جہاد سے متعلقہ چند ضروری مسائل
❀ ہر عمل کی طرح جہاد میں بھی اخلاص نیت ضروری ہے ورنہ سب سے پہلے جہنم میں جانے والا بھی مجاہد ہی ہو گا ۔
[مسلم: 1905 ، كتاب الإمارة: باب من قاتل للرياء ، احمد: 321/2 ، نسائي: 23/6]
❀ مجاہد کی مالی معاونت کرنے والا بھی جہاد میں شریک ہے ۔
[بخاري: 2843 ، كتاب الجهاد والسير: باب فضل من جهز غازيا ، مسلم: 1895 ، ابو داود: 2509 ، ترمذي: 1638 ، نسائي: 46/6 ، ابن حبان: 4631 ، طيالسي: 946 ، بيهقى: 28/9 ، ابن الجارود: 1047]
❀ مسلمانوں کے ساتھ غدر و خیانت کرنا حرام ہے ۔
[احمد: 231/1 ، حاكم: 15/1 ، أبو يعلى: 2494 ، عبد بن حميد: 697]
❀ مریضوں یا زخمیوں کی خدمت کی مصلحت کے تحت عورتوں کو بھی جہاد میں لے جانا جائز ہے ۔
[بخاري: 2882 ، 2883 ، كتاب الجهاد والسير: باب مداواة النساء الجرحى فى الغزو ، احمد: 358/6 ، نسائي في السنن الكبرى: 278/5]
❀ عورتوں کا جہاد حج ہے ۔
[بخاري: 2875 ، كتاب الجهاد والسير: باب جهاد النساء]
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دن کی ابتداء میں جنگ کے لیے نہ جا سکتے تو سورج ڈھلنے اور ہوائیں چلنے کا انتظار فرماتے پھر نماز کے بعد جہاد کے لیے نکلتے ۔
[بخارى: 3160 ، كتاب الجزية: باب الجزية والموادعة مع أهل الحرب ، ابو داود: 2655 ، ترمذي: 1612]
❀ دورانِ قتال دشمن کے خلاف تکبرانہ چال چلنا جائز ہے ۔
[حسن: صحيح ابو داود: 2316 ، كتاب الجهاد: باب فى الخيلاء فى الحرب ، ابو داود: 2659 ، نسائي: 78/5 ، احمد: 445/5 ، حاكم: 418/1 ، دلائل النبوة للبيهقى: 234/3]
❀ جہاں اسلام کی علامت (اذان وغیرہ ) ظاہر ہو جاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں حملہ نہ کرتے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو حملہ کر دیتے ۔
[بخارى: 610 ، كتاب الأذان: باب ما يحقن بالأذان من الدماء ، احمد: 159/3]
❀ دشمن سے جنگ کی تمنا نہیں کرنی چاہیے لیکن اگر جنگ ہو جائے تو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے ۔
[بخاري: 3025 ، كتاب الجهاد والسير: باب لا تمنوا لقاء العدو]
❀ شہادت کی تمنا کرنا جائز ہے ۔
[بخاري: 2797 ، كتاب الجهاد والسير: باب تمنى الشهادة]
❀ شہید پر فرشتے اپنے پروں کا سایہ کر دیتے ہیں ۔
[بخاري: 2816 ، كتاب الجهاد والسير: باب من طلب الولد للجهاد]
❀ اللہ تعالیٰ سے جہاد کے لیے اولاد طلب کرنا درست ہے ۔
[بخاري: 2819 ، كتاب الجهاد والسير: باب من طلب الولد للجهاد]
❀ قتال سے پہلے کفار کی طرف دعوتی خطوط ارسال کرنا مشروع ہے ۔
[بخاري: 2938 ، كتاب الجهاد والسير: باب دعوة اليهود والنصارى وعلى ما يقاتلون عليه]
تحریر: عمران ایوب لاہوری