حاکم کا اپنے علم سے فیصلہ: شرعی جواز و اختلاف

فونٹ سائز:
تحریر: عمران ایوب لاہوری

حاکم اپنے علم کے ساتھ بھی فیصلہ کر سکتا ہے
➊ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعی سے کہا:
اقسم البينة
”دلیل پیش کرو ۔“
جب وہ دلیل پیش نہ کر سکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شخص سے کہا کہ تم قسم اٹھاؤ ۔ اس نے اللہ کی قسم اٹھا لی (جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ) کہ اس کی کوئی چیز اس کے پاس نہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قد فعلت ولكن غفر لك بإخلاص لا إله إلا الله
”تو نے ایسا کیا ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے تیرے لا اله الا الله کے اخلاص کی وجہ سے تجھے بخش دیا ہے ۔“
ایک روایت میں یہ لفظ ہیں:
بل هو عندك ادفع إليه حقه
”بلکہ وہ چیز تیرے پاس ہی ہے لٰہذا اسے اس کا حق ادا کر دو ۔“
[صحيح: صحيح ابو داود: 2803 ، كتاب الأيمان والنذور: باب فى الحلف كاذبا متعمدا ، ابو داود: 3275 ، نسائي فى السنن الكبرى: 489/3 ، 6006 ، احمد: 253/1 ، حاكم: 95/4]
➋ امام بخاریؒ نے یہ باب قائم کیا ہے:
من ر أى للقاضى أن يحكم بعلمه فى أمر الناس إذا لم يخف الظنون والتهمة
”جس کا یہ خیال ہے کہ قاضی لوگوں کے معاملات میں اپنے علم کے ساتھ فیصلہ کر سکتا ہے جبکہ وہ (برے ) گمان اور تہمت سے نہ ڈرتا ہو ۔“
اور اس باب کے تحت یہ حدیث لائے ہیں:
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ہند رضی اللہ عنہا کو کہا:
خذى ما يكفيك وولدك بالمعروف
” (اس کے مال سے ) معروف طریقے سے اس قدر پکڑ لو جتنا تمہیں اور تمہارے بچے کو کافی ہو ۔“
[بخاري: قبل الحديث / 7161 ، كتاب الأحكام: باب من رأى للقاضي أن يحكم بعلمه]
اس حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر کسی ثبوت اور گواہوں کے محض اپنے علم کے مطابق ہی فیصلہ کر دیا ۔
(ابو حنیفہؒ ، ابو یوسفؒ ) قاضی اپنے علم کے مطابق صرف مالی مسائل میں ہی فیصلہ کر سکتا ہے ۔
(بعض مالکیہؒ ، شافعیہ ) قاضی اپنے علم کے مطابق حدود کے علاوہ تمام معاملات میں فیصلہ کر سکتا ہے ۔
(ابن عربیؒ ) محض اپنے علم کے ساتھ کوئی فیصلہ بھی نہیں کر سکتا ۔
(شوکانیؒ ) اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حاکم کے لیے اپنے علم کے ساتھ فیصلہ کرنا جائز ہے ۔
[نيل الأوطار: 382/5 ، فتح البارى: 64/15]
(ابن حزمؒ ) اپنے علم کے ساتھ حاکم پر تمام معاملات کا فیصلہ کرنا فرض ہے ۔
[المحلى بالآثار: 523/8]
(راجح ) حاکم کے لیے مطلق طور پر تمام معاملات میں اپنے علم کے ساتھ فیصلہ کرنا جائز ہے ۔
[مزيد تفصيل كے ليے ملاحظه هو: نيل الأوطار: 384/5 ، الروضة الندية: 561/2]