سوال:
حالت حیض میں طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب:
ایام مخصوصہ میں طلاق مکروہ ہے لیکن واقع ہو جاتی ہے۔ نافع رحمہ اللہ، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں:
إنه طلق امرأته وهى حائض، فذكر ذلك عمر للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: مره، فليراجعها، ثم ليطلقها طاهرا، أو حاملا.
انہوں نے حیض میں طلاق دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”انہیں رجوع کا حکم دیجیے، پھر طہر یا حمل میں طلاق دیں۔“
(صحيح البخاري: 5252، صحيح مسلم: 1471، واللفظ له)
فليراجعها کے الفاظ واضح طور پر وقوع طلاق کا پتا دے رہے ہیں، اگر طلاق واقع نہیں ہوئی تھی، تو رجوع کیسا؟ امام بخاری رحمہ اللہ نے ان الفاظ پر یوں تبویب فرمائی ہے:
باب إذا طلقت الحائض تعتد بذلك الطلاق
حائضہ کو دی گئی طلاق شمار ہوگی۔
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
میں نے حیض میں طلاق دی۔ (میرے والد گرامی) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا، تو فرمایا: انہیں رجوع کا حکم دیں، پھر طلاق دینا چاہیں، تو طہر میں دیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس طلاق کو شمار کیا جائے گا؟ فرمایا: جی ہاں۔
(سنن الدارقطني: 5/4، السنن الكبرى للبيهقي: 326، ابواب شوہر عدت/7، وسنده حسن)
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
میں نے حیض میں طلاق دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک طلاق شمار کیا۔
(مسند الطيالسي: 68، مسند عمر بن الخطاب لابن النجاد: 1، وسنده صحيح)
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
حسبت على بتطليقة.
یہ ایک طلاق شمار ہوئی۔
(صحيح البخاري: 5253)
❀ نیز فرماتے ہیں:
فراجعتها، وحسبت لها التطليقة التى طلقتها.
میں نے رجوع کر لیا اور اسے طلاق شمار کیا۔
(صحيح مسلم: 1471)
❀ انس بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
سمعت ابن عمر، قال: طلق ابن عمر امرأته وهى حائض، فذكر عمر للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: ليراجعها ، قلت: تحتسب؟ قال: فمه؟
میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے سنا: میں نے حیض میں طلاق دی۔ (میرے والد گرامی) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رجوع کریں۔ میں (انس بن سیرین) نے عرض کیا: کیا یہ طلاق شمار ہوگی؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو اور کیا؟
(صحيح البخاري: 5252، صحیح مسلم: 1471)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فمه اصل میں فَمَا تھا۔ یہ استفہام ہے، جس میں اکتفا ہوتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ اگر طلاق کو شمار نہیں کیا جائے گا، تو اور کیا ہوگا؟ یہ بھی ممکن ہے کہ ہا اصلی ہو اور یہ کلمہ ڈانٹ کے لیے بولا جاتا ہو، یعنی یہ بات نہ کرو، کیونکہ اس صورت میں طلاق کا واقع ہونا لازم امر ہے۔
حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس فرمان کا مطلب یہ تھا کہ حیض میں دی گئی طلاق شمار نہیں کی جائے گی تو اور کیا ہوگا؟ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ کیا یہ طلاق شمار ہوگی؟ گویا انہوں نے فرمایا کہ اس طلاق کے وقوع میں کوئی شبہ نہیں۔
(فتح الباري: 352/9)
❀ یونس بن جبیر رحمہ اللہ کا بیان ہے:
میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: کوئی حیض میں طلاق دے تو؟ کہا: کیا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو جانتے ہیں؟ انہوں نے حیض میں طلاق دی تھی۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجوع کا حکم دیا تھا اور فرمایا تھا کہ دوبارہ طلاق کا ارادہ ہو، تو طہر میں دیں، میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض کی طلاق شمار کی تھی؟ کہا: ان کی عاجزی اور ناسمجھی نے طلاق ساقط کر دی ہے؟
(صحيح البخاري: 5258، صحیح مسلم: 1431)
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أرأيت لو عجز بمعنى تعاجز عن فرض آخر من فرائض الله، فلم يقمه، أو استحمق فلم يأت به، أكان يعذر فيه؟
اگر وہ اللہ تعالیٰ کے فرائض میں سے کسی اور فرض میں سستی کرے، اسے درست طریقے سے ادا نہ کرے یا حماقت کرے اور اسے ادا ہی نہ کرے تو کیا اس بارے میں اس کا عذر قبول ہوگا؟
(التمهيد: 66/5)
شارح صحیح مسلم، حافظ نووی رحمہ اللہ (631-676 ھ) لکھتے ہیں: ان الفاظ کا معنی یہ ہے کہ کیا ان کی سستی اور نا فہمی کی بنا پر طلاق کا حکم ختم کر دیا جائے گا؟ یہ استفہام انکاری ہے۔ اصل میں یوں ہے: ہاں، طلاق شمار کی جائے گی، ان کی سستی اور نا سمجھی کی بنا پر طلاق کا نفاذ روکا نہیں جا سکتا۔
(شرح صحیح مسلم: 66/10)