سوال:
کیا جنت اور جہنم موجود ہیں؟
جواب:
جنت اور جہنم اللہ تعالیٰ کی حقیقی مخلوق ہیں، دونوں موجود ہیں۔ جنت اور جہنم ہمیشہ باقی رہنے کے لیے پیدا کی گئی ہیں، انہیں فنا نہیں۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أريت أني دخلت الجنة وإذا قصر أبيض بفنائه جارية فقلت: لمن هذا يا جبريل، قال: هذا لعمر بن الخطاب، فأردت أن أدخله، فأنظر إليه فذكرت غيرتك، فقال: بأبي أنت وأمي يا رسول الله، أو عليك أغار؟
میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا، وہاں ایک سفید محل تھا، اس کے آنگن میں ایک لڑکی گھوم رہی تھی۔ میں نے پوچھا: جبریل! یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہے۔ میں نے چاہا کہ اسے اندر سے دیکھوں، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت یاد آگئی۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا میں آپ سے غیرت کروں گا؟
(صحیح البخاری: 3679، صحیح مسلم: 2394، فضائل الصحابة للنسائی: 23)
❀ حافظ عراقی رحمہ اللہ (806ھ) فرماتے ہیں:
فيه حجة لمذهب أهل السنة أن الجنة مخلوقة موجودة خلافا لمن أنكر ذلك من المعتزلة، والأحاديث الصحيحة التى تبلغ حد التواتر متظاهرة متضافرة على ذلك وعلى إبطال ما زعموه
یہ حدیث مذہب اہل سنت کی دلیل ہے کہ جنت تخلیق ہو چکی ہے اور موجود ہے، اس کے برعکس معتزلہ نے اس کا انکار کیا ہے۔ صحیح احادیث، جو حد تواتر تک پہنچتی ہیں، اس بارے میں بالکل ظاہر اور واضح ہیں، نیز ان میں معتزلہ کے نظریات کا ابطال بھی ہے۔
(طرح التثریب: 2/60)