مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

حافظ ابن حزم الاندلسی کی ثقاہت پر 16 جمہور محدثین و فقہاء کی شہادتیں

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

حافظ ابن حزم الاندلسی رحمہ اللہ (أبو محمد علي بن أحمد بن سعيد بن حزم الأندلسي القرطبي الظاهري، المتوفى: ٤٥٦ھ) ان عظیم اہلِ علم میں سے ہیں جن کے بارے میں بعد کے صدیوں کے محدثین، فقہاء اور مؤرخین نے کھل کر ان کی علمی، حدیثی اور فقہی عظمت و امامت کو بیان کیا ہے، اگرچہ ان کے بعض اجتہادی مسائل پر نقد بھی کیا ہے۔ اس مقالہ کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ابن حزمؒ کی شخصیت جمہور محدثین کے نزدیک ’’الإمام، العلامة، الحافظ، الفقيه، المجتهد‘‘ کے مقام پر ہے، اس لیے ان کے فتاویٰ یا علمی اقوال کو اصولاً مردود سمجھ لینا منصفانہ طرزِ فکر نہیں؛ بلکہ ائمۂ حدیث کی روش یہ ہے کہ کسی بھی بڑے مجتہد کی طرح ابن حزمؒ سے صحیح و غلط دونوں طرح کے اجتہادات صادر ہوئے، مگر ان کی عدالت، حفظ، فقہ اور حدیث میں امامت پر اہلِ علم کا کثیر ترین مواد ہمارے سامنے موجود ہے۔ زیرِ نظر سطور میں ہم جمہور محدثین و فقہاء کے اقوال کو یکجا کر کے ابن حزمؒ کی توثیق پیش کرتے ہیں۔

حافظ ابن حزم الاندلسی کا مختصر تعارف

ابن حزمؒ کا پورا نام یہ ہے:
أبو محمد علي بن أحمد بن سعيد بن حزم الأندلسي القرطبي الظاهري (المتوفى: ٤٥٦هـ)

اندلس (اسپین) کے عظیم اہلِ علم میں آپ ممتاز مقام رکھتے تھے۔ متعدد ائمہ نے آپ کو بیک وقت ‘‘امام، علامہ، حافظ، فقیہ، مجتہد’’ قرار دیا، حدیث کے بڑے حافظ، فقہ میں صاحبِ اجتہاد، تاریخ، ادب، منطق، فلسفہ اور دیگر فنون میں ماہر، اور کتاب و سنت سے براہِ راست احکام مستنبط کرنے والے عالم کے طور پر متعارف کرایا۔ بہت سے ائمہ کا بیان ہے کہ اپنے زمانے میں اندلس میں علومِ اسلامیہ کی جامعیت کے اعتبار سے ان کا کوئی ثانی نہ تھا، اور آپ نے مختلف علوم میں کثیر تصانیف چھوڑی ہیں، جن میں سے ‘‘المحلّٰى’’ اور ‘‘الفصل في الملل والأهواء والنحل’’ خصوصاً مشہور ہیں۔

جمہور محدثین و فقہاء کی شہادتیں: ابن حزمؒ کی علمی توثیق

➊ حافظ شمس الدین ذہبیؒ (تذکرۃ الحفاظ)

حافظ ذہبیؒ ابن حزمؒ کے بارے میں لکھتے ہیں:

ابن حزم الإمام العلامة الحافظ الفقيه المجتهد
قلت: ابن حزم رجل من العلماء الكبار فيه أدوات الاجتهاد كاملة, تقع له المسائل المحررة والمسائل الواهية كما يقع لغيره, وكل أحد يؤخذ من قوله ويترك إلا رسول الله, صلى الله عليه وآله وسلم. وقد امتحن هذا الرجل وشدد عليه وشرد عن وطنه

اردو ترجمہ:
ابن حزم امام، علامہ، حافظ، فقیہ اور مجتہد ہیں۔ میں (ذہبی) کہتا ہوں: ابن حزم بڑے اہلِ علم میں سے ایک ہیں، ان میں اجتہاد کی تمام صلاحیتیں مکمل طور پر موجود تھیں۔ دوسرے مجتہدین کی طرح ان سے بھی بعض خوب تحقیق شدہ اور بعض کمزور مسائل صادر ہوئے، جیسا کہ دوسروں سے بھی ہوتے ہیں، اور رسول اللہ ﷺ کے سوا ہر شخص کا قول لیا بھی جاتا ہے اور چھوڑا بھی جاتا ہے۔ اس مردِ علم کو آزمائشوں سے گزرنا پڑا، اس پر سختی کی گئی اور اسے اپنے وطن سے نکالا گیا۔

الكتاب: تذكرة الحفاظ

مختصر وضاحت:
یہاں حافظ ذہبیؒ نے واضح الفاظ میں ابن حزمؒ کو ‘‘الإمام، العلامة، الحافظ، الفقيه، المجتهد’’ قرار دیا اور ساتھ یہ اصول بھی بیان کیا کہ بڑے سے بڑا مجتہد بھی بعض مسائل میں غلطی کر سکتا ہے، مگر اس سے اس کی علمی امامت مجروح نہیں ہوتی۔

➋ حافظ ذہبیؒ کی ذاتی محبت اور اعترافِ فضیلت (سیر أعلام النبلاء)

حافظ ذہبیؒ ‘‘سیر أعلام النبلاء’’ میں ابن حزمؒ کے بارے میں اپنی ذاتی کیفیت یوں بیان کرتے ہیں:

وَلِي أَنَا مَيْلٌ إِلَى أَبِي مُحَمَّدٍ لمَحَبَّته فِي الحَدِيْثِ الصَّحِيْح، وَمَعْرِفَتِهِ بِهِ، وَإِنْ كُنْتُ لاَ أُوَافِقُهُ فِي كَثِيْرٍ مِمَّا يَقولُهُ فِي الرِّجَالِ وَالعلل، وَالمَسَائِل البَشِعَةِ فِي الأُصُوْلِ وَالفروع، وَأَقطعُ بخطئِهِ فِي غَيْرِ مَا مَسْأَلَةٍ، وَلَكِن لاَ أُكَفِّره، وَلاَ أُضَلِّلُهُ، وَأَرْجُو لَهُ العفوَ وَالمُسَامحَة وَللمُسْلِمِيْنَ. وَأَخضعُ لِفَرْطِ ذكَائِهِ وَسَعَة علُوْمِهِ

اردو ترجمہ:
مجھے ابو محمد (ابن حزم) سے ان کی صحیح حدیث سے محبت اور اس علم میں مہارت کی وجہ سے میلان اور محبت ہے، اگرچہ رجال، عللِ حدیث اور اصول و فروع کے بہت سے مسائل میں میں ان کی موافقت نہیں کرتا، اور کئی مسائل میں ان کی خطا پر جزم رکھتا ہوں؛ لیکن نہ میں ان کی تکفیر کرتا ہوں اور نہ انہیں گمراہ کہتا ہوں، بلکہ ان کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے عفو و درگزر کی امید رکھتا ہوں، اور ان کی غیر معمولی ذہانت اور علوم کی وسعت کے سامنے جھک جاتا ہوں۔

الكتاب: سير أعلام النبلاء

وضاحت:
یہ عبارت واضح کرتی ہے کہ ایک بڑے ناقدِ حدیث (ذہبیؒ) کے نزدیک بھی ابن حزمؒ علمی رفعت اور حدیثی معرفت کے اعتبار سے قابلِ محبت اور قابلِ تعظیم امام ہیں، اگرچہ اجتہادی خطاؤں پر علمی نقد اپنی جگہ باقی ہے۔

➌ امام حمیدیؒ (جذوة المقتبس)

امام حمیدیؒ (متوفی ٤٨٨ھ) ابن حزمؒ کے بارے میں فرماتے ہیں:

قال الحميدي: كان أبو محمد حافظًا للحديث وفقهه, مستنبطًا للأحكام من الكتاب والسنة, متفننًا في علوم جمة, عاملًا بعلمه ما رأينا مثله فيما اجتمع له من الذكاء وسرعة الحفظ وكرم النفس والتدين.

اردو ترجمہ:
حمیدی کہتے ہیں: ابو محمد ابن حزم حدیث اور اس کے فقہی مباحث کے حافظ تھے، اور کتاب و سنت سے براہِ راست احکام مستنبط کرتے تھے، بہت سے علوم میں ماہر اور اپنے علم پر عمل کرنے والے تھے۔ ہم نے ایسا شخص نہیں دیکھا جس میں ذہانت، تیز حافظہ، عالی ظرفی اور دینداری اس طرح جمع ہو گئی ہو۔

الكتاب: جذوة المقتبس في ذكر ولاة الأندلس

وضاحت:
یہ شہادت واضح طور پر ابن حزمؒ کے ‘‘حافظِ حدیث، فقیہ، مجتہد اور عامل بالعلم’’ ہونے پر دلالت کرتی ہے، اور یہ کہ ان کی شخصیت محض نظریات تک محدود نہیں بلکہ عمل سے جڑی ہوئی تھی۔

➍ ابو الحسن الشنترینی کے واسطے سے ابو مروان بن حیّان کی رائے

ابو الحسن الشنترینی اپنے شیخ ابو حیان القرطبی کے واسطے سے ابو مروان بن حیان کا قول نقل کرتے ہیں:

قال أبو مروان بن حيان: كان ابن حزم حامل فنون, من حديث وفقه وجدل ونسب وما يتعلق بأذيال الأدب مع المشاركة في أنواع التعاليم القديمة, من المنطق والفلسفة, وله كتب كثيرة لم يخل فيها من غلط لجرأته في التسور على الفنون لا سيما المنطق, فإنهم زعموا أنه زل هنالك وضل في سلوك المسالك وخالف أرسطو واضعه مخالفة من لم يفهم

اردو ترجمہ:
ابو مروان بن حیان کہتے ہیں: ابن حزم بہت سے فنون کے حامل تھے؛ حدیث، فقہ، جدل (مناظرہ)، علمِ نسب اور ادب سے متعلق علوم میں ماہر تھے، نیز قدیم تعلیمات یعنی منطق اور فلسفہ وغیرہ میں بھی انہیں حصہ حاصل تھا۔ ان کی بہت سی کتابیں ہیں جو ان کی علمی جرأت اور متعدد فنون میں جست لگانے کی وجہ سے غلطیوں سے خالی نہیں، خصوصاً منطق میں؛ اہلِ فن کا کہنا ہے کہ وہاں ان سے لغزش ہوئی اور انہوں نے منطق کے راستوں میں اس کے بانی ارسطو کی مخالفت ایسے طریقے سے کی جو گویا اس کو پوری طرح سمجھ نہ پانے والے کی مخالفت ہو۔

الكتاب: الذخيرة في محاسن أهل الجزيرة

وضاحت:
یہ عبارت دو باتوں کو جمع کرتی ہے: (١) ابن حزمؒ کی فنونِ متعددہ میں مہارت اور وسعتِ علم، (٢) بعض فلسفیانہ اور منطقی بحثوں میں لغزشوں کا اعتراف۔ یہ بالکل وہی توازن ہے جو ائمہ ناقدین کسی بڑے مجتہد کے بارے میں اختیار کرتے ہیں۔

➎ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ (لسان الميزان)

حافظ ابن حجرؒ ابن حزمؒ کا تعارف یوں کرتے ہیں:

[٥٣١] "على” بن أحمد بن سعيد بن حزم بن غالب بن صالح بن خلف بن معدان بن سفيان بن يزيد الفارسي أبو محمد القرطبي اللبلي بفتح اللام وسكون الموحدة ثم لام الفقيه الحافظ الظاهري صاحب التصانيف —- وكان واسع الحفظ جدا إلا أنه لثقة حافظت كان يهجم كالقول في التعديل والتخريج وتبين أسماء الراوة فيقع له من ذلك أوهام شنيعة

اردو ترجمہ:
(۵۳۱) علی بن احمد بن سعید بن حزم بن غالب بن صالح بن خلف بن معدان بن سفیان بن یزید فارسی، ابو محمد قرطبی لَبْلی، فقیہ، حافظ، ظاہری، اور متعدد تصانیف کے مصنف تھے۔ ان کا حافظہ بہت ہی وسیع تھا، لیکن اپنے حافظہ پر اعتماد کی وجہ سے وہ تعدیل، تخریج اور رواة کے اسماء واضح کرنے میں جلدی سے بات کہہ دیتے، جس سے ان سے بعض سخت قسم کے اوہام بھی سرزد ہو جاتے تھے۔

الكتاب: لسان الميزان
المؤلف: أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني (المتوفى: ٨٥٢هـ)

وضاحت:
ابن حجرؒ نے ایک طرف ابن حزمؒ کو ‘‘الفقيه الحافظ الظاهري صاحب التصانيف’’ قرار دیا اور ان کے وسیع حفظ پر زور دیا، دوسری طرف نقد کے پہلو سے یہ بھی واضح کیا کہ حافظہ پر اعتماد کی بنا پر بعض اوہام بھی واقع ہوئے۔ یہی منہجِ محدثین ہے کہ توثیق کے ساتھ علمی نقد بھی بیان کرتے ہیں۔

➏ علامہ ابن کثیرؒ (البداية والنهاية)

علامہ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں:

ابْنُ حَزْمٍ الظَّاهِرِيُّ
هُوَ الْإِمَامُ الْحَافِظُ الْعَلَّامَةُ، أَبُو مُحَمَّدٍ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ حَزْمِ —– فَقَرَأَ الْقُرْآنَ وَاشْتَغَلَ بالعلوم النافعة الشرعية، وبرز فيها وفاق أهل زمانه، —— وَكَانَ مُصَاحِبًا لِلشَّيْخِ أَبِي عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْبَرِّ النَّمِرِيِّ،

اردو ترجمہ:
ابن حزم ظاہری: وہ امام، حافظ، علامہ ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم ہیں۔۔۔ انہوں نے قرآن پڑھا اور نافع دینی علوم میں مشغول رہے، اور ان علوم میں اپنے زمانے کے اہلِ علم پر سبقت لے گئے۔۔۔ اور شیخ ابو عمر ابن عبدالبر نمری کے ساتھی اور ہم عصر تھے۔

الكتاب: البداية والنهاية
المؤلف: أبو الفداء إسماعيل بن عمر بن كثير القرشي الدمشقي (المتوفى: ٧٧٤هـ)

وضاحت:
ابن کثیرؒ نے ‘‘الإمام، الحافظ، العلامة’’ کہہ کر ابن حزمؒ کی علمی امامت کا اعتراف کیا اور بتایا کہ وہ اپنے دور کے ائمہ مثلاً ابن عبدالبرؒ کے ہم پلہ بزرگ تھے۔

➐ ابو نصر ابن ماکولاؒ (الإكمال)

ابو نصر ابن ماکولاؒ لکھتے ہیں:

أبو محمد علي بن أحمد بن سعيد بن حزم، كان فاضلًا في الفقه حافظًا للحديث مصنفًا فيه وله اختيار في الفقه على طريقة الحديث، روى عن جماعة من الأندلسيين كثيرة وله شعر ورسائل،

اردو ترجمہ:
ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم فقہ میں فاضل، حدیث کے حافظ اور اس (حدیث) میں مصنف تھے، اور فقہ میں ان کا منہج حدیث کے طریق کے مطابق تھا۔ انہوں نے اندلس کے بہت سے علماء سے روایت کی، اور ان کے اشعار اور رسائل بھی ہیں۔

الكتاب: الإكمال في رفع الارتياب عن المؤتلف والمختلف في الأسماء والكنى والأنساب
المؤلف: سعد الملك، أبو نصر علي بن هبة الله بن جعفر بن ماكولا (المتوفى: ٤٧٥هـ)

وضاحت:
یہ شہادت خصوصاً اس بات پر زور دیتی ہے کہ ابن حزمؒ کی فقہ ‘‘فقہ الحدیث’’ پر مبنی تھی، یعنی وہ براہِ راست آثار و احادیث سے احکام اخذ کرتے تھے، جو کہ اہلِ حدیث کا نمایاں منہج ہے۔

➑ برہان الدین ابن مفلحؒ (المقصد الأرشد)

برہان الدین ابن مفلحؒ لکھتے ہیں:

٦٩٨ – عَليّ بن أَحْمد بن سعيد بن حزم الْأمَوِي الْفَارِسِي الأَصْل ثمَّ الأندلسي الفرضي الشَّيْخ الإِمَام أَبُو مُحَمَّد —- روى عَن جمَاعَة مِنْهُم يُونُس بن عبد الله القَاضِي وَعنهُ أَبُو عبد الله الْحميدِي — وَكَانَ إِلَيْهِ الْمُنْتَهى فِي الذكاء وَالْحِفْظ وَكَثْرَة الْعلم وَكَانَ متفننا فِي عُلُوم جمة وَله التصانيف الفاخرة فِي عُلُوم شَتَّى حَتَّى فِي الْمنطق

اردو ترجمہ:
علی بن احمد بن سعید بن حزم اموی، اصلًا فارسی، پھر اندلسی، فرضی (علم الفرائض کے ماہر)، شیخ الامام ابو محمد۔۔۔ انہوں نے بہت سے لوگوں سے روایت کی، جن میں سے یونس بن عبداللہ قاضی ہیں، اور ان سے ابو عبداللہ حمیدی نے روایت کی۔۔۔ ذہانت، حافظہ اور کثرتِ علم میں ان پر انتہا ہوتی تھی، متعدد علوم میں ماہر تھے، اور مختلف علوم میں حتی کہ منطق میں بھی ان کی شاندار تصانیف تھیں۔

الكتاب: المقصد الأرشد في ذكر أصحاب الإمام أحمد
المؤلف: برهان الدين إبراهيم بن محمد بن عبد الله ابن مفلح (المتوفى: ٨٨٤هـ)

وضاحت:
ابن مفلحؒ نے ابن حزمؒ کو ‘‘الشَّيخ الإِمَام’’، انتہائی ذہین، قوی الحافظہ، کثیر العلم اور متعدد علوم میں متفنن قرار دیا، جو ان کی جامعیت علم پر روشن دلیل ہے۔

➒ ابو العباس ابن خَلِّکانؒ (وفيات الأعيان)

ابن خَلِّکانؒ لکھتے ہیں:

ابن حزم الظاهري
أبو محمد علي بن أحمد بن سعيد بن حزم —- وكان حافظاً عالماً بعلوم الحديث وفقهه، مستنبطاً للأحكام من الكتاب والسنة بعد أن كان شافعي المذهب، فانتقل إلى مذهب أهل الظاهر، وكان متفنناً في علوم جمة، عاملاً بعلمه،

اردو ترجمہ:
ابن حزم ظاہری، ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم۔۔۔ وہ حدیث اور اس کے فقہی مباحث کے حافظ و عالم تھے، کتاب و سنت سے احکام مستنبط کرتے تھے۔ پہلے شافعی المذہب تھے، پھر اہلِ ظاہر کے مذہب کی طرف منتقل ہوگئے، بہت سے علوم میں ماہر اور اپنے علم پر عمل کرنے والے تھے۔

الكتاب: وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان
المؤلف: أبو العباس شمس الدين أحمد بن محمد بن إبراهيم ابن خلكان (المتوفى: ٦٨١هـ)

وضاحت:
یہاں ابن خَلِّکانؒ نے واضح کیا کہ ابن حزمؒ کی فقہی بنیاد براہِ راست کتاب و سنت پر تھی، اور ان کا ظاہری مسلک بھی اسی نصوص پسندی کا اظہار ہے، نہ کہ محض ظاہریت برائے ظاہریت۔

➓ ابن خیر الاشبیلیؒ (فہرست ابن خیر)

ابن خیر الاشبیلیؒ لکھتے ہیں:

١٢٢٣ – فهرسة الشَّيخ الْفَقِيه الْحَافِظ أبي مُحَمَّد عَليّ بن أَحْمد بن سعيد بن حزم الْفَارِسِي الْمُحدث رَحمَه الله

اردو ترجمہ:
یہ شیخ فقیہ، حافظ، محدث ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم فارسی رحمہ اللہ کی فہرست ہے۔

الكتاب: فهرسة ابن خير الإشبيلي
المؤلف: أبو بكر محمد بن خير بن عمر الأموي الإشبيلي (المتوفى: ٥٧٥هـ)

وضاحت:
یہ مختصر تعارف بھی ‘‘الشیخ الفقیه الحافظ المحدّث’’ کے الفاظ کے ساتھ ابن حزمؒ کے علمی مقام کو ظاہر کرتا ہے۔

⑪ ابن العماد الحنبلیؒ (شذرات الذهب)

ابن العماد العکری الحنبلیؒ لکھتے ہیں:

هو علي بن أحمد بن سعيد بن حزم الظاهري، أبو محمد، عالم الأندلس في عصره، وأحد الأئمة الإسلام، —–، فقيها، حافظا، يستنبط الأحكام من الكتاب والسّنّة، بعيدا عن المصانعة.

اردو ترجمہ:
یہ علی بن احمد بن سعید بن حزم ظاہری ابو محمد ہیں، جو اپنے زمانے میں اندلس کے سب سے بڑے عالم اور ائمۂ اسلام میں سے تھے۔ فقیہ، حافظ، کتاب و سنت سے احکام مستنبط کرنے والے اور لوگوں کی خوشامد و بناوٹ سے دور تھے۔

الكتاب: شذرات الذهب في أخبار من ذهب
المؤلف: عبد الحي بن أحمد بن محمد ابن العماد العَكري الحنبلي، أبو الفلاح (المتوفى: ١٠٨٩هـ)

وضاحت:
یہ عبارت ابن حزمؒ کو ‘‘عالم الأندلس في عصره’’ اور ‘‘أحد الأئمة الإسلام’’ قرار دیتی ہے، جو ان کی امامتِ دینیہ پر بہت بڑی گواہی ہے۔

⑫ ابو جعفر الضبیؒ (بغية الملتمس)

ابو جعفر الضبیؒ لکھتے ہیں:

١٢٠٥- علي بن أحمد بن سعيد بن حزم بن غالب أبو محمد
أصله من الفرس وجده الأقصى في الإسلام اسمه يزيد مولى ليزيد بن أبي سفيان
كان حافظاً عالماً بعلوم الحديث وفقهه مستنبطاً للأحكام من الكتاب والسنة متفنناً في علوم جمة، عاملاً بعلمه زاهداً في الدنيا بعد الرئاسة التي كانت له ولأبيه من قبله في الوزارة وتدبير المماليك، متواضعاً ذا فضائل جمة وتواليف كثيرة في كل ما تحقق به من العلوم، وجمع من الكتب في علم الحديث والمصنفات والمسندات شيئاً كثيراً وسمع سماعاً جماً،

اردو ترجمہ:
علی بن احمد بن سعید بن حزم بن غالب ابو محمد۔۔۔ ان کا اصل نسب فارس سے تھا، اور اسلام میں ان کے سب سے اوپر کے جد کا نام یزید تھا جو یزید بن ابی سفیان کا مولیٰ تھا۔ وہ حدیث اور فقہ کے علوم کے حافظ و عالم تھے، کتاب و سنت سے احکام مستنبط کرتے، بہت سے علوم میں ماہر اور اپنے علم پر عمل کرنے والے تھے، دنیا سے زہد رکھنے والے تھے، حالانکہ ان کو اور ان کے والد کو پہلے وزارت اور مملوکوں کے انتظام میں بڑی ریاست حاصل رہی۔ بعد میں انہوں نے دنیا سے رخ موڑا، بہت متواضع، بے شمار خوبیوں کے مالک تھے، اور جن علوم میں بھی انہوں نے تحقیق کی ان سب میں بہت سی تصانیف لکھیں۔ علمِ حدیث، مصنفات اور مسانید میں انہوں نے بہت سی کتابیں جمع کیں اور بے شمار احادیث سنیں۔

الكتاب: بغية الملتمس في تاريخ رجال أهل الأندلس
المؤلف: أحمد بن يحيى بن أحمد بن عميرة، أبو جعفر الضبي (المتوفى: ٥٩٩هـ)

وضاحت:
یہ شہادت ابن حزمؒ کی زہد و عبادت، تواضع، عمل بالعلم، کثرتِ تصانیف اور حدیثی سرمایہ جمع کرنے کی کوششوں کو بھرپور انداز میں بیان کرتی ہے۔

⑬ ابن القطان الفاسیؒ (بيان الوهم والإيهام)

ابن القطان الفاسیؒ لکھتے ہیں:

(٥٥) أَبُو مُحَمَّد:
عَليّ بن أَحْمد بن سعيد بن حزم، الْحَافِظ، الْفَقِيه على مَذْهَب أهل الظَّاهِر،
برع فِي الْفِقْه، والْحَدِيث، والتاريخ، والآداب، وَهُوَ من بَيت وزارة، ووزر بِنَفسِهِ لبَعض مُلُوك الأندلس، ثمَّ تخلى لطلب الْعلم والانفراد لَهُ، ومولده آخر يَوْم من رَمَضَان، سنة أَربع وثماني وثلاثمائة، وَمَات سنة سِتّ وَخمسين وَأَرْبَعمِائَة.

اردو ترجمہ:
(۵۵) ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم، اہلِ ظاہر کے مذہب پر حافظ اور فقیہ تھے۔ فقہ، حدیث، تاریخ اور آداب میں ماہر تھے۔ وہ وزارت والے گھرانے سے تھے اور خود بھی اندلس کے بعض بادشاہوں کے وزیر رہے، پھر علم کے طلب اور اس کے لیے یکسو ہونے کی خاطر وزارت چھوڑ دی۔ ان کی ولادت رمضان کے آخری دن سن ٣٨٤ھ میں ہوئی اور ٤٥٦ھ میں وفات پائی۔

الكتاب : بيان الوهم والإيهام في كتاب الأحكام
المؤلف : علي بن محمد بن عبد الملك الكتامي الحميري الفاسي، أبو الحسن ابن القطان (المتوفى : ٦٢٨هـ)

وضاحت:
یہ عبارت ابن حزمؒ کی فقہی، حدیثی اور تاریخی مہارت کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی کے اہم تاریخی کوائف بھی فراہم کرتی ہے، اور یہ بتاتی ہے کہ انہوں نے دنیاوی منصب چھوڑ کر خود کو علم کے لیے وقف کر دیا۔

⑭ تقی الدین مقریزیؒ (إمتاع الأسماع)

تقی الدین مقریزیؒ لکھتے ہیں:

وقال الحافظ الفقيه أبو محمد علي بن أحمد بن سعيد بن حزم: وأما شريعة
وقد أفرد الفقيه الحافظ أبو محمد على بن أحمد بن سعيد بن حزم أسماءهم في جزء

اردو ترجمہ (اجمالی):
حافظ فقیہ ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم نے فرمایا: ‘‘جہاں تک شریعت کا تعلق ہے۔۔۔’’ اور انہوں (ابن حزم) نے فقیہ حافظ ہونے کے ناطے ان کے اسماء کو ایک مستقل جزو میں جمع کر دیا ہے۔

الكتاب: إمتاع الأسماع بما للنبي من الأحوال والأموال والحفدة والمتاع
المؤلف: أحمد بن علي بن عبد القادر، أبو العباس الحسيني العبيدي، تقي الدين المقريزي (المتوفى: ٨٤٥هـ)

وضاحت:
یہاں مقریزیؒ ابن حزمؒ کو ‘‘الحافظ الفقيه’’ کہہ کر ان کی علمی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں اور اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے متعلق ایک خاص باب میں اسماء و روایات کو مستقل رسالہ کی صورت میں جمع کیا۔

⑮ ابو محمد الیافعیؒ (مرآة الجنان)

ابو محمد الیافعیؒ لکھتے ہیں:

وفيها توفي الإمام العلامة أبو محمد علي بن أحمد بن سعيد بن حزم الظاهري الأموي مولاهم،
وكان إليه المنتهى في الذكاء وحدة الذهن، وسعة العلم بالكتاب والسنة، والمذاهب والملل والنحل، والعربية والأدب، والمنطق والشعر، مع الصدق والديانة والحشمة، والسؤدد والرئاسة والثروة وكثرة الكتب

اردو ترجمہ:
اسی سال امام، علامہ ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم ظاہری اموی مولاہم کا انتقال ہوا۔ ذہانت، دماغ کی تیزی، کتاب و سنت، مذاہب، ملل و نحلہ، عربی زبان و ادب، منطق اور شاعری کے وسیع علم میں ان پر انتہاء تک اعتماد کیا جاتا تھا۔ صدق، دیانت، وقار، سرداری، مالداری اور کثرتِ کتب میں بھی وہ ممتاز تھے۔

الكتاب: مرآة الجنان وعبرة اليقظان في معرفة ما يعتبر من حوادث الزمان
المؤلف: أبو محمد عفيف الدين عبد الله بن أسعد اليافعي (المتوفى: ٧٦٨هـ)

وضاحت:
یہ شہادت ابن حزمؒ کی علمی جامعیت کے ساتھ ساتھ ان کے اخلاقی اوصاف (صدق، دیانت، حشمت) اور سماجی مقام (سؤدد، رئاسة، ثروة) کو بھی نمایاں کرتی ہے۔

⑯ جلال الدین سیوطیؒ (طبقات الحفاظ)

جلال الدین سیوطیؒ لکھتے ہیں:

٩٨١ – ابْن حزم الإِمَام الْعَلامَة الْحَافِظ الْفَقِيه أَبُو مُحَمَّد عَليّ بن أَحْمد بن سعيد بن حزم —– وسعة الدائرة فِي الْعُلُوم أجمع أهل الأندلس قاطبة لعلوم الْإِسْلَام وأوسعهم مَعَ توسعه فِي عُلُوم اللِّسَان والبلاغة وَالشعر وَالسير وَالْأَخْبَار
لَهُ الْمحلى على مذْهبه واجتهاده وَشَرحه الْمحلى والملل

اردو ترجمہ:
(۹۸۱) ابن حزم امام، علامہ، حافظ، فقیہ، ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم ہیں۔۔۔ علوم کی وسعت کے اعتبار سے وہ اہلِ اندلس میں بالاتفاق سب سے زیادہ اسلامی علوم کے عالم تھے، اور اسی کے ساتھ زبان، بلاغت، شعر، سیرت اور تاریخ کے علوم میں بھی سب سے وسیع علم رکھتے تھے۔ ان کی کتاب ‘‘المحلّٰى’’ ان کے مذہب اور اجتہاد پر مبنی ہے، اور ‘‘الملل’’ وغیرہ کی شرح بھی انہی کی تصنیف ہے۔

الكتاب: طبقات الحفاظ
المؤلف: عبد الرحمن بن أبي بكر، جلال الدين السيوطي (المتوفى: ٩١١هـ)

وضاحت:
سیوطیؒ جیسے متأخر حافظِ حدیث کا یہ اعتراف کہ ابن حزمؒ اہلِ اندلس میں اسلامی علوم کے سب سے وسیع عالم تھے، ان کی علمی امامت پر ایک اجماعی مزاج کی نشاندہی کرتا ہے۔

نتیجہ اور خلاصہ

مندرجہ بالا تمام نقول اور شہادتوں سے درج ذیل نکات واضح طور پر ثابت ہوتے ہیں:

١۔ حافظ ابن حزم الاندلسیؒ جمہور محدثین، فقہاء اور مؤرخین کے نزدیک ‘‘الإمام، العلامة، الحافظ، الفقيه، المجتهد’’ درجے کے عالم ہیں؛ یعنی محض ایک عام مؤلف یا غیر معروف فقیہ نہیں بلکہ ائمۂ اسلام میں شمار ہوتے ہیں۔

٢۔ تقریباً ہر بڑے رجالی و تاریخی امام (ذہبی، ابن حجر، ابن کثیر، ابن عبدالبر کے معاصرین و تلامذہ، ابن مفلح، ابن خَلِّکان، ابن العماد، سیوطی وغیرہ) نے ان کے حفظ، فقہ، اجتہاد، حدیثی معرفت، علمی جامعیت، زہد و تقویٰ اور کثرتِ تصانیف پر صریح الفاظ میں گواہی دی ہے، اگرچہ بعض اجتہادی خطاؤں اور بعض فنون (خصوصاً منطق) میں لغزشوں کا بھی ذکر کیا ہے۔

٣۔ اہلِ علم کا منہج یہی ہے کہ وہ کسی بھی بڑے مجتہد کے بارے میں ‘‘توثیق مع نقد’’ کرتے ہیں؛ یعنی بنیادی عدالت، دیانت اور امامت کو تسلیم کرتے ہوئے جزوی مسائل میں اختلاف اور خطا کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ابن حزمؒ کے ساتھ بھی ائمہ نے یہی رویہ اختیار کیا، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اصولاً وہ ثقہ، معتبر اور قابلِ اعتماد امام ہیں۔

٤۔ اس لیے ابن حزمؒ کے اقوال و فتاویٰ کو علمی بحث میں دلیل کے طور پر پیش کرنا، یا ان کی حدیثی و فقہی آراء سے استدلال کرنا منہجِ اہلِ علم کے عین مطابق ہے، بشرطیکہ ان کے اجتہادی اقوال کو دیگر ائمہ کی آراء اور دلائل کے ساتھ تول کر قبول یا رد کیا جائے؛ بالکل اسی طرح جیسے دیگر مجتہدین (امام مالک، شافعی، احمد، ابو حنیفہ، اوزاعی، لیث وغیرہ) کے اقوال کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

٥۔ خلاصہ یہ کہ حافظ ابن حزمؒ کی ذات پر انکار یا بے اعتباری کی عمومی مہم جمہور محدثین و فقہاء کے منقول اقوال کے خلاف ہے۔ ائمۂ حدیث نے انہیں امام، حافظ، فقیہ اور مجتہد تسلیم کیا ہے، اس لیے ان سے اختلاف کا درست طریقہ یہ ہے کہ دلیل کے ساتھ ان کے مخصوص اجتہادات کی تردید کی جائے، نہ یہ کہ ان کی پوری علمی شخصیت کو ہی مشکوک بنا دیا جائے۔ یہی اہلِ انصاف اور اہلِ علم کا منہج ہے۔

اہم حوالاجات کے سکین

حافظ ابن حزم الاندلسی کی ثقاہت پر 16 جمہور محدثین و فقہاء کی شہادتیں – 01 حافظ ابن حزم الاندلسی کی ثقاہت پر 16 جمہور محدثین و فقہاء کی شہادتیں – 02 حافظ ابن حزم الاندلسی کی ثقاہت پر 16 جمہور محدثین و فقہاء کی شہادتیں – 03 حافظ ابن حزم الاندلسی کی ثقاہت پر 16 جمہور محدثین و فقہاء کی شہادتیں – 04 حافظ ابن حزم الاندلسی کی ثقاہت پر 16 جمہور محدثین و فقہاء کی شہادتیں – 05 حافظ ابن حزم الاندلسی کی ثقاہت پر 16 جمہور محدثین و فقہاء کی شہادتیں – 06 حافظ ابن حزم الاندلسی کی ثقاہت پر 16 جمہور محدثین و فقہاء کی شہادتیں – 07 حافظ ابن حزم الاندلسی کی ثقاہت پر 16 جمہور محدثین و فقہاء کی شہادتیں – 08 حافظ ابن حزم الاندلسی کی ثقاہت پر 16 جمہور محدثین و فقہاء کی شہادتیں – 09 حافظ ابن حزم الاندلسی کی ثقاہت پر 16 جمہور محدثین و فقہاء کی شہادتیں – 10 حافظ ابن حزم الاندلسی کی ثقاہت پر 16 جمہور محدثین و فقہاء کی شہادتیں – 11 حافظ ابن حزم الاندلسی کی ثقاہت پر 16 جمہور محدثین و فقہاء کی شہادتیں – 12 حافظ ابن حزم الاندلسی کی ثقاہت پر 16 جمہور محدثین و فقہاء کی شہادتیں – 13 حافظ ابن حزم الاندلسی کی ثقاہت پر 16 جمہور محدثین و فقہاء کی شہادتیں – 14 حافظ ابن حزم الاندلسی کی ثقاہت پر 16 جمہور محدثین و فقہاء کی شہادتیں – 15 حافظ ابن حزم الاندلسی کی ثقاہت پر 16 جمہور محدثین و فقہاء کی شہادتیں – 16 حافظ ابن حزم الاندلسی کی ثقاہت پر 16 جمہور محدثین و فقہاء کی شہادتیں – 17

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔