مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

جھوٹی گواہی کا روزے پر اثر: کیا روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ ارکان اسلام

جھوٹی گواہی سے کیا مراد ہے؟ کیا اس سے روزہ باطل ہو جاتا ہے؟

جھوٹی گواہی کی تعریف:

جھوٹی گواہی ان کبیرہ (بڑے) گناہوں میں سے ایک ہے۔ اس کا مطلب ہے:

◈ ایسی بات پر گواہی دینا جس کے متعلق انسان کو کوئی علم نہیں۔

◈ یا ایسی بات کے بارے میں جان بوجھ کر خلافِ حقیقت گواہی دینا۔

یہ عمل اسلام میں سخت مذمت کا مستحق ہے کیونکہ یہ نہ صرف عدل و انصاف کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کا باعث بھی بنتا ہے۔

جھوٹی گواہی کا روزے پر اثر:

◈ جھوٹی گواہی دینے سے روزہ باطل (ختم) نہیں ہوتا۔

◈ تاہم، یہ بات ضرور ہے کہ اس سے روزے کا اجر و ثواب کم ہو جاتا ہے۔

یعنی روزہ تو برقرار رہتا ہے، لیکن اس کی روح اور مقصد کو نقصان پہنچتا ہے، کیونکہ روزے کا اصل مقصد صرف کھانے پینے سے رکنا نہیں بلکہ ہر طرح کے گناہوں سے بچنا ہے۔

"ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب”

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔