ترجمہ: "میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے کے وقت خوشبو لگاتی تھی، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کھول دیتے تو بیت اللہ کا طواف (طوافِ زیارت) کرنے سے پہلے بھی آپ کو خوشبو لگاتی تھی۔” [صحیح البخاری الحج باب الطیب عند الاحرام حدیث 1539۔]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
” اگر محرم احرام باندھنے سے پہلے اپنے بدن پر خوشبو لگانا چاہے تو اچھا اور بہتر ہے لیکن اسے کسی کو حکم نہیں دینا چاہیے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ایسا کیا تھا لیکن لوگوں کو اس کا حکم نہیں دیا تھا۔” [مجموع الفتاوی13/234۔]

④ احرام کے کپڑے پہننا

✔ محرم مرد کے لیے لازم ہے کہ احرام کی چادریں پہننے سے پہلے سلا ہوا لباس (قمیص، شلوار وغیرہ) اتار دے، پھر دو صاف ستھری چادریں (ازار اور اوپر والی چادر) بطور احرام باندھ لے۔
✔ سفید کے علاوہ عام استعمال والا کوئی اور رنگ دار احرام بھی درست ہے۔

✔ اس کی حکمت یہ ہے کہ:
❀ آدمی زینت سے دور رہے
❀ خشوع و خضوع اور عاجزی کی کیفیت قائم رہے
❀ ہر وقت یاد رہے کہ وہ حالتِ احرام میں ہے تاکہ ممنوعات سے بچا رہے
❀ موت، کفن اور قیامت کے حشر و نشر کی یاد تازہ رہے

✔ سلا ہوا لباس احرام کی نیت سے پہلے اتارنا سنت ہے، اور احرام کی نیت کے بعد اتارنا واجب ہے۔
✔ اگر کسی نے سلا ہوا لباس پہنے ہوئے احرام کی نیت کر لی تو اس کا احرام درست ہے، لیکن نیت کے بعد فوراً لباس اتار دے۔

⑤ احرام سے پہلے مخصوص نماز کا حکم

✔ احرام سے قبل کوئی خاص اور مستقل نماز مقرر نہیں۔
✔ البتہ اگر فرض نماز کا وقت ہو تو فرض نماز ادا کر کے احرام کی نیت کر لے۔
✔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ذوالحلیفہ میں) ظہر پڑھ کر سواری پر سوار ہوئے اور تلبیہ شروع فرمایا تھا۔

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں پڑھ کر احرام کی نیت کی تھی اس کے لیے کوئی الگ اور خاص نماز ادا نہیں کی تھی۔” [زاد المعاد:2/107۔]

میقات کی مسجد میں احرام باندھنا لازم نہیں

✔ بعض حجاج یہ سمجھتے ہیں کہ میقات پر بنی ہوئی مسجد میں جانا اور مسجد کے اندر ہی احرام باندھنا ضروری ہے، اسی غلط فہمی کی وجہ سے مرد و عورت مسجد کی طرف دوڑتے ہیں، رش بڑھ جاتا ہے، اور بعض لوگ مسجد کے اندر ہی کپڑے اتارتے اور احرام پہنتے ہیں۔
✔ حقیقت یہ ہے کہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں۔ اصل مطلوب یہ ہے کہ میقات سے احرام باندھا جائے، زمین کا کوئی مخصوص ٹکڑا شرط نہیں۔
✔ مسجد کے اندر یا باہر جہاں آسانی ہو احرام باندھنا درست ہے، بلکہ محفوظ اور الگ جگہ زیادہ مناسب ہے۔
✔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ مساجد نہ تھیں اور نہ انہیں احرام باندھنے کے لیے بنایا گیا تھا، بلکہ یہ قرب و جوار کے رہنے والوں کی نماز کے لیے ہیں۔

حج کی اقسام

✔ حج کرنے والا چاہے تو تمتع، قران یا افراد میں سے کسی بھی قسم کا حج کر سکتا ہے۔ [البتہ احادیث میں حج تمتع اور قران کی فضیلت وارد ہوئی ہے دیکھئے حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم للالبانی رحمۃ اللہ علیہ]

① حج تمتع

✔ حج تمتع یہ ہے کہ آدمی حج کے مہینوں میں پہلے عمرہ کا احرام باندھے، عمرہ ادا کر کے احرام کھول دے، پھر اسی سال حج کا احرام باندھے۔

② حج افراد

✔ حج افراد یہ ہے کہ میقات سے صرف حج کا احرام باندھے اور حج مکمل ہونے تک اسی احرام میں رہے، اس میں عمرہ شامل نہیں ہوتا۔

③ حج قران

✔ حج قران یہ ہے کہ حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا احرام باندھا جائے، یا پہلے عمرہ کا احرام باندھے پھر عمرے کے طواف سے پہلے پہلے حج کی نیت بھی اس میں شامل کر لے۔
✔ خلاصہ یہ کہ قارن اگر میقات سے دونوں (حج و عمرہ) کی نیت کر کے احرام باندھے، یا طوافِ عمرہ شروع کرنے سے پہلے حج کی نیت شامل کر لے—دونوں صورتیں درست ہیں۔
✔ قارن ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی (حج و عمرہ دونوں کی طرف سے) کرے گا۔

✔ متمتع اور قارن دونوں پر قربانی لازم ہے، بشرطیکہ وہ مسجد حرام کے پاس رہنے والے نہ ہوں۔
✔ حج کی ان تینوں قسموں میں افضل حج تمتع ہے، اور اس پر بہت سے دلائل ہیں۔

احرام کی نیت کے بعد تلبیہ

✔ حج کی جس بھی قسم کی نیت کر کے احرام باندھا جائے، اس کے بعد تلبیہ شروع کر دینا چاہیے۔
✔ تلبیہ بلند آواز سے اور کثرت کے ساتھ پڑھا جائے۔ تلبیہ کے کلمات یہ ہیں:

"لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ، وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ”
ترجمہ: "میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بے شک سب تعریف، نعمت اور بادشاہی تیرے ہی لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔”

ممنوعاتِ احرام

✔ حالتِ احرام میں کچھ اعمال محرم پر حرام ہوتے ہیں، ان سے بچنا ضروری ہے۔ یہ نو (9) ہیں:

1) بال مونڈنا یا کاٹنا

✔ محرم کے لیے حرام ہے کہ وہ بلا عذرِ شرعی جسم کے کسی حصے کے بال مونڈے، کاٹے یا اکھاڑے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَلا تَحلِقوا رُءوسَكُم حَتّىٰ يَبلُغَ الهَدىُ مَحِلَّهُ…﴿١٩٦﴾﴾
ترجمہ: "اور اپنے سر نہ منڈواؤ جب تک کہ قربانی قربان گاہ تک نہ پہنچ جائے۔” [البقرہ:2/196۔]

✔ سر منڈوانے کی ممانعت کی یہ نص بالاتفاق جسم کے تمام بالوں کو بھی شامل ہے، کیونکہ:
❀ ان کو زائل کرنے سے بھی زینت و صفائی حاصل ہوتی ہے جو حالتِ احرام کے خلاف ہے
❀ محرم کا پراگندہ بالوں والا اور غبار آلود ہونا اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے

✔ اگر محرم کی آنکھ میں بال اُگ آئیں (جنھیں پڑبال کہتے ہیں) تو انہیں اکھاڑ دینے پر کوئی فدیہ نہیں، کیونکہ آنکھ بالوں کا محل نہیں اور یہ بال تکلیف کا سبب ہیں۔

2) ہاتھ یا پاؤں کے ناخن کاٹنا

✔ ہاتھ پاؤں کے ناخن کاٹنا منع ہے۔
✔ البتہ اگر کسی ناخن کا کچھ حصہ خود بخود ٹوٹ گیا، اور تکلیف کی وجہ سے باقی حصہ بھی کاٹ کر الگ کر دیا، یا ناخن خود ہی ٹوٹ کر الگ ہو گیا تو فدیہ لازم نہیں، کیونکہ محرم اس صورت میں معذور ہے۔

✔ اگر کسی نے جوئیں پڑ جانے یا دردِ سر وغیرہ کی وجہ سے سر منڈوا لیا تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:

﴿فَمَن كانَ مِنكُم مَريضًا أَو بِهِ أَذًى مِن رَأسِهِ فَفِديَةٌ مِن صِيامٍ أَو صَدَقَةٍ أَو نُسُكٍ…﴿١٩٦﴾﴾
ترجمہ: "پھر اگر کوئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو( اور وہ سر منڈوالے) تو فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔” [البقرۃ:2/196۔]

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے سر میں جوئیں پڑنے کی وجہ سے مجھے تکلیف تھی، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اور جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"ما كنتُ أرى أن الجَهْد قد بلغ منك ما أرى، أتجد شَاةً؟))، قلتُ: لا، فنزلت الآية: ﴿ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ ﴾ [البقرة: 196]، قال: ((هو صوم ثلاثة أيام، أو إطعام ستة مساكين، نصف صاع لكل مسكين)) وفی لفظ: واذبح شاة”
ترجمہ: "میں نے تو نہیں سمجھا تھا کہ تمہیں اتنی تکلیف پہنچ گئی ہوگی جیسی میں دیکھ رہا ہوں۔ کیا تم بکری (ذبح کرنے) کی طاقت رکھتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں۔ پھر آیت نازل ہوئی: ﴿ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ ﴾۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، ہر مسکین کو نصف صاع (کھانا) دو۔ اور ایک روایت میں ہے: یا ایک بکری ذبح کرو۔” [صحیح البخاری والمحصر باب الاطعام فی الفدیۃ نصف صاع حدیث 1816۔وصحیح مسلم الحج باب جواز حلق الراس للمحرم اذا کان بہ اذی حدیث 1201 واللفظ لہ۔]

✔ محرم کے لیے بیری وغیرہ کے پتے ڈال کر پانی سے بال دھونا جائز ہے۔ [اگر سر وغیرہ کو دھونے یا کھجلاتے وقت جسم کے چند بال ٹوٹ کر گر جائیں تو اس صورت میں فدیہ نہیں (الموطا للامام مالک الحج باب مایحوز للمحرم ان یفعلہ )]

✔ ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حالتِ احرام میں اپنا سر مبارک دھویا اور دونوں ہاتھوں سے آگے پیچھے سے ملا بھی تھا۔ [صحیح البخاری جزاء الصید باب الاعتسال للمحرم حدیث 1840۔وصحیح مسلم الحج باب جواز غسل المحرم بدنہ وراسہ حدیث1205۔]

✔ شیخ تقی الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” محرم احتلام کی صورت میں غسل جنابت کرے گا۔ اس پر اہل علم کا اتفاق ہے۔ اسی طرح وہ غیر جنابت میں بھی غسل کر سکتا ہے۔”

3) سر ڈھانپنا

✔ مرد کے لیے حالتِ احرام میں سر ڈھانپنا منع ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو پگڑی اور ٹوپی والا کوٹ پہننے سے منع فرمایا ہے۔

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
” جو چیز سر کے ساتھ لگتی ہو اور سر چھپانے کے کام آتی ہو جیسے پگڑی ، کپڑا اور ٹوپی وغیرہ تو اس کا استعمال بالا تفاق ناجائز اور ممنوع ہے۔” [زاد المعاد لا بن القیم 2/243۔]

✔ پگڑی کی طرح سر پر کاغذ چپکانا، مٹی لگانا، مہندی لگانا یا رومال باندھنا—سب کا ایک ہی حکم ہے۔
✔ محرم خیمے، درخت یا گھر کے سائے میں رہ سکتا ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خیمہ لگایا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالتِ احرام میں اس میں ٹھہرے تھے۔
✔ محرم کے لیے چھتری سے سایہ کرنا، چھت والی بس میں سوار ہونا جائز ہے۔
✔ سر پر سامان اٹھانا (جب مقصد سر ڈھانپنا نہ ہو) درست ہے۔

4) سلا ہوا کپڑا پہننا

✔ محرم مرد کے لیے پورے جسم یا جسم کے کچھ حصے پر سلا ہوا لباس پہننا منع ہے، مثلاً: قمیص، پگڑی، شلوار، موزے اور دستانے وغیرہ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم کیا پہن سکتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْقَمِيصَ ، وَلَا الْعِمَامَةَ ، وَلَا الْبُرْنُسَ ، وَلَا السَّرَاوِيلَ ، وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ وَلَا زَعْفَرَانٌ وَلَا الْخُفَّيْنِ "
ترجمہ: "محرم قمیص، پگڑی، کوٹ، شلوار اور ایسا کپڑا نہ پہنے جسے خوشبو (ورس یا زعفران) لگی ہو، اور نہ وہ موزے پہنے۔” [صحیح البخاری العلم باب من اجاب السائل باکثر مما سالہ حدیث 134۔وصحیح مسلم الحج باب ما بیاح للمحرم یحج اوعمرۃ لبسہ ؟حدیث177واللفظ لہ]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو قمیص ،کوٹ شلوار، موزے اور پگڑی کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔اور لوگوں کو منع فرمایا کہ فوت ہونے پر اس کا سر ڈھانپا جائے۔ ایک شخص نے حالت احرام میں جبہ پہنا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتارنے کا حکم دیا الغرض مذکورہ صورتوں میں سلے ہوئی لباس کا استعمال محرم کے لیے جائز نہیں نہ خود پہنے نہ کسی دوسرے کو پہنائے۔ لباس پھٹا ہوا ہو یا سالم ہر صورت منع ہے۔اسی طرح جبہ اور انڈروئیر کا استعمال بھی درست نہیں۔” [مجموع الفتاوی 26/10۔111۔]

✔ اگر محرم کو جوتا میسر نہ ہو تو موزے پہن لے، یا اگر ازار کے لیے چادر نہ ملے تو چادر ملنے تک شلوار پہن لے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو شلوار پہننے کی اجازت دی تھی جب اسے چادر نہ مل سکی۔ [صحیح البخاری جزاء الصید باب اذالم یجد الازار فلیلیس السراویل حدیث1843۔]

✔ عورت حالتِ احرام میں ضرورتِ پردہ کے پیش نظر عام لباس پہن سکتی ہے، مگر نقاب اور برقعہ نہ پہنے۔ عرب عورتوں کا نقاب وہ کپڑا تھا جو چہرے پر باندھا جاتا اور آنکھوں کے لیے دو سوراخ ہوتے تھے۔
✔ عورت دوپٹے یا چادر سے گھونگھٹ کی صورت میں چہرہ ڈھانپ سکتی ہے۔
✔ عورت دستانے بھی نہ پہنے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"وَلَا تَنْتَقِبْ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ”
ترجمہ: "محرم عورت نقاب نہ کرے اور دستانے نہ پہنے۔” [صحیح البخاری جزاء الصید باب ما ینھی من الطیب للمحرم والمحرم والمحرمۃ حدیث1838۔]

امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"عورت کو نقاب اور دستانے پہننے سے جو منع کیا گیا ہے یہ دلیل ہے کہ عورت کا چہرہ مرد کے بدن کی طرح ہے سر کی طرح نہیں لہٰذا عورت کے لیے چہرے کی مقدار کا خصوصی کپڑا استعمال کرنا ناجائز ہے۔جیسے نقاب یا برقعہ وغیرہ ۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ چادر وغیرہ سے بھی چہرہ نہ ڈھانپے اور یہی رائے درست ہے:”

✔ عورت کے لیے مردوں سے چہرہ چھپانا نقاب اور برقعے کے علاوہ کسی کپڑے کے ذریعے واجب ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:

"كَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمَاتٌ ، فَإِذَا حَاذَوْا بِنَا سَدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا عَلَى وَجْهِهَا ، فَإِذَا جَاوَزُونَا كَشَفْنَاهُ ”
ترجمہ: "قافلے ہمارے پاس سے گزرتے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حالتِ احرام میں ہوتی تھیں۔ جب وہ ہمارے سامنے آتے تو ہم میں سے ہر ایک اپنے سر سے اپنے چہرے پر اپنی چادر لٹکا لیتی، اور جب وہ گزر جاتے تو ہم چہرہ کھول لیتی تھیں۔” [(ضعیف)سنن ابی داؤد المناسک باب فی المحرمۃ وجہہا حدیث 1833 ومسند احمد :6/30۔]

✔ اگر چہرے پر لٹکتا ہوا کپڑا چہرے کو لگ جائے تو کوئی حرج نہیں، کیونکہ ممانعت نقاب اور برقعے سے ہے، عام چادر سے نہیں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"عورت کو یہ تکلیف نہ دی جائے کہ وہ کسی لکڑی یا ہاتھ وغیرہ کے ساتھ چہرے سے کپڑا ہٹا کر رکھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے چہرے اور ہاتھوں کو ایک ہی حکم میں رکھا ہے۔ عورت کے یہ دونوں اعضاء مرد کے جسم کے حکم میں ہیں نہ کہ اس کے سر کے حکم میں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجات محترمات اپنے چہروں پر کپڑا لٹکالیتی تھیں اگر وہ چہرے کو لگتا تو اسے خاطر میں نہ لاتی تھیں ۔” نیز موصوف فرماتے ہیں:”چہرہ ڈھانپتے ہوئے اگر کپڑا چہرے کے ساتھ لگ جائے تو بھی کوئی حرج نہیں جبکہ وہ نقاب اور برقعے کا استعمال نہ کرے۔” [مجموع الفتاوی:26/112۔113۔]

5) خوشبو لگانا

✔ محرم کے لیے بدن، کپڑے، یا کھانے پینے کی چیزوں میں خوشبو استعمال کرنا حرام ہے۔
✔ یعلی بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشبو دھونے کا حکم دیا تھا۔ [صحیح البخاری الحج غسل الخلوق ثلاث مرات من الشیاب حدیث 1536۔]

✔ اسی طرح جس شخص کو سواری نے گرا کر مار ڈالا تھا، اس کے بارے میں فرمایا:

"اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تَمَسُّوهُ بِطِيبٍ”
ترجمہ: "اسے بیری کے پتوں والے پانی سے غسل دو، اسی کے کپڑوں میں کفن دو، اور اسے خوشبو نہ لگاؤ۔” [صحیح البخاری جزاء الصید باب سنۃ المحرم اذا مات حدیث1851۔]

✔ خوشبو سے روکنے میں حکمت یہ ہے کہ محرم آسائش، دنیوی زینت اور لذتوں سے دور رہے اور آخرت کی طرف متوجہ رہے۔
✔ حالتِ احرام میں خوشبو سونگھنا اور خوشبودار تیل استعمال کرنا بھی جائز نہیں۔

6) خشکی میں شکار کرنا

✔ محرم کے لیے خشکی (جنگل/میدان) کے جانور کا شکار کرنا اور اسے قتل کرنا منع ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَقتُلُوا الصَّيدَ وَأَنتُم حُرُمٌ …﴿٩٥﴾﴾
ترجمہ: "اے ایمان والو! (وحشی) شکار کو قتل مت کرو جب تم حالتِ احرام میں ہو۔” [المائدہ:5/96۔]

اور فرمایا:

﴿وَحُرِّمَ عَلَيكُم صَيدُ البَرِّ ما دُمتُم حُرُمًا …﴿٩٦﴾﴾
ترجمہ: "اور خشکی کا شکار پکڑنا تمہارے لیے حرام کیا گیا ہے جب تک تم حالتِ احرام میں ہو۔” [المائدہ:5/96۔]

✔ محرم کے لیے شکار کرنا، شکار میں تعاون کرنا، یا شکار کو ذبح کرنا منع ہے۔
✔ اسی طرح اپنے شکار کیے ہوئے جانور کا کھانا یا وہ جانور جو خاص اسی کے لیے شکار کیا گیا ہو—اس کا کھانا بھی حرام ہے، کیونکہ وہ اس کے حق میں مردار کے حکم میں ہے۔

✔ سمندر/دریا کا شکار محرم پر حرام نہیں:

﴿أُحِلَّ لَكُم صَيدُ البَحرِ وَطَعامُهُ …﴿٩٦﴾﴾
ترجمہ: "تمہارے لیے سمندر/دریا کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال ہے۔” [المائدہ:5/96۔]

✔ گھریلو جانور (مرغی، بکری، گائے وغیرہ) ذبح کرنا بھی حرام نہیں، کیونکہ یہ شکار کے جانور نہیں۔
✔ جن جانوروں کا گوشت حرام ہے اور وہ نقصان پہنچا سکتے ہیں (مثلاً شیر، چیتا وغیرہ) انہیں قتل کرنا بھی حرام نہیں۔
✔ اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے حملہ آور جانور کو قتل کرنا جائز ہے۔

✔ اگر محرم ممنوعات میں سے کسی چیز کے کرنے پر مجبور ہو جائے تو وہ کام کر لے مگر فدیہ ادا کرے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:

﴿ فَمَن كانَ مِنكُم مَريضًا أَو بِهِ أَذًى مِن رَأسِهِ فَفِديَةٌ مِن صِيامٍ أَو صَدَقَةٍ أَو نُسُكٍ… ﴿١٩٦﴾﴾
ترجمہ: "پھر تم میں سے جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (جس کی وجہ سے سر منڈالے) تو اس پر فدیہ ہے، چاہے روزے رکھے، یا صدقہ دے، یا قربانی کرے۔” [البقرۃ:2/196۔]

7) نکاح کرنا

✔ محرم نہ خود نکاح کرے اور نہ ولی/وکیل بن کر کسی کا نکاح کرائے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

"لَا يَنْكِحُ اَلْمُحْرِمُ, وَلَا يُنْكِحُ”
ترجمہ: "محرم نہ خود نکاح کرے اور نہ کسی دوسرے کا نکاح کرائے۔” [صحیح مسلم النکاح باب تحریم نکاح المحرم وکراھۃ خطبتہ حدیث 1409۔]

8) جماع کرنا

✔ محرم کے لیے حالتِ احرام میں بیوی سے جماع کرنا حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ فَمَن فَرَضَ فيهِنَّ الحَجَّ فَلا رَفَثَ… ﴿١٩٧﴾﴾
ترجمہ: "چنانچہ جس شخص نے ان (مہینوں) میں حج لازم کر لیا تو حج کے دوران میں وہ جنسی باتیں نہ کرے۔” [البقرۃ:2/197۔]

✔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ (رَفَثَ) سے مراد "جماع” ہے۔
✔ جس شخص نے 10 ذوالحجہ کو طوافِ افاضہ (طوافِ زیارت) سے پہلے جماع کر لیا تو اس کا حج فاسد ہو گیا۔ وہ حج کے باقی ارکان ادا کرتا رہے، پھر آئندہ سال قضا دے، اور ایک جانور ذبح کرے۔
✔ اور اگر 10 ذوالحجہ کو طوافِ زیارت کے بعد جماع کیا تو حج فاسد نہیں ہوگا، البتہ ایک بکری بطور فدیہ ذبح کرے۔

9) مباشرت کرنا

✔ جماع کے علاوہ شہوت کے ساتھ معانقہ، بوس و کنار درست نہیں، کیونکہ یہ جماع کا سبب بنتے ہیں۔
✔ محرم پر واجب ہے کہ جماع، نافرمانی اور لڑائی جھگڑے سے بچے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ فَمَن فَرَضَ فيهِنَّ الحَجَّ فَلا رَفَثَ وَلا فُسوقَ وَلا جِدالَ فِى الحَجِّ… ﴿١٩٧﴾﴾
ترجمہ: "چنانچہ جس شخص نے ان (مہینوں) میں حج لازم کر لیا تو حج کے دوران میں وہ جنسی باتیں نہ کرے، اللہ کی نافرمانی نہ کرے اور کسی سے جھگڑا نہ کرے۔” [البقرۃ:2/197۔]

✔ آیت میں (رَفَثَ) سے مراد جماع یا اس کے اسباب ہیں، مثلاً مباشرت، بوس و کنار، اور جماع کی باتیں کرنا وغیرہ۔
✔ (فُسُوقَ) سے مراد معصیت کے تمام کام ہیں، جو حالتِ احرام میں زیادہ قبیح اور شدید ہیں، کیونکہ محرم اطاعت و انکسار کی حالت میں ہوتا ہے۔
✔ (جِدَالَ) سے مراد ساتھیوں کے ساتھ بے مقصد بحث و تکرار حتیٰ کہ گالی گلوچ ہے۔
✔ البتہ حق بات واضح کرنے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے بحث و گفتگو پسندیدہ بلکہ مطلوب ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ”

ترجمہ: "اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجیے۔” [النحل16/125۔]

محرم کے لیے کلام اور مصروفیت کا مسنون طریقہ

✔ محرم کے لیے مسنون یہ ہے کہ غیر مفید، بے مقصد اور دنیوی گفتگو کم سے کم کرے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ”
ترجمہ: "جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔” [صحیح البخاری الادب باب من کان یا من باللہ الیوم الاخر فلا یؤذ جارہ حدیث:60،19،60،18۔وصحیح مسلم الایمان باب الحث علی کرام الجار الضیف حدیث47۔]

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مِنْ حُسْنِ إِسْلامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَالا يَعْنِيهِ”
ترجمہ: "آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ بے مقصد باتیں چھوڑ دے۔” [جامع الترمذی الزھد باب حدیث من حسن اسلام المرء حدیث 2317 ومسند احمد 1/201۔]

✔ محرم کو چاہیے کہ تلبیہ، ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں مشغول رہے، وقت ضائع نہ کرے، رضائے الٰہی کے حصول میں لگا رہے، اجر و ثواب کی رغبت رکھے، اور نیت خالص رکھے، کیونکہ وہ حالتِ احرام میں عظیم عبادت کے لیے نکلا ہے اور مقدس و بابرکت مقامات کی زیارت کا ارادہ رکھتا ہے۔

حج تمتع کا مختصر طریقہ

✔ جب حاجی مکہ مکرمہ پہنچ جائے اور اس نے حج تمتع کی نیت کی ہو تو وہ پہلے عمرہ ادا کرے:
❀ بیت اللہ کا سات چکروں پر مشتمل طواف کرے۔
❀ مقامِ ابراہیم پر دو رکعتیں ادا کرے، ممکن ہو تو مقامِ ابراہیم کے قریب اور پیچھے، ورنہ مسجدِ حرام میں کہیں بھی ادا کر لے۔
❀ پھر صفا و مروہ کے درمیان سعی کرے: سات چکر لگائے، صفا سے شروع کرے اور آخری چکر مروہ پر ختم کرے۔
❀ صفا سے مروہ جانا ایک چکر، اور مروہ سے واپس آنا دوسرا چکر شمار ہوگا۔
❀ طواف و سعی میں اللہ کا ذکر اور دعا کرتا رہے۔
❀ سعی مکمل ہونے کے بعد:
◈ مرد اپنے سر کے تمام بال کتروائے۔
◈ عورت اپنی چوٹی سے ایک پور بال کاٹ لے۔

✔ حجامت کے بعد عمرہ کرنے والا احرام سے آزاد ہو جاتا ہے، پھر وہ تمام امور جائز ہو جاتے ہیں جو احرام میں منع تھے، مثلاً:
❀ جماع کرنا
❀ خوشبو لگانا
❀ سلا ہوا لباس پہننا
❀ ناخن تراشنا
❀ مونچھیں کاٹنا
❀ بغلوں کے بال اکھاڑنا وغیرہ

✔ پھر وہ آٹھ ذوالحجہ تک احرام سے آزاد رہے گا، اور آٹھ ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھ کر منیٰ کی طرف جائے گا۔

حج قران کا مختصر طریقہ

✔ جو شخص حج قران یا حج افراد کی نیت کر کے مکہ آئے:
❀ وہ طوافِ قدوم کرے۔
❀ اگر چاہے تو حج کی سعی بھی اسی وقت کر لے (تاکہ 10 ذوالحجہ کے رش سے بچ جائے)۔
✔ پھر وہ یوم النحر تک حالتِ احرام میں رہے گا۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب