مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری

جنوں کی پیدائش اور جد امجد کے بارے میں ایک فتویٰ

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری، جلد 1، صفحہ 101

سوال

جنوں کا دادا کون تھا؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
حضرت انسان کے دادا حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور ہمیں یہ معلوم ہے کہ ہم حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ:

  • جنوں کا دادا کون تھا؟
  • وہ کس کی نسل سے ہیں؟
  • ان کے مورثِ اعلیٰ (پہلے جدّ امجد) کا نام کیا تھا؟
  • کیا قرآن و حدیث میں اس کا کوئی ذکر موجود ہے؟

جنوں کے دادا کے بارے میں وضاحت:

جنوں کے جدِّ اعلیٰ کے بارے میں نہ تو کسی معتبر روایت میں اور نہ ہی کسی ضعیف روایت میں کوئی واضح ذکر یا نام احقر (فقیر) کو معلوم ہو سکا۔

البتہ قرآن مجید کی سورۃ الرحمن کی آیت:

"وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مَارِجٍ مِّن نَّارٍ”
(الرحمن: 15)

اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے صرف اتنا بیان کیا ہے:

  • "خلق الجان، أي وهو إبليس”
    (یعنی الجان سے مراد ابلیس ہے)
  • "وقيل ابو الجن غير إبليس”
    (اور کہا گیا کہ ابوالجن، ابلیس کے علاوہ کوئی اور ہے)
  • "وقيل نفس الجن، أي هذا الجنس، يعني خلق جنس الجن”
    (اور کہا گیا کہ الجان سے مراد خود جنوں کی جنس ہے، یعنی جنوں کی مخلوق کی تخلیق کا بیان ہے)

الجمل حاشية تفسير الجلالين، طبع الهند، جلد 4، صفحہ 298

یہی بات میرے نزدیک ظاہر ہوئی ہے، اور درست علم اللہ ہی کے پاس ہے۔

ھذا ما عندي، والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔