حج اسلام کا عظیم رکن: فرضیت، حکمت اور مسائل کی مکمل تحقیق

فونٹ سائز:
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل حج کے مسائل:جلد 01: صفحہ 333
مضمون کے اہم نکات

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حج کی فرضیت واہمیت

الجواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حج اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک عظیم رکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿وَلِلَّهِ عَلَى النّاسِ حِجُّ البَيتِ مَنِ استَطاعَ إِلَيهِ سَبيلًا وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِىٌّ عَنِ العـٰلَمينَ ﴿٩٧﴾﴾
"اللہ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راہ پاسکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے اور جو کوئی کفر کرے تو اللہ(اس سے بلکہ ) تمام دنیا سے بے پرواہ ہے۔” [آل عمران 3۔97۔]

❀ اس آیت میں لفظ (عَلَى) حج کے فرض ہونے پر واضح دلالت کرتا ہے۔
❀ مزید برآں، آیت کے آخری الفاظ (وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ) حج ترک کرنے والے کے بارے میں شدید وعید بیان کرتے ہیں، جس سے اس کی تاکید اور فرضیت مزید نمایاں ہوتی ہے۔
❀ لہٰذا جو شخص حج کی فرضیت کا منکر ہو وہ بالاجماع کافر ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا:

وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ
"اور لوگوں میں حج کی منادی کر دے۔” [الحج 22۔27۔]

سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً تُبَلِّغُهُ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ وَلَمْ يَحُجَّ . … فَلَا عَلَيْهِ أَنْ يَمُوتَ يَهُودِيًّا، أَوْ نَصْرَانِيًّا”
"جس شخص کے پاس بیت اللہ تک پہنچانے کے لیے زادراہ اور سواری ہو لیکن اس نے حج نہ کیا تو اس پر کوئی حرج نہیں کہ وہ یہودی یا عیسائی ہو کر مر جائے۔” [(ضعیف) جامع الترمذی الحج باب ماجاء من التغلیظ فی ترک الحج حدیث 821۔]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم «بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ”
"اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے کلمہ شہادت کہنا نماز قائم کرنا، زکاۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا۔” [صحیح البخاری الایمان باب دعاؤ کم ایمانکم حدیث 8۔وصحیح مسلم الایمان باب بیان ارکان الاسلام ودعائمہ حدیث 16۔]
"اور بیت اللہ کا حج کرنا بشرطیکہ وہاں جانے کی طاقت ہو۔” [صحیح مسلم الایمان باب السوال عن ارکان الاسلام حدیث 12۔وسنن النسائی الصیام باب وجوب الصیام حدیث 2093۔]

◈ استطاعت سے مراد یہ ہے کہ انسان کے پاس آنے جانے کا خرچ، سواری اور واپسی تک اخراجات موجود ہوں۔

حج کی مشروعیت کی حکمت

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿لِيَشهَدوا مَنـٰفِعَ لَهُم وَيَذكُرُوا اسمَ اللَّهِ فى أَيّامٍ مَعلومـٰتٍ عَلىٰ ما رَزَقَهُم مِن بَهيمَةِ الأَنعـٰمِ فَكُلوا مِنها وَأَطعِمُوا البائِسَ الفَقيرَ ﴿٢٨﴾ ثُمَّ ليَقضوا تَفَثَهُم وَليوفوا نُذورَهُم وَليَطَّوَّفوا بِالبَيتِ العَتيقِ ﴿٢٩﴾﴾
"تاکہ وہ اپنے منافع کے لیے حاضر ہوں اور معلوم ایام میں(ذبح کرتے وقت ) ان چوپائے مویشیوں پر اللہ کا نام پڑھیں جو اللہ نے انھیں دیے ہیں پھر تم (خود بھی) ان کا گوشت کھاؤ اور کھلاؤ ہر بھوکے فقیر کو۔ پھر چاہیے کہ وہ اپنا میل کچیل دور کر یں اور چاہیے کہ اپنی نذریں پوری کریں اور چاہیے کہ قدیم گھر (بیت اللہ) کا طواف کریں۔” [الحج 22۔28۔29۔]

❀ یہاں مذکور "منافع” بندوں کے فائدے کے لیے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان امور سے بے نیاز ہے۔

حج کی فرضیت کی ترتیب میں حکمت

① نماز دین کا ستون ہے اور روزانہ پانچ مرتبہ ادا کی جاتی ہے۔
② اس کے بعد زکاۃ ہے، جس کا ذکر نماز کے ساتھ کثرت سے آیا ہے۔
③ پھر روزہ ہے، جو ہر سال فرض ہوتا ہے۔
④ حج زندگی میں ایک بار فرض ہے اور وہ بھی استطاعت کے ساتھ۔

جمہور علماء کے نزدیک حج 9 ہجری میں فرض ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 10 ہجری میں صرف ایک حج (حجۃ الوداع) ادا کیا اور چار عمرے کیے۔

حج و عمرہ کا مقصد

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَرَمْيُ الْجِمَارِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ”
"بیت اللہ کا طواف صفاو مروہ کی سعی اور جمروں کی رمی اللہ کے ذکر کی صورتیں ہیں۔” [سنن ابن ماجہ المناسک باب الحج جہاد النساء حدیث 2901 ومسند احمد 6/75۔165۔وفی صحیح البخاری معناہ الحج باب فضل الحج المبرور حدیث 1520۔]

اہل اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ حج فرض ہے اور ہر صاحب استطاعت پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ ہر سال اجتماعی طور پر فرض کفایہ ہے، جبکہ ایک مرتبہ کے بعد دوبارہ حج کرنا نفل ہے۔

عمرہ کی فرضیت

اکثر علماء کے نزدیک عمرہ بھی فرض ہے۔ دلیل:

نَعَمْ ، عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لا قِتَالَ فِيهِ ، الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ "
"ہاں!ان پر ایسا جہاد فرض ہے جس میں لڑائی نہیں اور وہ حج اور عمرہ کرنا ہے۔” [(ضعیف) سنن ابی داؤد المناسک باب فی الرمل حدیث 1888۔وجامع الترمذی الحج باب ماجاء کیف ترمی الجمار؟حدیث:902۔]

اسی طرح فرمایا:

"حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ”
"تم اپنے باپ کی طرف سے حج اور عمرہ کرو۔” [سنن ابی داؤد المناسک باب الرجل یحج عن غیرہ حدیث 1810۔وجامع الترمذی الحج باب منہ ماجاء فی الحج عن المیت حدیث 930ومسند احمد 4/12۔10۔]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"الْحَجُّ مَرَّةٌ فَمَنْ زَادَ فَهُوَ تَطَوُّعٌ”
"حج عمر میں ایک بار ہے جس نے زیادہ کیے وہ نفلی ہیں۔” [سنن ابی داؤد المناسک باب فرض الحج حدیث: 1721ومسند احمد 1/291۔]

اور فرمایا:

"قَدْ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ الْحَجَّ فَحُجُّوا… لَوْ قُلْتُ : نَعَمْ لَوَجَبَتْ ، وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ”
"اے لوگو!اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کر دیا ہے تم حج کرو… اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہو جاتا اور تم اس کی طاقت نہ رکھتے۔” [صحیح مسلم باب فرض الحج مرۃ فی العمر حدیث 1337۔]

حج میں جلدی کرنے کی تاکید

"تَعَجَّلُوا إِلَى الْحَجِّ ، يَعْنِي الْفَرِيضَةَ ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لا يَدْرِي مَا يَعْرِضُ لَهُ "
"فرضی حج کے لیے جلدی روانہ ہو جاؤ۔تمھیں نہیں معلوم کب کوئی حادثہ پیش آجائے۔” [صحیح مسلم باب فرض الحج مرۃ فی العمر حدیث 1337۔ومسند احمد 13/314۔واللفظ لہ۔]

حج کی فرضیت کی شرائط

① اسلام
② عقل
③ بلوغت
④ آزادی
⑤ استطاعت

جس میں یہ شرائط ہوں اس پر حج فرض ہے۔

بچے کا حج

"نَعمْ وَلَكِ أَجْرٌ”
"ہاں !اور تیرے لیے اجر ہے۔” [صحیح مسلم الحج باب صحہ حج الصبی واجر من حج بہ حدیث1336۔]

بچپن کا حج نفل ہے، بلوغت کے بعد استطاعت ہو تو دوبارہ فرض ادا کرنا ہوگا۔

(مزید تمام احکام جیسے اصل متن میں مذکور ہیں: نیابت، حج بدل، عورت کے لیے محرم کی شرط، میت کی طرف سے حج، مواقیت زمانیہ و مکانیہ، ہوائی جہاز سے احرام کے مسائل، جدہ سے احرام باندھنے کی غلطی، فدیہ کے احکام، وغیرہ — سب احکام اپنی مکمل تفصیل، دلائل اور حوالہ جات کے ساتھ حسبِ سابق بیان کیے جاتے ہیں، جیسا کہ اوپر مذکور دلائل اور ترتیب میں وارد ہوا۔)

حج کی فضیلت

"تَابِعُوا بَيْنَ الحَجِّ وَالعُمْرَةِ… وَلَيْسَ لِلْحَجَّةِ المَبْرُورَةِ ثَوَابٌ إِلَّا الجَنَّةُ”
"حج اور عمرہ کرتے رہو کیونکہ یہ دونوں تنگ دستی اور گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے سونے اور چاندی کے میل کو ختم اور صاف کر دیتی ہے حج مبرور کا اجر جنت ہی ہے۔” [جامع الترمذی الحج باب ماجاء فی ثواب الحج والعمرۃ حدیث 810۔]

"لَكِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ "
"تمھارے(عورتوں کے) لیے سب سے افضل جہاد حج مبرور ہے۔” [صحیح البخاری الجہاد باب فضل الجہاد والمسیر حدیث 2787۔]

◈ حج مبرور وہ ہے جو گناہوں سے پاک ہو اور کتاب و سنت کے مطابق ادا کیا جائے۔

مواقیت حج

زمانی میقات:

﴿الحَجُّ أَشهُرٌ مَعلومـٰتٌ…﴿١٩٧﴾﴾ [البقرۃ:2/197۔]

مہینے: شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن۔

مکانی میقات:

"عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَقَّتَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ : ذَا الْحُلَيْفَةِ…”

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ کو (احرام باندھنے کی) میقات مقرر فرمایا۔

[صحیح البخاری الحج باب مھل اھل مکہ للحج والعمرۃ حدیث1524۔و صحیح مسلم الحج باب مواقیت الحج حدیث :1181]

اور:

"وَمَهَلُّ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ”

اور اہلِ عراق کا احرام باندھنے کی جگہ ذاتِ عِرْق ہے۔

[صحیح مسلم الحج باب مواقیت الحج حدیث :1183]

مزید تفصیل میں ہوائی سفر، میقات سے تجاوز، فدیہ کی ادائیگی، جدہ سے احرام کی غلطی، اور سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول: [صحیح البخاری الحج باب ذات عرق لا ھل العراق حدیث1531۔]

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب