جنازے کے بعد فاتحہ و درود پڑھ کر ثواب بخشنے کا حکم

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

بعض لوگ نماز جنازہ کے بعد بیٹھ جاتے ہیں اور سورت فاتحہ اور درود پڑھ کر اس کا ثواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب اربعہ کو بخش کر میت کی روح کو بخشتے ہیں، شرعی لحاظ سے اس کا کیا حکم ہے؟

جواب:

یہ بدعت ہے۔ سلف صالحین رحمہم اللہ اور ائمہ اہل سنت رحمہم اللہ سے میت بخشوانے کا یہ طریقہ ہرگز ثابت نہیں۔ اگر اس کی کوئی شرعی حیثیت ہوتی اور یہ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کا باعث ہوتا تو وہ اس کا اہتمام کرتے۔
❀ علامہ ابن رجب رحمہ اللہ (795ھ) نے کیا خوب لکھا ہے:
أما ما اتفق على تركه فلا يجوز العمل به لأنهم ما تركوه إلا على علم أنه لا يعمل به
جس کام کے چھوڑنے پر سلف کا اتفاق ہو، وہ کام کرنا جائز نہیں، کیونکہ انہوں نے اسے چھوڑا ہی اس لیے تھا کہ اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔
(فضل علم السلف على علم الخلف، ص 31)
جس کام کے چھوڑنے پر سلف صالحین رحمہم اللہ متفق ہوں، اسے کرنا جائز نہیں۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️