حجاج کرام کو کتاب و سنت کی روشنی میں 5 اہم نصیحتیں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ پروفیسر ڈاکٹر صالح بن غانم السدان حفظہ اللہ کی کتاب ”حاجیوں کو وصیتیں“ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين نبينا محمد و على صحبه أجمعين، أما بعد:
بیت اللہ شریف کا حج کرنے والے اپنے مسلمان بھائیوں کیلئے یہ چند اہم نصیحتیں پیش خدمت ہیں۔ قدرت والے اللہ تعالی سے امید ہے کہ وہ ہمیں اور ان کو حج مبرور، سعی مشکور اور ذنب مغفور کی توفیق عطا فرمائے۔

پہلی نصیحت

◈ شرک کے منافی اخلاص:

کسی مسلمان کو اس میں شک نہیں کہ عمل کا دارو مدار اللہ کیلئے اخلاص پر ہے۔ اور اللہ تعالی کے ساتھ شرک چاہے وہ شرک اصغر ہو یا شرک اکبر عمل میں مخل اور اسے برباد کر دیتا ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنثُورًا﴾
”اور انھوں نے جو جو اعمال کئے تھے ہم نے ان کی طرف بڑھ کر انھیں اڑتے ہوئے ذروں کی طرح کر دیا۔“
(25-الفرقان:23)
اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو شرک اور عدم اخلاص سے خوب ڈرایا ہے، اللہ تعالی نے اپنے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا:
﴿وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾
”یقیناً تیری طرف بھی اور تجھ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر تو نے شرک کیا تو بلا شبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا۔ اور بالیقین تو زیاں کاروں میں سے ہو جائے گا۔“
(39-الزمر:65)
انسان کسی بھی وقت اپنے آپ کو شرک اکبر اور اس سے چھوٹے شرک کی تمام اقسام سے محفوظ نہ سمجھے، بلکہ شرک کے متعلق فکر مند اور اس سے ڈرتے رہنا چاہئے، اس میں واقع ہونے سے بچتا رہے، اللہ تعالی سے دعا کرتا رہے کہ وہ اسے شرک سے محفوظ رکھے، جیسا کہ اللہ تعالی نے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے متعلق فرمایا، انھوں نے دعا کی:
﴿وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ﴾
”اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے پناہ دے۔“
(14-إبراهيم:35)
بعض اہل علم کا اس بارے میں کہنا ہے کہ: ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بعد کون اپنے آپ کو شرک سے محفوظ سمجھ سکتا ہے؟
فرمان الہی ہے:
﴿‏ أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ﴾
”خبر دار: اللہ تعالی ہی کیلئے خالص عبادت کرنا ہے۔“
(39-الزمر:3)
ابن کثیر رحمہ اللہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: یعنی صرف اللہ وحدہ لاشریک ہی کی عبادت کرو، اور مخلوق کو بھی اس کی دعوت دو، اور انھیں بتا دو کہ عبادت و پرستش صرف ایک اللہ ہی کیلئے صحیح ہے، اور اس کا نہ کوئی شریک ہے نہ ہم سر، اور نہ ہی مد مقابل۔ لہذا اللہ تعالی نے فرما دیا کہ: (خبر دار! اللہ تعالی ہی کیلئے خالص عبادت کرنا ہے) یعنی کوئی بھی عمل اس وقت تک قبول نہ ہو گا جب تک عمل کرنے والا اس عمل کو اللہ وحدہ لاشریک کیلئے خالص نہیں کرتا۔ (تفسیر ابن کثیر 4/49)
عمل کرنے والے کے دل میں جس قدر ایمان اور اخلاص ہو اسی قدر اعمال کے ثواب اور فضیلت میں فرق پڑتا ہے، فرمان الہی ہے:
﴿لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا﴾
”تاکہ وہ (اللہ) تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے؟“
(67-الملك:2)
فضیل بن عیاض اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں: احسن عمل سے مراد مکمل خالص اور مکمل صحیح عمل ہے۔ اگر عمل خالص ہو لیکن صحیح نہ ہو تو قبول نہ ہوگا، اور اگر عمل صحیح ہو لیکن خالص نہ ہو تو بھی قبول نہ ہو گا، عمل تب قبول ہو گا جب خالص بھی ہو اور صحیح بھی ہو۔ اور خالص سے مراد صرف اور صرف اللہ کیلئے ہونے والا عمل ہے، اور صحیح و صواب عمل وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہو۔

شرک کی دو قسمیں

◈ شرک اکبر و شرک اصغر:

شرک اکبر کے واضح ہونے کی وجہ سے اس سے بچنا کسی قدر آسان ہے؛ لیکن جس سے بچنا آسان نہیں وہ شرک اکبر سے کم شرک کی دیگر اقسام ہیں اور اس کی بہت سی مثالیں ہیں:

⋆ ریا کاری:

ریا کاری نور دکھلاوے کا مطلب ہے اپنے عمل پر لوگوں سے مدح و ثنا کی طلب، جیسا کہ کسی کے حج کرنے کا مقصد یہ ہو کہ لوگ کہیں: یہ بہت حج کرنے والا، بہت عبادت گزار ہے۔ یا حج میں ایسی شکل میں شرکت کا ارادہ رکھتا ہو جس کا مقصد رضائے الہی نہیں ہے۔
⋆ ریا کاری میں سے یہ بھی ہے کہ گنتی کر کے حج کرے اور مختلف موقعوں اور محفلوں میں بتائے کہ اس نے اتنے حج کئے ہیں۔ یا حج کا مقصد اپنے آپ کو حاجی کہلوانا ہو، کہ لوگ کہیں: حاجی صاحب، حاجی صاحب۔
اسی طرح مال و تجارت کی غرض سے حج کرے، یا سیر و تفریح کی خاطر حج کرے۔ اس کی بدترین صورت یہ ہے کہ مسلمانوں کو تنگ کرنے اور پریشان کرنے کی غرض سے حج کرے، اس سے بھی بدترین وہ ہے جو مسلمانوں کی ایذا رسانی کو عبادت اور ثواب تصور کرے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس لئے حج کرتے ہیں کہ حاجیوں میں ایسی باتیں پھیلائیں جن کا حج اور عبادت سے کوئی تعلق نہیں، مختلف نعرے لگاتے اور مجمع لگاتے ہیں، جس مقصد کیلئے لوگ آتے ہیں انہیں اس سے پھیر دیتے ہیں۔
اس سے بھی بڑھ کر گناہ یہ ہے کہ وہ اپنے اس عمل کو صحیح ثابت کرنے کیلئے قرآن و سنت کی دلیلیں پیش کرتے ہیں۔ یہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اور شریعت پر بہت بڑا جھوٹ ہے۔ اس سے ہر طرح بچنا نہایت ضروری ہے، اور اپنے مسلمان بھائیوں کو بھی اس سے خبردار کریں، اور فاسد اعتقادات و باطل افکار کا انکشاف کریں، جنہیں نعرہ بنا کر کچھ لوگ یہود و نصاری و دیگر کفار کی عداوت کے اظہار کا ڈرامہ رچا کر مسلمانوں کو بھکانا چاہتے ہیں، مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات میں مسلمانوں کے اجتماع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ان باطل دبیکار نعروں کو اچھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ اپنے ملک میں اس کی کوئی بات بھی نہیں کرتے، بلکہ اس کے برعکس مخفی طریقے سے کافروں سے دوستی و محبت جتاتے ہیں؟ لہذا ہر مسلمان ایسے مفسد ساز افکار و اعتقادات سے دور رہے، ایسی باتوں کی طرف دعوت دینے والے گروہ کے نعروں پر کان نہ دھرے جو یہ کہتے ہیں کہ: حج کافروں سے محبت و دوستی کی مخالفت کا بہترین موقع ہے۔ جبکہ ذرائع ابلاغ حج کے اجتماع سے بھی کئی گنا زیادہ کتنے ملین لوگوں تک رسائی رکھتے ہیں، اگر یہ سچے ہیں تو اپنے ذرائع ابلاغ سے فائدہ اٹھائیں، پھر حج کے ایام میں کافروں سے عداوت کے گمان میں نعرے لگانے والے غیر مسلموں سے گہری دوستی کیوں رکھتے ہیں؟ اس قسم کے دعوے باطل ہیں جن کا غلط ہونا واضح اور منکشف ہو چکا ہے۔ اس کی بہت سی دلیلیں ہیں۔ اللہ تعالی نے اپنے پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا:
﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ﴾
”کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو پھر میری پیروی کرو، خود اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔“
(3-آل عمران:31)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج وداع ادا فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے، اس وقت اہل زمین کی اکثریت غیر مسلم تھی، بلکہ سب ملکوں میں یہود و نصاری مشرکوں اور کافروں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی، پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کو گالی دینے کا حکم نہیں فرمایا، سوائے ذکر الہی، تلبیہ، تکبیر، تسبیح اور تہلیل کے کسی اور نعرے کا کوئی حکم نہیں دیا، تو اس گروہ کے عقیدہ اور طریقہ کار کو عمل نبوی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دی ہوئی تعلیم نبوی سے کیا مماثلت ہے۔

دوسری نصیحت

◈ دین کو سمجھنا، خصوصا حج کے احکام سیکھنا:

کئی لوگ دین کے بہت سے ضروری احکام سے جاہل، اور حج کے لازمی اعمال سے ناواقف ہوتے ہیں، جن کے بغیر حج صحیح نہیں ہوتا، اور جن کی عملی تطبیق درجہ بدرجہ ضروری ہے۔ بعض دفعہ حاجی حج کے لئے آتا ہے اور اس کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ احرام کہاں سے اور کیسے باندھا ہے؟ کیا طواف پہلے کرنا ہے یا سعی؟ اسی طرح کے دیگر ضروری کام جن کا جاننا حاجی کیلئے ضروری ہوتا ہے، اکثر و بیشتر وہ اس سے نابلد ہوتا ہے۔

◈ ضروریات دین میں تفقہ:

دین کے ضروری احکام کو خاص طور پر سیکھنا اور سمجھنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر واجب ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی نے مخلوق کو اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا ہے، اور اس کی عبادت اس کی توحید اور اطاعت ہے اور یہ تقلیدی اور موروثی طور سے ممکن نہیں۔ بلکہ علم و تعلیم اور سمجھنے وسیکھنے سے ہی ہو سکتی ہے۔ لہذا جو مسلمان یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ اللہ نے اسے اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے۔ دین اور عبادت کے معاملے میں اس کی جہالت پر اسے معذور نہیں سمجھا جائے گا، خصوصا جس کے بغیر عبادت صحیح ہی نہ ہو، جیسا کہ حج ہے۔
کچھ لوگ حج کیلئے تو آ جاتے ہیں لیکن سنتیں اور مستحبات تو کیا واجبات بھی چھوڑ دیتے ہیں، بلکہ حج کے ارکان اور اساسی امور میں بھی مخل ہوتے ہیں، پھر آ کر پوچھتے ہیں، اور ندامت وحسرت اور دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔ بھئی حج و عقیدہ اور عبادت کے مسائل پہلے کیوں نہیں سیکھے؟ جب ہمیں پکا یقین ہے کہ اللہ نے ہمیں اپنی عبادت کیلئے پیدا فرمایا ہے تو پھر کسی مسلمان کے لائق نہیں کہ وہ عقیدہ و عبادت کے مسائل سے لا علم رہے۔ جبکہ قرآن و سنت کی نصوص میں ضروریات دین کو سمجھنے اور شریعت کا علم حاصل کرنے کے واجب ہونے کا حکم صاف اور واضح ہے۔ فرمان الہی ہے:
‏ ﴿فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ﴾
”سو (اے نبی) آپ جان لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگا کریں۔“
(47-محمد:19)

◈ قول و عمل سے قبل علم کی ضرورت:

امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب بخاری شریف میں یہ عنوان باندھا ہے کہ: (قول و عمل سے پہلے علم حاصل کرنے کا بیان) صحیح بخاری مع فتح الباری ج1 / 159۔ اس کے تحت یہی فرمان الہی نقل کیا:
﴿فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ﴾
(47-محمد:19)
پھر فرمایا کہ یہ آیت دلیل ہے کہ علم حاصل کرنا عمل سے پہلے اور مقدم ہے کیونکہ اللہ تعالی نے علم کو عمل پر مقدم کیا ہے فرمایا فاعلم یعنی جان لو اور یقین کر لو، ورنہ عمل غلط اور غیر صحیح ہو گا۔ اور کوئی بھی انسان دنیاوی معاملہ میں غلطی پسند نہیں کرتا چہ جائے کہ دین میں غلطی پسند کرے۔ اگر کوئی شخص کسی قسم کا دنیاوی کام کرے، اور کرنے سے پہلے اس کا طریقہ کار معلوم نہ کرے، اس کو پتہ نہ ہو کہ ابتداء کیسے کرنی ہے اور انتہاء کیسے، پہلے کیا کرنا ہے اور بعد میں کیا، ایسے ہی وہ کام کر ڈالے، جو پہلے کرنا تھا اسے بعد میں کیا اور بعد والے کو پہلے کر دیا۔ اس طرح کام بھی خراب ہوا اور مال بھی برباد، تو لوگ ایسے آدمی کو بیوقوف ہی کہیں گے۔ یہ بات بڑی واضح ہے۔ اور انسانی فطرت ایسا کرنا کبھی بھی قبول نہیں کرتی، لیکن عقیدہ و عبادت اور بالخصوص حج کے اعمال کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ کتنے لوگ یہی غلطی کرتے ہیں، جو نہیں کرنا ہوتا وہ کر گزرتے ہیں اور پہلے والے عمل کو بعد میں اور بعد والے کو پہلے کرتے چلے جاتے ہیں، اب ایسے شخص کو کیا کہیں گے؟
دین کے بنیادی احکام چاہے وہ اقوال ہوں یا افعال یا دونوں ہی انہیں سمجھنا اور ان کی معلومات کرنا اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر واجب کیا ہے۔ پھر دین سمجھنا اور سیکھنا اتفاقی امر بھی نہیں کہ جہاں کہیں سے بھی اتفاقا تھوڑی بہت معلومات ہو گئی اس کو صحیح سمجھ بیٹھا، بلکہ اس کا علم جید علماء سے حاصل کرنا چاہئے۔ اور ہر شعبہ زندگی میں ان سے راہنمائی لینی چاہئے۔ مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ حصول علم کیلئے کوشش کرے۔ اپنے آپ کو اس کیلئے تیار کرے، اس کو مناسب وقت دے اور کچھ مال بھی خرچ کرے، کیونکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ نے ہمیں اپنی عبادت کی خاطر پیدا فرمایا ہے۔ جو شخص احکام جانے بغیر عبادت میں لگ جائے تو بڑے خطرے میں ہے اور ملامت وسزا کا مستحق بھی۔ فرمان الہی ہے:
﴿فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ﴾
”ایسا کیوں نہیں کرتے کہ ان کی ہر بڑی جماعت سے ایک چھوٹی جماعت جائے تاکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کریں، اور تاکہ یہ لوگ اپنی قوم کے پاس واپس آ کر انہیں ڈرائیں تاکہ وہ ڈر جائیں۔“
(9-التوبة:122)
دین میں تفقہ حاصل کرنے، اور اپنے رہائشی علاقے میں لوگوں کو اس قدر اس کی تعلیم دینے کے وجوب کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے، جس سے کم از کم دینی اعمال صحیح ادا ہو سکیں تاکہ عام بنیادی احکام سے لوگ جاہل نہ رہیں۔ دیکھا آپ نے کہ مسلمانوں میں پڑھے لکھے لوگوں کے ذریعہ ناخواندگی کے خاتمہ کیلئے یہ کتنی صاف شفاف دعوت ہے، جس انداز میں اسلام نے اپنے ماننے والوں کو تعلیم و تعلم کی دعوت دی ہے کسی اور دین میں ایسا موجود نہیں؛ کیونکہ علم و آگہی ہی خیر بھلائی اور سعادت کا راستہ ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”اللہ تعالی جس سے بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین میں تفقہ عطا فرماتا ہے“۔ اسی طرح زخمی صحابی رضی اللہ عنہ کے واقعہ میں جسے لوگوں نے زخمی ہونے کے باوجود غسل کروا دیا تو وہ مر گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انھوں نے اسے قتل کر دیا اللہ انھیں برباد کرے، جب انہیں علم نہ تھا تو پوچھا کیوں نہیں، مریض کی شفاء سوال کرنے میں ہے“۔ لہذا دین میں تفقہ حاصل نہ کرنے، اور دین کے واجبات اور ضروریات نہ سیکھنے یا اس میں تساہل کرنے والے کو ہر گز معذور نہ سمجھا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:
﴿‏ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾
”سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے (علم حاصل کیا) اور نیک اعمال کئے، اور آپس میں حق کی تلقین کی اور صبر کی تلقین کی۔“
(103-العصر:3)
اور فرمان الہی ہے:
﴿إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ﴾
”اللہ تعالی سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔“
(35-فاطر:28)
مسلمان کے پاس جس قدر علم ہو گا اسی قدر اس میں خشیت الہی، اللہ کے اوامر کی تعظیم اور نواہی سے اجتناب بھی زیادہ ہو گا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی سیرت کا نقشہ بیان کرتے ہوئے حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں: ”ان میں سے کوئی بھی قرآن کی دس آیات سے آگے نہیں پڑھتا تھا جب تک ان دس آیات کے معانی نہ سمجھ لیتا اور ان پر عمل نہ کر لیتا“۔ آج کے کئی مسلمانوں کی صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے کہ بغیر علم اور جانے بوجھے عمل کرتے ہیں، اور اس کی سچی دلیل حج کے اعمال میں کئی مسلمانوں کا طریقہ کار ہے کہ کتنی غلطیاں کرتے ہیں، اور کتنے واجبات چھوڑ دیتے ہیں۔

◈ حج کرنے والے کیلئے راہنما اصول:

مندرجہ ذیل سطور میں کچھ ان باتوں کی وضاحت کروں گا کہ جو مسلمان بھی حج یا عمرہ پر جانے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ حج اور عمرہ پر جانے سے پہلے ان باتوں پر عمل کر لے:
① حج اور عمرہ کے متعلق جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان کا مطالعہ کرے، خاص طور پر کتاب: (التحقیق والإیضاح لکثیر من مسائل الحج والعمرة) کا اردو ترجمہ جو کہ سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم سماحة الشیخ ابن باز رحمہ اللہ کی تصنیف ہے، اسی طرح حج کے دوران توعیہ اسلامیہ سے شائع ہونے والی کتب اور پمفلٹ، اور با اعتماد صحیح العقیدہ علماء کی کتب جو کہ بدعات و خرافات سے خالی ہیں۔
② سعودی عرب میں ذرائع ابلاغ کی حج احکام کے متعلق نشریات سنے۔
③ ٹیلیفون کے ذریعہ یا ملاقات کر کے علماء کرام سے مسائل دریافت کرے۔
④ جو حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتا ہے اسے چاہئے کہ حج و عمرہ پر جانے سے کچھ وقت قبل ہی کسی عالم دین کے پاس بیٹھ کر حج و عمرہ کے احکام سیکھے۔
⑤ سعودی عرب کے بری، بحری اور فضائی راستوں پر، میقات پر اور حرمین شریفین کے اندر موجود علماء سے رابطہ کرے۔ جس نے یہ کام کر لئے یا ان میں سے کچھ کر لئے تو حج و عمرہ کے احکام جاننے کا راستہ اس کو معلوم ہو گیا، جب کہیں غلطی ہو گئی یا بھول گیا تو اس کا تدارک آسان ہو گا۔ لیکن جو شخص اس کی پرواہ ہی نہ کرے اور اس طرف توجہ نہ دے اور بغیر سیکھے اور معلومات کئے حج و عمرہ کرنے چل نکلے تو وہ بہت بڑا گناہ گار اور ملامت و سزا کا مستحق ہے۔
پھر یہ یقین رکھنے والے مسلمانوں کی صفات نہیں، بلکہ یہ تو ان نصرانیوں کی صفات ہیں جو جہالت اور گمراہی میں رہتے ہوئے عبادت کرتے ہیں، اللہ تعالی فرماتا ہے:
﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ. صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ.﴾
”ہمیں سیدھی راہ دکھا، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا، ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی۔“
(1-الفاتحة:6،7)
المغضوب عليهم سے مراد یہودی ہیں۔ اور الضالين (گمراہ) سے مراد نصاری۔ مسلمان نماز کی ہر رکعت میں اپنے رب سے یہ دعا کرتا ہے، کہ اسے ان لوگوں کی صفات اور ان جیسے کاموں سے بچا کے رکھے، ان کے طریقہ کار سے اجتناب تبھی ممکن ہے جب اس سے بچانے والے وسائل اختیار کرے، اور ان وسائل میں سر فہرست دین میں تفقہ حاصل کرنا، اور عمل کرنے سے پہلے علم حاصل کرنا ہے۔ اس طرح اس میں ان لوگوں کی صفات پیدا ہوں گی جن کی اللہ تعالی نے تعریف کی ہے، اور دنیا و آخرت میں ان سے سعادت و خوش بختی کا وعدہ کیا ہے۔
فرمان الہی ہے:
﴿قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ‎.‏ يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ.﴾
”تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور اور واضح کتاب آ چکی ہے، جس کے ذریعہ سے اللہ تعالی انھیں جو رضائے رب کے درپے ہوں سلامتی کی راہیں بتلاتا ہے۔“
(5-المائدة:15،16)
يهدي به الله ( جس کے ذریعہ سے اللہ رہنمائی کرتا ہے) سے مراد کتاب ہے۔ اور (رضوانہ) سے مراد جو اللہ تعالی کو پسند ہے اور بندوں کیلئے جاری کردہ اللہ کی شریعت ہے، (سبل السلام) دین اسلام ہے، اور یہ سلامتی کا وہ راستہ ہے جس پر چلنے والا اپنا دین سلامت کر لیتا ہے۔ اور صراط مستقیم سے مراد حق کی راہ ہے۔ لہذا جو اللہ کے دین میں تفقہ حاصل کرتا ہے اور شریعت کا علم حاصل کرتا ہے تو یہ سب کچھ اس کو حاصل ہو جاتا ہے۔ اور ان لوگوں میں ہو جاتا ہے جنہیں اللہ تعالی اس نور سے فائدہ دیتے ہیں اور راہ حق کی رہنمائی فرماتے ہیں۔

تیسری نصیحت

◈ حج سے قبل احکام و واجبات اسلام کی پابندی:

کچھ حاجی حج کیلئے تو چل پڑتے ہیں۔ اللہ ہمیں اور انہیں بھی ہدایت نصیب فرمائے۔ جبکہ ارکان اسلام جیسے توحید، نماز اور زکوۃ وغیرہ میں بہت زیادہ تقصیر اور بہت بڑے خلل کے مرتکب ہوتے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ حج اسلام کا ایک رکن عظیم ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾
”اللہ تعالی کیلئے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راہ پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض ہے۔“
(3-آل عمران:97)
لیکن اس کی شرط اللہ کے ساتھ شرک کرنے سے سلامت رہنا ہے۔ وہ شرک اکبر جو عمل برباد کر دیتا ہے اور اس کی موجودگی میں عبادت کی نہیں ہوتی۔ جس طرح وضو کے بغیر نماز نہیں ہوتی اسی طرح شرک اور عدم اخلاص کی وجہ سے عبادت صحیح نہیں ہوتی۔

◈ بنیادی احکام سے جہالت کی شکلیں:

میدان عرفات اور کعبہ شریف کے سامنے ہم نے کچھ لوگوں کو سیدھے سیدھے شرکیہ الفاظ بولتے ہوئے سنا، اس قدر جہل عظیم اور خطا کبیر ہے کہ ایک شخص حج کیلئے آتا ہے، مال خرچ کرتا اور اپنے جسم کو تھکاتا ہے، جبکہ دین کا بنیادی رکن توحید ہی اس کے ہاں مفقود ہے۔ یہ بہت بڑی برائی ہے، ہر جگہ کے علماء پر ضروری ہے کہ اس سے ڈرائیں، اور حج کیلئے آنے والوں کو اس غلطی سے آگاہ کریں، کتنی بری بات ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو یہ تلبیہ کہتے ہوئے سنے: (میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں) پھر ساتھ ہی بدترین سیدھے شرکیہ کلمات بولتے ہوئے سنتا ہے۔ کیا اس سے یہ پتا نہیں چلتا کہ جن ملکوں سے یہ حاجی آئے ہیں ان ملکوں میں حاجیوں کی راہنمائی میں کس قدر تقصیر اور کمی ہے؟ نماز کے بارے میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔ حاجیوں کی بڑی تعداد سر عام نماز چھوڑ دیتی ہے۔
نماز ہو رہی ہوتی ہے اور یہ بیٹھے یا سوئے یا کچھ اور کر رہے ہوتے ہیں۔ حاجیوں کی اور قسم ایسی ہے جن کو نماز کے اوقات اور تعداد رکعات کا بھی علم نہیں ہوتا، یہ دین میں عدم تفقہ اور جہالت کی انتہا ہے، اور اس میں ان اداروں اور پارٹیوں کی کوتاہی بھی نمایاں ہوتی ہے جو ان لوگوں کو حج کی اجازت تو دیتے ہیں جبکہ انہیں دین کے احکام و آداب، زکوۃ و روزہ وغیرہ اعمال کو خالصتا اللہ کے لئے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق کرنے کا طریقہ نہیں سکھلاتے۔ یہ ایسی خطرناک صورتحال ہے کہ جہاں کہیں سے بھی لوگ حج کے لئے آئیں تمام مسلمانوں کو اس کا علاج کرنا چاہئے۔ تمام اسلامی ممالک عرب یا غیر عرب سب میں دینی امور کے نگراں ادارے قائم ہیں، دیکھیں انھوں نے اپنے حاجیوں کی کیا خدمات انجام دی ہیں؟ اور ان کے لئے کیا کیا ہے؟ جبکہ اسلامی ممالک سے آنے والے اکثر حاجیوں میں سے ہر ایک کو حج کی اجازت لینے کے لئے کئی قانونی کاروائیاں کرنا ہوتی ہیں۔ شرعی احکام کی پابندی نہ کرنے، مثال کے طور پر نماز، حتی کہ راستہ چلنے اور بیٹھنے کے آداب، اور رمی و طواف جیسے حج کے دیگر احکام کا خیال نہ رکھنے کی صورت میں کچھ حاجیوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایک نظر میں بعض حجاج کے ہاں اس کی بے ضابطگی اور نا سمجھی عیاں نظر آتی ہے۔ حجر اسود کے پاس معرکہ آرائی، شور و غوغا، طواف میں تکلیف دہ انداز میں دعائیں پڑھتے وقت شور پکار، رمی کے دوران دھکم پیل اور محاذ آرائی جیسی صورتحال دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ان حجاج کرام کی سمجھ کو کیا ہو گیا ہے؟ اور ان کی راہنمائی کو کیا ہوا؟

چوتھی نصیحت

◈ حج کے دوران امن و سلامتی:

اللہ تعالی نے اپنے گھر اور حرم شریف کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، اور ان نشانیوں میں سے فرمایا:
﴿وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا﴾
”اس گھر میں جو آئے امن والا ہو جاتا ہے۔“
(3-آل عمران:97)
اس امن میں جان کا امن، مال کا امن، راستے کا امن، رہائش کا امن، دخول خروج کا امن تمام مصلحتوں اور ضروریات زندگی کا پر امن ادا ہونا شامل ہے، اور یہ سارا امن کئی اطراف سے حاصل ہو سکتا ہے۔
➊ جگہ کا امن۔
➋ افراد و جماعات کی طرف سے امن۔
جہاں تک امن مکانی کا تعلق ہے تو سعودی حکومت ۔ اید للہ۔ جو ہو سکے ہی نہیں بلکہ پوری قوت و استطاعت سے ہر طرح کے امن کے قیام کا بندوبست کرتی ہے چاہے وہ جانی امن ہو یا مالی، راستے کا امن ہو یا دخول و خروج وغیرہ کا امن۔ اس عمل میں متعلقہ کئی محکمے حصہ لیتے ہیں۔ محکمہ پولیس، محکمہ صحت، انتظامی امور کے محکمے سب اپنا اپنا واجب ادا کرتے ہیں۔ اور اب فرد یا جماعت کی صورت میں حاجیوں کے ذمہ واجب رہ جاتا ہے، کہ وہ اس امن کو عملی جامہ پہنانے میں متعلقہ اداروں سے کتنا تعاون کرتے ہیں اور کیا کرنا چاہئے؟

◈ حجاج کے امن و سلامتی میں رخنہ اندازی جائز نہیں:

ہاں نفاذ امن کا مطلب یہ ہے، کہ کوئی ایسا کام نہ کرنا جو حجاج کے امن کے منافی ہو، اور یہ اعتقاد جازم رکھنا کہ حاجیوں کے امن میں خلل ڈالنا کسی بھی حالت میں جائز نہیں، جو شخص حج امن میں خلل ڈالے، چاہے وہ خود کوئی ایسا کام کرے، یا کسی کی مدد کرے، یا اس پر خوش ہو یا پتہ ہونے کے باوجود محکمہ امن کے اہلکاروں کو مطلع نہ کرے، یا کم از کم امن خراب کرنے والے کو تنبیہ بھی نہ کرے تو ایسا شخص اس سخت وعید کا سزاوار ہو گا جس کے لئے فرمان الہی ہے:
﴿وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ﴾
”جو بھی ظلم کے ساتھ وہاں الحاد کا ارادہ کرے، ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے۔“
(22-الحج:25)
اس گھر کی قدسیت اور حرمت کی حفاظت کے برقرار رکھنے کے لئے اللہ تعالی نے ہر اس شخص کے لئے اتنی سخت سزا رکھی ہے، جو اس قدسیت اور حرمت کو پامال کرنے کا ارادہ ہی کرے، چاہے عملاً کوئی برائی نہ بھی کرے؛ بلکہ دل کا خیال اور نیت ہی سزا کے لئے کافی ہے۔ اور یہ اس حرم امین کی خصوصیات میں سے ہے، کہ یہاں گناہ کے ارادہ پر بھی مؤاخذہ ہے، یہی قول حضرت عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عمر، ضحاک اور ابن زید وغیرہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے، حتی کہ ان کا کہنا ہے کہ: (اگر کوئی شخص عدن میں ارادہ کرے کہ حرم میں جا کر برائی کا ارتکاب کرنا ہے، تو بھی اللہ اسے عذاب دیں گے)۔

◈ عام قانون و نظام کی پابندی نیکی میں تعاون ہے:

نفاذ امن کا حصول ہر فرد اور ہر جماعت کی پابندی سے ہی ہو سکتا ہے، چاہے اس کا تعلق محکمہ پولیس وغیرہ کے احکام سے ہو، یا امور صحت سے جیسا کہ صفائی وغیرہ کا خیال رکھنا، یا انتظامی امور کی پابندی سے جیسا کہ چلنے کے مخصوص راستے، اٹھنے بیٹھنے کی جگہ میں اور ٹریفک قوانین وغیرہ کی پابندی۔ حج کرنے والے ہر فرد کو سمجھنا چاہئے کہ اس کے ذمہ ایک عظیم واجب ہے جس میں کسی حال کو تاہی نہیں کرنی چاہئے۔ اور وہ ایسی عملی تطبیق ہے جس سے حجاج کرام کو امن و سلامتی اور راحت میسر آئے۔ اگر ہر حاجی اپنی استطاعت کے مطابق صفائی، مخصوص راستے چلنے کے لئے اختیار کرے، ذرائع ابلاغ وغیرہ سے ملنے والی تعلیمات و ارشادات کی عملی تطبیق کے اپنے واجب کو وفا کرے تو بیت اللہ اور مقدس مقامات میں تمام حجاج کو ان کی توقعات کے مطابق امن و اطمئنان حاصل ہو جائے، اور آپس میں تعاون کرنے کے حکم پر بھی عمل ہو جائے، جیسا کہ فرمان الہی ہے:
﴿تَعْتَدُوا ۘ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾
”نیکی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو، اور گناہ اور ظلم و زیادتی میں مدد نہ کرو۔“
(5-المائدة:2)
جو شخص کسی بھی اسلامی معاشرے میں ایسا کرنے کی کوشش نہیں کرتا خصوصاً حج جیسے اجتماع عام میں تو وہ اس آیت کی مخالفت کرنے والا ہے۔ زیادتی کا مرتکب، اللہ اس کے رسول اور شریعت پر اپنی طرف سے جھوٹا دعویدار ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے اپنے پیارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے تعاون کا حکم فرمایا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے دوران عملاً کر کے دکھایا اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ کیا ہے۔ کئی ایک فرمودات کے ضمن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو حجر اسود کے پاس فرمایا: ”عمر تم طاقتور آدمی ہو لوگوں کو تنگ نہ کرنا“۔ اور لوگوں کو تعلیمات دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”سکون سے چلو، سکون سے چلو“۔
اور فرمایا: ”لوگو! اپنے آپ پر نرمی کرو، تم بہرے اور غائب رب کو نہیں پکار رہے ہو، بلکہ سمیع و بصیر رب کو پکار رہے ہو“۔ اور فرمایا: ”اللہ تعالی نرمی کرنے والا ہے۔ اور نرمی کو پسند کرتا ہے، اور نرمی کی بنا پر وہ کچھ عطا فرماتا ہے، جو سختی و شدت کی بنا پر نہیں دیتا“۔ رواہ مسلم۔
حج وداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے، طواف اور صفا مروہ کی سعی کرنے کے بعد محصب مقام پر چلے گئے، وہیں سے آٹھ ذوالحجہ کو منی تشریف لے گئے، آپ نے اور صحابہ کرام میں سے کسی نے بھی اس طرح نہیں کیا جس طرح آج حاجی صاحبان بار بار عمرہ اور بکثرت طواف کرتے ہیں، اور سخت بھیڑ میں اپنے ان بھائیوں کا کوئی خیال نہیں کرتے جو پہلی دفعہ مناسک حج کے لئے آئے ہیں۔ یہ کچھ افراد یا کچھ جماعتوں کے عدم تعاون کی ایک مثال ہے۔

◈ امن برباد کرنے والے کچھ مظاہر:

عدم تعاون کی ایک اور مثال راستوں میں بیٹھ جانا، اور سو جانا اور ان راستوں کو تنگ کر دینا، یا بھیڑ والی جگہوں میں گاڑیاں لے کر داخل ہو جانا، اور ہارن بجا بجا کر تنگ کرنا، انتظامی امور اور تعلیمات کی پرواہ نہ کرنا، ظلم و زیادتی کا مرتکب ہوتا، مثال کے طور پر چوری کرنا یا ناحق حیلے بہانے سے لوگوں کا مال کھانا وغیرہ۔ یہ سب کچھ حج میں مطلوب امن کے منافی ہے، جو امن بلد حرام کا خاصہ ہے۔

پانچویں نصیحت

◈ مسجد نبوی شریف کی زیارت اور اس کے آداب:

مسجد حرام اور مسجد اقصی کی طرح مسجد نبوی شریف کی زیارت اور اس کیلئے سفر کرنا مشروع ہے، اس کے لئے کوئی وقت متعین نہیں، نہ حج سے پہلے اور نہ بعد، مسجد نبوی کی زیارت حج کے فرائض یا مکملات میں سے تو در کنار، یہ حج کی سنتوں میں سے بھی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مستقل عبادت ہے، حج کے ساتھ چونکہ آسان ہے۔ لہذا جو حج کے ساتھ یہ زیارت کرے تو کوئی حرج بھی نہیں، اگر یہ اعتقاد رکھے کہ یہ حج کے لوازمات یا مکملات میں سے ہے۔ تو اس کی غلطی ہے جس کی کوئی دلیل نہیں۔ بلکہ یہ ایک بہترین سنت ہے جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں کی نسبت ایک ہزار نماز سے بہتر ہے، سوائے مسجد حرام کے۔“ بخاری و مسلم وغیرہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ احمد اور ابن حبان نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ: ”مسجد حرام میں ایک نماز میری اس مسجد میں سو نمازوں سے افضل ہے“۔
جب یہ زیارت عبادت ہے۔ تو یہ ادا بھی مسنون طریقے سے ہونی چاہئے، کیونکہ عبادات توقیفی ہیں، کسی بھی شخص کے لئے چاہے وہ کوئی ہو یہ جائز نہیں کہ بغیر دلیل شرعی کے دین کے کسی کام کو واجب یا سنت یا مستحب یا حلال و حرام یا مباح قرار دے۔

◈ مسجد نبوی کی زیارت کا مسنون طریقہ:

جب یہ پتہ چل گیا تو پھر اس مسجد کی زیارت اور اس میں نماز کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ اور اس میں کس چیز کی اجازت ہے؟ مندرجہ ذیل باتیں پیش نظر رہنی چاہئے۔
➊ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی نیت سے جو شخص مدینہ پہنچے تو اس کے لئے مستحب ہے کہ وہ سکون ووقار سے مسجد میں آئے جیسا کہ مسجد میں آیا جاتا ہے۔ داخل ہوتے وقت دایاں پاؤں پہلے رکھے اور یہ دعا پڑھے۔
(اللهم اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب رحمتك) ”اے اللہ میرے گناہوں کو بخش دے اور میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“
اور مسجد سے نکلتے وقت بایاں پاؤں پہلے رکھے اور یہ دعا پڑھے۔
(اللهم إني أسألك فضلك) ” اے اللہ میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔ “
➋ روضہ شریف میں آنا مستحب ہے، بشرطیکہ نمازیوں کو پھلانگے اور تنگ کئے بغیر ممکن ہو، خشوع و خضوع کے ساتھ روضہ شریف میں دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کرے، ویسے یہ دو رکعتیں مسجد میں کسی بھی جگہ ادا کی جا سکتی ہیں۔
➌ جب تحیۃ المسجد سے فارغ ہو جائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر والے حجرہ شریف کی طرف جائے، قبلہ کی طرف پشت اور قبر کی طرف منھ کر کے جالی میں بائیں سوراخ کے سامنے اس سے چار فٹ کی دوری پر کھڑا ہو جائے اور بغیر آواز بلند کئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام پڑھے، درود پڑھنے کے بعد سلام کے الفاظ میں سے جونسے الفاظ بھی پڑھ لے صحیح ہے۔ پھر دائیں جانب تقریبا ڈیڑھ فٹ آگے بڑھ کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پر سلام کرے، اور بغیر تکلف کے سلام کے جو الفاظ آتے ہوں وہ کہہ دے، پھر مزید ڈیڑھ فٹ دائیں جانب بڑھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر سلام پڑھے۔ بغیر تکلف کے سلام کے جو الفاظ آتے ہوں کہہ دے۔
➍ مستحب ہے کہ مسجد قباء کی زیارت کو جائے اور اس میں نماز پڑھے، کیونکہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: ”جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے، پھر مسجد قباء آئے اور اس میں نماز پڑھے تو اس کو عمرہ کے برابر ثواب ہے“۔ احمد، نسائی، ابن ماجہ، حاکم
➎ مستحب ہے کہ بقیع اور شہداء احد کی زیارت کے لئے جائے، جن میں حضرت حمزہ بھی ہیں رضی اللہ عنہم اجمعین۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی زیارت کے لئے جاتے اور ان کیلئے دعا فرماتے تھے۔

◈ قبروں کی زیارت کا مقصد:

آخرت کی یاد، دل میں رقت پیدا کرنا، مردوں کیلئے دعائے مغفرت و رحمت کرنا، عبرت حاصل کرنا، فوت ہونے والے سے احسان کرنا تاکہ زندہ اس کو لمبا عرصہ چھوڑ کر بھول نہ جائے، اور زیارت کرنے والے کا سنت کے مطابق زیارت کر کے اپنے ساتھ نیکی کرتا ہے۔

◈ عورتوں کے لئے قبروں کی زیارت کا حکم:

جمہور علماء کا مذہب ہے کہ عورتوں کے لئے قبروں کی زیارت کرنا مکروہ ہے، اس کی دلیل امام ترمذی کی حضرت ابو ہریرہ سے روایت کردہ حدیث ہے:
”أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن زوارات القبور“
”کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کو جانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔“
اور اس لئے بھی کہ عورتوں میں رقت قلب اور جزع فزع بکثرت ہوتی ہے، اور وہ مصیبت کی متحمل بہت کم ہوتی ہیں۔ اگر پتہ چلے کہ وہ حرام کام کی مرتکب ہوں گی تو ان کے لئے قبروں کی زیارت حرام ہو جائے گی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پر لعنت اسی حال پر محمول ہو گی۔ یہ حکم تمام قبروں کے لئے ہے۔ چاہے وہ انبیاء کی قبریں ہوں یا اولیاء و صلحاء کی یا عام مسلمانوں کی، محقق اہل علم کے قول کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بھی اس میں شامل ہے، کیونکہ نبی کا حکم عام ہے اور کوئی استثناء نہیں۔ بعض اہل علم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو اس حکم سے مستثنیٰ سمجھتے ہیں، چونکہ ایسا مذہب رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ لہذا حرم مکی و حرم مدنی کے امور کے نگران ادارے کی طرف سے انتظام کیا جاتا ہے جس میں عورتوں کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زیارت کا علیحدہ وقت متعین کیا جاتا ہے۔ البتہ مسلمان کو چاہئے کہ وہ دلیل پر عمل کرے، اور دلیل کے مخالف قول پر نہ چلے۔
➏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں کثرت سے فرائض اور نوافل ادا کرنا مستحب ہے۔ اگر ممکن ہو تو صف اول اور صفوں کی دائیں جانب جگہ پانے کی کوشش کرے، ہاں: نمازیوں کو تنگ نہ کرے، مسلمانوں کو تکلیف نہ دے، گردنیں نہ پھلانگے، بلکہ جہاں جگہ ملے بیٹھ جائے۔

◈ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کرنے والے کے لئے ممنوعہ امور:

ہر اس چیز سے پرہیز کرنا اور بچنا چاہئے جو عبادت شمار ہوتی ہو، اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہ فرمائی ہو، چاہے اس کا تعلق اقوال سے ہو یا افعال سے مثلاً: آپ کی قبر کی زیارت کی نیت سے سفر کرنا، آپ کی قبر پر آنکھیں بند کر کے مکمل حضور قلب کے ساتھ کھڑے ہو کر دعا کرنا، کثرت سے دعا اور عاجزی و انکساری، آپ کی قبر کے پاس توبہ کی تجدید کرنا۔
آپ سے مشکل کشائی اور شفاعت کی دعا کرنا، آپ کے حق یا آپ کی جاہ، یا کسی اور کے حق کا وسیلہ لے کر اللہ سے دعا کرنا کہ وہ اس کی مصیبت ٹال دے، حاجت پوری فرمائے، یا اس کے بیمار کو شفا عطا فرمائے، یا وہاں آوازیں بلند کرے، دیر تک کھڑے ہو کر بار بار سلام کرے، یا آپ کی قبر کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھا کر دعا کرے یا نماز کی طرح دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھ کر سینے پر باندھ لے، یہ سب کچھ بدعت، خواہشات کی پیروی، حقائق کی تبدیلی اور غلو ہے جس کی کوئی دلیل نہیں، اس ملک پر اللہ کا فضل اور احسان ہے کہ یہاں کے حکمران اور علماء قائدین کو نفاذ شریعت و صحیح اقامت دین کی توفیق بخشی ہے۔ اور شرک و بدعت اور خرافات کے تمام وسائل و ذرائع بند کرنے کی توفیق دی ہے۔ کتاب و سنت اور اجماع امت کی مخالفت کے تمام دروازے اور راستے بند ہیں۔ لہذا کس قدر ضرورت ہے کہ حجاج کرام حج میں سرکاری اور انتظامی اداروں کے ساتھ تعاون کریں، تمام حجاج فرد اور جماعتی طور پر بھی ثواب کی عظمت کو پیش نظر رکھیں، تاکہ حج اور دیگر تمام عبادات کو صحیح سالم اور افراط و تفریط، غلو، بدعات اور خرافات سے پاک انجام دیں۔ اللہ تعالی کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے تعاون کا مظاہرہ کریں:
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ﴾
”نیکی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔“
(5-المائدة:2)
اور فرمان الہی ہے:
‏ ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾
”بے شک ایماندار سب آپس میں بھائی ہیں۔“
(49-الحجرات:10)
حج اور غیر حج میں اگر اسلامی احکام، آداب اور تعلیمات کی تطبیق ہو جائے تو الفت و محبت سے بھرپور اسلامی معاشرہ قائم ہو جائے، اور تمام اسلامی ممالک میں خوشحالی، امن و سلامتی اور اطمئنان و سکون کا دور دورہ ہو جائے، ہم تمام مسلمان علماء و رہنما اور حج و حجاج کرام کے ذمہ داران کو یہ نداء دیتے ہیں۔ اور یہ چند نصیحتیں پیش کرتے ہیں۔
اللہ تعالی سے اس دعا کے ساتھ کہ وہ سب کو اپنی رضا کے کام کرنے کی توفیق بخشے۔
وصلي الله على نبينا محمد وعلي آله وصحبه وسلم