جو شخص امامت کو نبوت سے افضل سمجھتا ہے، اس کے نکاح کا کیا حکم ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

جو شخص امامت کو نبوت سے افضل سمجھتا ہے، اس کے نکاح کا کیا حکم ہے؟

جواب:

ایسے شخص کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے، کیونکہ امامت کو نبوت سے فائق سمجھنے والا کافر، مرتد اور زندیق ہے۔
نبوت لازوال اعزاز ہے، نبوت وہی ہوتی ہے، کسی نہیں۔ نبوت کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی معنی میں نبوت باقی نہیں۔ نبی تبلیغ رسالت میں معصوم ہوتا ہے۔ اس کی اطاعت واجب ہوتی ہے۔ اس کا نطق بالوحی ہوتا ہے۔ وہ خواہشات سے نہیں بولتا۔ یہ اہل سنت کا اجماعی و اتفاقی عقیدہ ہے۔ اس کے برعکس بعض لوگ امامت کو نبوت سے فائق منصب سمجھتے ہیں، جبکہ قرآن وحدیث اور اجماع میں اس پر کوئی دلیل نہیں۔
❀اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کا قول نقل کیا ہے:
﴿فَوَهَبَ لِي رَبِّي حُكْمًا﴾
(الشعراء : 21)
”میرے رب نے مجھے علم نبوت عطا کیا۔“
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ نبوت اور علم نبوت وہی ہوتا ہے، کسی نہیں ہوتا، کسی نبوت کا اسلام میں وجود تو کیا تصور تک نہیں ہے، بلکہ پہلی شریعتوں میں بھی اس کا وجود نہیں ہے۔
❀اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾
(النساء : 59)
”اہل ایمان! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو، اسی طرح اپنے اولی الامر کی اطاعت کرو ۔“
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا۔ اولی الامر کی اطاعت کو اپنی اور رسول کی اطاعت کے تابع کیا ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت مستقل بالذات ہے۔ اولی الامر کی اطاعت مستقل بالذات نہیں۔ اگر امامت کا منصب نبوت سے فائق ہوتا ، تو اس کی اطاعت کا بھی ذکر کیا جاتا۔
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول ! سب سے سخت مصائب کن پر آتی ہیں ؟ فرمایا:
الأنبياء ثم الأمثل فالأمثل
”سب سے زیادہ مصائب انبیائے کرام کو آئیں، پھر ان سے کم فضیلت والوں کو ، پھر ان سے کم فضیلت والوں کو۔“
(سنن الترمذي : 2398، سنن ابن ماجه : 4023، وسنده صحيح)
❀علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (855ھ) لکھتے ہیں:
إنما قال أولا : ثم الأمثل بلفظ ثم ، وقال ثانيا : فالأمثل، بالفاء للإعلام بالبعد والتراخي فى المرتبة بين الأنبياء وغيرهم .
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار ”ثم الامثل“ کہا، یعنی ”ثم“ کے ساتھ ۔ اور دوسری مرتبہ ”فالامثل“ کہا۔ یعنی ”ف“ کے ساتھ ۔ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انبیا اور غیر انبیا کے مراتب میں بہت زیادہ فرق ہے۔“
(عمدة القاري : 212/21)
❀علامہ ابوالحسن علی بن بیٹی زوند ویستی حنفی رحمہ اللہ (382ھ) لکھتے ہیں:
أجمعت الأمة على أن الأنبياء أفضل الخليقة وأن نبينا عليه الصلاة والسلام أفضلهم
”امت کا اجماع ہے کہ مخلوق میں سب سے افضل انبیائے کرام ہیں اور ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم انبیا میں سب سے افضل ہیں ۔“
(البحر الرائق لا بن نجيم : 353/1، حاشية الطحطاوي :184/1 ، فتاوی شامی:527/1)
❀ علامہ عبدالقاہر بن طاہر بغدادی رحمہ اللہ (429ھ) فرماتے ہیں:
”اکثر امت کے ساتھ ساتھ ہمارے اصحاب کا اجماع ہے کہ ہر نبی، ہر غیر نبی ولی سے افضل ہے، جبکہ غالی روافض کا خیال ہے کہ (ان کے ) ائمہ، انبیائے کرام سے افضل ہیں ۔“
(أصول الدين، ص 298)
❀قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) فرماتے ہیں:
نقطع بتكفير غلاة الرافضة فى قولهم : إن الأئمة أفضل من الأنبياء
”ہم قطعی طور پر ان غالی روافض کی تکفیر کرتے ہیں، جو کہتے ہیں کہ (ان کے بارہ) ائمہ، انبیائے کرام سے افضل ہیں ۔“
(الشفا بتعريف حقوق المصطفى، ص 290)
❀شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728 ھ) فرماتے ہیں:
الأنبياء أفضل الخلق باتفاق المسلمين
”مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ انبیائے کرام مخلوق میں سب سے افضل ہیں ۔“
(منهاج السنة : 417/2)
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:
إن النبوة أعلى رتبة بلا خلاف
”بلا شبہ نبوت سب سے اعلیٰ منصب ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔“
(تفسير ابن كثير : 222/1)
❀ علامہ زرکشی رحمہ اللہ (794 ھ) لکھتے ہیں:
”فرمان باری تعالیٰ: ﴿وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾ اور صحیح بخاری و صحیح مسلم کی حدیث : ”میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“ اور اجماع امت اسی پر دلالت کرتا ہے۔ اس پر کوئی دوسری رائے نہیں ، فلاسفہ کا ایک گروہ کہتا ہے کہ نبوت کیسی ہوتی ہے، ان کی یہ بات بد بختی اور ملت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خروج یعنی کفر پر جا ٹھہرتی ہے۔“
(تشنيف المسامع بجمع الجوامع : 764/4)
❀ ابو حیان اندلسی رحمہ اللہ (745 ھ) لکھتے ہیں:
”جو یہ کہتے ہیں کہ نبوت کیسی ہے، منقطع نہیں ہوتی ، یا سمجھتے ہیں کہ ولی نبی سے افضل ہوتا ہے، وہ زندیق ہیں، انہیں قتل کرنا واجب ہے۔ جب بھی کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا، مسلمانوں نے اسے قتل کر دیا۔ ہمارے زمانے میں مالقہ نامی شہر کے ایک فقیر نے نبوت کا دعوی کیا ، تو اندلس کے بادشاہ سلطان بن احمر نے اسے غرناطہ میں قتل کروا دیا اور اسے پھانسی دے دی، یہاں تک کہ اس کا گوشت بکھر گیا۔“
(البحر المحيط : 485/8)