جو اللہ تعالیٰ کو عرش پر مستوی نہ مانے، اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

جو اللہ تعالیٰ کو عرش پر مستوی نہ مانے، اس کی امامت کا کیا حکم ہے؟

جواب:

اللہ کا عرش پر مستوی ہونا قرآن، احادیث متواترہ، آثار صحابہ، اجماع امت اور فطرت کے دلائل سے ثابت ہے۔ اس کا منکر امامت کے لائق نہیں، اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔
❀ علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ (620ھ) لکھتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں خبر دی ہے کہ وہ آسمانوں پر بلند ہے۔ اسی طرح خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی بتایا ہے۔ اس پر اہل علم، صحابہ کرام اور فقہا کا اجماع ہے۔ اس بابت اتنی احادیث بیان ہوئی ہیں کہ ان سے علم یقینی حاصل ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں کو جمع کر دیا ہے۔ اسے تمام مخلوقات کی فطرت کا حصہ بنا دیا ہے۔ دیکھیے! سب مصیبت کے وقت نظریں آسمان کی جانب جماتے ہیں اور دعا کے وقت اسی سمت ہاتھ بلند کرتے ہیں، اپنے رب کی طرف سے خوشحالی کا انتظار کرتے ہیں اور زبانوں سے یہی پکارتے ہیں۔ اس کا انکار وہی کر سکتا ہے، جو غالی بدعتی ہو یا ایسے شخص کی تقلید اور ضلالت پر پیروی کے فتنے کا شکار ہو چکا ہو۔“
(إثبات صفة العلو، ص 63)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾