مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

جنوں کو انسانوں کی طرح آگ میں عذاب دیے جانے کی حقیقت

فونٹ سائز:
تالیف: ڈاکٹر رضا عبداللہ پاشا حفظ اللہ

کیا یہ حق ہے کہ جن کو آگ میں انسان کی طرح عذاب ہو گا

جواب :

جی ہاں!
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
«قَالَ ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ فِي النَّارِ ۖ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ حَتَّىٰ إِذَا ادَّارَكُوا فِيهَا جَمِيعًا قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ ‎ ﴿٣٨﴾ » [الأعراف: 38]
”فرمائے گا ان جماعتوں کے ہمراہ جو جنوں اور انسانوں میں سے تم سے پہلے گزر چکی ہیں، آگ میں داخل ہو جاؤ جب بھی کوئی جماعت داخل ہو گی اپنے ساتھ والی کو لعنت کرے گی، یہاں تک کہ جس وقت سب ایک دوسرے سے آ ملیں گے تو ان کی پچھلی جماعت اپنے سے پہلی جماعت کے متعلق کہے گی : اے ہمارے رب ! ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا، تو انھیں آگ کا دگنا عذاب دے۔ فرمائے گا : سبھی کے لیے دگنا ہے اور لیکن تم نہیں جانتے۔“
«ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ» یعنی اپنی جیسی یا تمھارے جیسی صفات والی امتوں میں، یعنی گذشتہ کافر امتوں میں داخل ہو جاؤ۔
جب وہ سب اس میں جمع ہو جائیں گے تو وقالت أخرهم ولهم یعنی بعد میں داخل ہونے والے جو پپلوں کے متبعین ہیں، وہ کہیں گے : «وقاتهم عذابا ضعفا بين التاره» یعنی ان پر سزا کو دوگنا کر دے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔