جہاد کے مسائل: احکام، فضیلت، مقاصد اور جزیہ کے اصول

فونٹ سائز:
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل جہاد کے احکام و مسائل:جلد 01: صفحہ 380
مضمون کے اہم نکات

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جہاد کے مسائل

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں جہاد کو مشروع فرمایا ہے، تاکہ اس کا کلمہ بلند رہے، اس کے دین کی مدد ہو، اس کے دشمن مغلوب ہوں اور اس کے دوست غالب رہیں۔ نیز جہاد کی مشروعیت میں اللہ تعالیٰ کے بندوں کا امتحان اور آزمائش بھی مطلوب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ذ‌ٰلِكَ وَلَو يَشاءُ اللَّهُ لَانتَصَرَ مِنهُم وَلـٰكِن لِيَبلُوَا۟ بَعضَكُم بِبَعضٍ وَالَّذينَ قُتِلوا فى سَبيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعمـٰلَهُم ﴿٤﴾ سَيَهديهِم وَيُصلِحُ بالَهُم ﴿٥﴾ وَيُدخِلُهُمُ الجَنَّةَ عَرَّفَها لَهُم ﴿٦﴾… سورةمحمد

"یہی حکم ہے اور اللہ اگر چاہتا تو (خود) ہی ان سے بدلہ لے لیتا، لیکن (اس کا منشا یہ ہے) کہ تم میں سے ایک کا امتحان دوسرے کے ذریعہ سے لے لے، جو لوگ اللہ کی راه میں شہید کر دیے جاتے ہیں اللہ ان کے اعمال ہرگز ضائع نہ کرے گا (4) انہیں راه دکھائے گا اور ان کے حالات کی اصلاح کر دے گا (5) اور انہیں اس جنت میں لے جائے گا جس سے انہیں شناسا کر دیا ہے” [محمد47۔6۔4۔]

اسلام میں جہاد فی سبیل اللہ کی اہمیت

دین اسلام میں جہاد فی سبیل اللہ کی بہت بڑی اہمیت ہے۔ جہاد اسلام کی چوٹی اور اس کی کوہان ہے، اور دین اسلام میں یہ سب سے افضل اور اعلیٰ عبادت ہے، یہاں تک کہ بعض علماء نے اسے دین اسلام کا چھٹا رکن بھی قرار دیا ہے۔

جہاد فی سبیل اللہ کی مشروعیت:
◈ کتاب اللہ
◈ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
◈ اجماع امت
سے ثابت ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿كُتِبَ عَلَيكُمُ القِتالُ …﴿٢١٦﴾… سورة البقرة

"تم پر جہاد (وقتال) فرض کر دیا گیا۔” [البقرۃ:2/216۔]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ لیا اور اس کا حکم بھی دیا۔ ارشاد نبوی ہے:

"مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ”
"جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اس نے نہ جہاد کیا اور نہ اس کے دل میں جہاد کرنے کا خیال آیا تو وہ نفاق کی ایک شاخ پر مرا ہے۔” [صحیح مسلم الامارۃ باب ذم من مات ولم یغز ولم یحدث نفسہ بالعزو حدیث:1910۔]

جہاد کی تعریف (لغوی و اصطلاحی)

جہاد کے لغوی معنی "جدو جہد کرنا” ہیں۔ دین اسلام کی اصطلاح میں اس کے معنی یہ ہیں کہ "ایسی کوشش و محنت کی جائے جس سے اللہ تعالیٰ کا کلمہ و دین بلند ہو”، یہاں تک کہ اس کے دشمنوں یعنی کفار سے اس وقت تک خوب قتال ہو کہ ان کا فتنہ اور زور ختم ہو جائے۔

علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"جنس جہاد فرض عین ہے وہ دل سے ہو یا زبان سے مال ہو یا ہاتھ سے لہٰذا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ جہاد کی ان صورتوں میں سے کسی نہ کسی صورت کو اختیار کرے اور اسے عمل میں لائے۔” [زاد المعاد:3/72۔]

جہاد کا اطلاق اور اس کی صورتیں

جہاد کا اطلاق نفس، شیطان، کفار اور فاسقوں کے ساتھ مقابلہ کرنے پر بھی ہوتا ہے، چنانچہ:

نفس کے خلاف جہاد
✔ امور دین سیکھنا، پھر ان پر عمل کرنا، اور لوگوں کو اس کی تعلیم دینا۔

شیطان کے خلاف جہاد
✔ شیطان کے پیدا کردہ وسواس اور شبہات کا ازالہ کرنا، اور اس کی طرف سے مزین کردہ شہوات اور خواہشات سے خود کو بچانا۔

کفار کے خلاف جہاد
✔ ان کے خلاف ہاتھ، زبان اور مال کو استعمال میں لایا جائے، اور دل سے نفرت کی جائے۔

فاسقوں کے خلاف جہاد
✔ ہاتھ سے ہوگا یا زبان سے، پھر دل میں ان کے فسق کے خلاف نفرت ہو۔

الغرض جتنی طاقت ہو اتنی ہی ان کے خلاف کوشش کی جائے۔

جہاد کا حکم: فرض کفایہ

جہاد فرض کفایہ ہے۔ اگر جہاد کرنے والے اس قدر لوگ کھڑے ہو جائیں جو اس کا حق ادا کر دیں تو دوسروں پر فرض باقی نہیں رہتا، بلکہ ان کے حق میں سنت کا درجہ رہ جاتا ہے۔

جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت

جہاد فی سبیل اللہ سب سے افضل تطوع ہے، اور اس کی بہت بڑی فضیلت ہے۔ کتاب و سنت میں جہاد کے حکم اور اس کی ترغیب کے متعلق بہت سی نصوص وارد ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ اشتَرىٰ مِنَ المُؤمِنينَ أَنفُسَهُم وَأَمو‌ٰلَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ يُقـٰتِلونَ فى سَبيلِ اللَّهِ فَيَقتُلونَ وَيُقتَلونَ وَعدًا عَلَيهِ حَقًّا فِى التَّورىٰةِ وَالإِنجيلِ وَالقُرءانِ وَمَن أَوفىٰ بِعَهدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاستَبشِروا بِبَيعِكُمُ الَّذى بايَعتُم بِهِ وَذ‌ٰلِكَ هُوَ الفَوزُ العَظيمُ ﴿١١١﴾… سورةالتوبة

"بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی۔ وه لوگ اللہ کی راه میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں، اس پر سچا وعده کیا گیا ہے تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے زیاده اپنے عہد کو کون پورا کرنے والا ہے، تو تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے معاملہ ٹھہرایا ہے خوشی مناؤ، اور یہ بڑی کامیابی ہے” [التوبہ:9/111۔]

وہ حالات جن میں جہاد فرض عین ہو جاتا ہے

اس مقام پر ان چند حالات کا ذکر کیا جاتا ہے جن میں جہاد کرنا فرض عین ہو جاتا ہے:

① جب انسان لڑائی میں حاضر ہو جائے، تو اس صورت میں دشمنِ اسلام سے لڑنا فرض عین ہے؛ لہٰذا اس موقع پر قتال فی سبیل اللہ سے پھرنا جائز نہیں۔

② جب دشمن کی فوج کسی شہر کا محاصرہ کر لے۔

ان دونوں صورتوں میں یہ دفاعی جہاد ہوگا، اقدامی نہیں۔ اگر مسلمان اس وقت جہاد سے کنارہ کش ہو جائیں تو کافر مسلمانوں پر غالب آ جائیں گے اور ان کی عزتوں اور مقدس مقامات پر قابض ہو جائیں گے۔

③ جب مسلمانوں کا امام یا خلیفہ اعلانِ جہاد کر کے لوگوں سے نکلنے کا مطالبہ کرے، تو اس وقت جہاد فرض عین ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"وإذا استنفرتم فانفروا”
"جب تم سے نکلنے کا مطالبہ کیا جائے تو (جہاد کے لیے) نکل پڑو۔” [صحیح البخاری الجہاد والسیر باب فضل الجہاد والسیر حدیث2783۔]

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿إِذا لَقيتُم فِئَةً فَاثبُتوا… ﴿٤٥﴾… سورة الانفال

"اے یمان والو! جب تم کسی مخالف فوج سے بھڑجاؤ تو ثابت قدم رہو۔” [الانفال8/45۔]

نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ما لَكُم إِذا قيلَ لَكُمُ انفِروا فى سَبيلِ اللَّهِ اثّاقَلتُم إِلَى الأَرضِ…﴿٣٨﴾… سورة التوبة

"اے ایمان والو! تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے راستے میں نکلو تو تم زمین سے لگے جاتے ہو۔” [التوبہ:9/38۔]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"جہاد ہاتھ کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں دعوت الی اللہ اور حجت قائم کرنے کے ساتھ دفاعی پالیسیاں ترتیب دینے اور دفاعی صنعتوں کے قیام کے ذریعے سے بھی جہاد ہوتا ہے لہٰذا ہر ممکن حد تک ان امور میں حصہ لینا واجب ہے۔ اور جو لوگ میدان جہاد میں جانے سے معذور ہوں وہ میدان جہاد میں جانے والے مجاہدین کے گھروں اور ان کے اہل و عیال کی نگہداشت کریں۔” [الفتاوی والکبری لا بن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ الاختیارات العلمیہ :5/538۔]

خلیفہ/امام کی ذمہ داریاں اور لشکر کی ترتیب

مسلمانوں کے خلیفہ و امام کا فرض ہے کہ جب جہاد فی سبیل اللہ کے لیے کوئی لشکر روانہ کرے تو پورے لشکر کا ازسر نو جائزہ لے اور اچھی طرح معائنہ کرے:

◈ جو مرد یا جانور لڑائی کے قابل نہ ہوں انہیں روک لے۔
◈ جو شخص جہاد کے عمل میں کسی رکاوٹ کا باعث بن سکتا ہو اسے بھی روک دے۔
◈ جو لوگ غلط افواہیں پھیلا کر جہاد کرنے والوں کی ہمت و جذبہ کمزور کرتے ہیں انہیں لشکر میں شامل نہ کیا جائے۔
◈ دشمن کے لیے جاسوسی کرنے والوں اور مجاہدین میں فتنہ کھڑا کرنے والوں کو لشکر میں شامل نہ ہونے دے۔

خلیفۃالمسلمین کو چاہیے کہ وہ اسلامی لشکر کا ایک ایسا امیر مقرر کرے جو ان کے جملہ امور شرعی طریقے کے مطابق چلائے اور امورِ جنگ میں ماہر ہو۔

امیر کی اطاعت اور خیر خواہی

لشکر میں شریک مجاہدین اپنے امیر کی ہر معروف میں اطاعت کریں، اس کے ساتھ خیر خواہی کریں اور اس کے ساتھ صبر و استقامت سے وابستہ رہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ وَأُولِى الأَمرِ مِنكُم…﴿٥٩﴾… سورة النساء

"اے ایمان والو! تم فرمانبرداری کرو۔ رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے اختیار والے ہیں۔” [النساء4/59۔]

جہاد کی مشروعیت کے اعلیٰ مقاصد

واضح رہے کہ جہاد بلند نصب العین اور اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے مشروع کیا گیا ہے، جو درج ذیل ہیں:

توحید کی طرف لانا اور شرک سے نجات دینا
جہاد اس لیے مشروع کیا گیا تاکہ اللہ کے بندوں کو طاغوتوں اور بتوں کی عبادت سے نجات دلا کر اس اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کی عبادت میں لگایا جائے جس نے انہیں پیدا کیا اور وہی انہیں رزق دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَقـٰتِلوهُم حَتّىٰ لا تَكونَ فِتنَةٌ وَيَكونَ الدّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ…﴿٣٩﴾… سورةالانفال

"اور تم ان(کفار) سے اس حد تک کہ فتنہ (شرک ) نہ رہے اور دین سارا اللہ ہی کا ہو جائے۔” [الانفال:8/38۔]

ظلم کا خاتمہ اور اہلِ حقوق تک حقوق پہنچانا
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿أُذِنَ لِلَّذينَ يُقـٰتَلونَ بِأَنَّهُم ظُلِموا وَإِنَّ اللَّهَ عَلىٰ نَصرِهِم لَقَديرٌ ﴿٣٩﴾ الَّذينَ أُخرِجوا مِن دِيـٰرِهِم بِغَيرِ حَقٍّ إِلّا أَن يَقولوا رَبُّنَا اللَّهُ …﴿٤٠﴾… سورة الحج

"جن لوگوں سے لڑائی کی جاتی ہے انھیں (جہاد کی) اجازت دی گئی ہے اس لیے کہ ان پر ظلم ہوااور یقیناً اللہ ان کی مدد پر ضرور قادر ہے۔ وہ لوگ جنھیں ان کے گھروں سے ناحق نکال دیا گیا صرف اس لیے کہ وہ کہتے ہیں: ہمارا رب اللہ ہے۔” [الحج 22۔39۔40۔]

کفار کو پست کرنا اور ان کی قوت توڑنا
جہاد کی ایک غرض کفار کو مطیع اور پست کرنا، ان سے ظلم کا انتقام لینا اور ان کی طاقت و قوت کو کمزور کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿قـٰتِلوهُم يُعَذِّبهُمُ اللَّهُ بِأَيديكُم وَيُخزِهِم وَيَنصُركُم عَلَيهِم وَيَشفِ صُدورَ قَومٍ مُؤمِنينَ ﴿١٤﴾ وَيُذهِب غَيظَ قُلوبِهِم وَيَتوبُ اللَّهُ عَلىٰ مَن يَشاءُ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ ﴿١٥﴾… سورةالتوبة

"ان سے(خوب ) لڑائی کرو اللہ انھیں تمھارے ہاتھوں عذاب میں ڈالے گا اور انھیں رسوا کرے گا۔ اور تمھیں ان پر فتح دے گا اور مومنوں کے سینوں کو شفا (ٹھنڈک) بخشے گا۔ اور ان کے دلوں کا غصہ دور کرے گا۔ اور اللہ جس پر چاہے توجہ فرماتا ہے اور اللہ خوب جاننے والا خوب حکمت والا ہے۔” [التوبہ:9/14۔15۔]

قتال سے پہلے دعوتِ اسلام
کفار کو پہلے دین اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جائے، اگر وہ قبول نہ کریں تو ان کے خلاف جنگ اور قتال ہوگا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قتال سے پہلے کفار کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ بادشاہوں سے خط کتابت بھی اسی مقصد کے لیے تھی۔ [صحیح البخاری الجہاد والسیر باب دعاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم الی الاسلام والنبوۃ حدیث2941۔]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی اسلامی لشکر کو روانہ کرتے تو انہیں نصیحت کرتے کہ "کفار سے لڑائی شروع کرنے سے پہلے انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا، اگر وہ قبول کر لیں تو ٹھیک ورنہ ان سے جنگ کرنا۔” [صحیح البخاری الجہاد والسیر باب دعاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم الی الاسلام والنبوۃ حدیث2942۔]
اس کی وجہ یہ ہے کہ دین اسلام میں جنگ کا مقصد کفر و شرک کا خاتمہ اور اللہ تعالیٰ کے دین میں لوگوں کو داخل کرنا ہے۔ اگر یہ مقصد لڑائی کے بغیر ہی حاصل ہو جائے تو لڑائی کی ضرورت ہی نہیں۔

جہاد کے مفصل مسائل و احکام حدیث و فقہ کی بڑی کتابوں میں موجود ہیں۔

والدین کی اجازت کے بغیر نفلی جہاد میں شرکت

جب کسی شخص کے والدین دونوں یا ان میں سے ایک مسلمان اور آزاد ہو تو نفلی جہاد میں ان کی اجازت کے بغیر شریک نہ ہو، جیسا کہ حدیث میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے جہاد میں جانے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:

"أحَيٌّ وَالِداكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَفيهِمَا فَجَاهِدْ”
"کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟” اس نے کہا: ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: "پھر تو والدین کی خدمت کی صورت میں جہاد کر۔” [صحیح البخاری الجہاد باب الجہاد یاذن الایرین حدیث 3004۔]

اس کی وجہ یہ ہے کہ والدین سے حسن سلوک فرض عین ہے، جبکہ جہاد فرض کفایہ ہے، اور ظاہر ہے کہ فرض عین، فرض کفایہ سے مقدم ہوتا ہے۔

لشکر کے جائزے اور افواہیں پھیلانے والوں کا حکم

مسلمانوں کے امام کو چاہیے کہ لشکر روانہ کرتے وقت اس کا جائزہ لے، اور جو فوجی یا جانور (گھوڑے وغیرہ) لڑائی کے قابل نہ ہوں انہیں علیحدہ کر دے، جیسے کمزور فوجی یا گھوڑے وغیرہ جو پیچھے رہ جاتے ہوں۔ اسی طرح افواہیں پھیلانے والے لوگ بھی الگ کیے جائیں، کیونکہ یہ چیزیں فوج کو لڑانے سے بے رغبت کرتی ہیں اور ان کے حوصلے پست کرتی ہیں۔

اسی طرح اسی قسم کے لوگ فوجیوں میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں اور ادھر اُدھر کی خبریں اڑاتے ہیں جس سے فوج میں بددلی پھیلتی ہے۔

امیر المومنین کو چاہیے کہ وہ اسلامی لشکر کے مختلف افسر مقرر کرے، اور مالِ غنیمت کا کچھ حصہ جہاد میں امتیازی خدمات انجام دینے والوں کو انعام کے طور پر دے، اور باقی مال و سامان لشکر میں شامل تمام مجاہدین میں تقسیم کر دے۔

اطاعتِ امیر کی تاکید

اسلامی لشکر نیکی کے کاموں میں اپنے امیر کی اطاعت کرے، اس کی خیر خواہی کرے، اور اس کے ساتھ استقامت کا مظاہرہ کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ وَأُولِى الأَمرِ مِنكُم…﴿٥٩﴾… سورة النساء

"اے لوگوں جو ایمان لائے ہو! تم اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں صاحب امر ہیں۔” [النساء:4/59۔]

جنگ میں کن افراد کو قتل نہ کیا جائے

اسلامی لشکر کی ذمے داری ہے کہ وہ کسی ایسے:
◈ بچے
◈ عورت
◈ راہب
◈ انتہائی بوڑھے
◈ دائیمی مریض
◈ اندھے شخص
کو قتل نہ کریں جو جنگ کے معاملات میں رائے اور مشورہ نہیں دے سکتے۔

البتہ انہیں قیدی بنا کر غلام اور لونڈیاں بنایا جا سکتا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں اور بچوں کو جب قیدی بناتے تو انہیں لونڈیاں اور غلام بنا لیتے تھے۔

مالِ غنیمت کی حقیقت اور اس کا حق دار

مالِ غنیمت وہ مال ہے جو جنگ میں غلبے کے نتیجے میں حربی کافر سے حاصل ہوتا ہے یا ان سے بطورِ فدیہ وصول کیا جاتا ہے۔

اس مال پر اس شخص کا حق ہے جو اسلامی لشکر میں قتال کی نیت سے شامل ہوا اور میدان جنگ میں گیا، خواہ اس نے عملاً لڑائی کی ہو یا نہ کی ہو؛ کیونکہ میدان جنگ میں اس کی موجودگی مجاہدین کی مدد کے لیے ہوتی ہے اور وہ جنگ کے لیے تیار بھی ہوتا ہے، اس لیے اسے لڑنے والوں میں شامل سمجھا جائے گا۔

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے:
"مال غنیمت کا حق دار ہر وہ شخص ہے جو میدان جنگ میں حاضر ہوا۔”

مالِ غنیمت کی تقسیم کا طریقہ

مالِ غنیمت کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ امیر لشکر اس مال میں سے پانچواں حصہ الگ کرے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اقربائے رسول، یتیموں، فقراء، مساکین اور مسافروں کا ہوگا۔ باقی چار حصے لڑنے والے مجاہدین میں تقسیم ہوں گے:

◈ پیدل مجاہدین کا ایک حصہ
◈ گھڑ سوار مجاہدین کے تین حصے
جن میں سے:
✔ ایک حصہ مجاہد کا
✔ اور دو حصے اس کے گھوڑے کے
ہر مجاہد کو برابر برابر حصہ ملے گا۔

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیر کے دن اسی طرح مال غنیمت تقسیم کیا تھا۔” [صحیح البخاری باب غزوہ حدیث 4228۔وصحیح مسلم الجہاد باب کیفیہ قسمہ الغنیمہ بین الحاضرین حدیث 1762۔]

غنیمت میں خیانت (غلول) کا حکم

امیر لشکر کی اجازت کے بغیر، اور اسی طرح اس کے نائب کی اجازت کے بغیر بھی، مال غنیمت کی کوئی چیز چھپانا حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَما كانَ لِنَبِىٍّ أَن يَغُلَّ وَمَن يَغلُل يَأتِ بِما غَلَّ يَومَ القِيـٰمَةِ …﴿١٦١﴾… سورةآل عمران

"یہ ممکن ہے کہ کوئی نبی خیانت کرے اور جو کوئی خیانت کرے گا تو جو اس نے خیانت کی ہو گی اس کے ساتھ قیامت کے دن حاضر ہو گا۔” [آل عمران:13۔16۔]

اگر کسی نے کوئی چیز چھپالی اور بعد میں اس کا علم امیر لشکر کو ہو گیا تو وہ اس شخص کو اپنی صوابدید کے مطابق عبرت ناک سزا دے۔

زمین کی شکل میں غنیمت کا اختیار

اگر غنیمت زمین کی شکل میں ہو تو امیر المومنین کو اختیار ہے کہ:
◈ وہ اسے مجاہدین میں تقسیم کر دے، یا
◈ تمام مسلمانوں کی مصلحت اور فائدے کے لیے اسے وقف کر دے،
اور جس کی دسترس و استعمال میں دے، اس سے مستقل اور مقرر ٹیکس وصول کرے۔

مالِ فَے کا حکم

جب کفار اپنا مال مسلمانوں کے خوف اور ڈر سے (بغیر لڑے) چھوڑ کر بھاگ جائیں، یا لاوارث شخص کا ترکہ ہو، یا مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ (جو اللہ اور رسول کا حصہ ہے) ہو، تو یہ مال فَے کے حکم میں ہے۔ اسے مسلمانوں کے مصالح و فوائد اور رفاہِ عامہ کے کاموں میں خرچ کیا جائے گا۔

صلح کا معاہدہ اور اس کی شرطیں

امیر المومنین کو اختیار ہے کہ وہ کسی ضرورت اور مصلحت کے پیش نظر کفار سے ایک مقرر مدت تک جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر لے، بشرطیکہ اس میں مسلمانوں کا فائدہ اور بہتری ہو۔ لیکن یہ تب ہے جب مسلمان کفار کے مقابلے میں کمزور ہوں۔

اگر مسلمان شوکت و قوت کے حامل ہوں اور جہاد کرنے کی طاقت رکھتے ہوں تو ان سے صلح کرنا جائز نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر کفار سے معاہدہ صلح کر لیا تھا، اسی طرح مدینہ منورہ میں ایک وقت تک یہود سے صلح کر لی تھی۔ [یہ مسئلہ محل نظر ہے]

معاہدہ توڑنے کا اندیشہ ہو تو اعلانِ براءت

اگر امیر المومنین کو کفار کی جانب سے معاہدہ صلح توڑنے کا خطرہ محسوس ہو تو وہ کفار سے جنگ کرنے سے پہلے معاہدے کے خاتمے کا اعلان کر دے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَإِمّا تَخافَنَّ مِن قَومٍ خِيانَةً فَانبِذ إِلَيهِم عَلىٰ سَواءٍ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الخائِنينَ ﴿٥٨﴾… سورة الانفال

"اور اگر تجھے کسی قوم کی خیانت کا ڈرہو تو برابر ی کی حالت میں ان کا عہد نامہ توڑدے اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔” [الانفال:8/58۔]

ذمی بنانے اور جزیہ کے مسائل

امیر المومنین کے لیے جائز ہے کہ اہل کتاب اور مجوس وغیرہ کو ذمی بنانے کے لیے ان سے عہد و پیمان لے، یعنی وہ اسلامی ملک میں (اپنے دین پر) اس شرط کے ساتھ رہیں گے کہ:
◈ وہ جزیہ ادا کریں گے
◈ اور اسلام کے احکام کا خیال رکھیں گے
◈ انہیں پامال نہیں کریں گے

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ قـٰتِلُوا الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَلا بِاليَومِ الءاخِرِ وَلا يُحَرِّمونَ ما حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسولُهُ وَلا يَدينونَ دينَ الحَقِّ مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتـٰبَ حَتّىٰ يُعطُوا الجِزيَةَ عَن يَدٍ وَهُم صـٰغِرونَ ﴿٢٩﴾… سورةالتوبة

"ان لوگوں سے لڑو جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور اس چیز کو حرام نہیں ٹھہراتے جسے اللہ نے اور اس کے رسول نے حرام ٹھہرایا ہے اور دین حق کو قبول نہیں کرتے وہ جو اہل کتاب میں سے ہیں (ان سےلڑو)یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔” [التوبہ:9/29۔]

واضح رہے جزیہ وہ مال ہے جو کفار سے انہیں قتل نہ کرنے اور مسلمانوں کے ملک میں رہنے کی اجازت کے عوض ہر سال تذلیلاً وصول کیا جاتا ہے۔

درج ذیل افراد سے جزیہ وصول نہ کیا جائے:
◈ بچے
◈ عورت
◈ پاگل
◈ دائیمی مریض
◈ اندھے
◈ انتہائی بوڑھے
◈ عاجز
◈ فقیر و مسکین

معاہدے کے بعد جب ذمی جزیہ ادا کریں تو اسے قبول کرنا ضروری ہے، اور ان سے لڑائی کرنا حرام ہے۔ اگر انہیں کوئی تکلیف و ایذا دی جائے تو ان کا دفاع کرنا اسلامی حکومت کا فرض ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿حَتّىٰ يُعطُوا الجِزيَةَ عَن يَدٍ وَهُم صـٰغِرونَ ﴿٢٩﴾… سورة التوبة

"یہاں تک کہ وہ ذلیل و خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔” [التوبہ:9/29۔]

یعنی اگر کفار ذمی جزیہ ادا کریں تو ان سے جنگ و قتال نہ کیا جائے۔

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"فَسَلْهُمْ إِعْطَاءَ الْجِزْيَةِ ، فَإِنْ أَجَابُوا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ ، وَكُفَّ عَنْهُمْ”
"کفارذمیوں سے جزیہ طلب کرو ۔اگر وہ ادا کر دیں تو ان سے قبول کر لو اور ان سے قتال نہ کرو۔” [صحیح مسلم الجہاد باب تامیر الامام الامراء علی البعوث حدیث 1731 ومسند احمد 5/358۔]

کافر کو امان/پناہ دینے کا حکم

کوئی مسلمان کسی کافر کو اپنے ہاں پناہ دے سکتا ہے، بشرطیکہ اس میں مسلمانوں کا نقصان نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَإِن أَحَدٌ مِنَ المُشرِكينَ استَجارَكَ فَأَجِرهُ حَتّىٰ يَسمَعَ كَلـٰمَ اللَّهِ ثُمَّ أَبلِغهُ مَأمَنَهُ … ﴿٦﴾… سورة التوبة

"اگر مشرکوں میں سے کوئی آپ سے پناہ طلب کرے تو آپ اسے پناہ دے دیں یہاں تک کہ وہ کلام اللہ سن لے پھر اسے اپنی جائے امن تک پہنچادیں۔” [التوبہ:9۔6۔]

مسلمانوں کا امیر بھی تمام مشرکوں کو یا بعض کو امان دے سکتا ہے، کیونکہ اس کے اختیارات وسیع ہیں جو (اس کی اجازت کے بغیر رعایا میں سے) کسی کو حاصل نہیں ہیں۔ علاقائی اور صوبائی امیر کے لیے بھی جائز ہے کہ وہ اپنے علاقے میں رہنے والے کفار کو سیاسی امان دے۔

اختتامیہ

اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد اور توفیق سے پہلی جلد مکمل ہوئی۔ اب اس کے فضل و کرم سے دوسری جلد شروع ہو گی، جس کا آغاز "بیع کے مسائل” سے ہو گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب