مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

حالت حمل میں دی گئی طلاقوں کا شرعی حکم

فونٹ سائز:

سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو حالتِ حمل میں طلاق دی، پھر ایک مہینے بعد دوبارہ طلاق دی، اور تیسرے مہینے تیسری طلاق دی، اور اس دوران صلح نہیں کی۔ اس صورت میں کیا یہ ایک طلاق شمار ہوگی یا تین طلاقیں؟

جواب از فضیلۃ الباحث کامران الہیٰ ظہیر حفظہ اللہ

اس مسئلے میں اہلِ حدیث علماء کے دو مختلف موقف موجود ہیں:

پہلا موقف:

بعض اہلِ حدیث علماء کے نزدیک یہ ایک ہی طلاق شمار ہوگی، کیونکہ حمل کی حالت میں ایک حیض یا عدت کا مخصوص مرحلہ طے کیے بغیر دی گئی طلاقیں الگ الگ شمار نہیں ہوتیں۔

دوسرا موقف:

بعض اہلِ حدیث علماء کے نزدیک اس صورت میں تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، کیونکہ تین مرتبہ طلاق دی گئی اور درمیان میں صلح نہیں کی گئی۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔