مضمون کے اہم نکات
جنت اور جہنم: قیامت کے دو ہی ٹھکانے
قیامت کے دن انسان کے لیے دو ہی انجام ہیں: جنت یا جہنم۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿فَرِیْقٌ فِیْ الْجَنَّۃِ وَفَرِیْقٌ فِیْ السَّعِیْرِ﴾ (الشوری42 :7)
ترجمہ: “ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ جہنم میں ہوگا۔”
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں جنت الفردوس میں داخل فرمائے اور جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
جنت کے اوصاف قرآنِ مجید میں
① جنت کے پھل اور اہلِ جنت کی بیویاں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ… وَّلَہُمْ فِیْہَا أَزْوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ وَّہُمْ فِیْہَا خَالِدُوْنَ﴾ (البقرۃ2:25)
ترجمہ: “اور ایمان والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ان جنتوں کی خوشخبری دے دیجئے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں… جب کبھی انہیں پھلوں کا رزق دیا جائے گا… کہیں گے: یہ وہی ہے جو ہمیں پہلے دیا گیا تھا… ان کے لیے پاکیزہ بیویاں ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔”
② اہلِ جنت کا باہمی سلام
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿…دَعْوَاہُمْ فِیْہَا سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَتَحِیَّتُہُمْ فِیْہَا سَلاَمٌ…﴾ (یونس10:10-9)
ترجمہ: “یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے… نعمت کے باغوں میں ہوں گے… ان کی دعا یہ ہوگی: ‘اے اللہ! تو پاک ہے’ اور ان کا باہمی سلام ‘السلام علیکم’ ہوگا، اور ان کی آخری بات یہ ہوگی: ‘تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا رب ہے’۔”
③ فرشتوں کا اہلِ جنت کو سلام اور خوشخبری
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَسِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ إِلَی الْجَنَّۃِ زُمَرًا… وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ…﴾ (الزمر39:74-73)
ترجمہ: “اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے وہ گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے… جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور نگہبان کہیں گے: تم پر سلام ہو، تم خوش رہو، ہمیشہ کے لیے داخل ہوجاؤ… وہ کہیں گے: اللہ کا شکر ہے جس نے اپنا وعدہ پورا کیا… پس عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا بدلہ ہے۔”
④ جنت میں دلوں کی رنجشیں ختم
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿…وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِہِمْ مِّنْ غِلٍّ… لاَ یَمَسُّہُمْ فِیْہَا نَصَبٌ…﴾ (الحجر15:48-45)
ترجمہ: “متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے… سلامتی اور امن کے ساتھ داخل ہوجاؤ… ان کے سینوں میں جو کینہ تھا ہم نکال دیں گے… نہ انہیں کوئی تکلیف ہوگی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔”
⑤ سونے، موتیوں کے کنگن اور ریشم کا لباس
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿…یُحَلَّوْنَ فِیْہَا مِنْ أَسَاوِرَ مِنْ ذَہَبٍ وَلُؤْلُؤًا وَّلِبَاسُہُمْ فِیْہَا حَرِیْرٌ﴾ (الحج22 :23)
ترجمہ: “ایمان والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ ان جنتوں میں داخل کرے گا… وہاں انہیں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان کا لباس ریشم ہوگا۔”
اسی طرح: ﴿إِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ أَمِیْنٍ… یَلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّاِسْتَبْرَقٍ…﴾ (الدخان44:55-51)
ترجمہ: “بے شک متقی امن کی جگہ میں ہوں گے… باغوں اور چشموں میں… باریک اور دبیز ریشم پہنے ہوئے آمنے سامنے ہوں گے۔”
⑥ میوے اور باحیا حوریں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿…جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَۃً لَّہُمُ الْأَبْوَابُ… وَعِنْدَہُمْ قٰصِرَاتُ الطَّرْفِ أَتْرَابٌ…﴾ (ص38 :55-49)
ترجمہ: “یہ نصیحت ہے، اور پرہیزگاروں کے لیے بہترین ٹھکانہ ہے… ہمیشہ کی جنتیں جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے… وہاں وہ میوے اور مشروبات کی فرمائشیں کریں گے… اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی ہم عمر حوریں ہوں گی… یہ ہمارا رزق ہے جس کا کبھی خاتمہ نہیں۔”
اور: ﴿إِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا… وَکَوَاعِبَ أَتْرَابًا…﴾ (النبأ78 :36-31)
ترجمہ: “یقیناً پرہیزگاروں کے لیے کامیابی ہے… باغات اور انگور… اور ہم عمر نوجوان کنواری عورتیں… اور چھلکتے جام… وہاں نہ لغو بات ہوگی نہ جھوٹ… یہ آپ کے رب کی طرف سے کافی عطیہ ہوگا۔”
⑦ اہلِ جنت کے دلچسپ مشغلے
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّۃِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فَاکِہُوْنَ… سَلاَمٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ﴾ (یس36 :58-55)
ترجمہ: “جنت والے آج اپنے مشغلوں میں خوش ہیں… وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے… ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے… اور جو چاہیں گے ملے گا… اور مہربان رب کی طرف سے سلام ہوگا۔”
⑧ پانی، دودھ، شراب اور شہد کی نہریں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿…أَنْہَارٌ مِّنْ مَّآئٍ غَیْرِ آسِنٍ… وَأَنْہَارٌ مِّنْ لَّبَنٍ… وَأَنْہَارٌ مِّنْ خَمْرٍ… وَأَنْہَارٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی…﴾ (محمد47: 15)
ترجمہ: “اس جنت کی صفت… اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بدبو دار نہیں… دودھ کی نہریں… شراب کی نہریں جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہے… صاف شہد کی نہریں… اور ہر قسم کے پھل… اور رب کی طرف سے مغفرت ہے۔”
⑨ تخت، جام، پسندیدہ میوے، پرندوں کا گوشت، اور کنواری حوریں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَالسَّابِقُوْنَ السَّابِقُوْنَ… وَحُوْرٌ عِیْنٌ… إِلاَّ قِیْلاً سَلاَمًا سَلاَمًا…﴾ (الواقعۃ56 :40-11)
ترجمہ: “سبقت لے جانے والے… مقرب ہوں گے… نعمتوں والی جنتوں میں… سونے کے تاروں سے بنے تختوں پر آمنے سامنے… خدمت گار لڑکے… آبخورے، جگ اور جام… ایسی شراب جس سے نہ سر درد ہوگا نہ عقل میں فتور… پسند کے میوے… مرغوب پرندوں کا گوشت… اور حورِ عین جیسے چھپے ہوئے موتی… وہاں نہ لغو بات نہ گناہ… بس سلام ہی سلام… اور دائیں ہاتھ والے… بے کانٹے بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبے سائے، بہتا پانی، بہت سے پھل… اور اونچے فرش… (بیویاں) کنواری، محبت والی، ہم عمر…”
⑩ عظیم نعمتیں اور بڑی سلطنت
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَجَزَاہُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّۃً وَّحَرِیْرًا… وَإِذَا رَأَیْتَ ثَمَّ رَأَیْتَ نَعِیْمًا وَّمُلْکاً کَبِیْرًا…﴾ (الإنسان 76: 22-12)
ترجمہ: “اور انہیں ان کے صبر کے بدلے جنت اور ریشم دیا جائے گا… وہاں نہ دھوپ ہوگی نہ سخت سردی… سائے جھکے ہوں گے… چاندی کے برتن اور جام… جن میں زنجبیل ملی ہوگی… سلسبیل نامی چشمہ… ہمیشہ رہنے والے بچے… جہاں نظر ڈالے گا نعمتیں اور عظیم سلطنت ہی دیکھے گا… سبز ریشم… چاندی کے کنگن… رب پاکیزہ مشروب پلائے گا… یہ تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔”
جنت کے اوصاف احادیثِ نبویہ میں
① جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والا شخص
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( آتِیْ بَابَ الْجَنَّۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَأَسْتَفْتِحُ،فَیَقُوْلُ الْخَازِنُ:مَنْ أَنْتَ؟ فَأَقُوْلُ: مُحَمَّد،فَیَقُوْلُ : بِکَ أُمِرْتُ،لَا أَفْتَحُ لِأَحَدٍ قَبْلَکَ )) (صحیح مسلم :188)
ترجمہ: “میں قیامت کے روز جنت کے دروازے پر آؤں گا، پھر میں دروازہ کھولنے کا مطالبہ کروں گا تو خازن پوچھے گا: آپ کون ہیں؟ میں کہوں گا: میں محمد ہوں۔ وہ کہے گا: مجھے آپ ہی کے بارے میں حکم دیا گیا تھا کہ آپ سے پہلے کسی کے لیے جنت کا دروازہ نہ کھولوں۔”
اسی طرح حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( وُلْدُ آدَمَ کُلُّہُمْ تَحْتَ لِوَائِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ،وَأَناَ أَوَّلُ مَن یُّفْتَحُ لَہُ بَابُ الْجَنَّۃِ )) (صحیح الجامع :6995)
ترجمہ: “قیامت کے دن آدم علیہ السلام کی تمام اولاد میرے جھنڈے تلے جمع ہوگی، اور میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جس کے لیے جنت کا دروازہ کھولا جائے گا۔”
② جنت میں داخل ہونے والے پہلے گروہ کی صفت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا، ان کی شکلیں چودھویں رات کے چاند کی مانند ہوں گی۔ پھر ان کے بعد داخل ہونے والوں کی صورتیں آسمان پر سب سے زیادہ چمکنے والے ستارے کی طرح ہوں گی۔ انہیں پیشاب و پاخانہ کی ضرورت نہیں ہوگی اور وہ بلغم اور تھوک سے پاک ہوں گے۔ ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی اور ان کے جسم سے نکلنے والے پسینے کی خوشبو کستوری جیسی ہوگی۔ ان کے اگر دان عود کے ہوں گے۔ ان کی بیویاں موٹی موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی۔ ان سب کے اخلاق ایک جیسے ہوں گے اور وہ سب اپنے باپ آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوں گے اور ان کا قد ساٹھ ہاتھ لمبا ہوگا۔” (صحیح البخاری:3327، صحیح مسلم :2834)
③ جنت کے دروازے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جس شخص نے اللہ کے راستے میں (ہر خیر کے کام میں) ایک کی بجائے جوڑے کو خرچ کیا اسے جنت کے دروازوں سے پکارا جائے گا: اے اللہ کے بندے! یہ دروازہ بہتر ہے۔ چنانچہ جو اہلِ نماز میں سے تھا اسے نماز کے دروازے سے پکارا جائے گا۔ جو اہلِ جہاد میں سے تھا اسے جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا۔ جو روزہ داروں میں سے تھا اسے روزوں کے دروازے سے پکارا جائے گا۔ اور جو اہلِ صدقہ میں سے تھا اسے صدقہ کے دروازے سے پکارا جائے گا۔”
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جسے ان تمام دروازوں سے پکارا جائے گا اسے تو کسی چیز کی ضرورت نہ ہوگی، تو کیا کوئی ایسا بھی ہوگا جسے ان تمام دروازوں سے پکارا جائے گا؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم بھی انہی لوگوں میں شامل ہوگے۔” (صحیح البخاری:1897، صحیح مسلم :1027)
④ جنت کے درجات
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَبِرَسُوْلِہٖ،وَأَقَامَ الصَّلَاۃَ ،وَصَامَ رَمَضَانَ،کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ أَنْ یُّدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ،جَاہَدَ(وفی روایۃ:ہَاجَرَ)فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوْ جَلَسَ فِیْ أَرْضِہِ الَّتِیْ وُلِدَ فِیْہَا ))
ترجمہ: “جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا، نماز قائم کی، رمضان کے روزے رکھے، تو اللہ پر اس کا حق ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے، چاہے اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہو (ایک روایت میں ہے: چاہے اس نے ہجرت کی ہو) یا اپنی اسی سرزمین میں بیٹھا رہا ہو جہاں وہ پیدا ہوا۔”
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! تو کیا ہم لوگوں کو اس کی بشارت نہ سنا دیں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِنَّ فِیْ الْجَنَّۃِ مِائَۃَ دَرَجَۃٍ،أَعَدَّہَا اللّٰہُ لِلْمُجَاہِدِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ،مَا بَیْنَ الدَّرَجَتَیْنِ کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأرْضِ،فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْأَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّہُ أَوْسَطُ الْجَنَّۃِ وَأَعْلَی الْجَنَّۃِ ۔ أُرَاہُ قَالَ : وَفَوْقَہُ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ ، وَمِنْہُ تَفَجَّرُ أَنْہَارُ الْجَنَّۃِ )) (صحیح البخاری، الجہاد باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ :2790و7423)
ترجمہ: “جنت میں ایک سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے، اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔ لہٰذا جب تم اللہ سے سوال کرو تو فردوسِ اعلیٰ کا سوال کیا کرو، کیونکہ وہ جنت کا سب سے اوپر والا درجہ ہے۔ اس کے اوپر اللہ کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔”
⑤ جنت والے ہمیشہ جوان رہیں گے
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( یَدْخُلُ أَہْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ جُرْدًا مُرْدًا مُکَحَّلِیْنَ،أَبْنَائَ ثَلَاثِیْنَ أَوْ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِیْنَ سَنَۃً )) (سنن الترمذ ی:2545۔ وحسنہ الألبانی)
ترجمہ: “اہلِ جنت جنت میں اس حالت میں داخل ہوں گے کہ ان کے جسموں پر بال نہیں ہوں گے، بے ریش ہوں گے، سرمگیں آنکھوں والے ہوں گے، اور ان کی عمر تیس یا تینتیس سال ہوگی۔”
اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( مَنْ یَّدْخُلُ الْجَنَّۃَ یَنْعَمُ وَلَا یَبْأَسُ ، لَا تَبْلٰی ثِیَابُہُ ، وَلَا یَفْنیٰ شَبَابُہُ )) (صحیح مسلم:2836)
ترجمہ: “جو شخص جنت میں داخل ہوگا وہ ہمیشہ نعمتوں میں رہے گا اور کبھی بدحالی نہیں دیکھے گا۔ اس کا لباس کبھی پرانا نہیں ہوگا اور اس کی جوانی کبھی ختم نہیں ہوگی۔”
⑥ اہلِ جنت کی بیویاں
جنت میں اللہ تعالیٰ جنتیوں کو پاکیزہ بیویاں عطا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ فِیْہِنَّ قٰصِرَاتُ الطَّرْفِ لَمْ یَطْمِثْہُنَّ إِنْسٌ قَبْلَہُمْ وَلاَ جَانٌّ . فَبِأَیِّ آلاَئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ . کَأَنَّہُنَّ الْیَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ﴾ (الرحمن55:58-56)
ترجمہ: “ان میں نیچی نگاہ والی (شرمیلی) حوریں ہوں گی جنہیں ان سے پہلے کسی انسان اور کسی جن نے چھوا تک نہیں ہوگا۔ پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟ وہ حوریں یاقوت اور مرجان جیسی ہوں گی۔”
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے حسن و جمال کے بارے میں فرماتے ہیں:
(( لِکُلِّ امْرِئٍ زَوْجَتَانِ مِنَ الْحُوْرِ الْعِیْنِ،یُرٰی مُخُّ سُوْقِہِنَّ مِنْ وَّرَائِ الْعَظْمِ وَاللَّحْمِ)) (صحیح البخاری:3254 ، صحیح مسلم:2834)
ترجمہ: “ہر آدمی کے لیے حورالعین میں سے دو بیویاں ہوں گی، ان کی پنڈلیوں کا گودا گوشت اور ہڈی کے باہر سے نظر آ رہا ہوگا۔”
اور حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( لَرَوْحَۃٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَوْ غَدْوَۃٌ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْہَا… وَلَوْ أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ اِطَّلَعَتْ إِلٰی أَہْلِ الْأرْضِ لَأضَائَ تْ مَا بَیْنَہُمَا وَلَمَلَأتْہُ رِیْحًا…)) (صحیح البخاری:2796)
ترجمہ: “اللہ کے راستے میں صبح یا شام نکلنا دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے… اور جنت میں کمان برابر، یا ایک ہاتھ کے برابر، یا ایک کوڑے کے برابر جگہ بھی دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے… اور اگر اہلِ جنت کی کوئی عورت اہلِ زمین پر جھانک لے تو آسمان و زمین کے درمیان خلا کو روشنی اور خوشبو سے بھر دے، اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے سب سے بہتر ہے۔”
اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( یُعْطَی الْمُؤْمِنُ فِیْ الْجَنَّۃِ قُوَّۃَ کَذَا وَکَذَا مِنَ الْجِمَاعِ… قَالَ: یُعْطیٰ قُوَّۃَ مِئَۃٍ )) (صحیح الجامع:8106)
ترجمہ: “جنت میں مومن کو بہت زیادہ قوتِ جماع دی جائے گی۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ اس کی طاقت رکھے گا؟ فرمایا: اسے سو افراد کی طاقت دی جائے گی۔”
⑦ اہلِ جنت کا کھانا پینا
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِنَّ أَہْلَ الْجَنَّۃِ یَأْکُلُوْنَ فِیْہَا وَیَشْرَبُوْنَ،وَلَا یَتْفُلُوْنَ،وَلَا یَبُوْلُوْنَ وَلَا یَتَغَوَّطُوْنَ وَلَا یَمْتَخِطُوْنَ… جُشَائٌ وَرَشْحٌ کَرَشْحِ الْمِسْکِ… )) (صحیح مسلم :2835)
ترجمہ: “اہلِ جنت جنت میں کھائیں گے اور پیئیں گے، مگر نہ تھوکیں گے، نہ پیشاب کریں گے، نہ پاخانہ کریں گے، اور نہ ناک جھاڑیں گے۔”
صحابہ نے پوچھا: پھر کھانا کہاں جاتا ہے؟
فرمایا: “بس ایک ڈکار اور پسینہ ہوگا، جس سے کستوری جیسی خوشبو آئے گی، اور انہیں تسبیح و تحمید کا ایسے الہام ہوگا جیسے تمہیں سانس کا الہام ہوتا ہے۔”
⑧ جنت کے برتن
حضرت ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّۃٍ آنِیَتُہُمَا وَمَا فِیْہِمَا،وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَہَبٍ آنِیَتُہُمَا وَمَا فِیْہِمَا… )) (صحیح البخاری: 4878و4880و7444، صحیح مسلم:180)
ترجمہ: “دو جنتیں ایسی ہوں گی جن کے برتن اور ان میں جو کچھ ہوگا سب چاندی کا ہوگا، اور دو جنتیں ایسی ہوں گی جن کے برتن اور ان میں جو کچھ ہوگا سب سونے کا ہوگا… اور جنتِ عدن میں دیدارِ الٰہی کے درمیان صرف کبریائی کی ایک چادر حائل ہوگی جو اللہ تعالیٰ کے چہرے پر ہوگی۔”
⑨ جنت کے بالا خانے
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿…لَہُمْ غُرَفٌ مِّن فَوْقِہَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّۃٌ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ…﴾ (الزمر39:20)
ترجمہ: “البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے ان کے لیے بالا خانے ہیں، جن کے اوپر بھی بنے بنائے بالا خانے ہیں، اور ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔”
اور حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“اہلِ جنت اپنے اوپر والے بالا خانوں والوں کو یوں دیکھیں گے جیسے تم مشرق یا مغرب کے افق پر چمکتے ہوئے ستارے کو دیکھتے ہو، یہ درجات کے فرق کی وجہ سے ہوگا۔”
صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ تو انبیاء کے گھر ہوں گے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( بَلٰی وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ ،رِجَالٌ آمَنُوْا بِاللّٰہِ وَصَدَّقُوْا الْمُرْسَلِیْنَ )) (صحیح البخاری:3256، صحیح مسلم:2831)
ترجمہ: “کیوں نہیں! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ گھر ان لوگوں کے ہوں گے جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی۔”
اور حضرت ابو مالک الاشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِنَّ فِیْ الْجَنَّۃِ غُرَفًا یُرٰی ظَاہِرُہَا مِنْ بَاطِنِہَا… أَعَدَّہَا اللّٰہُ… لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ… وَصَلّٰی بِاللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ )) (رواہ احمد وابن حبان۔ صحیح الجامع للألبانی :2123)
ترجمہ: “جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا باہر اندر سے اور اندر باہر سے نظر آتا ہے۔ اللہ نے انہیں اس کے لیے تیار کیا ہے جو کھانا کھلاتا ہے، نرم گفتگو کرتا ہے، مسلسل روزے رکھتا ہے اور رات کو (تہجد) پڑھتا ہے جب لوگ سو رہے ہوتے ہیں۔”
⑩ جنت کے خیمے
حضرت ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِنَّ لِلْمُؤْمِنِ فِیْ الْجَنَّۃِ لَخَیْمَۃً مِنْ لُؤْلُؤَۃٍ وَاحِدَۃٍ مُجَوَّفَۃٍ… )) (صحیح مسلم:2838)
ترجمہ: “مومن کے لیے جنت میں ایک خیمہ ہوگا جو اندر سے تراشے ہوئے ایک موتی کا بنا ہوگا، اس کی لمبائی ساٹھ میل ہوگی، اس میں مومن کی بیویاں ہوں گی، وہ ان کے پاس باری باری جائے گا، اور وہ ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکیں گی۔”
⑪ جنت کے درخت اور جنت میں پودے لگانے کا طریقہ
حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِنَّ فِیْ الْجَنَّۃِ شَجَرَۃً،یَسِیْرُ الرَّاکِبُ… مِائَۃَ عَامٍ مَا یَقْطَعُہَا )) (صحیح مسلم:2828)
ترجمہ: “جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ تیز رفتار گھوڑا اس کے سائے میں سو سال دوڑتا رہے تو بھی اسے طے نہ کر سکے۔”
اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( مَا فِیْ الْجَنَّۃِ شَجَرَۃٌ إِلَّا وَسَاقُہَا مِنْ ذَہَبٍ )) (سنن الترمذی:2525۔ صحیح الجامع للألبانی:5647)
ترجمہ: “جنت میں کوئی درخت ایسا نہیں مگر اس کا تنا سونے کا ہوگا۔”
اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( لَقِیْتُ إِبْرَاہِیْمَ لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِیْ… غِرَاسُہَا: سُبْحَانَ اللّٰہِ،وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ،وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ )) (سنن الترمذی:3462۔ السلسلۃ الصحیحۃ:105)
ترجمہ: “میں معراج کی رات ابراہیم علیہ السلام سے ملا… انہوں نے فرمایا: میری طرف سے اپنی امت کو سلام کہنا، اور بتانا کہ جنت کی مٹی پاکیزہ، پانی میٹھا، اور وہ ایک میدان کی طرح ہے؛ اور (سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ أَکْبَرُ) کے ذریعے اس میں پودے لگائے جاتے ہیں۔”
اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( مَنْ قَالَ:سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ،غُرِسَتْ لَہُ بِہَا نَخْلَۃٌ فِیْ الْجَنَّۃِ )) (سنن الترمذی، ابن حبان، الحاکم۔ صحیح الجامع للألبانی:6429)
ترجمہ: “جو شخص (سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ) کہے، اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔”
⑫ جنت کا بازار
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِنَّ فِیْ الْجَنَّۃِ لَسُوْقًا یَأْتُوْنَہَا کُلَّ جُمُعَۃٍ… فَیَزْدَادُوْنَ حُسْنًا وَجَمَالًا… )) (صحیح مسلم۔ کتاب الجنۃ باب فی سوق الجنۃ :2833)
ترجمہ: “جنت میں ایک بازار ہوگا جہاں اہلِ جنت ہر ہفتے آئیں گے۔ شمال کی جانب سے ایک ہوا چلے گی جو ان کے کپڑوں اور چہروں پر (جنت کی) مٹی ڈالے گی، اس سے ان کے حسن و جمال میں اضافہ ہوگا۔ پھر وہ اپنے اہل کے پاس لوٹیں گے تو وہ کہیں گے: اللہ کی قسم! آپ پہلے سے زیادہ حسین ہو گئے ہیں، اور وہ جواب دیں گے: اور تم بھی اللہ کی قسم! پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو گئی ہو۔”
⑬ جنت کے محلات
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے سونے کا ایک محل دیکھا۔ میں نے پوچھا: یہ کس کا ہے؟ کہا گیا: قریش کے ایک شخص کا۔ میں نے پوچھا: وہ کون ہے؟ کہا گیا: عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ… پھر عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟” (صحیح البخاری:5226و7024، صحیح مسلم:2394)
⑭ جنت کی نہریں اور کوثر
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے ایک نہر دیکھی جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے تھے… میں نے پانی میں ہاتھ مارا تو کستوری کی خوشبو آئی… جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے۔” (صحیح البخاری:6581)
⑮ جنت میں سب سے بڑا اکرام: اللہ تعالیٰ کا دیدار
حضرت صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جب اہلِ جنت جنت میں اور اہلِ جہنم جہنم میں چلے جائیں گے تو اعلان ہوگا: اے اہلِ جنت! اللہ نے تم سے ایک وعدہ کیا تھا… پھر پردہ ہٹا دیا جائے گا اور وہ اپنے رب کو دیکھیں گے… اللہ کی قسم! انہیں کوئی نعمت دیدارِ الٰہی سے بڑھ کر محبوب نہ ہوگی۔” (احمد وابن ماجہ۔ صحیح الجامع :521)
⑯ سب سے اونچے درجے والا اور سب سے نچلے درجے والا جنتی
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ جنت میں سب سے نچلے درجے والا جنتی کیسا ہوگا؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“وہ شخص جو جنتیوں کے جنت میں داخل ہو جانے کے بعد آئے گا۔ اس سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! لوگ اپنے اپنے گھروں میں جا چکے اور اپنا اپنا انعام لے چکے، میں کیسے داخل ہوں؟ اسے کہا جائے گا: کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ تجھے دنیا کے کسی بادشاہ کی پوری مملکت جیسی مملکت مل جائے؟ وہ کہے گا: اے رب! میں راضی ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تجھے اس جیسی ایک اور، پھر ایک اور، پھر ایک اور، پھر ایک اور عطا کی۔ وہ ہر بار کہے گا: میں راضی ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا:
(( ہٰذَا لَکَ وَعَشْرَۃُ أَمْثَالِہٖ،وَلَکَ مَا اشْتَہَتْ نَفْسُکَ وَلَذَّتْ عَیْنُکَ ))
ترجمہ: “یہ سب تیرے لیے ہے اور اس جیسی دس اور بھی، اور تیرے لیے وہ سب کچھ ہے جو تیرا دل چاہے اور جس سے تیری آنکھوں کو لذت ملے۔”
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: اے رب! سب سے بلند درجے والے کون ہوں گے؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
(( أُولٰئِکَ الَّذِیْنَ أَرَدْتُّ غَرَسْتُ کَرَامَتَہُمْ بِیَدِیْ وَخَتَمْتُ عَلَیْہَا،فَلَمْ تَرَ عَیْنٌ،وَلَمْ تَسْمَعْ أُذُنٌ،وَلَمْ یَخْطُرْ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ ))
ترجمہ: “وہ وہ لوگ ہیں جنہیں میں نے خود چنا، میں نے ان کی عزت اپنے ہاتھ سے قائم کی اور اس پر مہر لگا دی، ان کے لیے وہ کچھ تیار کیا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا تصور آیا۔” (صحیح مسلم، کتاب الایمان باب ادنی اہل الجنۃ منزلۃ فیہا :189)
⑰ بغیر حساب جنت میں داخل ہونے والے لوگ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں… ایک نبی کے ساتھ چند افراد، ایک کے ساتھ ایک دو، اور ایک کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا… پھر ایک عظیم جماعت دکھائی گئی… کہا گیا: یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہے… پھر دوسری جانب دیکھا تو ایک عظیم جماعت تھی… کہا گیا: یہ آپ کی امت ہے، اور ان میں ستر ہزار افراد ایسے ہیں جو بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔”
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( ہُمُ الَّذِیْنَ لَا یَرْقُوْنَ،وَلَا یَسْتَرْقُوْنَ،وَلَا یَتَطَیَّرُوْنَ،وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ))
ترجمہ: “وہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم کرتے تھے، نہ دم کرواتے تھے، نہ بدشگونی لیتے تھے، اور اپنے رب پر مکمل توکل کرتے تھے۔” (صحیح البخاری:3410،5705،5752؛ صحیح مسلم:220)
ایک روایت میں ہے:
(( وَلَا یَکْتَوُوْنَ ))
ترجمہ: “اور نہ داغ لگواتے تھے (علاج کے طور پر)، اور صرف اپنے رب پر توکل کرتے تھے۔” (صحیح مسلم:218)
اور حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( وَعَدَنِیْ رَبِّیْ أَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ مِنْ أُمَّتِیْ سَبْعِیْنَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَیْہِمْ وَلَا عَذَابَ،مَعَ کُلِّ أَلْفٍ سَبْعُوْنَ أَلْفًا،وَثَلَاثُ حَثَیَاتٍ مِنْ حَثَیَاتِ رَبِّیْ ))
ترجمہ: “میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار افراد کو بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل کرے گا، ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار مزید ہوں گے، اور اس کے علاوہ تین چلو میرے رب کی چلوؤں میں سے۔” (احمد، ترمذی، ابن ماجہ؛ صحیحہ الألبانی تخریج المشکاۃ :5556)
⑱ اس امت کا اہلِ جنت میں بڑا حصہ
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَکُوْنُوْا رُبْعَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ؟ ))
“کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم اہلِ جنت کا چوتھا حصہ بن جاؤ؟”
پھر فرمایا:
(( أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَکُوْنُوْا ثُلُثَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ؟ ))
“کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم اہلِ جنت کا ایک تہائی حصہ بن جاؤ؟”
پھر فرمایا:
(( إِنِّیْ لَأرْجُوْ أَنْ تَکُوْنُوْا شَطْرَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ))
ترجمہ: “کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم اہلِ جنت کا چوتھا حصہ ہو؟… کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تم تہائی ہو؟… مجھے امید ہے کہ تم اہلِ جنت کا آدھا حصہ ہو گے۔” (صحیح البخاری:6528، صحیح مسلم:221)
⑲ سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا شخص
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا واقعہ بیان فرمایا جو سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا اور جنت میں داخل ہوگا… وہ رینگتا ہوا نکلے گا… درختوں کے قریب جانے کی اجازت مانگے گا… آخرکار جنت کے دروازے تک پہنچے گا اور عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے… اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ میں تجھے دنیا اور اس جیسی ایک اور دنیا دے دوں؟… پھر آخرکار اللہ تعالیٰ فرمائے گا:
“میں تجھے دنیا کے برابر اور اس جیسی دس گنا مزید عطا کرتا ہوں۔”
اور وہ شخص عرض کرے گا: اے اللہ! کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے حالانکہ تو رب العالمین ہے؟ (صحیح مسلم، کتاب الایمان باب آخر اہل النار خروجا :186-187؛ صحیح البخاری:6571،7511)
⑳ جنت کی نعمتوں کا تصور بھی ممکن نہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: أَعْدَدْتُّ لِعِبَادِی الصَّالِحِیْنَ مَا لَا عَیْنٌ رَأَتْ،وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ،وَلَا خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ ))
ترجمہ: “اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ نعمتیں تیار کی ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال آیا۔” (صحیح البخاری:3244، صحیح مسلم:2823)
㉑ جنت میں موت نہیں آئے گی
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِذَا دَخَلَ أَہْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ یُنَادِیْ مُنَادٍ:إِنَّ لَکُمْ أَنْ تَحْیَوْا فَلَا تَمُوْتُوْا أَبَدًا،وَإِنَّ لَکُمْ أَنْ تَصِحُّوْا فَلَا تَسْقَمُوْا أَبَدًا،وَإِنَّ لَکُمْ أَنْ تَشِبُّوْا فَلَا تَہْرَمُوْا أَبَدًا،وَإِنَّ لَکُمْ أَنْ تَنْعَمُوْا فَلَا تَبْأَسُوْا أَبَدًا ))
ترجمہ: “جب اہلِ جنت جنت میں داخل ہوں گے تو اعلان ہوگا: تم ہمیشہ زندہ رہو گے، کبھی نہیں مرو گے؛ ہمیشہ صحت مند رہو گے، کبھی بیمار نہیں ہو گے؛ ہمیشہ جوان رہو گے، کبھی بوڑھے نہیں ہو گے؛ ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے، کبھی بدحال نہیں ہو گے۔” (صحیح مسلم:2837)
جنت کا راستہ
تقویٰ جنت کی کنجی ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿تِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ کَانَ تَقِیًّا﴾ (مریم19:63)
ترجمہ: “یہ وہ جنت ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے متقی لوگوں کو بناتے ہیں۔”
﴿وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی فَإِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَأْوٰی﴾ (النازعات79:41-40)
ترجمہ: “جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہشات سے روکا، اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔”
جنت مشقتوں کے پیچھے ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( حُفَّتِ الْجَنَّۃُ بِالْمَکَارِہِ،وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّہَوَاتِ )) (صحیح مسلم:2822)
ترجمہ: “جنت کو ناگوار کاموں سے ڈھانپ دیا گیا ہے اور جہنم کو خواہشات سے۔”
رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہی جنت کا راستہ ہے
(( کُلُّ أُمَّتِیْ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ إِلَّا مَنْ أَبٰی… مَنْ أَطَاعَنِیْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ،وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ أَبٰی )) (صحیح البخاری:7280)
ترجمہ: “میری امت کے سب لوگ جنت میں جائیں گے سوائے اس کے جس نے انکار کیا… جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا۔”
بنیادی اعمال جو جنت تک پہنچاتے ہیں
(( اِتَّقُوْا اللّٰہَ،وَصَلُّوْا خَمْسَکُمْ،وَصُوْمُوْا شَہْرَکُمْ،وَأَدُّوْا زَکَاۃَ أَمْوَالِکُمْ،وَأَطِیْعُوْا ذَا أَمْرِکُمْ،تَدْخُلُوْا جَنَّۃَ رَبِّکُم ))
ترجمہ: “اللہ سے ڈرو، پانچوں نمازیں ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، زکاۃ ادا کرو، اور اپنے حکمران کی اطاعت کرو، تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔” (سنن الترمذی، ابن حبان؛ صحیح الجامع للألبانی :109)
نتیجہ
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ تقویٰ اختیار کرے، نماز، روزہ، زکاۃ اور دیگر فرائض کی پابندی کرے، سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے اور نفسانی خواہشات سے بچتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں زندگی گزارے، تاکہ وہ اس ابدی جنت کا وارث بن سکے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنت الفردوس کا وارث بنائے۔ آمین۔