مضمون کے اہم نکات
جنازے کے احکام و مسائل
بیماری گناہوں کا کفارہ:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ بیماری کے ذریعے مسلمان کو اس کے گناہوں سے اس طرح صاف کر دیتا ہے جس طرح آگ سونے اور چاندی کو میل کچیل سے صاف کر دیتی ہے۔“
(أبو داود، کتاب الجنائز، باب عيادة النساء: 3092 – صحیح)
❀ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”کسی بھی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب سے اس کے گناہ اس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح (خزاں میں) درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔“
(بخاری، کتاب المرض، باب شدت المرض: 5647 – مسلم: 2571)
❀اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مسلمان کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے، حتی کہ کانٹا بھی، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے اور درجات بلند کر دیتا ہے۔“
(بخاری، کتاب المرض، باب ما جاء في كفارة المرض: 5640 – مسلم: 2572)
حالت مرض میں کرنے کے کام:
❀ مریض کو بیماری پر صبر کرنا چاہیے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
”مومن پر تعجب ہے کہ اس کا ہر معاملہ ہی اس کے لیے اچھا ہے اور یہ بھلائی صرف مومن کے لیے ہے، اگر اسے خوشی پہنچتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے، تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے، یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے۔“
(مسلم، کتاب الزهد، باب المؤمن أمره كله خير: 2999)
❀ مرض سے تنگ آ کر موت کی تمنا نہیں کرنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اگر کوئی شخص کسی تکلیف و بیماری میں مبتلا ہے تو اسے اس وجہ سے موت کی تمنا ہر گز نہیں کرنی چاہیے، اگر کوئی دعا کرنی ہی ہے تو اس طرح کہے: اے میرے اللہ! جب تک زندگی بہتر ہے مجھے زندہ رکھ اور جب موت بہتر ہو تو مجھے موت دے دے۔“
(بخاری، کتاب المرض، باب تمنى المريض الموت: 5671 – مسلم: 2680)
❀ اللہ سے حسن ظن رکھنا چاہیے۔ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
”کوئی آدمی نہ مرے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ سے حسن ظن رکھتا ہو۔“
(مسلم، کتاب صفة الجنة، باب الأمر بحسن الظن بالله تعالى عند الموت: 2877)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کے پاس گئے جو حالت نزع میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیسا محسوس کر رہے ہو؟“ اس نے کہا: ”اللہ سے رحمت کی امید بھی ہے اور اپنے گناہوں کا ڈر بھی ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی بندے کے دل میں موت کے وقت یہ دو چیزیں پیدا ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ اس کی امید بر لاتا ہے اور اندیشے سے اسے محفوظ رکھتا ہے۔“
(ترمذی، کتاب الجنائز، باب الرجاء بالله… الخ: 983 – ابن ماجه: 4261 – حسن)
❀ کسی کے حقوق اس کے ذمہ ہوں تو انھیں ادا کرے، ورنہ ان کی وصیت کرے۔
❀ وصیت تحریری شکل میں ہونی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جس مسلمان کو کسی چیز کی وصیت کرنا ہو تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ دو راتیں بھی اس حال میں گزارے کہ اس کے پاس لکھی ہوئی وصیت موجود نہ ہو۔“
(بخاری، کتاب الوصايا، باب الوصايا: 2738 – مسلم: 1627)
❀ اگر فوت شدہ کو وصیت کرنے کا موقع نہ ملے تو بھی ترکہ سے اس کے قرض کی ادائیگی ورثا پر فرض ہے۔
(النساء: 11 – بخاری، کتاب الوصايا، باب الوصايا: 2738 – مسلم: 1627)
❀ کوئی شخص اگر اپنی وراثت میں سے کچھ اللہ کی راہ میں دینا چاہتا ہے، تو اس کی وصیت کرے۔
(بخاری، کتاب الوصايا، باب أن يترك ورثته أغنياء… الخ: 2742 – مسلم: 1628)
❀ مال کی وصیت کرنے کی مندرجہ ذیل شرائط ہیں:
➊ ایک تہائی مال تک کی وصیت کی جاسکتی ہے، اس سے زیادہ کی نہیں۔ (بخاری، کتاب الوصايا، باب أن يترك ورثته أغنياء… الخ: 2742 – مسلم: 1628)
➋ کسی وارث کے حق میں مال کی وصیت نہیں کی جاسکتی۔ (أبو داود، کتاب البيوع، باب في تضمين العارية: 3565 – ترمذی: 2121)
➌ کسی وارث کو اس کے شرعی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ (النساء: 12)
➍ وصیت کرتے وقت دو آدمیوں کو گواہ بنانا چاہیے۔ (المائدة: 106)
وصیت کو تبدیل کرنا:
❀ کسی کی وصیت کو تبدیل کرنا حرام ہے۔(البقرة: 181)
❀ اگر وصیت کتاب و سنت کے مطابق نہیں ہے تو اسے کتاب و سنت کے مطابق تبدیل کرنا ورثا پر فرض ہے۔(البقرة: 182)
❀ وراثت تقسیم کرنے سے پہلے وصیت پوری کی جائے گی۔(النساء: 11)
اعمال خیر کی وصیت کرنا:
❀ مال کے علاوہ کسی دینی کام کرنے کی بھی وصیت کی جاسکتی ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وقت میں امت کو کئی کاموں کی نصیحت فرمائی۔
(مسلم، کتاب الوصية، باب ترك الوصية لمن ليس له شيء يوصى فيه: 1637)
❀ اور سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے مرتے ہوئے وصیت کی:
”جب میں مر جاؤں تو مجھے تکلیف نہ دینا، مجھے ڈر ہے کہ تم نوحہ کرو گے، بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ سے منع فرمایا تھا۔“
(ترمذی، کتاب الجنائز، باب ما جاء في كراهية النعي: 986 – حسن)
عیادت کی اہمیت:
❀ مسلمان مریض کی عیادت ضرور کرنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عُودُوا الْمَرِيضَ
”مریض کی عیادت کیا کرو۔“
(بخاری، کتاب المرض، باب وجوب عيادة المريض: 5649)
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله عز وجل يقول يوم القيامة يا ابن آدم مرضت فلم تعدني قال يا رب كيف أعودك وأنت رب العالمين قال أما علمت أن عبدي فلانا مرض فلم تعده أما علمت أنك لو عدته لوجدتني عنده
”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے ابن آدم! میں بیمار ہوا تو تو نے میری عیادت کیوں نہ کی؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! میں تیری عیادت کیسے کرتا، تو تو رب العالمین ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے علم نہ تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہے؟ لیکن تو نے اس کی عیادت نہیں کی، کیا تجھے علم نہیں تھا کہ اگر تو اس مریض کی عیادت کرتا تو تو مجھے اس کے پاس پاتا۔“
(مسلم، کتاب البر والصلة، باب فضل عيادة المريض: 2569)
عیادت کی فضیلت:
❀ جب آدمی مریض کی عیادت کے لیے جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ مریض کے پاس ہوتا ہے۔
(مسلم، کتاب البر والصلة، باب فضل عيادة المريض: 2569)
❀ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جو آدمی اپنے مسلمان بھائی کے پاس عیادت کے لیے آتا ہے تو وہ مریض کے پاس آ کر بیٹھنے تک جنت کے پھل چن آتا ہے۔ جب وہ بیٹھ جاتا ہے تو اس پر رحمت سایہ فگن ہو جاتی ہے۔ اگر (عیادت) صبح کے وقت ہو تو شام تک ستر ہزار فرشتے اسے دعائیں دیتے رہتے ہیں اور اگر شام کے وقت ہو تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اسے دعائیں دیتے رہتے ہیں۔“
(ابن ماجه، أبواب ما جاء في الجنائز، باب ما جاء في ثواب من عاد مريضًا: 1442 – أبو داود: 3098 – ترمذی: 969 – صحیح)
عیادت کے آداب:
❀ شرعی حدود میں رہتے ہوئے مرد اور عورت ایک دوسرے کی عیادت کر سکتے ہیں، بشرطیکہ کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔
(بخاری، کتاب المرض، باب عيادة النساء الرجال: 5654)
❀ مریض کو تسلی دینی چاہیے اور صبر کی تلقین کرنی چاہیے۔
(بخاری، کتاب الوصايا، باب الوصية بالثلث: 2744 – مسلم: 1628)
❀ مریض کو ان کلمات، یا ان جیسے الفاظ سے تسلی دینی چاہیے:
لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى
”کوئی بات نہیں، ان شاء اللہ تعالیٰ، یہ بیماری گناہوں سے پاک کر دے گی۔“
(بخاری، کتاب المرض، باب عيادة الأعراب: 5656)
مریض کو دم کرنے کا طریقہ:
❀ دم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مریض کے جسم پر یعنی متاثرہ جگہ ہاتھ پھیریں اور ساتھ درج ذیل دعائیں پڑھیں، یا دعائیں پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونک مار کر مریض کے جسم پر ہاتھ پھیریں:
➊ لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى
(بخاری، کتاب المرض، باب عيادة الأعراب: 5656)
➋ أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ
(أبو داود، کتاب الجنائز، باب الدعاء للمريض عند العيادة : 3106 – ترمذی : 2083 – صحیح )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دعا مریض کے پاس سات مرتبہ پڑھیں، اگر اس کی موت کا وقت نہیں آ گیا تو اسے ضرور شفا ہوگی:
➌ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
”اے لوگوں کے رب! یہ تکلیف دور فرما، شفا دے اور تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا دے جو کوئی بیماری باقی نہ چھوڑے۔“
(بخاری، کتاب المرض، باب دعا العائد للمريض: 5675 – مسلم: 2191)
➍ سورۃ الإخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھ کر دم کریں۔
(بخاری، کتاب الطب، باب الرقى بالقرآن والمعوذات: 5735 – مسلم: 2192)
➎ سورۃ الفاتحہ پڑھ کر دم کیا جائے۔
(بخاری، کتاب الطب، باب الرقى بفاتحة الكتاب: 5736 – مسلم: 2201)
➏ تین مرتبہ بسم الله اور سات مرتبہ یہ دعا پڑھیں:
أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ
(مسلم، کتاب السلام، باب استحباب وضع يده على الألم مع الدعاء: 2202)
➐ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنٍ حَاسِدٍ، اللَّهُ يَشْفِيكَ، بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ
(مسلم، کتاب السلام، باب الطب والمرض والرقي: 2186)
قریب الوفات شخص کے پاس کرنے کے کام:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لقنوا موتاكم لا إلٰه إلا الله
”قریب الموت آدمی کو لا إله إلا الله کی تلقین کرو۔“
کیونکہ جس کی زندگی کا آخری کلمہ لا إله إلا الله ہوا وہ جنت میں جائے گا۔
(مسلم، کتاب الجنائز، باب تلقين الموتى لا إله إلا الله: 916، 917 – أبو داود: 3116 – صحیح)
❀ مریض کو لا إله إلا الله پڑھنے کے لیے کہا جائے نہ کہ صرف خود پڑھا جائے۔
(مسند أحمد: 152/3، ح: 12571، 12591، 13862 – شعیب الارناؤوط نے اسے صحیح علی شرط مسلم کہا ہے)
❀ کافر بیمار ہو تو اس کی بھی عیادت کرنی چاہیے اور اسے اسلام کی دعوت دینی چاہیے۔
❀ اگر کافر قریب الموت دعوت قبول کر لیتا ہے تو اسے مسلمان سمجھا جائے گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ایک یہودی لڑکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، وہ بیمار ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کو تشریف لے گئے، اس کے سر کی طرف بیٹھ کر فرمانے لگے: اسلام قبول کر لو! اس نے قریب بیٹھے اپنے باپ کی طرف دیکھا، باپ نے کہا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کر۔ تو اس نے اسلام قبول کر لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے یہ کہتے ہوئے نکلے: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اسے آگ سے بچالیا ہے۔
(بخاری، کتاب الجنائز، باب إذا أسلم الصبي فمات… الخ: 1356)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا حضرتم المريض أو الميت فقولوا خيرا فإن الملائكة يؤمنون علىٰ ما تقولون
”جب تم مریض کے پاس جاؤ، یا میت کے پاس بیٹھو تو اچھی بات کرو، کیونکہ تمہاری بات پر فرشتے آمین کہتے ہیں۔“
(مسلم، کتاب الجنائز، باب ما يقال عند المريض والميت: 919)
قریب الوفات شخص کے پاس سورۃ یٰسین تلاوت کرنے کے متعلق حدیث بالکل ضعیف ہے، اس پر عمل کرنا مناسب نہیں ہے۔( تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ”إرواء الغليل“ ح 677، 150/3)۔
❀ قریب الوفات شخص کا چہرہ قبلہ رخ کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، بلکہ اس کے خلاف ثابت ہے، مثلاً سیدنا سعید بن المسیب رحمہ اللہ پر غشی طاری ہوئی تو ابو سلمہ رحمہ اللہ کے کہنے پر ان کا بستر تبدیل کر کے قبلہ رخ کر دیا گیا۔ جب سعید بن المسیب رحمہ اللہ رات کو ہوش آیا تو فرمایا: ”میرا بستر پہلے کی طرح کردو۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 447/2، ح: 10877 – صحیح)
وفات کے بعد حاضرین کی ذمہ داریاں:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کے پاس پہنچے تو ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بند کر دیا۔
(مسلم، کتاب الجنائز، باب في إغماض الميت والدعاء له إذا حضر: 920)
اسی طرح میت کا منہ بھی بند کر دینا چاہیے اور ہاتھ اور پاؤں سیدھے کر دیے جائیں، تا کہ اکڑ نہ جائیں۔
❀ میت کو کپڑے سے ڈھانپ دیا جائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات کے بعد یمنی چادر سے ڈھانپا گیا تھا۔
(بخاری، کتاب اللباس، باب البرود والحبر والشملة: 5814 – مسلم: 1942)
❀ تجہیز و تکفین جلدی کر کے جنازہ کے لیے تیار کر دیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ
”جنازہ تیار کر کے جلدی لے چلو۔“
(بخاری، کتاب الجنائز، باب السرعة بالجنازة: 1315 – مسلم: 944)
❀ میت کے متعلق اچھی بات کہنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تدعوا علىٰ أنفسكم إلا بخير فإن الملائكة يؤمنون علىٰ ما تقولون
”اپنے (اور اپنے بھائیوں کے بارے میں) اچھی بات کرو، بلاشبہ فرشتے تمہاری بات پر آمین کہتے ہیں۔“
(مسلم، کتاب الجنائز، باب في إغماض الميت والدعاء له إذا حضر: 920)
❀ میت کی جدائی سے پہنچنے والے غم پر صبر کرنا چاہیے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
(البقرة: 156)
”صبر کرنے والے وہ ہیں کہ جب انہیں کوئی مصیبت آئے تو کہتے ہیں: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹنا ہے)۔“
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما لعبدي المؤمن عندي جزاء إذا قبضت صفيه من أهل الدنيا ثم احتسبه إلا الجنة
”میرے اس مومن بندے کا، جس کی میں کوئی عزیز چیز دنیا سے اٹھالوں اور وہ اس پر ثواب کی نیت سے صبر کر لے، تو اس کا بدلہ میرے ہاں صرف جنت ہے۔“
(بخاری، کتاب الرقاق، باب العمل الذي يبتغي به وجه الله تعالى: 6424)
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”صبر وہی معتبر ہے جو صدمہ کے شروع میں کیا جائے (آہستہ آہستہ تو صبر آ ہی جاتا ہے)۔“
(بخاری، کتاب الجنائز، باب زيارة القبور: 1283 – مسلم: 926)
وفات کے موقع پر جائز کام:
❀ میت کو بوسہ دینا جائز ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے حجرہ میں تشریف لائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ یمنی چادر میں لپیٹا ہوا تھا، انھوں نے چہرہ انور سے چادر ہٹائی، جھک کر بوسہ دیا اور رونے لگے۔
(بخاری، کتاب الجنائز، باب الدخول على الميت إذا أدرج في أكفانه: 1242، 1241)
اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ میت ناپاک نہیں ہوتی، جیسا کہ بعض جہلاء کا خیال ہے۔
❀ رونا جائز ہے، لیکن زبان سے اللہ کو ناپسندیدہ الفاظ بولنا حرام ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ابراہیم فوت ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے، عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! کیا آپ بھی (لوگوں کی طرح) روتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن عوف! یہ تو رحمت ہے۔ پھر رونے لگے پھر فرمایا: بلاشبہ آنکھیں روتی ہیں، دل غمگین ہے لیکن ہم وہی کہیں گے جو ہمارے رب کو پسند ہو گا۔“
(بخاری، کتاب الجنائز، باب قول النبي إنا به لمحزونون: 1303 – مسلم: 2315)
❀ جنازے میں شرکت کے لیے لوگوں کو اطلاع کرنا جائز ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی موت کے دن اس کی وفات کا اعلان کیا، پھر لوگوں کو لے کر جنازہ گاہ میں گئے، صفیں بنائیں اور چار تکبیرات سے نماز جنازہ پڑھائی۔“
(بخاری، کتاب الجنائز، باب الرجل ينعى إلى أهل الميت بنفسه: 1245 – مسلم: 951)
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”ایک کالے رنگ کا شخص یا کالے رنگ کی عورت مسجد کی خدمت کیا کرتی تھی، وہ فوت ہو گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی وفات کی خبر کسی نے نہ دی تو ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں پوچھا کہ وہ دکھائی نہیں دیتی تو آپ کو بتایا گیا کہ وہ تو فوت ہو چکی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے خبر کیوں نہیں دی؟“
(بخاری، کتاب الجنائز، باب الصلاة على القبر بعد ما يدفن: 1337)
وفات کے موقع پر نا جائز کام:
❀ نوحہ کرنا حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوى الجاهلية
”وہ ہم میں سے نہیں ہے جو (اظہار غم کے لیے) منہ پیٹے، گریبان چاک کرے اور منہ سے جاہلانہ باتیں نکالے۔“
(بخاری، کتاب الجنائز، باب ليس منا من ضرب الخدود: 1297 – مسلم: 103)
❀ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت (یا مرد) سے بری الذمہ ہیں جو (اظہار غم کے لیے) چلائے، سر منڈوائے (بال نوچے) اور کپڑے پھاڑے۔“
(بخاری، کتاب الجنائز، باب ما ينهى من الحلق عند المصيبة: 1296 – مسلم: 104)
❀ اعلان وفات اگر چہ جائز ہے، لیکن جگہ جگہ اعلانات، اشتہارات اور اخبارات وغیرہ کے ذریعے وفات کی تشہیر کرنا جائز نہیں ہے۔
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن النعي
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات کی تشہیر سے منع فرمایا۔“
(ترمذی، کتاب الجنائز، باب ما جاء في كراهية النعي: 986 – حسن)
حسن خاتمہ کی علامات:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جس نے آخری بات لا إلٰه إلا الله کہی وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
(أبو داود، کتاب الجنائز، باب في التلقين: 3116 – صحیح)
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مومن پیشانی کے پسینے کے ساتھ مرتا ہے۔“
(نسائی، کتاب الجنائز، باب موت المؤمن: 1829 – ترمذی: 982 – ابن ماجه: 1452 – صحیح)
میت کے متعلق اظہار خیال کرنا:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تسبوا الأموات فإنهم قد أفضوا إلىٰ ما قدموا
”فوت شدہ لوگوں کے متعلق بری بات نہ کہو، یقیناً وہ اپنے اعمال کا بدلہ پا چکے ہیں۔“
(بخاری، کتاب الجنائز، باب ما ينهى من سب الأموات: 1393)
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ دو جنازے گزرے، ایک کے متعلق لوگوں نے خیر کے کلمات کہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے واجب ہو گئی۔“ اور دوسری میت کی برائی بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فرمایا: ”اس کے لیے واجب ہو گئی۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی وجہ پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
هذا اثنيتم عليه خيرا فوجبت له الجنة وهذا اثنيتم عليه شرا فوجبت له النار أنتم شهداء الله فى الأرض
”جس میت کی تم نے تعریف کی ہے اس کے لیے تو جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے برائی کی ہے اس کے لیے دوزخ واجب ہو گئی۔ تم لوگ زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔“
(بخاری، کتاب الجنائز، باب ثناء الناس على الميت: 1367 – مسلم: 949)
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيما مسلم شهد له أربعة بخير أدخله الله الجنة
”جس مسلمان کے اچھا ہونے کی گواہی چار آدمی دیں، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔“
ہم نے کہا: ”اگر (گواہی دینے والے) تین ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ہاں!) تین بھی۔“ پھر ہم نے کہا: ”اگر دو ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بھی (جنت میں داخلے کے لیے کافی ہیں)۔“
(بخاری، کتاب الجنائز، باب ثناء الناس على الميت: 1368)
❀ ظالم و جابر کافروں کا تذکرہ برے الفاظ میں کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرعون، ہامان اور قارون وغیرہ کا کیا ہے اور مذکورہ بالا سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی حدیث بھی اس کی تائید کرتی ہے۔
کسی کے انجام کے متعلق بات کرنا:
❀ بعض لوگ اپنی نظر میں اچھے انسان کو اپنی طرف سے حتمی طور پر بخشا ہوا، جنتی یا اللہ کا ولی ہونے کا سرٹیفکیٹ دے دیتے ہیں، یہ جائز نہیں ہے۔ ام العلاء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور ان کی تجہیز و تکفین کی گئی تو اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں نے کہا: ”اے ابو السائب! (یہ عثمان کی کنیت ہے) آپ پر اللہ کی رحمت ہو، میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ نے تجھے عزت بخشی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے اسے عزت بخشی ہے؟“ میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میرا باپ آپ پر قربان، تو پھر اللہ کس کو عزت دے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے یقیناً موت آ چکی ہے، واللہ! مجھے بھی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اچھا معاملہ کرے گا، لیکن اللہ کی قسم! میں اللہ کا رسول ہوں، اس کے باوجود مجھے اپنے بارے میں معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔“ تو سیدہ ام العلاء رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اللہ کی قسم! آج کے بعد میں کبھی کسی کے متعلق (اس طرح کی) گواہی نہیں دوں گی۔“
(بخاری، کتاب الجنائز، باب الدخول على الميت بعد الموت… الخ: 1243)
❀ کسی اچھے انسان کے متعلق اچھائی کی امید ظاہر کرنا جائز ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا: ”واللہ! مجھے بھی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اچھا معاملہ کرے گا۔“
(بخاری: 1243)