حالت نشہ میں ایجاب وقبول سے نکاح منعقد ہوتا ہے یا نہیں؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

حالت نشہ میں ایجاب وقبول سے نکاح منعقد ہوتا ہے یا نہیں؟

جواب:

اگر نشہ اس قدر زیادہ ہے کہ قبول کرنے والے لڑکے کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، تو ایسا نکاح منعقد نہیں ہوتا۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ
(النساء: 43)
ایمان والو! تم نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ اس بات کو جاننے لگ جاؤ جو تم کہہ رہے ہو۔
❀ شیخ الاسلام، علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
جعل سبحانه قول السكران غير معتبر لأنه لا يعلم ما يقول
اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے نشے میں دھت شخص کی بات کو غیر معتبر قرار دیا ہے، کیونکہ وہ جو کہہ رہا ہوتا ہے، اسے جانتا نہیں ہوتا۔
(زاد المعاد فی ہدی خیر العباد: 190/5)
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
قد يأتي السكران في كلامه وفي فعله بما لا يأتي به وهو صاح لا يعلم ما يقول
نشے میں دھت شخص سے ایسے اقوال وافعال سرزد ہو جاتے ہیں کہ ہوش میں وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: یہاں تک کہ تم جاننے لگ جاؤ، جو تم کہہ رہے ہو۔ اس فرمان باری تعالیٰ میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ جو شخص اپنی بات کو جان رہا ہو، وہ نشے میں نہیں ہوتا۔
(فتح الباری: 390/9)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️