مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

جہیزِ فاطمہؓ سے متعلق حدیث کی سند اور صحت کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

ہفت روزہ غزوہ میں عبد الرزاق زاہد صاحب سیالکوٹی کا جہیز کے عنوان پر ایک مضمون طبع ہوا ہے، جس میں انھوں نے جہیز فاطمہ سے متعلق مروی حدیث کو ابو اسامہ اور زائدہ کی وجہ سے ضعیف کہا ہے اور ایک دوسری سند میں انقطاع کا حکم لگایا ہے، جبکہ محمد بن فضیل پر شیعہ ہونے کا الزام لگایا ہے۔ کیا فاضل موصوف کی اس حدیث پر یہ جرح صحیح ہے؟ دلائل کی رو سے اس کی توضیح فرمادیں۔

جواب:

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کے موقع پر جو نیکی، چکی، مشکیزہ اور دو تکیے دیے، یہ حدیث بالکل صحیح ہے، اس پر کسی قسم کا کوئی غبار اور علت قادحہ موجود نہیں، اس حدیث کو امام احمد ابن حنبل نے اپنی مسند میں پانچ جگہ اور امام نسائی نے سنن صغریٰ و کبریٰ میں، ابن ماجہ نے اپنی سنن (4152) میں، ضیاء نے المختارہ میں، ابن سعد نے الطبقات الكبرىٰ میں، ابن حبان نے اپنی صحیح میں، بيهقي نے دلائل النبوة (171/3) میں، هارون نے مسند میں، حاکم نے ”المستدرك على الصحيحين“ میں، ابن كثير نے جامع المسانيد والسنن میں اور امام احمد نے فضائل الصحابة میں بھی بیان کیا ہے۔ یہ روایت کئی طرق سے مروی ہے، جن میں سے امام احمد کی ایک سند یہ ہے:
حدثنا أبو أسامة، أنبأنا زائدة، حدثنا عطاء بن السائب، عن أبيه، عن على رضى الله عنه
(مسند أحمد (84/1، ج : 643)
مولانا عبد الرزاق زاہد صاحب اس سند پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اس سند میں ابو اسامہ پر بڑی شدید جرح ہے، نرم ترین حکم اس پر صدوق کا لگتا ہے۔“ مولانا محترم کی یہ بات بعید از انصاف اور علم رجال سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ اس لیے کہ ابو اسامہ کے نام سے کتب رجال میں تین آدمی معروف ہیں:
① ابو اسامہ الحجام، ان کا نام زید ہے اور یہ نسائی کے راوی ہیں، انھوں نے عکرمہ مولیٰ ابن عباس وغیرہ سے روایت کی ہے اور ان سے جنید الحجام وغیرہ نے روایت کی ہے۔ اسے امام يحيى بن معين، امام ابو حاتم اور امام ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے۔ (تهذيب الكمال) امام بخاري رحمہ اللہ نے ”صدوق“ کہا ہے۔ (العلل الكبير للترمذي)
ابن حجر رحمہ اللہ نے فرماتے ہیں: ”ثقہ ہے۔“ (تقريب) لہذا یہ راوی ثقہ و صدوق ہے، لیکن مذکورہ روایت میں یہ ابو اسامہ مراد نہیں، کیونکہ اس کے اساتذہ میں زائدہ اور شاگردوں میں امام احمد نہیں ہے۔
② ابو اسامہ الرقي الحعي، اس کا نام زید بن علی بن دينار ہے، یہ بھی نسائی کا راوی ہے، اس نے جعفر بن برقان سے روایت کی ہے اور اس سے اس کے بیٹے محمد بن ابي اسامة الرقي اور مغيرة بن عبد الرحمان الحراني نے روایت لی ہے۔ اسے ابن حبان نے كتاب الثقات میں درج کیا ہے اور امام دار قطني نے ثقہ قرار دیا ہے۔ (تهذيب الكمال مع حاشية) ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”صدوق ہے۔“ (تقريب مع تحرير (436/1))
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ پر تعاقب کرتے ہوئے دکتور بشار عواد لکھتے ہیں: بل ثقة ولقه الدار قطني بلکہ یہ راوی ثقہ ہے، اسے امام دار قطني نے ثقة قرار ديا ہے۔“ (تحرير تقريب التهذيب (126/1)) لہذا یہ راوی بھی ثقہ ہے، لیکن مذکورہ بالا حدیث میں یہ بھی مراد نہیں ہے، کیونکہ اس کے اساتذہ میں زائدہ اور طلبہ میں احمد بن حنبل نہیں آتے۔
③ ابو اسامہ حماد بن اسامہ القرشي الكوفي، اس نے زائدہ بن قدامة، ابو اسحاق الفزاري، سفيان الثوري، اعمش، شعبة، عبد الرزاق وغیرہم جیسے اکابر محدثین سے روایت کی ہے اور اس سے امام احمد بن حنبل، امام اسحاق بن راہويه، حميدي، ابو بكر بن ابي شيبة، عبد الرحمان بن مہدي اور محمد بن يحيى الشافعي وغیرہم نے روایت کی ہے۔ یہ کتب ستہ کے راوی اور زبردست ثقہ ہیں۔ امام احمد بن حنبل، امام يحيى بن معين، محمد بن عبد الله الموصلي، سفيان، ابن سعد، ابن قانع، دار قطني اور ابن حجر عسقلاني رحمہ اللہ نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے۔
زیر بحث روایت کے راوی ابو اسامہ ہیں، ان کی ثقاہت میں ذرہ بھر بھی کلام نہیں۔ مولانا عبد الرزاق صاحب پر لازم ہے کہ ان پر شدید جرح ثابت کریں اور اگر وہ ان کے علاوہ کوئی اور ابو اسامہ سمجھتے ہیں تو کتب رجال سے اس کا تعین کریں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان کے بقول اگر ابو اسامہ صدوق ہیں تو وہ بھی حسن الحدیث ہوتے ہیں، جیسا کہ کتب اصول میں مرقوم ہے۔ پھر یہ اس روایت کو بیان کرنے میں متفرد بھی نہیں۔ زائدہ سے روایت کرنے میں ابو سعيد مولى بني هاشم اور معاوية بن عمرو نے ان کی متابعت بھی کر رکھی ہے، مسند احمد وغیرہ ملاحظہ کر لیں۔ بعض لوگوں نے ان پر تدليس کا الزام لگایا ہے، لیکن یہ مردود ہے، اس لیے کہ اسے ازدي نے بیان کیا ہے اور ازدي خود ضعيف ہے اور پھر ازدي کی روایت کے مطابق ابو اسامہ نے تدليس چھوڑ دی تھی۔ (ميزان (588/1)) اور ابن سعد کے بقول اپنی تدليس واضح کر دیتے تھے۔ (طبقات المدلسين (رقم 44)) اگر انھیں اس بھی مان لیا جائے تو قاعدہ ہے کہ جس روایت میں راوی اپنے استاذ سے سننے کی وضاحت کر دے تو اس کی تدليس والی علت ختم ہو جاتی ہے اور اس روایت میں انھوں نے اپنے استاذ زائدہ سے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، جیسا کہ مسند احمد میں موجود ہے۔
دوسرا اعتراض اس روایت پر عبد الرزاق صاحب نے یہ کیا ہے کہ ”زائده“ پر منکر الحديث کا حکم کتب جرح و تعديل میں وارد ہے۔ یہ بھی مولانا موصوف کی علم حديث سے ناواقفيت کی دليل ہے، اس لئے کہ اس سند میں زائدہ بن قدامة راوی ہیں، جو کتب ستہ کے راوی ہیں، صحيح بخاري و صحيح مسلم میں ان کی روایات بکثرت موجود ہیں اور ان کی ثقاہت مسلمہ ہے، ملاحظہ ہو تهذيب الكمال وغيره۔
جس زائدہ پر منکر الحديث ہونے کی جرح ہے وہ زائدہ بن ابي الرقاد البابلي ہے، جیسے امام بخاري نے تاريخ كبير میں اور نسائي نے ضعفاء میں منکر الحديث قرار ديا ہے۔ مولانا موصوف نے یہ سمجھا ہی نہیں کہ سند میں زائدہ سے مراد کون ہے؟ جو زائدہ عطاء بن سائب کے شاگرد اور ابو اسامہ کے استاذ ہیں وہ زائدہ بن قدامة ہیں۔ کاش مولانا محترم نے کتب رجال کو کھنگالا ہوتا اور دو صحيح وضعيف کی پہچان رکھتے ہوتے، ان کا اصل مضمون مجھے بعض تلامذہ نے دکھایا ہے۔ جس میں سيائے جوش بدون جوش کچھ بھی نہیں اور وہ علمي اعتبار سے پايہ ثبوت سے ساقط ہے۔ انھوں نے اس کی جو دوسری سند ذکر کی ہے وہ واصل بن عبد الأعلى از محمد بن فضيل، از عطاء بن سائب از سيدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہے۔ اس کے بارے لکھتے ہیں: ”اس سند میں سب سے پہلے تو انقطاع ہے کہ عطاء بن سائب کی سيدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات مخدوش اور مشکوک ہے اور نہ بھی ہو تو اس کا اعتبار نہیں کہ بذات خود یہ قابل حجت نہیں۔“ یہ بات بھی مولانا محترم کی نادانی پر دلالت ہے۔ کیونکہ سنن ابن ماجہ، باب ضباع آل محمد (4152) میں عطاء بن السائب عن أبيه عن علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ نیز ملاحظہ ہو تحفة الأشراف (376/7) اور المسند الجامع (362/261/13) وغیرہما، لہذا اس میں انقطاع نہیں اتصال ہے اور بغیر واسطے والی سند کا حوالہ مولانا کے ذمہ ہے۔ دوسری بات انھوں نے یہ لکھی ہے: ”اس کا اعتبار نہیں کہ وہ بذات خود قابل حجت نہیں۔“ حالانکہ ایسا نہیں، عطاء بن سائب ثقہ و قابل حجت ہیں۔
ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”صدوق اختلط“ سچا ہے، اسے اختلاط ہو گیا تھا۔“ (تقريب) دکتور بشار عواد اس کا تعاقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں ”بلکہ ثقہ ہے، اختلاط سے پہلے اس کی روایت صحيح ہے۔ ايوب سختیاني، يحيى بن سعيد القطان، احمد بن منبل، بجلي، ابن سعد، يعقوب بن سفيان اور نسائي وغيرهم نے اسے ثقة قرار ديا ہے۔ بعض نے اختلاط کی وجہ سے ضعف کا حکم لگایا ہے اور پھر ڈاکٹر بشار نے ان لوگوں کی فہرست دی جنھوں نے اختلاط سے پہلے عطاء سے سنا ہے۔ (تحرير تقريب التهذيب (14/3))
مختلط راوی کے بارے میں یہ قاعدہ ہے کہ جن شاگردوں نے اختلاط سے پہلے اس سے سنا ان کی روایت صحيح ہوتی ہے، اس سند میں تو عطاء سے محمد بن فضيل روایت کر رہے ہیں، جبکہ پہلی سند جو میں نے ذکر کی ہے، اس میں عطاء کے شاگرد زائدہ بن قدامة کا عطاء سے سماع اختلاط سے قبل کا ہے۔ امام طبراني فرماتے ہیں: ”ثقة ہے، آخر عمر میں مختلط ہو گیا تھا اور اس کے قدیم شاگردوں نے اس سے جو روایت کی ہے وہ صحيح ہے، جیسے سفيان، شعبة، زہير اور زائدہ۔“ (الإغتباط (245))
امام بخاري رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”عطاء بن سائب کی قدیم روایات صحيح ہیں۔“ (نھایۃ الإغتباط (241)) امام بخاری رحمہ اللہ بذات خود عطاء کی ایک روایت صحيح البخاري، كتاب الرقاق باب في الحوض (6578) میں لائی ہیں۔ لہذا یہ جرح مردود اور ناقابل اعتبار ہے اور خود عبد الرزاق کی تحقیق مخدوش و مشکوک ہے۔ پھر مولانا لکھتے ہیں: ”اس سند کا ایک اور راوی محمد ابن فضيل محدثين کے ہاں قابل اعتبار نہیں، کیونکہ اس پر شيعہ ہونے کا الزام ہے۔“
اولاً یاد رہے کہ محمد بن فضيل بن غزوان بھی کتب ستہ کا راوی اور ثقة ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحيح بخاري میں آخری حديث محمد بن فضيل ہی کی سند سے بیان کی ہے۔ عبد الرزاق صاحب کو صحيح بخاري کی اس حديث پر بھی خط تنسيخ کھينچ دينا چاہیے۔ بریلوی امام احمد رضا خان نے کیا ہی خوب کہا: ”یہ بھی شرم نہ آئی کہ یہ محمد بن فضيل صحيح بخاري و صحيح مسلم کے رجال سے ہے۔“
(فتاوى رضوية (174/5) مطبوعہ جامعه نظاميه لاهور)
علمائے محدثين کے ہاں تشیع تيسری صدی ہجری سے پہلے کی اصطلاح میں اور ہے، جبکہ آج کی اصطلاح میں شيعہ رافضي کو کہتے ہیں۔ علامہ ذہبي رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اسے يحيى بن معين نے ثقة قرار ديا ہے اور احمد نے کہا حسن الحديث شيعي ہے۔“ پھر علامہ ذہبي رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اسے شيعہ فقط اہل بیت سے محبت کی وجہ سے کہا جاتا تھا۔“ (تذكرة الحفاظ (294)) پھر صحيحين میں کتنے ہی ایسے ثقة راوی ہیں جنھيں لفظ تشیع سے تعبير کیا گیا، یہ علماء محدثين کی خاص اصطلاح ہے، اس کے لیے عبد الرزاق صاحب ميزان اور تهذيب وغيره ہی دیکھ لیتے تو ایسی علمي گمراہی کا ارتکاب نہ کرتے۔ بہر کیف مولانا موصوف کے تمام اعتراضات بار بار منٹوريا ہو گئے اور اس حديث کی صحت بالکل عیاں اور واضح ہو گئی۔ انھوں نے مزید تفصيل کے لیے ضعيف سنن النسائي اور تقريب کی طرف راہنمائی کی ہے، کاش! وہ شيخ الباني رحمہ اللہ کی تحقیق کو سمجھنے کا مادہ رکھتے، میں صرف اتنا کہوں گا کہ وہ اس کے ساتھ شيخ الباني کی سنن ابن ماجہ پر بھی تحقیق دیکھتے تو دھوکا نہ کھاتے۔
مذکورہ بالا حديث کو امام حاکم، امام ذہبي، ضياء مقدسي، ابن حبان رحمہ اللہ اور مسند احمد کی تحقیق کرنے والے دیگر علماء نے بھی صحيح کہا ہے اور یہ روایت بالکل صحيح و درست ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔