جنازے کے احکام: غسل، کفن، نماز جنازہ اور دفن کا طریقہ

فونٹ سائز:
مضمون کے اہم نکات

قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل نماز کے احکام ومسائل:جلد 01: صفحہ 250

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں ایسی شریعت عطا فرمائی جو انسان کی زندگی اور موت کے بعد کے تمام مصالح پر محیط ہے۔ انہی میں جنازے کے وہ احکام بھی شامل ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے جاری و ساری فرمایا ہے، اور جن کا تعلق انسان کی بیماری سے لے کر موت، پھر قبر میں دفن کرنے تک ہے۔ یعنی: مریض کی عیادت، اسے کلمۂ اخلاص کی تلقین، غسل، کفن، نمازِ جنازہ، اور دفن کے احکام؛ اور اسی کے ضمن میں ادائیگیِ قرض، اجرائے وصیت، تقسیمِ ترکہ، اور کمزور و ناتواں اولاد کی نگہداشت و سرپرستی جیسے مسائل بھی شامل ہیں۔

جنازہ کے باب میں نبوی ہدایات کی جامعیت

امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"جنازہ اور اس سے متعلق جملہ امور کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی مکمل ہدایات دی ہیں جو ہمیں دیگر امتوں سے ممتاز کرتی ہیں اور مکمل احوال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر مشتمل ہیں نیز میت کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے ساتھ ایسا معاملہ کرنے پر مشتمل ہیں جو اسے قبر اور آخرت میں فائدہ دیں۔ مثلاً: مریض کی عیادت کرنا، میت کو کلمۂ خیر کی تلقین کرنا، اسے پاک صاف کرنا، ادب واحترام کے ساتھ قبرستان لے جانا۔ پھر میت کے مسلمان بھائی صف بندی کر کے اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے رب کے حضور کھڑے ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر درود شریف بھیجتے ہیں، پھر میت کے لیے مغفرت، رحمت اور اسے معاف کرنے کی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں، پھر اس کی قبر پر کھڑے ہو کر قبر کے امتحان کے موقع پر اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرتے ہیں، علاوہ ازیں وقتاً فوقتاً اس کی قبر کی زیارت کی جاتی ہے اور دعا ہوتی ہے۔ ان تمام امور میں اس کا ایسے خیال رکھا جاتا ہے جس طرح زندگی میں ایک شخص اپنے ساتھی کا خیال رکھتا ہے، پھر اس کے اہل وعیال اقارب وغیرہ سے احسان و بھلائی کی جاتی ہے۔” [زاد المعاد 1/498۔بتصرف یسیر۔]

موت کی یاد اور آخرت کی تیاری

مسنون یہ ہے کہ ہر مسلمان کثرت سے موت کو یاد کرے، گناہوں اور معاصی سے توبہ کرے، آخرت کی تیاری کرے، جن کے حقوق ظلم و زیادتی کر کے غصب کیے ہوں انہیں واپس کرے، اور موت کے اچانک حملے سے پہلے اعمالِ صالحہ میں مشغول رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"أَكْثِرُوا ذِكْرَ هادم اللَّذَّاتِ”
"لذتوں کو توڑنے والی (موت) کو زیادہ سے زیادہ یاد کرو۔” [جامع الترمذی الزھد باب ماجاء فی ذکر الموت حدیث 2307، 2460؛ سنن النسائی الجنائز باب کثرۃ ذکر الموت حدیث 1925؛ سنن ابن ماجہ الذکر باب الموت والاستعداد لہ حدیث 4258؛ مسند احمد 2/292۔293]

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَحْيُوا مِنْ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَسْتَحْيِي وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، قَالَ لَيْسَ ذَاكَ، وَلَكِنَّ الاسْتِحْيَاءَ مِنْ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ: أَنْ تَحْفَظَ الرَّأْسَ وَمَا وَعَى، وَالْبَطْنَ وَمَا حَوَى، وَلْتَذْكُرْ الْمَوْتَ وَالْبِلَى وَمَنْ أَرَادَ الآخِرَةَ تَرَكَ زِينَةَ الدُّنْيَا فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ اسْتَحْيَا مِنْ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ”

"اللہ تعالیٰ سے کماحقہ حیا کرو۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! ہم اللہ تعالیٰ سے حیا کرتے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس طرح نہیں بلکہ جو اللہ تعالیٰ سے کماحقہ حیا کرتا ہے وہ سر کی اور جو سر (دماغ) میں(سوچ) ہے اس کی حفاظت کرے۔ پیٹ اور جو پیٹ نے جمع کیا ہے اس کا خیال رکھے۔ (کہ اس میں حرام تو نہیں داخل ہو رہا) موت اور بوسیدگی کو یاد رکھے۔ جو آخرت کا طالب ہوتا ہے وہ دنیا کی زینت کو ترک کر دیتا ہے۔ جس شخص نے ایسا کیا اس نے اللہ تعالیٰ سے اس طرح حیا کی جس طرح اس سے حیا کرنے کا حق ہے۔” [(ضعیف) جامع الترمذی صفۃ القیامۃ باب فی بیان ما یقضیہ الاستحیاء من اللہ حق الحیاء حدیث 2458؛ ضعیف الجامع الصغیر وزیادتہ حدیث 805، 806]

مریض اور قریب الوفات شخص کے احکام

بیماری پر صبر اور اللہ کے سامنے دعا

جب کسی انسان کو مرض لاحق ہو تو وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے، جزع فزع نہ کرے، اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر ناراضی کا اظہار نہ کرے۔ البتہ بیماری کی نوعیت یا سبب کسی کو بتا دے تو حرج نہیں، مگر ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے بیماری کا شکوہ اور شفا کی دعا کرنا صبر کے خلاف نہیں، بلکہ شرعاً مطلوب اور مستحب ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے یوں دعا کی:

﴿أَنّى مَسَّنِىَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرحَمُ الرّ‌ٰحِمينَ ﴿٨٣﴾… سورة الأنبياء﴾
"(اے میرے پروردگار!) بے شک مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والا ہے۔” [الانبیاء 21:83]

علاج معالجہ اور حرام چیزوں سے پرہیز

جائز ادویات کے ذریعے علاج کروانے میں حرج نہیں، بلکہ بعض علماء اسے ضروری اور بعض وجوب کے قائل ہیں۔ متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ علاج توکل کے منافی نہیں، جیسے بھوک پیاس دور کرنے کے لیے کھانا پینا توکل کے خلاف نہیں۔

حرام چیزوں کے ذریعے علاج قطعاً جائز نہیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نشہ آور شے کے بارے میں فرمایا:

"إنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِيمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ "
"اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام کردہ اشیاء میں تمہارے لیے شفا نہیں رکھی۔” [رواہ البخاری معلقا، الاشربہ باب شراب الحلواء والعسل قبل حدیث 5641]

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ الدَّاءَ وَالدَّوَاءَ وَجَعَلَ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءً ، فَتَدَاوَوْا وَلاَ تَدَاوَوْا بِحَرَامٍ "
"اللہ تعالیٰ نے بیماری اور دوا نازل کی اور ہر بیماری کی دوا مقرر کی ہے، لہٰذا تم علاج کرو لیکن حرام چیزوں کے ساتھ علاج نہ کرو۔” [(ضعیف الاسناد) سنن ابی داؤد الطب باب فی الادویۃ المکروھۃ حدیث 3874]

صحیح مسلم میں شراب کے بارے میں فرمایا:

"إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَاءٍ وَلَكِنَّهُ دَاءٌ”
"یہ دوا نہیں بلکہ بیماری ہے۔” [صحیح مسلم الاشربہ باب تحریم التداوی بالخمر و بیان لیست بدواء حدیث 1984]

ایسی چیزوں سے علاج جو عقیدۂ اسلام کے منافی ہوں، قطعاً حرام ہے: جیسے شرکیہ/مجہول الفاظ والے تعویذ، منکے، دھاگے، ہار، بازو/کلائی کے کڑے وغیرہ پہن کر شفا یا دفعِ بلا کا عقیدہ رکھنایہ سب حرام ہیں، کیونکہ نفع و ضر کے لیے دل کا تعلق اللہ تعالیٰ کی بجائے غیر اللہ سے ہو جاتا ہے، لہٰذا یہ شرک یا شرک کے ذرائع ہیں۔ اسی طرح کاہنوں، نجومیوں، جادوگروں، اور جنوں سے خدمت لینے والوں کے ذریعے علاج بھی حرام ہے۔ مسلمان کے لیے عقیدہ صحت سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شفا جائز چیزوں میں رکھی ہے جو بدن، عقل اور دین کے لیے مفید ہوں۔ سب سے اہم چیز قرآنِ مجید اور مسنون دعاؤں کے ذریعے دم کرنا ہے۔

امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"سب سے بہتر علاج ذکر و دعا کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے فریاد کرنا اور توبہ استغفار کرنا ہے۔ ان کا اثر دواؤں کے اثر سے بڑھ کر ہے لیکن اس کا دارومدار اس امر پر ہے کہ نفس انسانی اس کے لیے کس حد تک تیار ہے اور اسے قبول کرتا ہے۔” [زاد المعاد 4/144]

اس کے ساتھ ہسپتالوں وغیرہ میں ماہر ڈاکٹروں سے جائز ادویہ کے ذریعے علاج کروانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔

مریض کی عیادت کا حکم اور آداب

مریض کی بیمارپرسی مسنون ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"خَمْس تَجِب لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ "
"ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں۔” [صحیح البخاری الجنائز باب الامر باتباع الجنائز حدیث 1240؛ صحیح مسلم السلام باب من حق المسلم للمسلم رد السلام حدیث 2162]

ان میں سے ایک حق بیمار کی عیادت ہے۔ عیادت کے وقت بیمار کا حال پوچھا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مریض کے قریب جاتے اور اس کا حال دریافت کرتے تھے۔ عیادت ایک دن چھوڑ کر یا دو دن چھوڑ کر کی جا سکتی ہے، البتہ مریض کی خواہش ہو تو روزانہ بھی ہو سکتی ہے۔ مریض کی رغبت کے بغیر زیادہ دیر نہ بیٹھا جائے، اور یوں کہا جائے:

"لا بَأْسَ طَهُورٌ إنْ شَاءَ اللهُ”
"تم پر کوئی حرج نہیں، إن شاء اللہ (یہ بیماری) گناہوں سے پاک کر دے گی۔” [صحیح البخاری التوحید باب فی المشیئۃ والارادۃ حدیث 7470]

مریض کے پاس ایسی باتیں کی جائیں جو اسے خوش کریں، شفا کی دعا کی جائے، آیات قرآنیہ کے ساتھ دم کیا جائے، خصوصاً سورۃ فاتحہ، اخلاص اور معوذتین پڑھ کر دم کیا جائے۔

وصیت لکھنا اور قرض/امانت کی خبر دینا

یہ بھی مسنون ہے کہ مریض اپنے مال کے بارے میں وصیت کرے کہ اسے اچھے کاموں میں صرف کیا جائے۔ اگر اس پر قرض ہو یا لوگوں کی امانتیں ہوں تو ورثاء کو آگاہ کرے۔ بلکہ صحت میں بھی اس کی فکر ضروری ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ، لَهُ شَيْءٌ يُوصَى فِيهِ ، يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَكْتُوبَةٌ "
"ہر مسلمان شخص کا حق ہے کہ اگر وہ کوئی وصیت کرنا چاہتا ہے تو دو راتیں بھی نہ گزرنے دے مگر اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی محفوظ ہونی چاہیے۔” [صحیح البخاری الوصایا حدیث 2738؛ صحیح مسلم الوصیۃ باب وصیۃ الرجل مکتوبۃ عندہ حدیث 1627]

حدیث میں دو راتوں کا ذکر تاکید کے لیے ہے، حد بندی مقصود نہیں؛ مطلب یہ ہے کہ وصیت لکھی ہوئی ہو کیونکہ موت کا وقت معلوم نہیں۔

اللہ کے بارے میں حسنِ ظن

مریض اللہ تعالیٰ کے بارے میں حسنِ ظن رکھے:

"أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي”
"میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ کرتا ہوں۔” [صحیح البخاری التوحید باب قول الله تعالى: "وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ” حدیث 7405؛ صحیح مسلم الذکر والدعاء والتوبۃ باب فضل الذکر الدعاء حدیث 2675]

جب بندے کو اپنے خالق کے پاس جانے کا احساس ہو، تو حسنِ ظن کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ قریب الوفات شخص کو اللہ کی رحمت کی امید دلائی جائے حتیٰ کہ امید، خوف پر غالب آ جائے۔ البتہ صحت کی حالت میں امید اور خوف دونوں برابر رہیں۔

کلمہ کی تلقین، قبلہ رخ کرنا اور سورۃ یٰس

قریب الوفات کو "لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ” کی تلقین کی جائے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ”
"اپنے فوت ہونے والوں کو لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کی تلقین کرو۔” [صحیح مسلم الجنائز باب تلقین الموتی لا الہ الا اللہ حدیث 916]

مقصد یہ ہے کہ موت کلمۂ اخلاص پر واقع ہو اور یہی آخری کلام بنے۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ كَانَ آخِرُ كَلامِهِ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ "
"جس کا آخری کلام لا إلہ إلا اللہ ہوا وہ جنت میں داخل ہوا۔” [سنن ابی داود الجنائز باب فی التلقین حدیث 3116]

تلقین نرمی اور محبت سے ہو، زیادہ اصرار نہ کیا جائے تاکہ تکلیف کی شدت سے انکار نہ کر بیٹھے۔ اس کا رخ قبلہ کی طرف کر دیا جائے۔

قریب الوفات کے پاس سورۃ یٰس کی تلاوت کی جائے، کیونکہ فرمان ہے:

"اقْرَءُوا يس عَلَى مَوْتَاكُمْ”
"اپنے فوت ہونے والوں کے پاس سورۃ یٰس پڑھو۔” [(ضعیف) سنن ابی داؤد الجنائز باب القراءۃ عند المیت حدیث 3121؛ سنن ابن ماجہ الجنائز باب ما جاء فیما یقال عند المرض اذا حضر حدیث 1448]

واضح رہے: فوت ہو جانے کے بعد میت کے پاس سورۃ یٰس پڑھنا بدعت ہے، جبکہ قریب الوفات کے پاس پڑھنا مسنون بتایا گیا ہے۔ اسی طرح جنازے کے وقت، قبر پر، یا ایصالِ ثواب کے لیے سورۃ یٰس وغیرہ پڑھنا بدعت ہے کیونکہ کتاب و سنت میں اس کی دلیل نہیں۔ [قریب الوفات شخص کے پاس سورۃ یس پڑھنے والی روایت نہایت ضعیف ہے۔ (صارم)]

احکامِ وفات

جب کسی شخص کے فوت ہونے کا یقین ہو جائے تو مستحب یہ ہے کہ اس کی آنکھیں بند کر دی جائیں۔ سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھیں بند کیں اور فرمایا:

"إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ»، فَضَجَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِهِ، فَقَالَ: «لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِلَّا بِخَيْرٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ”
"جب روح قبض کی جاتی ہے تو نگاہ اس کا پیچھا کرتی ہے۔ پھر گھر والوں میں سے کچھ لوگ رونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے حق میں خیر کے سوا کچھ نہ کہو، کیونکہ فرشتے تمہاری بات پر آمین کہتے ہیں۔” [صحیح مسلم الجنائز باب فی اغماض المیت والدعاء لہ اذا حضر حدیث 920]

وفات کے بعد میت کو ڈھانپ دینا چاہیے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:

"أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوَفِّيَ سُجِّيَ بِبُرْدِ حِبَرَةٍ "
"جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو یمن کی دھاری دار چادر سے آپ کا جسم مبارک ڈھانپ دیا گیا۔” [صحیح البخاری اللباس باب البرود والحبر والشملۃ حدیث 5814]

جب وفات ہو جائے تو تجہیز و تکفین میں دیر نہ کی جائے:

"لاَ يَنْبَغِي لجِيفَةِ مُسْلِمٍ أنْ تُحْبَسَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَهْلِهِ”
"مسلمان کی نعش کو اہل و عیال کے درمیان زیادہ دیر روک کر نہ رکھا جائے۔” [(ضعیف) سنن ابی داؤد الجنائز باب تعجیل الجنائزۃ و کراہیۃ حبسھا حدیث 3159]

اس میں حکمت یہ ہے کہ میت تغیر و تبدل سے محفوظ رہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "میت کی عزت و تکریم اسے جلد قبرستان لے جانے میں ہے۔” [المغنی والشرح الکبیر 2/310]

اگر جسمانی حالت بدلنے کا اندیشہ نہ ہو اور اقرباء قریب ہوں تو ان کا انتظار کیا جا سکتا ہے۔

مسلمان کی موت کا اعلان مباح ہے تاکہ تیاری جلد ہو، نماز جنازہ میں حاضری زیادہ ہو اور دعا میں لوگ شریک ہوں۔ لیکن نوحہ یا فخر و مبالغہ کے ساتھ اعلان جاہلیت ہے۔ اسی طرح تعزیتی اجلاس اور ماتمی مجالس جاہلیت کی واپسی ہیں۔

وصیتوں کو جلد نافذ کرنا مستحب ہے تاکہ میت کو جلد اجر ملے۔ قرآن میں وصیت کا ذکر قرض سے پہلے آیا ہے، مقصد اہمیت واضح کرنا ہے۔ لیکن سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کی روشنی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق قرض وصیت پر مقدم ہے۔ [جامع الترمذی الفرائض باب ما جاء فی میراث الاخوة حدیث 2094؛ (صارم)]

وصیت کے بعد (اور شرعی ترتیب کے مطابق) میت کے قرضے جلد ادا کیے جائیں، خواہ اللہ کے حقوق ہوں جیسے زکاۃ، حج، جائز نذر یا کفارہ؛ یا لوگوں کے حقوق جیسے امانت، غصب شدہ یا عاریتاً لی ہوئی چیزیں۔ میت نے وصیت کی ہو یا نہ کی ہو، ادائیگی بہرحال ضروری ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ”
"مومن کی جان اس کے قرض کے ساتھ لٹکی رہتی ہے حتی کہ اس کی طرف سے قرض ادا کر دیا جائے۔” [جامع الترمذی الجنائز باب ما جاء أن نفس المؤمن معلقة بدینه حدیث 1078؛ مسند احمد 2/440]

اسی ضمن میں مقروض کے جنازے کے واقعہ اور قرض کی ادائیگی/کفالت والی تفصیل بھی وارد ہے۔ [صحیح البخاری حدیث 2289؛ سنن ابی داؤد حدیث 2054؛ (صارم)]

اگر میت کے پاس مال نہ ہو اور اس نے ادائیگی کا پختہ ارادہ رکھا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادا فرما دیتا ہے۔ [صحیح البخاری الاستقراض باب من أخذ أموال الناس يريد أداءها أو إتلافها حدیث 2387]

میت کو غسل دینے کا طریقہ اور مسائل

جنازہ کے احکام میں یہ بھی ہے کہ میت کو ایسا شخص غسل دے جو طریقہ جانتا ہو اور دے سکتا ہو۔ ایک شخص اونٹنی سے گر کر مرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ”
"اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دو۔” [صحیح البخاری الجنائز باب الکفن فی ثوبین حدیث 1265؛ صحیح مسلم الحج باب ما يفعل بالمحرم اذا مات؟ حدیث 1206]

غسلِ میت کا عمل اہلِ اسلام میں تواتر سے جاری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی وفات کے بعد غسل دیا گیا، حالانکہ آپ ظاہری و باطنی طور پر پاک تھے—تو دوسرے مسلمان کو غسل کیوں نہ دیا جائے؟ غسلِ میت فرضِ کفایہ ہے اُن لوگوں پر جنہیں وفات کا علم ہو جائے۔

کسے غسل دینا چاہیے

① میت مرد ہو تو اسے مرد غسل دے۔ بہتر ہے بااعتماد اور مسائل سے واقف شخص ہو۔ اگر میت نے کسی خاص شخص کی وصیت کی ہو تو اسے موقع دیا جائے بشرطیکہ قابل اعتماد ہو۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وصیت کی کہ انہیں ان کی بیوی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا غسل دیں۔ [(ضعیف) الموطأ للامام مالک الجنائز باب غسل المیت حدیث 3؛ المغنی والشرح الکبیر 2/308۔311؛ ارواء الغلیل حدیث 696]

اسی سے بیوی کا شوہر کو غسل دینے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح مرد کے لیے جائز ہے کہ اپنی فوت شدہ بیوی کو غسل دے، جیسے سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو غسل دیا۔ [المستدرک للحاکم معرفة الصحابة 3/163۔164 حدیث 4769]

سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وصیت کی تھی کہ انہیں محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ غسل دیں۔ [المغنی والشرح 2/308؛ قال الشیخ الالبانی: لم أقف علی إسنادہ، ارواء الغلیل حدیث 697]

② اگر وصیت نہ ہو تو باپ غسل دے، پھر دادا، پھر عصبات (بھائی، چچا وغیرہ)۔ اگر کوئی نہ ہو یا طریقہ نہ جانتے ہوں تو کوئی بھی اجنبی مگر واقفِ طریقہ شخص غسل دے سکتا ہے۔

③ میت عورت ہو تو عورت غسل دے۔ اگر وصیت کردہ عورت طریقہ جانتی ہو تو وہی بہتر، ورنہ اقرباء میں سے کوئی واقف عورت۔

④ سات برس سے کم عمر بچے/بچی کو مرد یا عورت کوئی بھی غسل دے سکتا ہے۔ ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں اہل علم کا اجماع ہے کہ عورت چھوٹے بچے کو نہلا سکتی ہے کیونکہ اس کی زندگی میں بھی ستر کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ [المغنی والشرح الکبیر 2/313]

اور بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم علیہ السلام کے انتقال پر عورتوں نے غسل دیا تھا۔ [منار السبیل ص:147؛ قال الشیخ الالبانی فی ارواء الغلیل 3/163: لم أقف علیہ]

⑤ سات برس یا زائد عمر کے بچے کو عورت غسل نہ دے، اور سات برس یا زائد کی بچی کو مرد غسل نہ دے۔

کافر کی میت سے متعلق حکم

کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی مرے ہوئے کافر کو غسل دے، جنازہ اٹھائے، کفن دے، نماز پڑھے یا جنازے میں شامل ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَوَلَّوا قَومًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِم …﴿١٣﴾… سورة الممتحنة﴾
"اے مسلمانو! تم اس قوم سے دوستی نہ رکھو جن پر اللہ نے غضب نازل کیا۔” [الممتحنہ 60:13]

نیز فرمایا:

﴿وَلا تُصَلِّ عَلىٰ أَحَدٍ مِنهُم ماتَ أَبَدًا وَلا تَقُم عَلىٰ قَبرِهِ إِنَّهُم كَفَروا بِاللَّهِ … ﴿٨٤﴾… سورة التوبة﴾
"ان میں سے کوئی مر جائے تو آپ اس کی نماز جنازہ ہرگز نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں، یہ اللہ اور اس کے رسول کے منکر ہیں۔” [التوبہ 9:84]

اور فرمایا:

﴿ما كانَ لِلنَّبِىِّ وَالَّذينَ ءامَنوا أَن يَستَغفِروا لِلمُشرِكينَ …﴿١١٣﴾… سورة التوبة﴾
"پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں۔” [التوبہ 9:113]

کافر کو دفن کرنا بھی مسلمان کے لیے نہیں، مگر اگر دفن کرنے والا کوئی نہ ہو تو زمین میں گڑھا کھود کر لاش چھپا دے تاکہ بدبو و فساد سے زندہ لوگ اذیت نہ پائیں۔ بدر کے کفار کو کنویں میں پھینکنے کا واقعہ معروف ہے۔ مرتد (مثلاً قصداً نماز چھوڑنے والا) یا کفر تک پہنچانے والی بدعت کے مرتکب کا بھی یہی حکم ہے۔ مسلمان کا موقف زندہ و مردہ کافر کے بارے میں بغض و بیزاری کا ہونا چاہیے، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام اور اہل ایمان کا موقف بیان ہوا:

﴿إِذ قالوا لِقَومِهِم إِنّا بُرَء‌ٰؤُا۟ مِنكُم وَمِمّا تَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ كَفَرنا بِكُم وَبَدا بَينَنا وَبَينَكُمُ العَد‌ٰوَةُ وَالبَغضاءُ أَبَدًا حَتّىٰ تُؤمِنوا بِاللَّهِ وَحدَهُ…﴿٤﴾… سورة الممتحنة﴾
"جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو ان سب سے بیزار ہیں… ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے بغض و عداوت ظاہر ہو گئی…” [الممتحنہ 60:4]

اور فرمایا:

﴿لا تَجِدُ قَومًا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ يُوادّونَ مَن حادَّ اللَّهَ وَرَسولَهُ وَلَو كانوا ءاباءَهُم أَو أَبناءَهُم أَو إِخو‌ٰنَهُم أَو عَشيرَتَهُم… ﴿٢٢﴾… سورة المجادلة﴾
"اللہ اور یوم آخرت پر ایمان والے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت نہیں رکھتے…” [المجادلہ 58:22]

غسل کے لیے پانی اور جگہ

غسل کے لیے پانی پاک، صاف اور ٹھنڈا ہو؛ میل اتارنے یا شدید سردی میں گرم کرنا جائز ہے۔ غسل ایسی جگہ ہو جو نگاہوں سے محفوظ ہو: گھر میں چھت کے نیچے یا خیمہ وغیرہ میں۔ غسل سے پہلے ناف سے گھٹنوں تک حصہ کپڑے سے ڈھانپنا ضروری ہے، پھر کپڑے اتار کر تختے پر لٹایا جائے جو پاؤں کی طرف قدرے نیچا ہو تاکہ پانی پاؤں کی جانب بہے۔ غسل کی جگہ صرف غسل دینے والا اور معاونین ہوں، زائد افراد نہ ہوں۔

طریقۂ غسل

غسل دینے والا میت کا سر قدرے اٹھائے، پیٹ پر نرمی سے دبا کر ہاتھ پھیرے تاکہ نجاست نکل جائے اور ساتھ پانی بہائے تاکہ ٹھہر نہ سکے۔ پھر ہاتھوں پر سوتی/کپڑے کی تھلی چڑھا کر استنجاء کرائے۔ پھر غسل کی نیت کرے، بسم اللہ پڑھے، نماز کی طرح وضو کرائے مگر کلی اور ناک میں پانی ڈالنا لازم نہیں، تر ہاتھ یا گیلے کپڑے سے منہ/ناک صاف کرنا کافی ہے۔ پھر سر اور داڑھی بیری کے پتوں والے پانی یا صابن سے دھوئے۔ پھر دائیں جانب گردن، کندھا، بازو، ہاتھ، پھر پاؤں تک دھوئے؛ پھر بائیں پہلو پر اٹھا کر پشت کی دائیں جانب دھوئے؛ پھر بائیں جانب دھوئے؛ پھر دائیں جانب اٹھا کر پشت کی بائیں جانب دھوئے۔ بیری کے پتے یا صابن استعمال کیے جائیں اور ہاتھ پر تھلی رکھنا بہتر ہے۔

اگر صفائی ہو جائے تو ایک بار کافی، مگر تین بار پانی بہانا مستحب ہے۔ اگر تین سے بھی صفائی نہ ہو تو سات بار تک دھویا جا سکتا ہے۔ آخری بار پانی میں کافور شامل کیا جائے کیونکہ خوشبودار اور ٹھنڈک دیتا ہے اور اثر دیر تک رہتا ہے۔

غسل کے بعد بدن خشک کیا جائے، مونچھیں کاٹی جائیں، ناخن لمبے ہوں تو تراشے جائیں، بغل کے بال صاف کیے جائیں۔ [المغنی الکبیر 2/324۔325]

عورت ہو تو سر کی تین لٹیں بنا کر پیچھے ڈال دی جائیں۔

اگر پانی نہ ہو یا پانی سے جسم خراب ہونے کا اندیشہ ہو (مثلاً جلا ہوا جسم، کوڑھ وغیرہ)، یا مردوں میں عورت میت ہو اور نہ شوہر/عورت موجود ہو، یا عورتوں میں مرد میت ہو اور نہ بیوی/مرد موجود ہو—تو میت کو تیمم کرایا جائے: مسح کروانے والا ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کر چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کرے۔ اگر کچھ اعضاء دھونا ممکن نہ ہو تو ممکن اعضاء دھوئے جائیں اور باقی پر مسح کیا جائے۔ غسل دینے والے کے لیے غسل کرنا مستحب ہے، واجب نہیں۔

کفن پہنانے کے احکام

غسل اور خشک کرنے کے بعد میت کو کفن پہنایا جائے۔ کفن ایسے کپڑوں میں ہو جو پورا بدن اچھی طرح ڈھانپیں، صاف ستھرے ہوں، نئے اور سفید کپڑے مستحب ہیں، دھلے ہوئے بھی درست ہیں۔

ایک کپڑے میں کفن دینا واجب ہے بشرطیکہ پورا بدن ڈھانپ لے، جبکہ مرد کے لیے تین اور عورت کے لیے پانچ کپڑے مستحب بتائے گئے ہیں: عورت کے لیے تہہ بند، سر کی اوڑھنی، قمیص اور دو بڑی چادریں۔ کفن پر عرق گلاب چھڑک کر خوشبو (لوبان وغیرہ) کی دھونی دینا مستحب ہے تاکہ اثر باقی رہے۔ [مرد اور عورت کے کفن کے کپڑوں کا تین اور پانچ کا فرق صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے لہٰذا تین کپڑوں میں کفن دینا ہی مستحب ہے جن میں قمیص کا ذکر نہیں ہے۔]

کفن پہنانے کا طریقہ

تین چادریں لے کر ایک پر ایک بچھا دی جائیں۔ میت کو اس طرح لایا جائے کہ ضروری ستر ڈھانپا ہوا ہو، اور چادروں پر چت لٹا دیا جائے۔ پھر سب سے اوپر والی چادر کا بایاں کنارہ میت پر ڈال کر دائیں جانب چھپا دی جائے، پھر اسی چادر کا دایاں کنارہ لے کر بائیں جانب ڈال دیا جائے۔ پھر دوسری اور تیسری چادر بھی اسی طرح لپیٹی جائے۔ چادر کا زائد حصہ سر کی طرف زیادہ رکھا جائے جو چہرے پر ڈال دیا جائے، اور پاؤں کی جانب جو زائد ہو وہ پاؤں پر ڈال دیا جائے۔ پھر چادروں کو احتیاط سے باندھ دیا جائے تاکہ قبر میں رکھنے تک کھل نہ جائیں، اور قبر میں رکھنے کے بعد بندھن کھول دیے جائیں۔

عورت کو پانچ کپڑوں میں کفن دیا جائے: ایک چادر تہہ بند، دوسری قمیص، تیسری دوپٹہ، اور دو بڑی چادریں جسم چھپانے کے لیے۔

نمازِ جنازہ کے احکام

مسلمان میت کو کفن پہنانے کے بعد اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ شَهِدَ الْجِنَازَةَ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ))، قِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟ قَالَ: ((مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ))”
"جو شخص جنازہ میں شریک ہوا یہاں تک کہ نماز پڑھ لی گئی، اس کے لیے ایک قیراط اجر ہے، اور جو دفن تک شریک رہا اس کے لیے دو قیراط ہیں۔ پوچھا گیا: قیراط کیا ہیں؟ فرمایا: دو عظیم پہاڑوں کے برابر۔” [صحیح البخاری الجنائز باب من انتظر حتی تدفن حدیث 1325؛ صحیح مسلم الجنائز باب فضل الصلاة علی الجنائز واتباعھا حدیث 945]

نمازِ جنازہ فرضِ کفایہ ہے۔ اگر کچھ لوگ ادا کر لیں تو باقی گناہگار نہیں، مگر ان کے لیے سنت کا درجہ رہتا ہے۔ اگر کسی نے نہ پڑھی تو سب گناہگار ہوں گے۔

نمازِ جنازہ کی شرائط

① نیت۔
② قبلہ رخ ہونا۔
③ ستر ڈھانپنا۔
④ نمازی اور میت دونوں کا پاک ہونا۔
⑤ نجاست دور کرنا۔
⑥ نمازی اور میت کا مسلمان ہونا۔
⑦ میت کا موجود ہونا (اگر اسی شہر سے تعلق ہو)۔
⑧ نمازی کا مکلف (عاقل بالغ) ہونا۔

نمازِ جنازہ کے ارکان

① قیام۔
② چار تکبیریں۔
③ سورۃ فاتحہ۔
④ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود۔
⑤ میت کے لیے دعا۔
⑥ ترتیب قائم رکھنا۔
⑦ سلام پھیرنا۔

نمازِ جنازہ کی سنتیں

◈ ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین۔
◈ قراءت سے پہلے تعوذ۔
◈ اپنے لیے اور اہل اسلام کے لیے دعا۔
◈ سراً قراءت۔ [صحیح مسلم الجنائز باب الدعاء للمیت فی الصلاة حدیث 963 (صارم)]

◈ چوتھی تکبیر اور سلام کے درمیان تھوڑا وقفہ۔
◈ سینے پر ہاتھ باندھنا۔
◈ صرف دائیں جانب سلام پھیرنا۔ [(ضعیف) سنن الدارقطنی الجنائز باب التسلیم فی الجنائزۃ واحد 2/71 حدیث 1799؛ المستدرک للحاکم 1/360 حدیث 1332]

اور دونوں طرف سلام پھیرنا بھی ثابت ہے۔ [السنن الکبری للبیہقی 4/43؛ احکام الجنائز للالبانی ص:162۔164]

نمازِ جنازہ کا طریقہ

نماز جنازہ پڑھنے والا اکیلا ہو یا امام: اگر میت مرد ہو تو اس کے سینے کے بالمقابل کھڑا ہو، اور اگر عورت ہو تو جسم کے درمیانی حصے کے بالمقابل، جبکہ مقتدی امام کے پیچھے کھڑے ہوں۔ [اگر میت مرد ہو تو اس کے سر کے بالمقابل کھڑے ہونا مسنون ہے: احکام الجنائز للالبانی ص:138 (ع۔د)]

کم ازکم تین صفیں بنانا مسنون ہے۔ پھر تکبیر تحریمہ کہے، دعائے استفتاح کے بغیر تعوذ و تسمیہ کے بعد سورۃ فاتحہ پڑھے۔ پھر دوسری تکبیر کہہ کر درود شریف پڑھے۔ پھر تیسری تکبیر کہہ کر میت کے لیے مسنون دعائیں پڑھے۔ مثالیں:

"اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا ، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِيمَانِ ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ”

’’اے اللہ! ہمارے زندہ اور ہمارے فوت شدہ لوگوں کو بخش دے،
ہمارے چھوٹوں اور بڑوں کو بخش دے،
ہمارے مردوں اور عورتوں کو بخش دے،
ہمارے حاضر اور غائب سب کو بخش دے۔

اے اللہ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے اسے ایمان پر زندہ رکھ،
اور ہم میں سے جسے تو وفات دے اسے اسلام پر وفات دے۔

اے اللہ! ہمیں اس (میت) کے اجر سے محروم نہ فرما
اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کرنا۔‘‘

[سنن ابی داؤد الجنائز باب الدعاء للمیت فی الصلاة حدیث 3201؛ جامع الترمذی حدیث 1024؛ سنن النسائی حدیث 1988؛ سنن ابن ماجہ الجنائز باب ما جاء فی الدعاء فی الصلاة حدیث 1498 (واللفظ لہ)]

"اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ ، وَنَقِّهِ مِنْ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنْ الدَّنَسِ ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ ، وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ ، وَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ”

’’اے اللہ! اس کو بخش دے، اس پر رحم فرما،
اسے عافیت عطا فرما اور اس سے درگزر فرما۔

اس کی مہمانی کو عزت والا بنا دے،
اور اس کی قبر کو کشادہ فرما۔

اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو دے،
اور اسے گناہوں سے اس طرح پاک کر دے
جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا ہے۔

اسے اس کے گھر سے بہتر گھر عطا فرما،
اس کے اہل سے بہتر اہل عطا فرما،
اور اس کی بیوی سے بہتر بیوی عطا فرما۔

اسے جنت میں داخل فرما،
اور اسے قبر کے فتنہ اور آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔‘‘

[صحیح مسلم الجنائز باب الدعاء للمیت فی الصلاة حدیث 963]

"وَافْسحْ لَهُ في قَبْرِهِ ، وَنَوِّرْ لَهُ فيه” [صحیح مسلم الجنائز باب فی اغماض المیت والدعاء لہ اذا حضر حدیث 920]

اگر میت عورت ہو تو مؤنث ضمیر کا استعمال کرے۔ [کلمہ "میت” اسم صفت ہے، مذکر و مؤنث دونوں پر آتا ہے، لہٰذا ضمائر بدلنا ضروری نہیں۔]

اگر میت بچہ ہو تو یہ دعا پڑھی جائے:

"اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ فَرَطَاً وَذُخْراً لِوَالِدَيْهِ، وشَفِيعاً مُجَاباً، اللَّهُمَّ ثَقِّلْ بِهِ مَوَازِيْنَهُمَا، وأعْظِمْ بهِ أُجُورَهُمَا، وألْحِقْهُ بِصَالِحِ الـمُؤْمِنينَ، واجْعَلْهُ فِي كَفَالَةِ إِبْرَاهِيمَ، وَقِهِ بِرَحْمَتِكَ عَذَابَ الجَحِيمِ، وأبْدِلْهُ دَاراً خَيْراً مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلاً خَيْراً مِنْ أَهْلِهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأسْلاَفِنَا، وَأَفْرَاطِنَا، وَمَنْ سَبَقَنا بالإيْمَانِ”

اے اللہ! اسے اس کے والدین کے لیے آگے بھیجا ہوا سرمایہ اور ذخیرہ بنا دے،
اور ایسا سفارشی بنا جس کی سفارش قبول کی جائے۔

اے اللہ! اس کے ذریعے ان (والدین) کے میزان کو بھاری کر دے،
اور ان کے اجر کو عظیم بنا دے۔

اور اسے صالح مومنوں کے ساتھ ملا دے،
اور اسے ابراہیم علیہ السلام کی کفالت میں رکھ دے۔

اپنی رحمت کے ساتھ اسے جہنم کے عذاب سے بچا لے،
اور اسے اس کے گھر سے بہتر گھر عطا فرما،
اور اس کے اہل سے بہتر اہل عطا فرما۔

اے اللہ! ہمارے اگلے لوگوں کو بخش دے،
اور ہمارے چھوٹے بچوں کو بھی،
اور ان سب کو جو ہم سے پہلے ایمان کے ساتھ گزر چکے ہیں۔

[المغنی والشرح الکبیر 2/369]

پھر چوتھی تکبیر کہے اور تھوڑا وقفہ کرے۔ [السنن الکبری للبیہقی 4/35]

پھر دائیں جانب ایک سلام پھیردے۔ [(ضعیف) سنن الدارقطنی 2/71 حدیث 1799؛ المستدرک للحاکم 1/360 حدیث 1332]

اگر کوئی نماز جنازہ میں دیر سے شامل ہو تو امام کے ساتھ شامل ہو جائے۔ امام سلام پھیردے تو فوت شدہ حصہ بعد میں پورا کر کے سلام پھیردے۔ اگر اندیشہ ہو کہ سلام کے فوراً بعد جنازہ اٹھا لیا جائے گا تو جلدی تکبیریں مکمل کر کے سلام پھیردے۔

اگر دفن سے پہلے نماز جنازہ نہ پڑھ سکا تو قبر کے سامنے قبلہ رخ کھڑے ہو کر نماز جنازہ ادا کر لے۔

اگر حمل ساقط ہو اور بچہ چار ماہ یا زیادہ کا ہو تو نماز جنازہ ادا کی جائے، اور چار ماہ سے کم ہو تو بغیر نماز کے دفن کیا جائے۔ [المغنی والشرح الکبیر 2/393؛ احکام الجنائز للالبانی ص:104 (ع۔د)]

میت کو قبرستان لے جانا اور دفن کرنا

میت کو کندھا دینا اور دفن کرنا مسلمانوں پر فرضِ کفایہ ہے۔ دفن کا ثبوت کتاب و سنت سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿أَلَم نَجعَلِ الأَرضَ كِفاتًا ﴿٢٥﴾ أَحياءً وَأَمو‌ٰتًا ﴿٢٦﴾… سورة المرسلات﴾
"کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا؟ زندوں کو بھی اور مردوں کو بھی۔” [المرسلات 77:25-26]

اور فرمایا:

"ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ”
"پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں دفن کیا۔” [عبس 80:21]

جنازے کے جلوس میں شامل ہونا اور اسے قبر تک پہنچانا مسنون ہے، اور قیراط والے اجر کی روایت بھی اسی پر دلالت کرتی ہے۔ [صحیح البخاری حدیث 1325؛ صحیح مسلم حدیث 945]

جنازے کے ساتھ جانے والا حتی الامکان کندھا دینے والوں میں شامل ہو۔ قبرستان دور ہو تو گاڑی یا جانور پر لے جانے میں حرج نہیں۔ جنازہ لے جاتے ہوئے مناسب حد تک تیز چلنا چاہیے:

"أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ ، فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا ، وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ” [صحیح البخاری الجنائز باب السرعۃ بالجنازۃ حدیث 1315؛ صحیح مسلم الجنائز باب الاسراع بالجنازۃ حدیث 944]

مطلب یہ نہیں کہ حد سے بڑھ کر دوڑیں، بلکہ اطمینان کے ساتھ چلیں۔ جنازہ لے جاتے وقت بلند آواز سے تلاوت، لا الہ الا اللہ یا ذکر/استغفار کی اجتماعی آوازیں بدعت ہیں۔

عورتوں کا جنازے کے ساتھ نکلنا حرام ہے:

"نُهِينَا عَنْ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ”
"ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع کر دیا گیا۔” [صحیح البخاری الجنائز باب اتباع النساء الجنائزۃ حدیث 1278]

قبر کی کیفیت اور دفن کا طریقہ

قبر گہری اور وسیع بنانا مسنون ہے:

"احْفِرُوا وَأَعْمِقُوا وَأَوْسِعُوا”
"قبر کھودو، گہری کرو اور وسیع کرو۔” [سنن ابی داؤد الجنائز باب فی تعمیق القبر حدیث 3216؛ سنن ابی داؤد الجنائز باب فی تعمیق القبر حدیث 3215؛ جامع الترمذی الجہاد باب ما جاء فی دفن الشہداء حدیث 1713]

عورت کو قبر میں اتارتے وقت پردے کا اہتمام مسنون ہے۔

قبر میں اتارتے وقت کہا جائے:

"بِسْمِ اللهِ ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم”

اللہ کے نام کے ساتھ،
اور اللہ کے رسول ﷺ کے طریقے (دین) پر۔

[جامع الترمذی الجنائز باب ما جاء ما یقول اذا ادخل المیت القبر؟ حدیث 1046؛ سنن ابی داؤد الجنائز باب فی الدعاء للمیت اذا وضع فی قبرہ حدیث 3213؛ مسند احمد 2/27]

میت کو دائیں پہلو پر لٹایا جائے اور چہرہ قبلہ کی طرف ہو، کیونکہ فرمایا:

"قِبْلَتكُمْ أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا”
"تم زندہ ہو یا مردہ، دونوں حالتوں میں کعبہ تمہارا قبلہ ہے۔” [سنن ابی داؤد الوصایا باب ما جاء فی الشدید فی أکل مال الیتیم حدیث 2875]

سر کے نیچے اینٹ/پتھر رکھ دیا جائے یا مٹی کا ڈھیر لگا کر سر بلند کر دیا جائے، چہرہ سامنے والی دیوار کے قریب کیا جائے، پشت کے پیچھے مٹی بطور سہارا ڈالی جائے تاکہ بدن الٹ نہ جائے۔ لحد کو مٹی اور کچی اینٹوں سے بند کر کے وہی مٹی ڈال دی جائے جو کھودنے سے نکلی تھی، زائد مٹی نہ ڈالی جائے۔

قبر کو ایک بالشت اونچا کیا جائے (اونٹ کی کوہان جیسا) تاکہ پانی نہ ٹھہرے، کنکریاں ڈال دی جائیں اور پانی چھڑک دیا جائے تاکہ مٹی جم جائے۔ ایک بالشت اونچا رکھنے کا مقصد قبر کی نشاندہی ہے تاکہ پامال نہ ہو۔ اردگرد پتھر رکھ کر حد بندی جائز ہے، مگر قبر پر لکھنا منع ہے۔

دفن کے بعد مستحب ہے کہ قبر پر کھڑے ہو کر دعا و استغفار کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دفن سے فارغ ہو کر فرماتے:

"اسْتَغْفِرُوا لأَخِيكُمْ وَاسْأَلُوا لَهُ التَّثْبِيتَ فَإِنَّهُ الآنَ يُسْأَلُ” [سنن ابی داؤد الجنائز باب الاستغفار عند القبر للمیت فی وقت الانصراف حدیث 3221]

قبر پر قرآن کی تلاوت نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے نہ صحابہ سے، لہٰذا یہ بدعت ہے۔

قبروں پر عمارتیں تعمیر کرنا، پختہ کرنا اور لکھنا حرام ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

"نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ، وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ، وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهِ”

رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ:

  • قبر کو پکا (پلستر) کیا جائے،

  • اس پر بیٹھا جائے،

  • یا اس پر کوئی عمارت تعمیر کی جائے۔

[صحیح مسلم الجنائز باب النھی عن تجصیص القبور والبناء علیہا حدیث 970]

اور:

"نَهَى النَّبِيُّ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ تُجَصَّصَ القُبُورُ، وَأَنْ يُكْتَبَ عَلَيْهَا، وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهَا، وَأَنْ تُوطَأَ”

نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا کہ:

  • قبروں کو پکا (پلستر) کیا جائے،

  • ان پر کچھ لکھا جائے،

  • ان پر عمارت بنائی جائے،

  • اور ان پر چلا جائے (انہیں روند ا جائے)۔

[جامع الترمذی الجنائز باب ما جاء فی کراہیۃ تجصیص القبور والکتابة علیھا حدیث 1052]

قبروں پر چراغاں کرنا، وہاں مسجدیں بنانا، قبروں کے پاس یا ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا حرام ہے۔ عورتوں کا قبروں کی کثرت سے زیارت کے لیے جانا بھی حرام ہے:

"لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم زائرات القبور”

رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔

[جامع الترمذی الجنائز؛ سنن ابن ماجہ الجنائز باب ما جاء فی النھی عن زیارۃ النساء القبور حدیث 1574، 1576]

یہود و نصاریٰ کے بارے میں فرمایا:

"لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ”

اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے،
انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ (مسجدیں) بنا لیا۔

[صحیح البخاری الجنائز باب ما جاء فی قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیث 1390]

قبروں پر چلنا، جوتوں سے پامال کرنا، بیٹھنا، کوڑا ڈالنا یا پانی کی نکاسی ادھر کرنا قبروں کی توہین ہے اور حرام ہے:

"لأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ فَتَخْلُصَ إِلَى جِلْدِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ”

تم میں سے کسی کا جلتی ہوئی انگارے پر بیٹھنا،
پھر وہ اس کے کپڑے جلا دے اور اس کی کھال تک پہنچ جائے —

یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے۔

[صحیح مسلم الجنائز باب النھی عن الجلوس علی القبر والصلاة علیہ حدیث 971]

امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق ان ممانعتوں میں اہلِ قبور کے احترام کا پہلو نمایاں ہے۔ [حاشیہ ابن القیم 9/37]

تعزیت اور زیارتِ قبور کے احکام

میت کے لواحقین سے تعزیت کرنا، صبر کی تلقین اور میت کے لیے دعا مستحب ہے۔ سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُعَزِّي أَخَاهُ بِمُصِيبَةٍ إِلَّا كَسَاهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ مِنْ حُلَلِ الْكَرَامَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ”

جو کوئی مؤمن اپنے بھائی کو کسی مصیبت پر تعزیت کرے،
اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ اسے قیامت کے دن عزت و کرامت کے لباس پہنائے گا۔

[(ضعیف) سنن ابن ماجہ الجنائز باب ما جاء فی ثواب من عزی مصاباً حدیث 1601؛ ارواء الغلیل 3/216 حدیث 764]

① تعزیت میں ایسے کلمات کہے جائیں جن کا مفہوم ہو: "اللہ تعالیٰ تمہیں اجرِ عظیم دے، صبرِ جمیل دے، اور تمہارے فوت شدہ کو معاف فرمائے۔”
② تعزیت کے لیے بیٹھنے اور اعلان کرنے کا اہتمام (آج کے رواج کے مطابق) شرعاً درست نہیں۔

اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کر کے بھیجنا مستحب ہے:

"اصْنَعُوا لِأَهْلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَإِنَّهُ قَدْ جَاءَهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ”

جعفرؓ کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو،
کیونکہ ان پر ایسی مصیبت آ گئی ہے جو انہیں مشغول (اور غمگین) کر رہی ہے۔

[جامع الترمذی الجنائز باب ما جاء فی الطعام یصنع لأهل المیت حدیث 998؛ مسند احمد 1/205]

لیکن میت والے لوگوں کو جمع کر کے کھانا بنائیں، قاریوں کو اجرت دے کر قرآن پڑھوائیں اور مالی بوجھ اٹھائیں—یہ بدعت اور حرام ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت نقل کرتے ہیں:

"كُنَّا نَعُدُّ الِاجْتِمَاعَ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ وَصَنِيعَةَ الطَّعَامِ بَعْدَ دَفْنِهِ مِنَ النِّيَاحَةِ "

ہم (صحابہ) میت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونا
اور دفن کے بعد وہاں کھانا تیار کرنا
نوحہ (ماتم) میں شمار کرتے تھے۔

[مسند احمد 2/204]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق میت والوں کا لوگوں کو کھانے پر جمع کرنا، تلاوت کروانا اور تحائف دینا سلف کے ہاں معروف نہ تھا، اور اہلِ علم نے وجوہ کی بنا پر اسے مکروہ کہا ہے۔

علامہ طرطوشی رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا کہ تعزیتی اجلاس اور مصیبت کے وقت اجتماع ممنوع اور قبیح بدعت ہے، اور دوسرے، تیسرے، چوتھے، ساتویں روز، ماہانہ محفل، سالانہ برسی/عرس کی کوئی شرعی دلیل نہیں۔ اگر یہ خرچ ترکہ سے ہو اور کسی وارث نے اجازت نہ دی ہو یا کوئی وارث نابالغ ہو تو یہ خرچ اور اس کا کھانا دونوں حرام ہیں۔

زیارتِ قبور

③ مردوں کے لیے قبرستان جانا مستحب ہے بشرطیکہ مقصد عبرت و نصیحت اور میت کے لیے دعا و استغفار ہو:

"كنت نهيتكم عن زيارة القبور ألا فزوروها”

میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا،
اب سن لو! ان کی زیارت کیا کرو۔

[صحیح مسلم الجنائز باب استئذان النبی صلی اللہ علیہ وسلم ربہ عزوجل فی زیارۃ قبر امہ حدیث 977]

اور جامع ترمذی میں اضافہ ہے:

"فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الآخِرَةَ "

بے شک وہ (قبروں کی زیارت) آخرت کی یاد دلاتی ہے۔

[جامع الترمذی الجنائز باب ما جاء فی الرخصۃ فی زیارۃ القبور حدیث 1054]

④ زیارتِ قبور کے لیے تین شرائط ذکر کی گئی ہیں:

1. زیارت کرنے والے مرد ہوں، عورتیں نہ ہوں، کیونکہ:

"لعن الله زائرات القبور”

اللہ تعالیٰ قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائے۔

[السنن الکبری للبیہقی 4/78؛ مسند ابی داود الطیالسی حدیث 2478]

اسی جگہ حدیث کے مبالغہ والے لفظ کے لحاظ سے تفصیلی نکتہ بھی مذکور ہے۔ [حدیث شریف میں وارد مبالغے کا کلمہ "”کو ملحوظ خاطر رکھا جائے… (صحیح البخاری حدیث 1252؛ صحیح مسلم حدیث 974)]

2. زیارت کے لیے دوسرے شہر کا سفر نہ کیا جائے:

"لا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلاَّ إِلَى ثَلاثَةِ مَسَاجِد”

(عبادت کی نیت سے) سفر باندھا نہ جائے مگر تین مسجدوں کی طرف۔

[صحیح البخاری فضل الصلاة فی مسجد مكة والمدینۃ حدیث 1189؛ صحیح مسلم الحج باب فضل المساجد الثلاثة حدیث 1397]

3. مقصد عبرت و نصیحت اور فوت شدہ کے لیے دعا ہو۔ اگر مقصد تبرک، حاجت روائی/مشکل کشائی ہو تو یہ بدعت بلکہ شرک ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ زیارت دو طرح کی ہے: شرعی اور بدعی؛ شرعی میں سلام اور دعا (بغیر رخت سفر باندھے) اور بدعی میں میت سے حاجت طلب کرنا جو "شرک اکبر” ہے، اور قبر یا صاحبِ قبر کو وسیلہ بنانا بدعت اور ذریعہ شرک ہے۔ [مجموع الفتاویٰ 24/326۔327 بتصرف یسیر۔]

اختتامیہ

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب