جھوٹی شہادت بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے
➊ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :
وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ [الحج: 30]
”اور جھوٹی بات سے پرہیز کرو ۔“
➋ ایک اور آیت میں اللہ تعالٰی ایمان والوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :
وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ [الفرقان: 72]
”وہ لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے ۔“
➌ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الشرك بالله ، وعقوق الوالدين وقتل النفس رشهادة الزور
”اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، ناحق کسی جان کا قتل اور جھوٹی گواہی دینا ۔“
[بخارى: 2653 ، كتاب الشهادات: باب ما قيل فى شهادة الزور ، مسلم: 88 ، ترمذى: 1207 ، نسائي: 88/7 ، احمد: 13/3]
➍ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تم لوگوں کو سب سے بڑے گناہ نہ بتلاؤں؟ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمایا ۔ صحابہ نے عرض کیا ہاں اے اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرانا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ٹھیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے لیکن اب آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا:
الا وقول الزور
”خبردار! اور جھوٹی بات بھی (کبیرہ گناہ ہے )“ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جملے کو اتنی مرتبہ بیان کیا کہ صحابہ کہتے ہیں ہم نے کہا کاش ! آپ خاموش ہو جائیں ۔
[بخارى: 2654 ، كتاب الشهادات: باب ما قيل فى شهادة الزور ، مسلم: 87 ، ترمذي: 1901 ، احمد: 36/5]