مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

جیب میں ناپاک چیز رکھ کر نماز پڑھ لی، کیا حکم ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

جیب میں ناپاک چیز رکھ کر نماز پڑھ لی، کیا حکم ہے؟

جواب:

جان بوجھ کر ایسا کرنے پر نماز کا اعادہ چاہیے، البتہ اگر بھول کر نماز پڑھ لی، تو نماز ہو جائے گی۔
❀ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى فى نعليه، فصلى الناس فى نعالهم، ثم ألقى نعليه، فألقى الناس نعالهم وهم فى الصلاة، فلما قضى صلاته قال: ما حملكم على إلقاء نعالكم فى الصلاة؟ قالوا: يا رسول الله، رأيناك فعلت ففعلنا، قال: إن جبريل أخبرني أن فيها أذى، فإذا أتى أحدكم المسجد فلينظر فإن رأى فى نعليه أذى، وإلا فليصل فيهما.
”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے پہن کر نماز پڑھائی، صحابہ کرام نے بھی جوتوں سمیت نماز ادا کی، پھر دوران نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے اتار دیے، یہ دیکھ کر صحابہ نے بھی جوتے اتار دیے، نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نے جوتے کیوں اتارے؟ صحابہ نے عرض کیا، اللہ کے رسول! آپ کو دیکھا تو اتار دیے، فرمایا: مجھے جبریل نے بتایا تھا کہ جوتا نجاست آلود ہے، آپ مسجد آنے سے قبل جوتا دیکھ لیا کریں، اس میں نجاست ہو، تو اتار دیا کریں، ورنہ اسی میں نماز ادا کر لیا کریں۔“
(مسند الطيالسي، ص 286، مسند الإمام أحمد: 20/3، سنن أبي داود: 650، مسند ابن حميد: 880، مسند أبي يعلى: 1194، السنن الكبرى للبيهقي: 406/2، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ (1017) اور امام ابن حبان (2185) نے ”صحیح “کہا ہے، حافظ حاکم (260/1) نے اسے امام مسلم کی شرط پر ”صحیح “کہا ہے، حافظ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔
❀ حافظ نووی نے بھی اس کی سند کو ”صحیح “کہا ہے۔
(خلاصة الأحكام: 319/1)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاست آلود جوتے میں جتنی نماز ادا کی، علم ہو جانے کے بعد اس کا اعادہ نہیں کیا۔ یہی معاملہ اس شخص کا ہے، جو جیب میں ناپاک چیز رکھ کر نماز ادا کر لے، معلوم ہونے کے بعد اس نماز کا اعادہ نہیں کرے گا۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔