مضمون کے اہم نکات
اصطلحات حج وعمرہ
محترم حجاج کرام! مسائل حج کا مطالعہ کرنے سے پہلے متعلقہ إصطلاحات کی وضاحت بے حد ضروری ہے۔ بیشتر اصطلاحات عربی زبان میں ہیں۔ اس لیے اُردو خواں طبقے کے لیے ان کا صحیح تلفظ اور معنی و مفہوم پیش خدمت ہے:
حج:
چند مخصوص ایام میں مخصوص اعمال کی بجا آوری کے لیے میقات سے احرام باندھ کر مکہ مکرمہ میں حاضری دینا۔ یہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن اور ہر صاحب استطاعت پر زندگی میں ایک بار ادا کرنا فرض ہے۔
حاج:
حج کرنے والا، اس کی جمع حجاج ہے۔
عمرہ:
چند مخصوص اعمال کی بجا آوری کے لیے سال بھر میں کسی بھی وقت میقات سے احرام باندھ کر بیت اللہ شریف حاضر ہونا،
معتمر:
عمرہ کرنے والا، اس کی جمع مُعْتَمِرِین ہے۔
لباس احرام:
حج و عمرے کی ادائیگی کے لیے زیب تن کیا جانے والا مخصوص لباس، یعنی مردوں کے لیے دو چادریں۔
میقات:
وہ مقام جہاں سے حج اور عمرے کا احرام باندھا جاتا ہے۔ایسے کل پانچ مقامات ہیں: یَلَمْلَم، ذُو الْحُلَيْفَه، جُحْفَهِ، ذَاتُ عِرْق اور قَرْنُ الْمَنَازِل.
احرام کا تلبيه:
وہ مخصوص الفاظ جنھیں میقات پر احرام باندھتے وقت بلند آواز سے پکارا جاتا ہے۔
احرام باندھنا:
حج اور عمرہ کرنے والا، میقات(یا اس کے متوازی مقام) سے گزرتے وقت، اپنے مخصوص لباس میں بلند آواز سے تلبیہ پکارتا اور اللہ کے حضور اپنی حاضری کا اظہار کرتا ہے جسے احرام باندھنا کہتے ہیں۔
محرم:
احرام باندھنے والا، یعنی احرام کی پابندیوں میں داخل ہونے والا۔
حج قران:
حج کی ایک قسم جس میں حاجی ایک ہی احرام [نیت]میں یکے بعد دیگرے پہلے عمرہ پھر حج ادا کرتا ہے، یعنی دونوں کے درمیان حلال نہیں ہوتا۔ ایسا حاجی قارن کہلاتا ہے۔
حج تمتع:
حج کی ایک قسم جس میں حاجی عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دیتا ہے، یعنی حلال ہو جاتا ہے، پھر حج کے دنوں میں دوبارہ احرام [نیت و لباس]باندھتا ہے۔ ایسا حاجی متمتع کہلاتا ہے، یعنی احرام کھول کر فائدہ اٹھانے والا۔
حج افراد:
حج کی ایک قسم جس میں حاجی صرف حج کا احرام [نیت]باندھتا ہے۔ ایسا حاجی مُفرد کہلاتا ہے۔
اشهر الحج:
حج کے مہینے، جن میں حج کا احرام باندھا جاتا ہے، یعنی شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے ابتدائی نو دن۔
أَيَّامُ الْحَج:
وہ مخصوص دن جن میں مناسک حج ادا کیے جاتے ہیں، یعنی 8 ذوالحجہ سے 13 ذو الحجہ تک۔
مقامات حج:
وہ مقدس مقامات جہاں اعمال حج سر انجام دیے جاتے ہیں: مَكَّه، مِنَى، وَادِئ عُرَنَه، میدانِ عَرَفَات اور مُزْدَلِفَه.
حج بدل:
کسی معذور یا فوت شدہ شخص کی طرف سے فریضہ حج ادا کرنا بشر طیکہ حاجی پہلے اپنا حج ادا کر چکا ہو۔
حج مبرور:
محض اللہ کی رضا کے لیے، حلال کمائی سے، سنت کے مطابق ادا کیا جانے والاحج جو گنا ہوں، لڑائی جھگڑے اور فحش گوئی سے یکسر پاک ہو۔
محرم:
عورت کا وہ رشتے دار مرد جس سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو، مثلاً: باپ، دادا اور بیٹا وغیرہ۔
غير محرم:
وہ مرد جس سے عورت کا نکاح شرعاً جائز ہو، خواہ رشتے دار ہو یا نہ ہو، مثلاً: بہنوئی ، دیور، خالو، پھوپھا وغیرہ۔
مقامی:
وہ شخص جو میقات اور بیت اللہ شریف کے درمیان کسی علاقے میں رہائش پذیر ہو۔
آفاقی:
وہ شخص جو میقات اور بیت اللہ شریف کے درمیان رہائش پذیر نہ ہو، بلکہ باہر سے میقات پر پہنچے اور احرام باندھ کر حج اور عمرے کے لیے مکہ جائے۔
حرم مکی:
بیت اللہ شریف کے ارد گرد ایک محدود، مقدس اور محترم علاقہ جس کے اندر خودرو درخت یا گھاس کاٹنا اور شکار کھیلنا حرام ہے۔
حرم مدنی:
مسجد نبوی کے اردگرد ایک محدود علاقہ جو حرم مکی کی طرح مقدس ومحترم ہے۔
تلبیه توحید:
درج ذیل الفاظ تلبیہ توحید کہلاتے ہیں:
لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ، وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ
تکبیر:
اللہ تعالی کی بڑائی بیان کرنا، یعنی اللہ اکبر کہنا۔
تحمید:
اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنا ، یعنی الْحَمْدُ لِلَّهِ کہنا۔
تہلیل:
لا اله الا اللہ پڑھنا۔
تسبیح:
اللہ تعالی کی پاکیزگی بیان کرنا، یعنی سُبْحَانَ اللہ کہنا۔
نوٹ: تکبیرات عید میں تکبیر، تہلیل اور تحمید تینوں چیزیں شامل ہیں۔
يَلَملَم [سَعْدِيه]:
بیت اللہ کے جنوب میں ایک سمندری مقام جو یمن، چین، بنگلہ دیش، افغانستان، ہندوستان اور پاکستان کی طرف سے آنے والوں کا میقات ہے۔ یہ مکہ مکرمہ سے 92 کلومیٹر پر واقع ہے۔
ذُو الْحُلَيْفَه:
مدینہ منورہ اور اس سے ملحقہ علاقوں کی طرف سے آنے والوں کا میقات۔ اس کا موجودہ نام آبار علی ہے، یہ مدینہ سے قریب تر اور مکہ مکرمہ سے تقریباً ساڑھے چار سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
جحفہ:
شام، ترکی اور مصر کی جانب سے آنے والوں کا میقات۔ اب یہ بستی موجود نہیں ہے مگر قریب ہی رابغ نامی جگہ سے لوگ احرام باندھتے ہیں۔ یہ مکہ سے شمال مغرب میں 187 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
ذَاتُ الْعِرْق:
عراق وغیرہ کی طرف سے آنے والوں کا میقات۔اب یہ بستی موجود نہیں ہے مگر قریب ہی الضريبه نامی جگہ سے لوگ احرام باندھتے ہیں۔ جسے خَرِیبات بھی کہتے ہیں۔ یہ مکہ سے شمال مشرق میں 94 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
قَرْنُ الْمَنَازِل:
اہل نجد اور عرفات کی طرف سے آنے والوں کا میقات۔ اب یہ بستی موجود نہیں ہے، مگر قریب ہی السیل نامی جگہ سے احرام باندھا جاتا ہے۔ جو مکہ سے 94 کلومیٹر دور ہے۔
تنعيم يا مسجد عائشہ:
مدینہ منورہ سے آئیں تو حرم مکی کی حد یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ یہ مقام بیت اللہ شریف سے تقریباً 7 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے آپﷺ کے حکم سے حضرت عائشہ رضي اللہ عنہما نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ اب اس جگہ ایک خوبصورت مسجد ہے، جو ،،مسجد عائشہ،، کہلاتی ہے۔ یاد رہے یہ مقام میقات نہیں ہے۔
جِعِرَّانَه:
الْمُسْتَوْفِرَہ سے آئیں تو حرم مکی کی حد یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ یہ جگہ بیت اللہ شریف سے تقریباً 23 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ مقام بھی میقات نہیں ہے۔
مَكَةُ الْمُكَرَّمَه:
مسلمانوں کا مقدس ترین شہر جس میں بیت اللہ شریف واقع ہے۔
مَسْجِدِ حَرام:
مکہ مکرمہ میں بیت اللہ شریف اور اس کے اردگرد تعمیر شدہ جگہ جس میں ایک نماز ادا کرنا ایک لاکھ نماز سے افضل ہے۔
بيت الله:
روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بنایا جانے والا سب سے پہلا گھر، اسے عربی میں بیت اللہ اور فارسی میں خانہ کعبہ کہا جاتا ہے۔ یہی مسلمانوں کا قبلہ ہے جس کی طرف منہ کر کے وہ نماز پڑھتے ہیں۔
حجرِ اسود:
وہ سیاہ پتھر جو بیت اللہ کے جنوب مشرق میں، دروازے کی بائیں طرف والے کونے میں باہر کی طرف نصب ہے۔ طواف کا آغاز اور اختتام اس پتھر کے سامنے سے ہوتا ہے۔
أركان بيت الله:
یعنی بیت اللہ کے کونے، حجر اسود والے کونے سے طواف شروع کریں تو بالترتیب یہ کونے آتے ہیں: رکن عراقی، رکن شامی اور رکن یمانی۔
ركن عراقي:
بیت اللہ کا شمال مشرقی کونہ جو عراق کی جانب واقع ہے۔
ركن شامی:
بیت اللہ کا شمال مغربی کو نہ جو شام کی طرف واقع ہے۔
ركن يماني:
بیت اللہ کے جنوب مغرب میں وہ کونہ جس کی طرف یمن واقع ہے۔ طواف کے دوران میں ممکن ہو تو اسے صرف ہاتھ سے چھونا سنت ہے۔ اس لیے اس کے نچلے حصے سے غلاف کعبہ اٹھایا ہوتا ہے۔ لیکن اسے چومنا یا ہاتھ سے چھو کر ہاتھ چومنا یا گزرتے ہوئے اشارہ کرنا یہ تمام کام خلاف سنت ہیں۔
حطیم:
رکن عراقی اور رکن شامی کے درمیان بیت اللہ کا شمالی حصہ جسے ایام جاہلیت میں حلال رقم کم پڑ جانے کی وجہ سے اہل مکہ تعمیر نہ کر سکے۔ اس حصے کے ارد گرد آدھے دائرے کی شکل میں ایک چھوٹی سی دیوار کھینچ دی گئی ہے، تا کہ لوگ اس کے باہر سے طواف کریں کیونکہ یہ بیت اللہ کا حصہ ہے۔ اسے حِجْرِ بھی کہتے ہیں۔ جس شخص نے اس میں نفل ادا کیے گویا کہ بیت اللہ کے اندر نفل ادا کیے۔
ميزاب كعبه:
بیت اللہ کا پر نالہ جس کا پانی حطیم میں گرتا ہے، لیکن بارش میں اس کے نیچے کھڑے ہو کر نہانے کی کوئی فضیلت نہیں۔
ملتزم:
یعنی وہ مقام جس سے چمٹا جائے۔ دروازے اور حجر اسود کے درمیان بیت اللہ شریف کی دیوار کو ملتزم اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ چمٹ کر عجز و انکسار سے دعا کرنا مسنون ہے۔
مقام ابراهیم:
بیت اللہ شریف کے دروازے کے سامنے شیشے اور سنہری جالی میں محفوظ وہ پتھر جس پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام خانہ کعبہ کی تعمیر فرماتے رہے۔ اللہ کی قدرت سے اس پتھر پر ان کے قدموں کے نشانات آج بھی موجود ہیں۔
مطاف:
بیت اللہ کے ارد گرد طواف کے لیے چھوڑی گئی خالی جگہ۔
زمزم:
شفا اور غذائیت سے بھر پور، انتہائی متبرک پانی جو حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان موجود ایک کنویں سے نکلتا ہے۔ یہ کنواں محض اللہ کے حکم سے اس وقت جاری ہوا جب اس ویران پہاڑی مقام پر ننھے اسماعیل کو پیاس نے تڑپایا اور اس کی والدہ پانی کی تلاش سے مایوس ہو گئیں۔ اب یہ کنواں مطاف کے نیچے تہ خانے میں ہے تا کہ طواف میں رکاوٹ نہ ہو، البتہ پانی پوری مسجد میں ہر وقت دستیاب ہوتا ہے۔
طواف:
بیت اللہ شریف کے اردگرد ثواب کی نیت سے سات چکر لگانا پھر مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز ادا کرنا۔
طواف کی درج ذیل قسمیں ہیں:
① نفل طواف
② طواف قدوم یا طواف تحيه
③ طواف افاضہ یا طواف زیارت
④ طواف وداع
① نفل طواف:
یہ احرام باندھے بغیر عام لباس میں کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ حج یا عمرے کے علاوہ کسی کی طرف سے طواف کرنا سنت سے ثابت نہیں ہے۔
② طواف قدوم:
حاجی میقات سے احرام باندھ کر مکہ پہنچنے پر سب سے پہلے جو طواف کرتا ہے اسے طَوافِ قُدُوم کہتے ہیں۔
اضطباع:
طواف قدوم میں احرام کی چادر کو دائیں بغل سے گزار کر بائیں کندھے پر ڈالنا اور دائیں کندھے کو ننگا رکھنا۔ یہ حکم صرف مردوں کے لیے ہے۔
رَمَل:
طواف قدوم کے ابتدائی تین چکروں میں چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھا کر شانے ہلاتے ہوئے تیز تیز چلنا۔ یہ حکم بھی صرف مردوں کے لیے ہے۔
③ طواف إفاضہ:
دس ذو الحجہ یعنی عید الاضحیٰ کے دن ادا کیا جانے والا طواف۔ اسے طواف زیارت بھی کہتے ہیں۔ یہ حج کا رکن ہے۔
طواف وداع:
اعمال حج کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہونے سے پہلے ادا کیا جانے والا آخری طواف۔
استلام:
حجر اسود کو بوسہ دینا، ہاتھ یا چھڑی لگا کر اسے چومنا یا پھر ایک ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کرنا۔ یہ چاروں صورتیں اصطلاحاً استلام کہلاتی ہیں۔
صفا ومروه:
دو پہاڑیوں کے نام۔ صفا بیت اللہ کے جنوب مشرق اور مروہ شمال مشرق میں واقع ہے۔ اب ان پہاڑیوں کے صرف نشانات باقی ہیں۔
صفا و مروہ کی سعی:
صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگانا۔ صفا سے مردہ تک ایک چکر اور مروہ سے واپس صفا تک دوسرا چکر۔ پہلا چکر صفا سے شروع ہوتا ہے اور ساتواں چکر مروہ پر ختم ہوتا ہے۔ اسی طواف کو عرف عام میں سعی کہا جاتا ہے۔
سعی:
صفا اور مروہ کے طواف میں بطن وادی کے مقام پر قدرے تیزی سے چلنے یا دوڑنے کو اصطلاحاً سعی کہتے ہیں، یہ صرف مردوں کے لیے ہے۔
میلين أخضرين:
وادی کے وسط میں دونوں کناروں پر لگی ہوئی سبز ٹیوبیں جو صفا و مروہ کے طواف میں نظر آتی ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ سعی صرف انہی کے درمیان کی جائے اور بقیہ چکر عام رفتار سے مکمل کیا جائے۔
مسعی:
سعی کرنے کی جگہ۔
قصر:
پورے سر کے بالوں کو قینچی یا مشین سے برابر کٹوانا۔
خلق:
پورے سر کے بالوں کو استرے سے منڈوانا۔
منی:
بیت اللہ شریف کے مشرق میں پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود وادی جہاں 8 ذوالحجہ کو اور 10 سے 13 ذو الحجہ تک حاجی قیام کرتے ہیں۔
يوم الترويه:
8 ذوالحجہ، ایام حج کا پہلا دن جب حاجی منی کی جانب روانہ ہو کر حج کا آغاز کرتے ہیں۔ ترویہ کے معنی ہیں سیراب کرنا۔اس دن حجاج کرام منی روانگی سے قبل اپنے اونٹوں اور جانوروں کو پانی سے خوب سیراب کیا کرتے تھے۔
طريق المشاة:
مکہ سے منی پیدل پہنچنے کا خصوصی راستہ جس کا کچھ حصہ خوبصورت ہوا دار پہاڑی سرنگوں پر مشتمل ہے، جب کہ باقی راستے پر بھی گرمی سے بچاؤ کے لیے جا بجا چھت ڈالی گئی ہے، نیز منی مزدلفہ سے عرفات کی جانب بھی ایک طریق المشاة ہے۔
يوم عرفه:
9 ذو الحجہ، ایام حج کا دوسرا دن جب حاجی منی سے عُرنه اور عرفات پہنچتے ہیں۔
جمع تقديم:
ظہر ، عصر یا مغرب، عشاء میں سے بعد والی نماز کو پہلی نماز کے ساتھ اس کے وقت میں ادا کرنا، جیسے ظہر اور عصر کو عرفہ کے دن جمع کرتے ہیں۔
جمع تاخیر:
ظہر، عصر یا مغرب، عشاء میں سے پہلی نماز کو بعد والی نماز کے ساتھ اس کے وقت میں ادا کرنا، جیسے مغرب اور عشاء کو مزدلفہ کی رات اکٹھا ادا کرتے ہیں۔
وادى نمره:
میدان عرفات کے قریب ایک وادی جہاں حاجی 9 ذوالحجہ کو زوال سے پہلے پہنچ جائے تو زوال تک ٹھہرنا مسنون ہے۔
وادي عرنه:
میدان عرفات اور نمرہ کے درمیان ایک وادی جہاں نبی اکرمﷺ نے وقوف عرفہ سے پہلے خطبہ حج ارشاد فرمایا، پھر ظہر اور عصر کی نمازیں ظہر کے وقت میں جمع اور قصر کر کے پڑھائیں۔
عرفه يا عرفات:
بیت اللہ شریف سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک وسیع و عریض وادی جو حدود حرم سے باہر ہے جہاں 9 ذوالحجہ کو وقوف کرنا [ٹھہرنا] حج کا رکن ہے۔
مسجد نمرہ:
ایک بہت بڑی خوبصورت مسجد، جس کا تقریباً ایک تہائی حصہ (محراب والا) وادئ نمرہ اور وادئ عُرَنہ میں ہے، جب کہ باقی دو تہائی حصہ عرفات میں ہے۔ اب خطبہ حج اور ظہر و عصر کی نمازیں جمع اور قصر کے ساتھ اسی مسجد میں ادا کی جاتی ہیں۔
جبل الرحمه:
میدان عرفات میں واقع ایک پہاڑی جس کے پہلو میں نبی اکرم ﷺ نے وقوف فرمایا اور دعائیں کیں۔ تاہم اس پہاڑی تک پہنچنا اور اس پر چڑھنا یہ سب غیر ضروری تکلفات ہیں، پورے عرفہ میں کسی بھی جگہ وقوف کیا جا سکتا ہے۔
مزدلفه:
منی اور عرفات کے درمیان ایک وادی کا نام۔
ليلة المزدلفة:
9 اور 10 ذو الحجہ کی درمیانی رات جسے مزدلفہ میں سو کر بسر کرنا حج کا حصہ ہے۔
مسجد مشعر الحرام:
وادی مزدلفہ کی مسجد۔
مشعر الحرام:
مزدلفہ میں واقع ایک پہاڑی جہاں 10 ذوالحجہ کو نماز فجر کے بعد سفیدی پھیلنے تک قبلہ رخ ہو کر اللہ کا ذکر اور دعائیں کی جاتی ہیں۔
يوم النحر:
10 ذو الحجہ، یعنی حج کا تیسرا دن جس میں حاجی درج ذیل امور بجالاتا ہے: 1: طلوع آفتاب سے پہلے پہلے مزدلفہ سے منی روانگی :2 طلوع آفتاب کے بعد جمرہ عقبہ کی رمی 3 قربانی 4 حجامت 5 احرام کھولنا 8 طواف افاضہ 7 صفا و مروہ کی سعی واپس منی پہنچ کر رات بسر کرنا۔
وادي محسر:
10 ذو الحجہ کو مزدلفہ سے منی جاتے ہوئے ایک چھوٹی سی وادی جہاں اللہ تعالٰی نے ابابیل پرندوں کے ذریعے ابرہہ کا لشکر تباہ کیا تھا۔ اسے تیزی سے عبور کرنے کا حکم ہے۔
مسجد خيف:
وادی منی میں ایک خوبصورت مسجد، جس میں کئی انبیائے کرام علیہم السلام نمازیں ادا کر چکے ہیں۔
جمرات:
جَمْرَةٌ کی جمع ہے، اس کے معنی ”ستون“ کے ہیں۔عرف عام میں انھیں شیطان کہا جاتا ہے، مگر انھیں شیطان کہنا درست نہیں ہے۔ یہ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بنے ہوئے تین ستون ہیں، جنھیں اب بہت بڑے بڑے پلوں میں سے گزار کر مزید بلند کر دیا گیا ہے۔
لوگ پلوں کے نیچے اور اوپر سے انھیں کنکریاں مارتے ہیں۔ تینوں جمرات مسجد خیف کے قریب ہیں۔
رمی:
پھینکنا، کسی جمرے کو سات کنکریاں مارنا اور ہر کنکری پر الله اكْبَر کہنا رمی کہلاتا ہے۔
الجمرة الأولى:
اسے جَمْرَہ صُغری اور جَمْرَہ دُنْيَا بھی کہت ہیں، یعنی سب سے پہلا، چھوٹا اور قریبی جمرہ، کیونکہ مسجد خیف سے جمرات کی طرف آئیں تو سب سے پہلے یہی آتا ہے۔ نیز 10 ذوالحجہ کے سوا باقی ایام میں سب سے پہلے اس کی رمی کی جاتی ہے۔
الجمرة الوسطى:
در میانه جمرہ، یہ باقی دونوں جمرات کے درمیان واقع ہے۔
جمرة الكبرى:
اِس جَمْرَہ عقبہ بھی کہتے ہیں، یعنی سب سے بڑا اور آخری جمرہ۔ مسجد خیف کی طرف سے آئیں تو یہ سب سے آخر میں پڑتا ہے اور اگر طَرِيقُ الْمُشَاہ پر چلتے ہوئے مکہ سے منی پہنچیں تو یہ سب سے پہلے آتا ہے۔ 10 ذوالحجہ کو صرف اسی کی رمی کی جاتی ہے جب کہ باقی دنوں میں مذکورہ ترتیب کے ساتھ تینوں کی رمی کی جاتی ہے۔ نیز باقی دونوں جمرات کی رمی کے بعد ایک طرف ہٹ کر دعا کی جاتی ہے مگر اس کی رمی کے بعد دعا نہ کرنا سنت ہے۔
هدی:
قربانی کا وہ جانور جسے حج یا عمرہ کرنے والا مکہ مکرمہ میں ذبح کرتا ہے۔
تنبیه: هدی اور أضحیہ میں فرق: ھدی وہ قربانی ہے جو حج تمتع اور حج قران کرنے والے پر لازم آتی ہے۔ اور صرف حدود حرم میں ہی ذبح ہو سکتی ہے، البتہ أضحيه وه قربانی ہے جو ہر خاص و عام صاحب استطاعت عید الاضحیٰ کے موقع پر ذبح کرتا ہے، وہ کہیں بھی ذبح ہو سکتی ہے۔ لیکن وہ حاجی سے ہرگز کفایت نہیں کرے گی۔
قلاده:
هدى [قربانی] کے جانور کے گلے میں جوتا یا کوئی اور چیز لٹکانا۔
اشعار:
اگر اونٹ ہو تو اس کی کوہان کی دائیں طرف ذرا سا چیرا لگا کر نکلا ہوا خون اسکی کو ہان پر مل دینا، اشعار کہلاتا ہے۔ یہ اس لیے کرتے تھے کہ کوئی اس جانور کو نقصان نہ پہنچائے اور اگر یہ گم ہو جائے تو اسے حرم مکی کی طرف روانہ کر دیا جائے۔
محصر:
جو شخص میقات سے حج یا عمرے کا احرام باندھے، پھر راستے میں کسی رکاوٹ [خوف یا بیماری]کا شکار ہو جائے اور حج اور عمرہ ادا نہ کر سکے۔
مشروط تلبیہ:
میقات پر احرام باندھتے وقت تلبیہ کے آخر میں یہ کہنا : اللهمَّ مَحِلی حَيْثُ حَبَسْتَنِي ،،اے اللہ! میرے حلال ہونے [احرام کھولنے] کا مقام وہی ہو گا جہاں تو مجھے روک دے گا۔ اس صورت میں اگر حاجی یا معتمر کسی بھی وجہ سے احرام باندھنے کے بعد حج یا عمرہ پورا نہ کر سکا تو اس پر کوئی فدیہ نہیں ہوگا۔
دم احصار:
جس محرم نے احرام باندھتے وقت مشروط تلبیہ نہ پکارا ہو اور مکہ پہنچنے سے پہلے ہی کسی رکاوٹ کا شکار ہو جائے تو وہ ایک جانور کسی دوسرے کے ساتھ حرم بھیج دے۔ اگر بھیج نہ سکے تو رکاوٹ ہی کے مقام پر جانور ذبح کر دے گا۔ اس قربانی کو دَمِ احصار کہتے ہیں۔
فديه:
احرام کی کچھ پابندیاں توڑنے یا بعض اعمال حج میں خلل واقع ہونے کی وجہ سے حج و عمرہ کرنے والا جس جرمانے یا سزا کا سامنا کرتا ہے اُسے اصطلاحاً فدیہ کہتے ہیں۔
دم:
لفظی معنی خون کے ہیں۔ فدیے میں دی جانے والی قربانی دم کہلاتی ہے۔ اور یہ صرف اور صرف حدود حرم میں ہی ذبح ہوگی اور وہیں کے فقراء پر تقسیم ہو گی۔
بدنه:
قربانی کا بڑا جانور، لیکن اس کا زیادہ تر اطلاق اونٹ پر ہوتا ہے۔
ایام منی:
قربانی کے چار دن، یعنی: 12,11,10 اور 13 ذوالحجہ کی عصر تک۔ چونکہ لوگ قربانی کے ایام، منی میں گزارتے ہیں اس لیے انہیں ایام منی کہا جاتا ہے۔
منحر:
یعنی قربان گاہ۔ مسئلے کی رو سے ہدی یا فدیے کی قربانیاں حدود حرم میں کسی بھی جگہ ذبح کی جاسکتی ہیں۔ اس لحاظ سے سارا حرم ہی قربان گاہ ہے، مگر آج کل منی میں ایک قربان گاہ قائم کر دی گئی ہے، جسے مَنْحَر یا الْمَسَالِحُ کہا جاتا ہے۔ اب تمام فدیہ اور قربانی کے جانور وہاں ہی ذبح ہوتے ہیں اور جو شخص اپنے ہاتھ سے اپنی قربانی کرنا چاہے، تو وہاں یہ سہولت بھی موجود ہے۔
تفث:
میل کچیل۔ اس سے مراد بدن کی صفائی اور حجامت ہے، مثلاً : پورے سر کے بال کتروانا یا منڈوانا، بغلوں سے اور زیر ناف بالوں کی صفائی کرنا، مونچھیں کٹوانا، ناخن تراشنا وغیرہ۔ لہذا 10 ذوالحجہ کو جسم کی صفائی میں ان امور کا خیال رکھنا چاہیے۔
حلت یا حلال ہونا:
احرام کی پابندیوں کو ختم کر دینا۔
طواف إفاضه:
10 ذوالحجہ کو بیت اللہ کا طواف کرنا۔
يوم الرؤوس:
11 ذو الحجہ، یعنی ایام حج کا چوتھا دن۔ جب حاجی منی
میں زوال کے بعد تینوں جمرات کی رمی کرتا ہے۔ اور باقی وقت ذکر و تلاوت اور دعا ومناجات وغیرہ میں صرف کرتا ہے۔ رؤوس، رَأْسٌ کی جمع ہے جس کے معنی ”سر کے ہیں۔ لوگ اس دن تک اپنی قربانی کا گوشت بنا کر تین حصوں میں تقسیم کر دیتے تھے: کھانے کے لیے تقسیم کرنے کے لیے اور ذخیرہ کرنے کے لیے البتہ ،،سریاں،، باقی بچ جاتی تھیں۔ ان کی کثرت کی وجہ سے اس دن کا نام يَوْمُ الرُّؤوس پڑ گیا۔
ایام تشریق:
1211 اور 13 ذوالحجہ کو ایامِ تشریق کہتے ہیں۔ تشریق کے معنی ہیں: ،،کسی چیز کو دھوپ میں ڈالنا،، لوگ ان دنوں میں اپنی قربانیوں کا گوشت دھوپ میں ڈال دیتے تھے تا کہ وہ خشک ہو کر ذخیرہ کیے جانے کے قابل ہو جائے۔
ليالي منی:
یعنی منی کی راتیں۔ اس سے مراد 10 سے 13 ذوالحجہ تک کی راتیں ہیں۔ انھیں منی میں گزارنا ضروری ہے۔
يوم النفر الأول:
12 ذو الحجہ، یعنی کوچ کا پہلا اور ایام حج کا پانچواں دن۔ اس دن بھی حاجی وہی کام کرے گا جو اس نے 11 ذوالحجہ کو سر انجام دیے تھے۔ اِسے ،،کوچ کا پہلا دن،، اس لیے کہا گیا ہے کہ اگر حاجی چاہے تو زوال کے بعد رمي جمرات سے فارغ ہو کر غروب آفتاب سے پہلے پہلے منی کی حدود سے نکل سکتا ہے۔ لیکن اگر حدود منی کے اندر سورج غروب ہو گیا تو پھر اُسے 13 ذوالحجہ کی رمی تک منی میں ٹھہرنا پڑے گا۔
يوم النفر الثاني:
13 ذوالحجہ، یعنی کوچ کا دوسرا اور ایام حج کا چھٹا اور آخری دن۔ اس دن زوال کے بعد رمي جمرات سے فارغ ہو کر حاجی کسی بھی وقت منی سے روانہ ہو سکتا ہے۔
التَّحَلُّلُ الأول:
دسویں تاریخ کو جب حاجی کنکریاں مار کر حلال ہو جاتا ہے تو اس کے لیے سوائے بیوی کے باقی تمام احرام کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں، اسے تحلل اصغر بھی کہتے ہیں۔
التَّحَلُّلُ الثاني:
جب حاجی حج کا طواف، یعنی طواف زیارت سے فارغ ہو جاتا ہے۔ تو اب اس کے لیے بیوی بھی حلال ہو جاتی ہے، اسے تحلل اکبر بھی کہتے ہیں۔
جبل نور:
مکہ کے قریب ایک پہاڑ جہاں ،،غار حرا،، واقع ہے، جہاں نبی اکرم صلی ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی تھی۔
جبل ثور:
مکہ کے قریب ایک پہاڑ جہاں غار ثور واقع ہے۔ جس میں ہجرت کے وقت نبی اکرم ﷺ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تین دن تک پناہ گزین ہوئے تھے۔
وضاحت: یاد رہے کہ تاریخی لحاظ سے ان مقامات کی زیارت کرنا جائز ہے، لیکن ان کی زیارت اعمال حج و عمرہ میں سے نہیں ہے، اسی طرح ان کی زیارت کو کار ثواب سمجھنا، ان میں نوافل ادا کرنا اور ان میں بیٹھ کر ذکر واذکار یا لمبی لمبی دعائیں کرنا یہ تمام کام خود ساختہ ہیں۔
جَنَّتُ الْمُعَلَّى:
،،المعلاة،، مکہ مکرمہ کا قدیم قبرستان۔
مَسْجِدِ نبوی:
مدینہ منورہ میں موجود وہ مسجد جسے رسول اکرم ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے خود تعمیر فرمایا تھا، اس میں ادا کی جانے والی ایک نماز دیگر مساجد میں ادا کی گئیں ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔
رَوْضَةٌ مِّن رِّيَاضِ الْجَنَّةِ:
مسجد نبوی میں وہ مقام جو رسول اللہ ﷺ کے گھر اور منبر کے درمیان واقع ہے۔ آج کل ہلکے سبز رنگ کا قالین بچھا کر اس جگہ کو دوسری جگہ سے ممتاز کر دیا گیا ہے اور اس میں داخلے کے لئے علیحدہ چوکھٹ کی بنا دی گئی ہے۔ فرمان نبوی کے مطابق یہ جگہ ،،جنت کا باغ،، ہے۔
صفه: مسجد نبوی کے قریب وہ چبوترہ جہاں نادار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حصول علم کی خاطر مقیم رہتے اور اصحاب صفہ کہلاتے تھے۔ روضہ رسول ﷺ کی پچھلی طرف آج بھی اس چبوترے کا نشان موجود ہے اور اب یہ مسجد نبوی میں شامل ہے۔
روضہ رسول ﷺ:
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضي اللہ عنہما کا گھر جہاں رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی اور دفنائے گئے۔ متعدد حفاظتی دیواروں میں گھری ہوئی یہ جگہ روضہ ،،رسول کہلاتی،، ہے۔ اس میں آپ ﷺ کے ساتھ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی قبریں بھی موجود ہیں۔ ہر ایک کی قبر کی نشاندہی باہر لگی جالی پر بھی کر دی گئی ہے۔
بقيع الغرقد:
مدینہ منورہ کا وہ قدیم قبرستان جہاں بہت سے صحابہ و صحابیات رضی اللہ عنہم دفن ہیں۔ عرفِ عام میں اسے البقیع کہا جاتا ہے۔ یہ آج کل تقریباً مسجد نبوی سے متصل ہے۔
مسجد قبا:
ہجرت کے بعد تعمیر کی گئی سب سے پہلی مسجد، جو مسجد نبوی سے تقریباً آٹھ، دس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اسے نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضي اللہ عنہم نے خود تعمیر فرمایا۔ اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ کہ جو شخص گھر سے وضو کر کے نکلا اور مسجد قبا میں دو رکعتیں ادا کیں، اللہ تعالیٰ اسے ایک عمرے کا ثواب عنایت فرمائے گا۔
مسجد قبلتين:
یعنی دو قبلوں والی مسجد، مسجد نبوی سے تقریباً چار کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس میں ،،بیت المقدس،، کی طرف رخ کر کے نماز ہو رہی تھی کہ ایک صحابی نے، جو کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عصر کی نماز ادا کر کے آیا تھا، تحویل قبلہ کی اطلاع دی تو نمازیوں نے دوران نماز ہی بیت اللہ شریف کی طرف رخ موڑ لیا، اسی وجہ سے اسے مَسْجِدِ قبلتین کہا جاتا ہے۔ آج بھی بیت اللہ کی مخالف سمت دیوار پر مصلے کا نشان موجود ہے۔
سبعة مساجد:
وہ مقام جہاں جنگ احزاب کے موقع پر مدینہ منورہ کے دفاع کے لیے خندق کھودی گئی تھی۔ ترکوں نے مختلف خیموں کی مناسبت سے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر چھوٹی چھوٹی سات مسجد میں بنا دی تھیں جو سَبْعَة مَسَاجِد کہلاتی ہیں۔ یہ جگہ اب مدینہ منورہ شہر میں شامل ہے۔
احد:
مدینہ منورہ کے قریب ایک پہاڑ جس کے دامن میں جنگِ اُحد لڑی گئی۔ وہیں شہدائے احد کا قبرستان بھی ہے۔
