مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

جن احادیث میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہے، انہیں بیان کرنا کیسا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

جن احادیث میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہے، انہیں بیان کرنا کیسا ہے؟

جواب:

جن احادیث میں صفات باری تعالیٰ کا ذکر ہے، انہیں بیان کرنا جائز ہے، انہیں ظاہری معنی پر رکھیں گے، ان میں تاویل، تشبیہ یا تمثیل جائز نہیں۔
❀ علامہ ابن ہبیرہ رحمہ اللہ (560ھ) فرماتے ہیں:
إن الإجماع انعقد على جواز رواية هذه الأحاديث وإمرارها كما جاءت مع الإيمان بأن الله تعالى ليس كمثله شيء وهو السميع البصير، وأنه أحد صمد، لم يلد ولم يولد، ولم يكن له كفوا أحد، وينبغي لكل مؤمن أن يكون مثبتا لله سبحانه من الصفات ما أثبته له رسول الله صلى الله عليه وسلم، ونافيا عنه من مشابهة الأجسام ما نفاه القرآن والسنة
اس پر اجماع منعقد ہو چکا ہے کہ (صفات باری تعالیٰ کے بارے میں مروی) ان احادیث کو روایت کرنا جائز ہے، نیز انہیں اسی طرح گزارا جائے گا، جس طرح یہ وارد ہوئی ہیں، ساتھ ساتھ یہ ایمان رکھا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کی مثل کوئی شے نہیں، وہ خوب سننے والا اور خوب دیکھنے والا ہے، نیز وہ اکیلا ہے، بے نیاز ہے، نہ اس نے (کسی کو) جنم دیا اور نہ اسے کسی نے جنم دیا، اس کا کوئی ہم سر اور شریک نہیں۔ ہر مؤمن کو چاہیے کہ وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے وہ صفات ثابت کرے، جو اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کی ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اجسام کے ساتھ مشابہت کی نفی کرے، کہ جس کی قرآن وسنت نے نفی کی ہے۔
(الإفصاح عن معاني الصحاح: 71/4)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔