سوال:
جوتوں میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب:
جوتے پاک صاف ہوں، تو ان میں نماز پڑھنا ثابت ہے، اس پر متواتر احادیث اور اجماع امت شاہد ہیں۔
❀ علامہ نجی حنفی رحمہ اللہ (686ھ) فرماتے ہیں:
قد جاءت الأخبار متواترة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من صلاته فى نعليه
متواتر احادیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے پہن کر نماز پڑھی۔
(اللباب في الجمع بين السنة والكتاب: 1/326)
جوتا پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے، ضروری نہیں۔
❀ سعید بن یزید بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
سألت أنسا رضى الله عنه أكان النبى صلى الله عليه وسلم يصلي فى نعليه؟ قال: نعم
میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جوتوں سمیت نماز پڑھ لیا کرتے تھے؟ فرمایا: جی ہاں!
(صحيح البخاري: 386، صحیح مسلم: 555)
❀ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى فى نعليه، فصلى الناس فى نعالهم، ثم ألقى نعليه، فألقى الناس نعالهم وهم فى الصلاة، فلما قضى صلاته قال: ما حملكم على إلقاء نعالكم فى الصلاة؟ قالوا: يا رسول الله، رأيناك فعلت ففعلنا، قال: إن جبريل أخبرني أن فيها أذى، فإذا أتى أحدكم المسجد فلينظر فإن رأى فى نعليه أذى، وإلا فليصل فيهما
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے پہن کر نماز پڑھائی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی جوتوں سمیت نماز ادا کی، پھر دوران نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے اتار دیے، یہ دیکھ کر صحابہ نے بھی جوتے اتار دیے۔ نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نے جوتے کیوں اتارے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو دیکھا تو اتار دیے۔ فرمایا: مجھے جبریل نے بتایا تھا کہ جوتا نجاست آلود ہے، آپ مسجد آنے سے قبل جوتا دیکھ لیا کریں، اس میں نجاست ہو، تو اتار دیا کریں، ورنہ اسی میں نماز ادا کر لیا کریں۔
(مسند الطيالسي: 286، مسند الإمام أحمد: 3/20، سنن أبي داود: 650، مسند ابن حميد: 880، مسند أبي يعلى: 1194، السنن الكبرى للبيهقي: 2/406، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ (1017) اور امام ابن حبان (2185) نے صحیح کہا ہے، حافظ حاکم رحمہ اللہ (1/260) نے اس کو امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
حافظ نووی رحمہ اللہ نے بھی اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔
(خلاصة الأحكام: 1/319)
❀ علامہ ابو عبد اللہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں:
لم يختلف العلماء فى جواز الصلاة فى النعل إذا كانت طاهرة من ذكي
اہل علم کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر جوتے یقینی طور پر پاک ہوں، تو اس میں نماز پڑھنا جائز ہے۔
(تفسير القرطبي: 11/174)