جہاد کی لغوی و اصطلاحی تعریف فضیلت و اہمیت (قرآن و حدیث سے)

فونٹ سائز:
تحریر: عمران ایوب لاہوری

جہاد کی لغوی و اصطلاحی تعریف فضیلت و اہمیت (قرآن و حدیث سے)

لغوی وضاحت: لفظِ جهاد باب جَاهَدَ يُجَاهِدُ (مفاعلة ) سے مصدر ہے ۔ اس کا معنی ہے پوری طاقت صرف کرنا ، دشمن کے ساتھ لڑائی کرنا اور محنت و مشقت کرنا وغیرہ ۔
[المنجد: ص / 128 ، القاموس المحيط: ص / 250 ، لسان العرب: 710/1 ، المصباح المنير: ص / 112 ، المعجم الوسيط: ص / 142 ، الفقه الإسلامي وأدلته: 5845/8 ، فتح البارى: 77/6]
اصطلاحی و شرعی تعریف: (شافعیہ ) اسلام کی نصرت کے لیے کفار کے ساتھ لڑائی کرنا ۔
[حاشيه شرقاوى على تحفة الطلاب: 391/2 ، آثار الحرب: ص / 31]
(احناف ) دین حق کی طرف دعوت دینا اور جو اسے قبول نہ کرے اس سے مال و جان کے ساتھ لڑائی کرنا ۔
[بدائع الصنائع: 97/7 ، فتح القدير: 276/4 ، الدر المختار: 238/3 ، معنى المحتاج: 208/4 ، كشاف القناع: 23/3 ، شرح الزرقاني: 106/23 ، نهاية المحتاج: 45/8 ، المحلى على المنهاج: 213/4]
(حنابلہ ) باغیوں اور ڈاکوؤں کے علاوہ خاص کفار سے لڑائی کرنا ۔
[أيضا]
(مالکیہ ) مسلمان کا اعلائے کلمتہ اللہ کی غرض سے کسی غیر معاہد کافر سے لڑائی کرنا یا تو اس کے علاقے میں جا کر یا اپنے علاقے میں اس کی آمد پر ۔
[أيضا]
(ابن حجرؒ ) کفار سے لڑائی میں طاقت صرف کرنا جہاد ہے ۔
[فتح البارى: 77/6]
(ابن تیمیہؒ ) جہاد یا تو دل کے ساتھ ہوتا ہے مثلا اسلام پر عمل کے لیے پختہ ارادہ کر لینا ، یا اسلام اور اسلامی شریعت کی طرف دعوت دینا جہاد (باللسان ) ہے ۔ باطل پرستوں کے خلاف دلیل و برہان قائم کرنا ، حق کو واضح کر دینا اور شبہات کا خاتمہ کر دینا بھی جہاد ہے ۔ مسلمانوں کے اجتماعی فائدے کے لیے رائے و تدبیر کرنا بھی جہاد ہے ۔ اعداء اللہ کے خلاف اپنی جان کے ساتھ لڑائی کرنا بھی جہاد ہے ۔ پس ان تمام صورتوں میں سے جو ممکن ہو یا جس کی ضرورت ہو اسی کے ساتھ جہاد کرنا واجب ہے ۔
[كشاف القناع: 36/3 ، الفتاوى الكبرى لابن تيمية: 38/5]
(ابن قیمؒ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جہاد قلب و جنان ، دعوت و بیان اور سیف وسنان (سب) کے ساتھ تھا اور آپ کے تمام اوقات جہاد بالقلب ، جہاد باللسان اور جہاد بالید کے لیے وقف تھے ۔ (ثابت ہوا کہ جہاد ان تمام قسموں کو محیط ہے ) ۔
جہاد بالعدو سے پہلے جہاد بالنفس ضروری ہے کیونکہ جو شخص احکام پر عمل اور منہیات سے اجتناب پر اپنے نفس سے جہاد نہیں کرتا اس کے لیے دشمن سے جہاد کرنا بھی ممکن نہیں ۔
[زاد المعاد: 5/3 – 6]
(امیر صنعانیؒ ) کفار یا باغیوں کے خلاف لڑائی میں طاقت صرف کرنا جہاد ہے ۔
[سبل السلام: 1745/4]
(عبد الله بسام ) کفار ، باغیوں یا ڈاکوؤں کے خلاف لڑائی میں پوری محنت صرف کرنا جہاد ہے ۔
[التعليق على سبل السلام: 1745/4]
(شیخ وھبہ زحیلی ) کفار کے خلاف لڑائی یا اپنے دفاع میں جان ، مال اور زبان کے ساتھ پوری طاقت صرف کر دینا جہاد ہے ۔
[الفقة الإسلامي وأدلته: 5846/8]
خلاصة التعریفات:
کتاب و سنت کی مجموعی نصوص اور درج بالا ائمہ کی بیان کردہ تعریفات کی روشنی میں ہمارے علم کے مطابق جہاد کی تعریف یہ ہے کہ ”ہر وہ انتھک محنت و کوشش جہاد میں شامل ہے جو کسی بھی طریقے سے غلبۂ اسلام کی نیت سے کی جائے خواہ وہ محنت انفرادی ہو یا اجتماعی ، لسانی ہو یا قلمی ، مالی ہو یا جانی ۔“
واضح رہے کہ جس جدو جہد میں دین اسلام کی سر بلندی مقصود نہیں ہو گی وہ جہاد میں ہرگز شامل نہیں ۔
جہاد کی اہمیت:
كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ [البقرة: 216]
”تم پر قتال فرض کیا گیا ہے حالانکہ وہ تمہیں ناگوار گزرتا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک چیز کو تم ناگوار سمجھو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو اور ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لیے بری ہو ۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔“
وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ [البقرة: 244]
”اور اللہ کی راہ میں جہاد و قتال کرو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سنتا جانتا ہے ۔“
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ [التوبة: 123]
”اے ایمان والو! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس ہیں اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہیے اور یہ یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کے ساتھ ہے ۔ “
وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ [التوبة: 36]
”اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں اور جان جاؤ کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں ہی کے ساتھ ہے ۔“
‏ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ ۖ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ [البقرة: 193]
”اور ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے خالص ہو جائے ۔ اگر وہ باز آ جائیں تو ظالموں کے علاوہ کسی پر زیادتی نہ کرو ۔“
قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ ۗ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ [التوبة: 14 – 15]
”ان (کافروں ) سے لڑو! اللہ تعالیٰ انہیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں مبتلا کر دے گا اور انہیں ذلیل کرے گا اور ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا اور ایمان والے لوگوں کے سینوں کو شفا دے گا اور ان کے دلوں کا غصہ ختم کرے گا اور جس پر اللہ چاہے گا رجوع فرمائے گا اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔“
وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ [الحج: 78]
”اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے ۔“
وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ ۚ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ [البقرة: 191]
”اور انہیں (کافروں کو ) جہاں پاؤ قتل کر دو اور جس جگہ سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے تم بھی انہیں وہاں سے نکال باہر پھینکو ۔ اس لیے کہ قتل اگرچہ برا ہے مگر فتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے ۔“
إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّىٰ تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا [محمد: 4]
”تو جب کافروں سے تمہارا گھمسان کا رن پڑے تو گردنوں پر مارو ۔ جب ان کا خوب خون بہا چکو تو مضبوط قید و بند سے گرفتار کرو ۔ پھر اختیار ہے کہ خواہ احسان رکھ کر چھوڑ دو یا فدیہ لے کر ، حتی کہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ لے ۔“
فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ ۚ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ [النساء: 84]
”تو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا رہ تجھے صرف تیری ذات کی نسبت حکم دیا جاتا ہے ، ہاں ایمان والوں کو رغبت دلاتا رہ ۔“
⓫ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جاهدوا المشركين بأموالكم وأنفسكم و السنتكم
”مشرکوں کے خلاف اپنے مالوں ِ، جانوں اور زبانوں کے ذریعے جہاد کرو ۔“
[صحيح: صحيح ابو داود: 2186 ، كتاب الجهاد: باب كراهية ترك الغزو ، ابو داود: 2504]
⓬ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله ويقيموا الصلاة ويؤتوا الزكاة فإذا فعلوا ذلك عصموا منى دمائهم وأموالهم إلا بحق الإسلام وحسابهم على الله
”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑتا رہوں حتی کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ۔ جب وہ یہ کام کریں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور مال محفوظ کر لیے مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے ۔“
[بخارى: 25 ، كتاب الإيمان: باب فإن تابوا وأقاموا الصلاة وآتوا الزكاة]
⓭ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا کہ :
لا هجرة بعد الفتح ولكن جهاد ونية وإذا استنفرتم فانفروا
”اب فتح مکہ کے بعد حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ ان میں مسلمانوں کو ہجرت کر کے مدینہ آنے کی ضرورت نہیں رہی لیکن جہاد اور جہاد کی نیت برقرار ہے اور جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیا جائے تو نکل پڑو ۔“
[بخاري: 2783 ، كتاب الجهاد والسير: باب فضل الجهاد والسير]
⓮ حضرت ابو بکر بن ابی موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ کو فرماتے ہوئے سنا اس حال میں کہ وہ دشمن کا مقابلہ کر رہے تھے ۔ وہ فرما رہے تھے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أبواب الجنة تحت ظلال السيوف
”بے شک جنت کے دروازے تلواروں کے سائے کے نیچے ہیں ۔“
یہ سن کر ایک پراگندہ شکل والا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ اے ابو موسی ! کیا یہ بات تو نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں، پس وہ اپنے ساتھیوں کی طرف پلٹا اور انہیں الوداعی سلام کہا پھر اپنی تلوار کی نیام کو توڑ کر پھینک دیا اور تلوار لے کر دشمن کی طرف بڑھا اور لڑتا ہوا شہید ہو گیا ۔“
[مسلم: 1902 ، كتاب الإمارة: باب ثبوت الجنة للشهيد]
⓯ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا تبـايـعـتـم بالعينة وأخذتم أذناب البقر ورضيتم بالزرع وتركتم الجهاد سلط الله عليكم ذلا لا ينزعه حتى ترجعوا إلى دينكم
”جب تم بیع عینہ (سودی کاروبار کی ایک قسم ) شروع کر دو گے اور گائے بیلوں کی دموں کو پکڑ لو گے اور کھیتی باڑی میں ہی راضی ہو جاؤ گے اور جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت مسلط کر دیں گے جو اس وقت تک نہیں ہٹائیں گے حتی کہ تم اپنے دین کی طرف نہ لوٹ آؤ ۔“
[صحيح: صحيح أبو داود: 2956 ، كتاب البيوع: باب فى النهي عن العينة ، ابو داود: 3462 ، الصحيحة: ١١]
جہاد کی فضیلت:
الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّهِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ — يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُم بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمٌ — خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ [التوبة: 20 – 22]
”جو لوگ ایمان لائے ، ہجرت کی اللہ کی راہ میں ، اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کیا وہ اللہ کے ہاں بہت بڑے مرتبے والے ہیں اور یہی لوگ مراد پانے والے ہیں انہیں ان کا رب خوشخبری دیتا ہے اپنی رحمت کی اور رضامندی کی اور جنتوں کی ۔ ان کے لیے وہاں ہمیشگی کی نعمت ہے وہاں یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ۔ اللہ کے پاس یقیناََ بہت بڑا اجر ہے ۔“
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَّنَصَرُوا أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا ۚ لَّهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ [الأنفال: 74]
”جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جنہوں نے جگہ دی اور مدد پہنچائی ۔ یہی لوگ سچے مومن ہیں ۔ ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کا رزق ہے ۔“
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ [الحجرات: 15]
”مومن تو وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پکا ایمان لائیں پھر شک و شبہ نہ کریں اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے ۔ یہی سچے لوگ ہیں ۔“
إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ ۚ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ [التوبة: 111]
”بے شک اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی ۔ وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں وہ قتل کرتے ہیں اور خود قتل ہو جاتے ہیں ۔ اس پر سچا وعدہ کیا گیا ہے تورات میں انجیل میں اور قرآن میں اور اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو کون پورا کرنے والا ہے ۔ تو تم لوگ اپنی اُس تجارت پر خوش ہو جاؤ جس کا تم نے اس سے معاملہ ٹھہرایا ہے اور یہ بڑی کامیابی ہے ۔“
فَلْيُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يَشْرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ ۚ وَمَن يُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا [النساء: 74]
”پس جو لوگ دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچ چکے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا چاہیے اور جو شخص اللہ تعالٰی کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہادت پا لے یا غالب آ جائے یقیناً ہم اسے بہت بڑا ثواب عنایت فرمائیں گے ۔“
لَّا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا — دَرَجَاتٍ مِّنْهُ وَمَغْفِرَةً وَرَحْمَةً ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا [النساء: 95 – 96]
”اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھ رہنے والے مومن برابر نہیں ۔ اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے درجوں میں بہت فضیلت دے دی ہے اور یوں تو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو خوبی اور اچھائی کا وعدہ دیا ہے لیکن مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر بہت بڑے اجر کی فضیلت دے رکھی ہے ۔ اپنی طرف سے مرتبے کی بھی ، اور بخشش کی بھی اور رحمت کی بھی اور اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے ۔“
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ [محمد: 7]
”اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا ۔“
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَارَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ — تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ –‏ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ –‏ وَأُخْرَىٰ تُحِبُّونَهَا ۖ نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ — [الصف: 10 – 13]
”اے ایمان والو! کیا میں تمہیں وہ تجارت بتاؤں جو تمہیں درد ناک عذاب سے بچالے؟ ۔ (وہ تجارت یہ ہے کہ ) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں علم ہو ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور تمہیں اُن جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور صاف ستھرے گھروں میں جو جنت عدن میں ہوں گے یہی بہت بڑی کامیابی ہے ۔ اور تمہیں ایک دوسری نعمت بھی دے گا جسے تم چاہتے ہو ، وہ اللہ کی مدد اور جلد فتح یابی ہے اور مومنوں کو خوشخبری دے دیجیے ۔“
➒ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت يا رسول الله ! أى العمل أفضل؟ قال الصلوة على ميقاتها قلت ثم أي؟ قال ثم برالوالدين قلت ثم أي؟ قال الجهاد فى سبيل الله
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وقت پر نماز ادا کرنا ، میں عرض کیا اس کے بعد کون سا افضل عمل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا والدین سے اچھا سلوک کرنا ۔ میں نے عرض کیا اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا ۔“
[بخاري: 2782 ، كتاب الجهاد: باب فضل الجهاد السير ، مسلم: 83 ، كتاب الايمان: باب بيان كون الايمان بالله تعالى أفضل الأعمال]
➓ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
أن رجلا قال يا رسول الله صلى الله عليه وسلم دلني على عمل يعدل الجهاد قال لا أجده ثم قال هل تستطيع إذا خرج المجاهد أن تدخل مسجدك فتقوم ولا تفتر وتصوم ولا تفطر فقال ومن يستطيع ذلك؟
”ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ! اُس عمل کی راہنمائی فرمائیے جو جہاد کے برابر ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایسا کوئی عمل نہیں پاتا جو جہاد کے برابر ہو۔“ پھر ارشاد فرمایا: ”کیا تم میں اتنی ہمت و استطاعت ہے کہ مجاہد کے جہاد پر جانے کے فوراََ بعد تم اپنی مسجد میں داخل ہو جاؤ اور اس کے لوٹ آنے تک مسلسل قیام کرتے رہو اور کبھی نہ تھکو اور روزے رکھتے رہو اور کبھی افطار نہ کرو؟ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا: ”یہ طاقت کس میں ہو سکتی ہے؟ ۔“
[بخاري: 2785 ، كتاب الجهاد: باب فضل الجهاد والسير]
⓫ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن فى الجنة مائة درجة أعدها الله للمجاهدين فى سبيل الله ما بين الدرجتين كما بين السماء والأرض فإذا سألتم الله فاسئلوه الفردوس فإنه أوسط الجنة وأعلى الجنة ومنه تفجر أنهار الجنة وفوقه عرش الرحمان
”بے شک جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے لیے تیار کیے ہیں ۔ دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان فاصلہ ہے ۔ پس تم جب بھی اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو یہ سب جنتوں کے درمیان میں ہے اور سب سے عالی شان جنت ہے اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں اور اسی کے اوپر اللہ تعالیٰ کا عرش ہے ۔“
[بخاري: 2790 ، كتاب الجهاد: باب درجات المجاهدين فى سبيل الله ، احمد: 335/2 ، حاكم: 80/1]
⓬ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
مر رجل من أصحاب النبى بشعب فيه عيينة من ماء عذب فقال لو اعتزلت الناس فأقمت فى هذا الشعب؟ ولن أفعل حتى استاذن رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك لرسول الله فقال لا تفعل فإن مقام أحدكم فى سبيل الله أفضل من صلوته فى بيته سبعين عاما ألا تحبون أن يغفر الله لكم ويدخلكم الجنة؟ أغزوا فى سبيل الله من قاتل فى سبيل الله فواق ناقة وجبت له الجنة
”صحابہ میں سے ایک آدمی کا گذر ایک گھاٹی سے ہوا جہاں ٹھنڈے پانی کا ایک چشمہ تھا ۔ اس نے کہا اگر میں لوگوں سے الگ تھلگ یہاں ٹھہر جاؤں اور اللہ کی عبادت کروں لیکن یہ کام اس وقت تک نہ کروں گا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں ۔ لٰہذا اس نے سارا ماجرا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرنا بے شک تم میں سے کسی کا جہاد فی سبیل اللہ میں کھڑے ہو جانا گھر کی ستر سال کی نمازوں سے بہتر ہے کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے اور جنت میں داخل کر دے ۔ اللہ کے راستے میں جہاد کرو ۔ جو آدمی اونٹنی کے دودھ دوہنے کے درمیانی وقفہ جتنا اللہ کے راستے میں لڑا اس پر اللہ کی جنت واجب ہو گئی ۔“
[حسن: صحيح الترغيب: 1301 ، كتاب الجهاد: باب الترغيب فى الجهاد فى سبيل الله ، ترمذي: 1656 ، ابواب الفضائل الجهاد: باب ما جآء فى الغدو والرواح فى سبيل الله ، حاكم: 68/2]
⓭ حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیر و سیاحت کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا:
إن سياحة أمتى الجهاد فى سبيل الله
”بے شک میری اُمت کی سیاحت جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔“
[حسن: صحيح ابو داود: 2172 ، كتاب الجهاد: باب فى النهي عن السياحة ، أبو داود: 3486 ، حاكم: 73/2]
⓮ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جاهدوا فى سبيل الله فإن الجهاد فى سبيل الله باب من أبواب الجنة ينجى الله تبارك وتعالى به من الهم والحزن
”اللہ کے راستے میں جہاد کرو کیونکہ جہاد فی سبیل اللہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے ، اللہ تبارک و تعالی اس کے ذریعے پریشانی اور غم سے نجات عطا فرما دیتے ہیں ۔“
[صحيح لغيره: صحيح الترغيب: 1319 ، كتاب الجهاد: باب الترغيب فى الجهاد فى سبيل الله ، احمد: 314/5 – 316 – 326 ، حاكم: 75/2 ، امام حاكمؒ نے اس كي سند كو صحيح كها هے۔]
⓯ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاثة حق على الله عونهم: المجاهد فى سبيل الله والمكاتب الذى يريد الأداء والناكح الذى يريد العفاف
”تین بندے ایسے ہیں جن کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ پر حق ہے: اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا ، ایسا مکاتب غلام جو رقم کی ادائیگی کرنا چاہتا ہے اور وہ نکاح کرنے والا جو پاکدامنی کا ارادہ رکھتا ہے ۔“
[حسن: صحيح الترغيب: 1308 ، كتاب الجهاد: باب الترغيب فى الجهاد فى سبيل الله ، ترمذي: 1655 ، ابن حبان: 4019 ، حاكم: 160/2 ، امام حاكمؒ نے اس حديث كي سند كو مسلم كي شرط پر صحیح كها هے۔]
⓰ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من خير معاش الناس لهم رجل ممسك عنان فرسه فى سبيل الله يطير على متنه كلما سمع هيعة أو فزعة طار عليه يبتغى القتل والموت مظانه أو رجل فى غنيمة فى رأس شعفة من هذه الشعف أو بطن واد من هذه الأودية يقيم الصلاة ويؤتي الزكاة ويعبد ربه حتى يأتيه اليقين ليس من الناس إلا فى خير
”سب لوگوں سے بہترین زندگی اس آدمی کی ہے جو جہاد میں اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر لگام تھامے ہوئے دوڑا پھرتا ہے ۔ جب کسی طرف سے حملے کا شور یا گھبراہٹ کی آواز سنتا ہے تو قتل ہونے کے لیے اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے ۔ موت کو موت کی جگہوں میں تلاش کرتا پھرتا ہے اور اُس آدمی کی زندگی بھی بہتر ہے جو پہاڑ کی چوٹیوں میں سے کسی چوٹی پر یا پہاڑ کی وادیوں میں سے کسی ایک وادی میں رہتا ہے ، نماز پڑھتا ہے ، زکوٰۃ دیتا ہے اور موت تک اپنے رب کی عبادت کرتا ہے، لوگوں میں سے وہ شخص بھلائی پر ہے ۔“
[مسلم: 1889 ، كتاب الإمارة: باب فضل الجهاد والرباط]
⓱ حضرت ابو عبس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ :
من اغبرت قدماه فى سبيل الله حرمه الله على النار ، وفي لفظ له ، ما اغيرنا قدما عبد فى سبيل الله فتمسه النار
”جس شخص کے قدموں پر جہاد کے راستے پر چلنے کی وجہ سے گرد و غبار پڑی اس پر جہنم کی آگ حرام ہو گئی ۔ اور دوسری جگہ فرمایا: ”نہیں خاک آلود ہو تے کسی آدمی کے قدم اللہ کے راستے میں پھر اسے جہنم کی آگ بھی چھوئے (یعنی ایسا کبھی نہیں ہو گا ) ۔“
[بخاري: 908 ، 2811 ، كتاب الجمعة: باب المشي إلى الجمعة ، كتاب الجهاد: باب من اغبرت قدماه فى سبيل الله]
⓲ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول موقف ساعة فى سبيل الله خير من قيام ليلة القدر عند الحجر الأسود
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ کے راستے میں لمحہ بھر کھڑا ہونا حجر اسود کے قریب لیلۃ القدر کے قیام سے بہتر ہے ۔“
[صحيح: صحيح الترغيب: 1223 ، كتاب الجهاد: باب الترغيب فى الرباط فى سبيل الله ، ابن حبان: 4584 ، بيهقي فى الشعب: 4286]
⓳ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يجتمع كافر وقاتله فى النار أبدا
”کافر اور اس کو قتل کرنے والا مجاہد دونوں کبھی آگ میں اکٹھے نہیں ہو سکتے ۔“
[مسلم: 1891 ، ابو داود: 2495 ، نسائي: 13/6 ، حاكم: 72/2]
20 . حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا:
أتعلم أول زمرة تدخل الجنة من أمتى؟ قلت الله ورسوله أعلم فقال المهاجرون يأتون يوم القيامة إلى باب الجنة ويستفتحون فيقول لهم الخزنة أوقد حو سبتم؟ قالوا بأى شيئ نحاسب وإنما كانت أسيافنا على عواتقنا فى سبيل الله حتى متنا على ذلك قال فيفتح لهم فيقيلون فيها أربعين عاما قبل أن يدخلها الناس
”کیا تو جانتا ہے کہ سب سے پہلا گروہ میری اُمت کا کونسا جنت میں داخل ہو گا؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والے قیامت کے دن جنت کے دروازے پر آئیں گے اور اس کو کھٹکھٹائیں گے تو جنت کا دربان ان سے پوچھے گا کیا تمہارا حساب و کتاب ہو چکا ہے؟ وہ جواب دیں گے ہمارا حساب کس چیز کا ۔ ہمارا حال تو یہ تھا کہ تلواریں مسلسل ہمارے شانوں پر رہیں حتٰی کہ ہمیں موت آگئی ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور وہ لوگوں کے جنت میں داخل ہونے سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہو کر اس میں آرام کریں گے ۔“
[حاكم: 70/2 ، أبو عوانه: 94/5]