جیب میں قرآن یا دعائیں رکھ کر بیت الخلاء جانے کا حکم

فتاوی علمیہ، جلد 1، كتاب العقائد، صفحہ 197

سوال:

اگر کسی کی جیب میں اللہ کا نام، قرآن کی کوئی سورت یا دعاؤں کی کتاب ہو تو کیا وہ پیشاب یا پاخانے کے لیے جا سکتا ہے؟ جبکہ یہ روایت کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء جاتے وقت انگوٹھی اتارتے تھے، ضعیف ہے۔

الجواب:

الحمدللہ، والصلاة والسلام علی رسول اللہ، أما بعد!

انگوٹھی اتارنے والی روایت ضعیف اور منکر ہے:

"دیکھئے: سنن ابی داود، حدیث 19، نیل المقصود”

قرآن کی کسی سورت یا دعاؤں کی کتاب لے کر بیت الخلاء جانے کا حکم:

  • اس بارے میں اجتہاد کیا جا سکتا ہے۔
  • بہتر یہی ہے کہ قرآن یا مقدس الفاظ کو کسی محفوظ جگہ پر رکھ کر بیت الخلاء میں داخل ہوا جائے، تاکہ ان کا ادب و احترام باقی رہے۔

واللہ اعلم بالصواب

(شہادت، جنوری 2003ء)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️