مضمون کے اہم نکات
نماز جنازہ میں قرات سری اور جہری دونوں طرح سے کرنا جائز ودرست ہے، اور سری نماز جنازہ پڑھنے پر اکثر کا اتفاق ہے، اسمیں اسطرح کا اختلاف نظر نہیں آتا ہے جس طرح جہری نماز جنازہ پڑھنے پر آتا ہے، اسلئے سری نماز جنازہ کے متعلق اشارہ ہی کافی ہے، مندرجہ ذیل سطور میں جہری نماز جنازہ کے متعلق ہی گفتگو ہوگی کہ نماز جنازہ بآواز بلند پڑھنا جائز ہے کہ نہیں؟ جیساکہ بعض لوگ بلند آواز سے نماز جنازہ پڑھنے کے قائل ہی نہیں ہیں، اور دعوی یہ کرتے ہیں کہ نماز جنازہ بآواز بلند پڑھنا کسی حدیث سے ثابت ہی نہیں ہے۔ تو آئے ہم اس دعوے کی حقیقت کو دلائل کی روشنی میں تحقیقی بصیرت سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ دعوی کس حد تک صحیح اور درست ہے۔
جہری نماز جنازہ کے متعلق دلائل کا ایک خلاصہ
دلیل نمبر 1 حدیث عوف بن مالک:
«عن عوف بن مالك يقول: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم على جنازة فحفظت من دعائه وهو يقول: اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وأكرم نزله ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس وأبدله دارا خيرا من داره وأهلا خيرا من أهله وزوجا خيرا من زوجه وأدخله الجنة وأعذه من عذاب القبر أو من عذاب النار قال: حتى تمنيت أن أكون أنا ذلك الميت.»
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایک میت پر نماز جنازہ پڑھی تو میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی دعاؤں میں سے دوران دعا پڑھتے ہوئے یہ دعا یاد کرلی۔ اے اللہ! بخش دے، اس پر رحم فرما، اسے معاف کردے اور اسے عافیت دے۔ اور اس کی مہمان نوازی فرما اور اسے وسیع ٹھکانہ عطا فرما، اور اسے گناہوں سے پانی کی مختلف شکلوں (الماء، الثلج، البرد وغیرہ) سے دھو دے، اور اس کے گناہوں کو اس طرح صاف کردے جس طرح سفید کپڑے کو میل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اسے آخرت میں ایسا گھر نصیب فرما جو دنیا کے گھر سے بہتر ہو، اسے دنیا سے بہتر اہل خانہ عطا فرما اور دنیا سے بہتر جوڑا عطا کر۔ اسے قبر اور جہنم کے عذاب سے بچا۔ حضرت عوف کہتے ہیں کہ کہ یہ پیاری دعائیں سن کر مجھے رشک آیا کہ کاش آج میں اس کی میت کی جگہ ہوتا اور مجھ پر حضور صلى الله عليه وسلم یہ دعائیں پڑھتے۔
حوالاجات:
اس حدیث کو امام مسلم نے (الصحيح) میں حدیث نمبر 2232، تین طرق سے ذکر کیا ہے۔ اور ترمذی نے (جامع الترمذی) میں حدیث نمبر (1025)، نسائی نے (السنن) میں حدیث نمبر (62، 1983، 1984)، ابن ماجہ نے (السنن) میں
حدیث نمبر (1500)، اور احمد نے (المسند) میں حدیث نمبر (23975، 2400) روایت کیا ہے۔ اور اسکے علاوہ دوسری کتابوں میں بھی حدیث مذکور ہے۔
شرح اور فوائد و مسائل:
امام نووی (شرح النووی) (30/7) میں عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنازہ میں دعا بلند آواز سے کرنی چاہئے۔ اور ہمارے اصحاب کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر نماز جنازہ دن میں پڑھا جائے تو سری پڑھا جائے اور اگر رات میں پڑھا جائے تو اس میں دو وجہیں ہیں: ایک یہ کہ جس پر جمہور ہیں اور یہی صحیح ہیں کہ سری پڑھا جائے اور دوسری یہ کہ جہری پڑھا جائے۔ امام مالک اور ایک بات بیان کرتے ہیں وہ یہ کہ جنازہ میں دعا بغیر کسی اختلاف کے سری پڑھا جائے۔ امام نووی عوف بن مالک کی حدیث کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ عوف بن مالک نے یہ دعا نماز کے بعد یاد کی تھی۔
عبید اللہ مبارکپوری (تحفة الأحوذي) (92/4) میں فرماتے ہیں کہ امام نووی رحمہ اللہ کی یہ تاویل صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ صحیح مسلم کی ہی دوسری روایت جس میں: سمعت کا لفظ آیا ہے کے خلاف ہے، کہ عوف بن مالک فرماتے ہیں میں نے خود رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا۔
اور امام شوکانی رحمہ اللہ (نیل الأوطار) (79/4) میں فرماتے ہیں: قوله سمعت النبى صلى الله عليه وسلم كذا قوله فحفظت من دعائه اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نماز جنازہ میں دعا بلند آواز سے کرنا چاہئے اور یہ بات اس جماعت کے قول کے خلاف ہے جو کہتے ہیں کہ جنازہ میں دعا کرنا سری ہی مستحب ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا جہر کرنا تعلیم دینے کے لئے تھا، امام شوکانی فرماتے ہیں کہ ظاہر یہی ہے کہ جنازہ کی دعا میں جہر اور سری دونوں جائز ہے۔
اور محمد شرف الحق العظيم الآبادی (عون المعبود) (347/8، 348) میں حدیث عوف بن مالک جس میں سمعت کا لفظ ہے کی شرح میں فرماتے ہیں اور ایک روایت میں: فحفظت من دعائه ہے یہ ساری روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ میں دعا بلند آواز سے پڑھی ہے۔ اور نسائی میں میں ابن عباس والی حدیث میں ہے کہ ابن عباس نے ایک جنازہ پر نماز میں سورہ فاتحہ اور ایک سورت بلند آواز سے پڑھی، یہاں تک کہ ہمیں بھی پیچھے سنائی دیا، جب نماز سے فارغ ہوئے، میں نے انکا ہاتھ پکڑ کر پوچھا؟ فرمایا یہ سنت اور درست ہے۔
اور عبید اللہ المبارکپوری (مرعاۃ المفاتیح) (382/5) میں فرماتے ہیں حدیث عوف بن مالک نماز جنازہ میں دعا کے بلند آواز سے پڑھنے پر دلالت کرتی ہے۔ ظاہر تو یہی ہے کہ عوف بن مالک نے مذکورہ دعا تب ہی یاد کی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنازہ میں بلند آواز سے پڑھا۔
اور فیصل بن عبد العزيز النجدى (تطريز ریاض الصالحين) (ص550) میں فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں میت کے لئے بلند آواز سے دعا کرنے کا جواز موجود ہے گرچہ اسکے آس پاس والے بھی سن لیں۔
دلیل نمبر 2 حدیث واثله بن الأسقع:
«وعن واثلة بن الأسقع قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على رجل من المسلمين فسمعته يقول: اللهم إن فلان بن فلان فى ذمتك فقه فتنة القبر قال عبد الرحمن من ذمتك وحبل جوارك فقه فتنة من القبر وعذاب النار وأنت أهل الوفاء والحمد اللهم فاغفر له وارحمه إنك أنت الغفور الرحيم .»
حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ہمارے ساتھ مسلمانوں میں سے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھائی تو میں نے آپ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا آپ فرمارہے تھے: اے اللہ! اب فلاں ولد فلاں تیرے سپرد اور تیرے پڑوس میں آچکا ہے۔ پس اسے قبر اور آگ کے عذاب سے محفوظ رکھ اور تو وعدے پورے کرنے والا اور تعریف کے لائق ہے۔ اے اللہ تو اسے بخش دے اور اس پر رحم فرما۔ بے شک تو ہی بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔
حوالاجات:
اس حدیث کو ابو داود نے (السنن) میں حدیث نمبر (3202) میں، ابن ماجہ نے (السنن) میں حدیث نمبر (1499) میں، احمد نے (المسند) میں حدیث نمبر (16018) میں، ابن حبان نے (الصحیح) میں حدیث نمبر (3074) میں، طبرانی نے (الدعاء) میں حدیث نمبر (1189)، اور (مسند الشامیین) میں حدیث نمبر (2194) میں، بیہقی نے (الدعوات الكبير) میں حدیث نمبر (631) روایت کیا ہے۔ اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
شرح اور فوائد و مسائل:
محمد شرف الحق العظيم الآبادی (عون المعبود) (347/8، 348) میں فرماتے ہیں: قوله فسمعته يقول اور اسی طرح ایک روایت میں فحفظت من دعائه کے الفاظ ہیں یہ ساری روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ میں دعا بلند آواز سے پڑھی ہے۔
عبید اللہ المبارکپوری (مرعاۃ المفاتیح) (382/5) میں فرماتے ہیں: حدیث واثلہ بن الأسقع نماز جنازہ کا بلند آواز سے پڑھنے پر صریح حدیث ہے۔
دلیل نمبر 3 حدیث طلحہ بن عبد اللہ بن عوف:
«وعن طلحة بن عبد الله بن عوف قال صليت خلف ابن عباس رضي عنهما على جنازة فقرأ بفاتحة الكتاب قال: ليعلموا أنها سنة»
طلحہ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے ایک جنازے میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے سورہ فاتحہ پڑھی اور فرمایا: تاکہ یہ جان لیا جائے کہ ایسا کرنا سنت ہے۔
حوالاجات:
اس حدیث کو امام بخاری نے (الصحیح) میں حدیث نمبر (1335)، أبو داود نے (السنن) میں حدیث نمبر (3198) میں، ترمذی نے (جامع الترمذی) میں حدیث نمبر (1027) میں، اور نسائی نے (السنن) میں (1988) روایت کیا ہے۔
ایک روایت میں وجر حتي أسمعنا فلما فرغ أخذت بيده فسألته فقال: سنة وحق کے الفاظ ہیں کہ جہر کیا یہاں تک کہ ہمیں سنائی دیا، پس جب نماز سے فارغ ہوئے، میں نے انکا ہاتھ پکڑا اور اس کے بارے میں سوال کیا؟ تو فرمایا یہ سنت اور درست ہے۔ اس حدیث کو نسائی نے (السنن) میں حدیث نمبر (1987) میں، ابو یعلی نے (المسند) میں حدیث نمبر (3661) میں، ابن الجارود نے (المنتقی) میں حدیث نمبر (536، 537) روایت کیا ہے۔ اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
امام ترمذی حدیث ابن عباس ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں یہ حدیث حسن اور صحیح ہے، بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور دوسرے اہل علم کا اس پر عمل رہا ہے۔
شرح اور فوائد و مسائل:
حافظ ابن حجر (فتح الباری) (204/3) میں ابن عباس والی روایت کی شرح میں فرماتے ہیں اس کو امام نسائی نے ابن عباس والی روایت ابراہیم بن سعد عن أبیہ کے طریق سے ان الفاظ میں روایت کیا ہے کہ ابن عباس نے ایک جنازہ پر نماز میں سورہ فاتحہ اور ایک سورت بلند آواز سے پڑھی، یہاں تک کہ ہمیں بھی پیچھے سنائی دیا، جب نماز سے فارغ ہوئے میں نے انکا ہاتھ پکڑ کر پوچھا؟ فرمایا یہ سنت اور درست ہے۔
اسکے بعد ابن حجر امام حاکم کا طریق ذکر کرتے ہیں کہ محمد بن عجلان نے سعید بن ابی سعید کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ابن عباس نے ایک جنازہ پر الحمد للہ سورت بلند آواز سے پڑھی اور فرمایا میں نے بلند آواز سے اس لئے پڑھا تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ ایسا کرنا سنت ہے۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ صحابی کا یہ کہنا کہ یہ سنت ہے یہ حدیث مسند کہلاتا ہے اور اس کے مسند ہونے پر اجماع ہے۔
اور آگے فرماتے ہیں کہ امام طحاوی کا یہ استدلال کرنا کہ شاید سورہ فاتحہ کا پڑھنا دعا کے طور پر تھا نہ کہ تلاوت کے طور پر، اور اسی طرح صحابی کا قول: قوله انها سنته اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ دعا کرنا سنت ہے۔ امام طحاوی کے کلام پر تعقب کرنا کسی پر مخفی نہیں ہے اور امام طحاوی کا یہ استدلال تکلف اور تشدد کا مضمون ہے۔
اور عبید اللہ المبارکپوری (مرعاۃ المفاتیح) (382/5) میں فرماتے ہیں کہ حدیث ابن عباس سے نماز جنازہ میں قرات بلند آواز سے کرنے پر استدلال کیا گیا، اسلئے کہ وہ جہر پر دلالت کرتی ہے یہاں تک کہ جو انکے ساتھ صف میں تھے انہوں نے بھی سنا، اور اس سے صریح روایت نسائی کی روایت ہے جس میں ہے کہ میں نے ابن عباس کے پیچھے ایک جنازہ پر نماز پڑھی تو ابن عباس نے سورہ فاتحہ اور ایک سورت بلند آواز سے پڑھی یہاں تک کہ ہمیں بھی پیچھے سنائی دیا، اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے انکا ہاتھ پکڑ کر پوچھا تو فرمایا یہ سنت اور درست ہے۔ مبارکپوری فرماتے ہیں کہ اور ایک روایت میں ہے کہ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس کے پیچھے ایک جنازہ پر نماز پڑھی، تو میں ابن عباس کو سورہ فاتحہ پڑھتے ہو سنا. الخ۔
اور اسی طرح حدیث عوف بن مالک بھی نماز جنازہ میں دعا کے بلند آواز سے پڑھنے پر دلالت کرتی ہے۔ ظاہر تو یہی ہے کہ عوف بن مالک نے مذکورہ دعا تب ہی یاد کی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنازہ میں بلند آواز سے پڑھا، اور اس سے صریح حدیث واثلہ ہے۔ اور علماء نے اس میں اختلاف کیا بعض اس بات کی طرف گئے کہ جنازہ میں قرات اور دعا میں جہر مستحب ہے، مذکورہ روایات سے استدلال کیا۔ اور جمہور اس کی طرف گئے کہ جہر مستحب نہیں ہے آہستہ مستحب ہے۔ مبارکپوری فرماتے ہیں کہ ابن قدامہ فرماتے ہیں
کہ نماز جنازہ میں قرات اور دعا آہستہ سے ہی پڑھا جائے گا۔ انتہی
راقم کہتا ہے کہ ابن قدامہ رحمہ اللہ کا یہ قول ان احادیث کے خلاف ہیں جن مین بلند آواز سے پڑھنے کا ذکر ہے۔
محمد شرف الحق العظيم الآبادی (عون المعبود) (347/8، 348) میں فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ میں دعا بلند آواز اور آہستہ سے پڑھنا دونوں جائز ہیں اور دونوں طریقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں اور یہی حق ہے۔ واللہ اعلم
درج بالا صحیح احادیث سے جہری نماز جنازہ پر استدلال
اب ان تینوں حدیثوں پر غور کیجئے:
پہلی حدیث میں صحابی عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ کو یہ دعائیں پڑھتے ہوئے سنا جس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے بلند آواز سے یہ دعائیں پڑھی تھیں کیونکہ اگر آپ صلى الله عليه وسلم آہستہ پڑھتے تو پھر یہ نہ کہا جاتا کہ مین نے آپ کو سنا، بلکہ صحیح مسلم کی روایت میں اس لفظ سے اور زیادہ وضاحت ہو جاتی ہے کہ: فحفظت من دعائه پس میں نے حضور صلى الله عليه وسلم سے سن کر یہ دعا یاد بھی کرلی۔ اب صاف ظاہر ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے بآواز بلند دعا کی تھی کہ صحابی نے نہ صرف سنی بلکہ سن کر یاد بھی کرلی۔
اور پھر آخر میں عوف بن مالک رضی اللہ عنہما نے جو یہ کہا کہ کاش آج میری میت حضور صلى الله عليه وسلم کے سامنے ہوتی اور اس پر یہ دعائیں پڑھی جاتیں۔
اس کے بعد تو کسی شک وشبہ کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتا کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے بلند آواز سے دعائیں نہ پڑھی ہوں۔
دوسری حدیث میں بھی حضرت واثلہ رحمہ اللہ نے اپنا واقعہ بیان کیا کہ من نے جب حضور صلى الله عليه وسلم کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی تو میں نے آپ صلى الله عليه وسلم کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا۔ اس سے بھی جہری قرات ثابت ہوتی ہے۔
تیسری حدیث حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی ہے جس میں انہوں نے ایک جنازے پر بلند آواز سے سورت فاتحہ اور ایک سورت پڑھی اور بعد میں اس کی وضاحت فرمائی کہ یہ سنت اور صحیح ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں:
اول یہ کہ جنازے میں سورہ فاتحہ پڑھنا سنت ہے اور دوسرے اس کا اونچی آواز سے پڑھنا بھی ثابت ہوا۔
یہ ہیں وہ دلائل جو بلند آواز سے نماز جنازہ پڑھنے کے بارے میں دیئے جاسکتے ہیں۔
اب رہا بلند آواز سے نہ ماننے والوں کا کہنا کہ بآواز بلند نماز جنازہ پڑھنے کے بارے میں کوئی حدیث نہیں ہے تو یہ ان کا علم حدیث سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔
یہ حدیثیں کتب ستہ کہ کتابوں میں مختلف الفاظ سے روایت کی گئی ہیں۔ ان کتابوں میں یہ حدیثیں ان لوگوں کو آسانی سے مل سکتی ہیں جو نمازجنازہ بآواز بلند پڑھنے کے قائل نہیں ہیں۔
ضروری وضاحت:
یہاں چند باتوں کی وضاحت ضروری ہے:
اول یہ کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ کا بآواز بلند پڑھنا اگر تعلیم دینا مقصود تھا تو پھر امام کی آواز جنازہ میں شریک تمام لوگوں تک پہنچنا ضروری ہے۔ اور ایسا کوئی بھی کہہ نہیں سکتا ہے کہ آواز سب تک پہنچتی تھی؟ اور اگر یہ کہا جائے کہ بآواز بلند پڑھنا سنت ہے تو پھر امام کی آواز جنازہ میں شریک تمام لوگوں تک پہنچنا ضروری نہیں ہے۔
دوسری یہ کہ صحابہ کرام کو یہ دعائیں نہیں آتی تھیں اور حضور صلى الله عليه وسلم ان کو تعلیم دینے کے لئے بلند آواز سے پڑھتے تھے۔
تیسری یہ کہ صرف جنازہ میں ایک دو بار سن کر ہر آدمی یاد بھی نہیں کرسکتا، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے جیسے حضرت عوف کا ذکر آیا ہے یاد بھی کیں مگر ہر شخص کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ جنازہ کے دوران کوئی چیز حفظ بھی کرلے بلکہ صحابہ رضی اللہ عنہم دوسرے فارغ اوقات میں دین کی باتیں حضورصلى الله عليه وسلم سے سیکھتے اور یاد کرتے تھے اور اگر بالفرض یہ بات تسلیم بھی
کرلی جائے کہ حضور صلى الله عليه وسلم نے صحابہ کرام کو سکھلانے کے لئے اونچی آواز سے پڑھتے تھے تو پھر آج یہ ضرورت کئی گنا زیادہ ہے۔ آج مسلمانوں کی اکثریت کو نہ صرف یہ کہ نماز جنازے کی دعائیں نہیں آتیں بلکہ وہ جنازہ کے طریقے سے سرے سے ہی واقف نہیں ہوتے ہیں، ایسی صورت میں تو اونچی آواز سے پڑھنا اور بھی زیادہ ضروری ہے اور مفید ہے تا کہ جن لوگوں کو نہیں آتا ہو سیکھ بھی لیں اور خاموش رہنے کی بجائے آمین کہہ کر امام کے ساتھ دعا میں شریک بھی ہو جائیں۔
دوم یہ کہ کوئی جھگڑے یا اختلاف کا مسئلہ نہیں کہ جہر نہ ماننے والے حدیث سے ثبوت پیش کرنے کا چیلنج دے دیں (جبکہ احادیث موجود ہیں اور ان کے علم میں نہیں) بلکہ ہمارے نزدیک دونوں طرح پڑھنا جائز ہے۔ آہستہ بھی اور بلند آواز سے بھی کیونکہ حضور صلى الله عليه وسلم سے سری (آہستہ) پڑھنے کی روایات بھی نقل کی گئی ہیں۔ لیکن موجودہ دور میں ہم اونچی آواز سے پڑھنا اس لئے بہتر سمجھتے ہیں کہ اکثر لوگوں کو جنازہ کی دعائیں نہیں آئیں اور اونچا پڑھنے سے نہ صرف یہ کہ وہ دعاؤں میں شریک ہو جاتے ہیں بلکہ اس طریقے سے دعائیں یاد کرنے کا ذوق بھی ان میں پیدا ہو سکتا ہے۔ بہر حال دونوں طرح جائز ہے جیسے شارحین حدیث امام ترمذی، امام نووی، حافظ ابن حجر، امام شوکانی، فیصل النجدی، عظیم آبادی اور مبارکپوری رحمہم اللہ فرماتے ہیں۔ اس لئے اس مسئلے پر لڑائی جھگڑے یا اصرار کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔
صحابہ کرام سے جہری نماز جنازہ کا ثبوت
اور اسی پر بس نہیں کرتے ہیں آئے ہم آپکو صحابہ کرام کے آثار واقوال سے بھی ثابت کرتے ہیں کہ ان سے بھی نماز جنازہ بآواز پڑھنا ثابت ہے۔
① عن طلحة بن عبد الله بن عوف أخي عبد الرحمن بن عوف قال صليت خلف ابن عباس على جنازة فقرأ بفاتحة الكتاب وسورة فجهر حتى أسمعنا فلما انصرف أخذت بيده فسألته عن ذلك؟ فقال: سنة وحق .
طلحہ بن عبد اللہ بن عوف رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک جنازے میں نماز پڑھی، آپ نے سورہ فاتحہ اور ایک سورت بلند آواز سے پڑھی، یہاں تک کہ ہمیں سنائی دیا، پس جب نماز سے فارغ ہوئے، میں نے انکا ہاتھ پکڑا اور اس کے بارے میں سوال کیا؟ تو فرمایا: یہ سنت اور درست ہے۔ اس کو نسائی نے (السنن) (1987) میں، ابو یعلی نے (المسند) (2661) میں، ابن الجارود نے (امنتقی) (536، 537) میں روایت کیا ہے۔ اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
② وعن زيد بن طلحة التيمي قال: سمعت ابن عباس قرأ على جنازة فاتحة الكتاب وسورة وجهر بالقراءة وقال: إنما جهرت لأعلمكم أنها سنة .
زید بن طلحہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ایک جنازہ میں بلند آواز سے سورت فاتحہ اور ایک سورت پڑھتے ہوئے سنا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے اس لئے بلند آواز سے قرات کی ہے تا کہ تمہیں سنت طریقہ بتلاؤں۔ اس کو ابن الجارود نے (المنتقی) (536) میں روایت کیا ہے، اور اسکی سند صحیح ہے۔
③ وعن سعيد بن أبى سعيد قال: سمعت ابن عباس يجهر بفاتحة الكتاب فى الجنازة ويقول: إنما فعلت لتعلموا أنها سنة .
سعید بن ابي سعید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ایک جنازے میں بلند آواز سے سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا۔ اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: میں نے اس لئے بلند آواز سے پڑھاتا کہ تمہیں معلوم ہوجائے ایسا کرنا سنت ہے۔
اس کو طبرانی نے (المعجم الکبیر) (10823)، اور (المعجم الأوسط) (5910) میں، اور حاکم نے (المستدرک) (1323) میں روایت کیا ہے، اور اسکی سند صحیح ہے۔ اور امام حاکم نے فرمایا کہ یہ صحیح مسلم کی شرط پر ہے۔
④ وعن شرحبيل بن سعد قال حضرت عبد الله بن عباس صلى بنا على جنازة بالأبواء وكبر ثم قرأ بأم القرآن رافعا صوته بها ثم صلى على النبى صلى الله عليه وسلم ثم قال: اللهم عبدك وابن عبدك
شرحبیل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن عباس نے ہمیں ابواء کے مقام پر ایک جنازہ پر نماز پڑھائی اور تکبیر کہی، پھر سورہ فاتحہ بلند آواز سے پڑھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ پر درود پڑھا، پھر دعا پڑھی، اللهم عبدك وابن عبدك .. آخر میں عبد اللہ بن عباس نے فرمایا کہ میں نے بلند آواز سے اس لئے پڑھا تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے یہ ست ہے۔
اس کو حاکم نے (المستدرک) (1329) میں روایت کیا ہے۔ اور اسکی سند ضعیف ہے لیکن بطور شاہد پیش کر سکتے ہیں، جیسا کہ امام حاکم حدیث ذکر نے کے بعد فرماتے ہیں کہ شيخين نے شرحبیل بن سعد سے روایت نہیں لی ہے اور وہ اہل مدینہ کے تابعین میں سے ہیں، میں نے بطور شاہد کے ذکر کیا کیونکہ پہلی احادیث مختصر اور مجمل ہیں اور یہ حدیث مفسر ہے۔
⑤ وعن عبيد بن السباق قال صلى بنا سهل بن حنيف على جنازة فلما كبر التكبيرة الأولى قرأ بأم القرآن حتى أسمع من خلفه قال: ثم تابع تكبيره حتى إذا بقيت تكبيرة واحدة تشهد تشهد الصلاة ثم كبر وانصرف.
عبید بن السباق فرماتے ہیں کہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے ہمیں ایک جنازہ پر نماز جنازہ پڑھائی، جب پہلی تکبیر کہی تو ام القرآن یعنی سورہ فاتحہ پڑھی یہاں تک ہمیں پیچھے سنائی دیا، پھر تکبیر کہتے رہے یہاں تک کی جنازہ کی ایک تکبیر باقی رہ گئی، جنازہ کی دعا پڑھی، پھر تکبیر کہی اور لوٹ گئے۔
اس کو دار قطنی نے (السنن) (1826) میں، بیہقی نے (السنن الکبری) (6961) میں، ابن ابی شیبہ نے (المصنف) (11392، 11399) میں روایت کیا ہے۔ اور اسکی سند صحیح ہے۔
⑥ وعن محمد بن عمرو بن عطاء: أن المسور بن مخرمة صلى على الجنازة فقرأ فى التكبيرة الأولى فاتحة الكتاب وسورة قصيرة رفع بهما صوته
عطاء بن عمرو بن عطاء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ المسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ ایک جنازہ پر نماز پڑھائی، پہلی تکبیر میں سورہ فاتحہ اور ایک چھوٹی سورت پڑھی اور اپنی آواز کو بلند کیا، نماز سے جب فارغ ہوئے فرمایا: میں نے اسلئے بلند آواز سے پڑھا تا کہ تمہیں بتاؤں کہ اس میں قرات کرنا بھی ہے۔ اسکو ابن حزم نے (المحلی) (352/3) میں روایت کیا ہے۔ اور اسکی سند صحیح ہے۔
حاصل کلام یہ تھے وہ دلائل جو نماز جنازہ بآواز بلند پڑھنے کے متعلق ہیں جن میں مرفوع حدیثیں بھی ہیں اور آثار صحابہ بھی ہیں، اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ عمل (بلند آواز سے پڑھنا) چار تابعی روایت کرتے ہیں۔
الغرض کہ نماز جنازہ میں سری اور جہری قرات کرنا دونوں طرح درست ہے لیکن بلند آواز سے پڑھنے کا اس لئے اہتمام کیا جاتا ہے، تاکہ جن لوگوں کو دعائیں نہیں آتی ہیں وہ بھی دعا میں شریک ہو جائیں۔ اس کے بوجود اگر کوئی کہے کہ نماز جنازہ بآواز بلند پڑھنا حدیث سے ثابت نہیں ہے تو یہ حدیث سے عدم واقفیت یا تعصب کی دلیل ہے۔
نماز جنازہ کا مختصر طریقہ
نماز جنازہ کا مختصر طریقہ مندرجہ ذیل ہے:
عبادت کا ایک اہم فریضہ سمجھ کر پاک وصاف ہو کر سب سے پہلے صفیں (طاق صفیں ہوں تو بہتر ہیں اگر نہیں تو اس میں وسعت ہے، امام کو صف تصور نہ کریں) درست کر کے امام کی اقتداء میں رہ کر میت اگر مردیا بچہ ہو تو امام میت کے سر کے سامنے کھڑا ہو جائے، اور اگر میت عورت یا بچی ہو تو امام میت کے درمیاں میں کھڑا ہو جائے۔ (صحیح بخاری 1331) (صحیح مسلم 964) (ابو داؤد 3141) (مسند احمد12701)
➊ پھر قبلہ رخ ہوکر پہلی تکبیر (اللہ اکبر) کہے، اللہ اکبر کھ کر تعوذ اور تسمیہ پڑھ کر سورہ فاتحہ پڑھیں:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿١﴾ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٢﴾ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ ﴿٣﴾ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ﴿٤﴾ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ﴿٥﴾ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ﴿٦﴾ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ﴿٧﴾ آمین۔ (صحیح بخاری 714، 1249) (صحیح مسلم 595)
➋ اسکے بعد دوسری تکبیر (اللہ اکبر) پڑھ کر درود ابراھیم پڑھیں:
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد (صحیح بخاری (3370)
➌ اسکے بعد تیسری تکبیر (اللہ اکبر) پڑھ کر خالص دعائیں پڑھیں:
⟐ اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده (ابو داؤد 3201) (ترمذی 1025) (نسائی 10920) (ابن ماجه 1498) (مسند احمد 8809)
یہ دعا بھی ساتھ میں پڑھیں:
⟐ اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وأكرم نزله ووسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس وأبدله دارا خيرا من داره وأهلا خيرا من أهله وزوجا خيرا من زوجه وأدخله الجنة ونجه من النار (صحيح مسلم 963)
اسکے علاوہ بھی اگر کوئی ماثور دعا یاد ہو وہ بھی پڑھیں۔
➍ اسکے بعد چوتھی تکبیر (اللہ اکبر) پڑھ کر دائیں بائیں سلام پھیر دیں۔ ایک طرف سلام پھیر نے پر اکتفاء کرنا بھی درست ہے۔
یاد رہے اگر میت عورت ہو تو اسکے لئے مونث کا صیغہ استعمال کریں۔
اسی طرح اگر میت بچہ یا بچی ہو تو پھر تیسری تکبیر (اللہ اکبر) پڑھ کر یہ دعا پڑھیں:
اللهم اجعله فرطا وذخرا لوالديه وشفيعا مجابا اللهم ثقل به موازينهما وأعظم به أجورهما وألحقه بصالح المؤمنين واجعله فى كفالة إبراهيم وقه برحمتك عذاب الجحيم (مسند احمد 17709) (عبد الرزاق 6588) پڑھ کر دائیں بائیں سلام پھیر دیں۔
اس دعا میں بھی اگر میت بچی ہو تو اسکے لئے مونث کا صیغہ استعمال کریں۔
اور اگر کسی کو بچے، بچی کے لئے پڑھنی والی دعا یاد نہ ہو تو وہ اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا یہ معروف دعا آخر تک پڑھ کر سلام پھیر دیں۔ اس میں بھی پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس میں (وصغيرنا وکبیرنا) کا تذکرہ بھی ہے۔
نوٹ:
● مقتدی بھی وہی کچھ پڑھے جو امام پڑھے، خاموش نہ رہے۔ اور اگر امام نماز جنازہ جہری پڑھے تو مقتدی امام کی اقتداء میں رہ کر وہ سب کچھ سری پڑھے جو امام جہرا پڑھے، کیونکہ نماز جنازہ میں افعال میں مستحب نام کی کوئی ایسی چیز ہے ہی نہیں جسے مستحب کہا جائے، افعال میں یا تو واجبات ہیں یا واجبات بمعنی ارکان کے ہیں، اسلئے مقتدی وہ سب کچھ پڑھے جو امام پڑھے۔ ہاں حرکات میں وسعت ہے مثال کے طور پر پہلی تکبیر تکبیر تحریمہ کے علاوہ ہر تکبیر پر رفع الیدین کرنا یہ مستحب ہے، بہتر رفع الیدین کرنا ہی ہے۔
● نیت دل کے ارادے کا نام ہے جنازہ گاہ، عیدگاہ یا مسجد میں میت کے ساتھ آنا یہی نیت ہے، زبان سے الفاظ ادا کرنا نیت نہیں کہلاتا ہے بلکہ اسے دعا کہتے ہیں اور دعا جنازے میں تیسری تکبیر کے بعد پڑھی جاتی ہے شروع میں نہیں پڑھی جاتی ہے۔ جنازہ گاہ، عیدگاہ یا مسجد میں آنا یہی نیت ہے زبان سے الفاظ ادا کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ بدعت ہے۔ آسان الفاظ میں اس طرح سمجھ لیں کہ جب ایک بندہ مسجد میں نماز مثلا ظهر نماز پڑھنے کے لئے آتا ہے تو سب سے پہلے وہ چار رکعت سنت پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے یہ کھڑا ہونا ہی اسکی نیت ہے، یا اسی طرح جب فرض نماز کے لئے صف میں کھڑا ہوتا ہے، یہ صف میں کھڑا ہونا یہی نیت ہے کہ مجھے اب فرض پڑھنا ہے۔ یا اسی طرح کوئی وضوء کرنے کے لئے واش روم جاتا ہے تو یہ واش روم جانا ہی نیت ہے، زبان سے سے کسی بھی قسم کے الفاظ کا ادا کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ بدعت ہے۔ نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔
ایک وضاحت وہ یہ ہے کہ نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ کے ساتھ سورت پڑھنے والی روایت شاذ ہے:
نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ کے ساتھ اور کوئی سورت یا چند آیات کا پڑھنا صحیح اور درست طریقہ نہیں ہے، اس بارے میں وارد شدہ روایت شاذ (ضعیف) ہے، سنن نسائی حدیث نمبر (1986) میں حدیث طلحہ بن عبد اللہ ہے، جسے ابراھیم بن سعد اپنے باپ سعد عن طلحہ بن عبد اللہ بن عوف قال صليت خلف ابن عباس على جنازة فقرأ بفاتحة الكتاب وسورة وجهر حتي اسمعنا۔۔ روایت کرتے ہیں، اس روایت میں وسورة کا اضافہ ہے، جسے ابراھیم بن سعد نے اپنے باپ (سعد) سے روایت کیا ہے اور ابراھیم اپنے باپ سعد سے اس اضافت (وسورۃ) کو روایت کرنے میں منفرد ہے، جبکہ ابراھیم سے درجے میں بڑے علم کے دو پہاڑ امام شعبہ اور سفیان ثوری رحمہما اللہ ابراھیم کے باپ سعد سے یہی روایت بغیر اضافت (وسورۃ) کے روایت کرتے ہیں، شعبہ کی روایت صحیح بخاری حدیث نمبر (1335) میں ہے اور سفیان ثوری کی روایت سنن ابی داوود حدیث نمبر (3198) اور جامع الترمذی حدیث نمبر (1027) میں ہے، اور اسی طرح ابراهیم بن سعد کی اکثر روایات میں بھی (وسورۃ) کا اضافہ نہیں ہے، جسے یہ پتا چلتا ہے کہ محفوظ روایت شعبہ اور سفیان ثوری کی روایت ہے، اور امام بیہقی بھی سنن کبری حدیث (6568) میں حدیث طلحہ بن عبد اللہ ذکر
کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ سورت والی روایت محفوظ نہیں ہے۔
اور ایک روایت المنتقى لابن الجارود حدیث نمبر (536) میں زید بن طلحہ کی ہے جسے محمد بن يوسف الفريابی سفیان الثورى عن زيد بن طلحة التیمی عن ابن عباس أنه قرأ على جنازة فاتحة الكتاب وسورة وجهر بالقراءة .. کے طریق سے روایت کرتے ہیں اور اسمیں بھی وسورة کا اضافہ ہے، اور زید بن طلحہ کی یہی روایت مصنف ابن ابي شيبة حدیث نمبر(11402) میں بھی ہے جسے وکیع سفیان عن زید بن طلحة عن ابن عباس کے طریق سے (وسورۃ) اضافت کے بغیر ہی روایت کرتے ہیں، دیکھیں محمد بن یوسف فریابی کی روایت میں وسورة کا اضافہ ہے جبکہ وکیع کی روایت میں وسورة کا اضافہ نہیں ہے، محمد بن یوسف فریابی اور وکیع دونوں ثقہ راوی ہیں، لیکن محمد بن یوسف فریابی سفیان ثوری کی روایت میں کبھی کبھار خطا کر جاتے ہیں جیسے کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تقریب التھذیب میں محمد بن یوسف فریابی کے متعلق فرماتے ہیں ثقه فاضل يقال أخطأ فى شيء من حديث سفيان لہذا محمد بن یوسف فریابی کا وسورة کی اضافت تب تک قابل قبول نہیں ہے جب تک نہ اسکی متابعت امام وکیع کرے، اور وکیع اضافت (وسورة) کے بغیر ہی یہ روایت ذکر کرتے ہیں، جسے یہ پتا چلتا ہے کہ سفیان ثوری سے محفوظ روایت وکیع کی روایت ہے، اور اسمیں سفیان ثوری کی متابعت سعید بن ابی سعید المقبری بھی کرتے ہیں جو الزيادات علی کتاب المزنی ابی بکر النیسابوری حدیث نمبر 154) میں ہے، سعید المقبرى ثقہ راوی ہیں، فرماتے ہیں کہ مجھ سے زید بن طلحہ نے کہا کہ میں ابن عباس کے ساتھ ایک جنازہ میں حاضر ہوا تو ابن عباس نے جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھی اور قرات میں جہر کیا، اسمیں سورہ فاتحہ کے علاوہ اور کوئی سورت پڑھنے ذکر نہیں کیا۔ خلاصہ یہ کہ جنازہ میں سورہ فاتحہ کے ساتھ اور کوئی سورت پڑھنے والی روایت شاذ ہے جو کہ ضعیف کے حکم میں ہے، اور امام بیہقی نے بھی اسے ضعیف کہا ہے، اور مناسب بھی یہی
معلوم ہوتا ہے کہ جنازہ میں سورہ فاتحہ کے ساتھ اور کوئی سورت نہ پڑھی جائے، کیونکہ جنازہ میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے اسے امام اور مقتندی دونوں کو پڑھنا ہے جبکہ قرات میں مقتندی کو سوائے سورہ فاتحہ کے قرات خاموشی سے سننے کا حکم ہے، لہذا جنازہ میں پہلی تکبیر کے بعد سورہ فاتحہ پر ہی اکتفا کرنا صحیح اور درست طریقہ معلوم ہوتا ہے، سورہ فاتحہ کے بعد دوسری تکبیر پڑھ کر درود پڑھے پھر تیسری تکبیر پڑھ کر میت کے لئے خالص دعا کرے اور پھر چوتھی تکبیر پڑھے اور سلام پھیرے۔
هذا ماعندي والله اعلم بالصواب
خاتمہ اور خلاصہ مضمون
الحمد الله بنعمته تتم الصالحات أما بعد:
مندرجہ ذیل سطور میں سابقہ بحث کا ایک مختصر سا خلاصہ پیش کیا جائیگا تاکہ قارئین کے ذہن میں نماز جنازہ پڑھنے کے متعلق ایک خلاصہ رہے:
➊ نماز جنازہ کا بلند آواز سے پڑھنا احادیث اور صحابہ کرام کی روشنی میں ایک ثابت شدہ عمل ہے۔
➋ نماز جنازہ کا بلند آواز سے پڑھنا مرفوع اور صحیح احادیث سے ثابت ہے، اس بارے میں عوف بن مالک، وائلہ بن الأسقع اور ابن عباس والی روایات قابل ذکر ہیں۔ یہ ساری مرفوع حدیثیں صحیح سند سے مروی ہیں جبکہ عوف بن مالک اور ابن عباس کی روایت صحیحین میں
ہیں۔
➌ نماز جنازہ کا بلند آواز سے پڑھنا صحابہ کرام سے بھی ثابت شدہ عمل ہے۔ اس بارے میں ابن عباس، سهل بن حنیف اور مسور بن مخرمہ کا عمل قابل ذکر ہیں، جو کہ صحیح سند سے مروی ہیں۔ اور عبد اللہ بن عباس سے اس عمل کو تین تابعی روایت کرتے ہیں۔
➍ بعض شارحین حدیث بھی اس بات کی طرف گئے کہ نماز جنازہ کا بلند آواز سے پڑھنے کا ثبوت موجود ہے، بعض نے یہاں تک کہہ دیا کہ نسائی روایت جس میں حتي اسمعنا ہمیں پیچھے سنائی دیا کے الفاظ ہیں صریح روایت ہے، اور اس سے صریح واثلہ بن الأسقع کی روایت ہے۔
➎ اگر بالفرض یہ مان لیا جائے کہ نماز جنازہ کا بلند آواز سے پڑھنا تعلیم دینے کی غرض سے تھا تو اس زمانے میں صحابہ کرام کے مقابلے میں اسکی زیادہ اور اشد ضرورت ہے۔
➏ نماز جنازہ کا بلند آواز سے نہ پڑھنے والوں کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے سوائے تاویل کے۔
➐ نماز جنازہ کا دونوں طرح سے پڑھنا جائز ہے۔
➑ اگر جنازہ کے مسائل سے سب واقف ہیں تو پھر آہستہ سے ہی پڑھنا بہتر ہے۔ اور اگر ناواقف ہیں (ویسے تو آج صحابہ کے مقابلے میں زیادہ ہی نا واقفیت ہے) تو پھر بلند آواز سے پڑھنے میں ہی زیادہ مصلحت ہے تاکہ ان لوگوں کے قول پر بھی عمل ہو جائے جو کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عباس یا دوسرے صحابہ کا بلند آواز سے پڑھنا تعلیم دینے کی غرض سے تھا۔
➒ نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ کے ساتھ اور کوئی سورت یا چند آیات کا پڑھنا صحیح اور درست طریقہ نہیں ہے، اس بارے میں وارد شدہ روایت شاذ (ضعیف) ہے۔
وصلي الله وسلم وبارك على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين ومن تبع هداه الى يوم الدين